سندھ معدنیات اور معدنی ترقی – 350 معدنی لیزز جاری – 1.7 ارب روپے کی آمدنی


سندھ معدنیات اور معدنی ترقی – 350 معدنی لیزز جاری – 1.7 ارب روپے کی آمدنی

سندھ حکومت نے معدنی وسائل کے شعبے میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے دروازے کھول دیے

شفاف نیلامیوں اور جدید اصلاحات کے ذریعے سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ

کراچی، چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت آج معدنیات اور معدنی ترقی کے محکمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکریٹری معدنیات طاہر حسین سانگی، ڈائریکٹر جنرل معدنیات ذوالفقار خوشک اور دیگر اعلیٰ تکنیکی افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمے کی کارکردگی کا اور سندھ کے وسیع معدنی وسائل کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے اصلاحات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس سیکریٹری سندھ محکمہ میں محکمہ میں منصوبوں پر پیش رفت کی آگاہی فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل معدنیات کی بہتری اور بحالی، دفاتر کی تزئین و آرائش، اور ایک جدید منرل ٹیسٹنگ لیبارٹری کے قیام شامل ہیں یہ منصوبے جون 2025 سے جون 2026 تک مکمل کئے جائیں گے۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے محکمے کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کے لیے اہم ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے معدنیات کی نیلامیوں کو وسیع پیمانے پر مشتہر کرنے اور مکمل شفافیت کو یقینی بنانے پر زور دیا تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد جیتا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے وافر معدنی وسائل کو ذمہ دارانہ اور شفاف انداز میں استعمال کرکے صوبے کے لیے نمایاں معاشی مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ چیف سیکریٹری نے محکمے کو ہدایت دی کہ وہ پاکستان جیولوجیکل سروے کے ساتھ مل کر ایک جامع مطالعہ کرے تاکہ سندھ میں اضافی معدنی وسائل کی دریافت کی جا سکے۔ انہوں نے محکمے کی ویب سائٹ کو جدید کاروباری پلیٹ فارم کے طور پر اپ گریڈ کرنے کی ہدایت کی تاکہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے ایک مضبوط سرمایہ کاری ماڈل پیش کیا جا سکے اور سندھ کی وسیع اقتصادی صلاحیت کو اجاگر کیا جا سکے۔

سیکریٹری معدنیات طاہر حسین سانگی نے اجلاس کو مزید آگاہ کیا کہ محکمہ نے اس وقت 350 معدنی لیزز جاری کی ہوئی ہیں، جس سے سالانہ 1.7 ارب روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔ اس پر چیف سیکریٹری نے آپریشنز کو بڑھانے، کارکردگی کو بہتر بنانے، اور عالمی معیار سے ہم آہنگ جدید طریقوں کو اپنانے پر زور دیا۔ ماحولیاتی خدشات پر بات کرتے ہوئے چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے کچھ لیز ہولڈرز کی جانب سے بحالی کی کمی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے پائیدار کان کنی کے طریقوں کی اہمیت پر زور دیا اور محکمہ کو ہدایت دی کہ لیز ہولڈرز سے یہ یقینی بنایا جائے کہ وہ کھدائی شدہ سائٹس کی بحالی کریں اور کان کنی کے دوران چھوڑے گئے گڑھوں کو بھر دیں۔ مزید برآں، محکمہ نے صنعتی شعبے اور تعلیمی اداروں کے ساتھ شراکت داری قائم کرنے کے منصوبے پیش کیے تاکہ چائنا کلی اور آئرن اوور جیسے وسائل کو معاشی ترقی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ اجلاس میں محکمہ کے عملے کی تربیت اور صلاحیت سازی کے اقدامات پر بھی گفتگو کی گئی تاکہ مستقبل کے چیلنجز سے بہتر طور پر نمٹا جا سکے۔اجلاس میں جنوری 2024 سے زیر التوا انضباطی معاملات اور پی ایم ڈی یو اور ایس پی ایم ایس ڈیش بورڈز پر عوامی شکایات کے حل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیف سیکریٹری نے محکمے کی جوابدہی اور عوامی خدمت کے عزم کی تعریف کی۔ چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے محکمے کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اصلاحات کے نفاذ، آپریشنز کی ڈیجیٹلائزیشن، اور ماحولیاتی تحفظات کو تیز کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پائیدار اور ذمہ دار معدنی ترقی کو فروغ دیا جائے گا اور اس بات پر زور دیا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تعاون سندھ کے معدنی وسائل کو عوام اور معیشت کے فائدے کے لیے استعمال کرنے میں کلیدی اہمیت رکھتا ہے

ہینڈآؤٹ نمبر 917۔۔۔ایف آئی جے

کراچی
مور خہ11 دسمبر 2024
.سندھ میں سات روزہ انسداد پولیو مہم 16 دسمبر سے شروع ہوگی.
چیف سیکریٹری سندھ کی زیر صدارت انسدادِ پولیو مہم کے حوالے سے اہم اجلاس
کراچی ۔چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت انسداد پولیو مہم کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں 16 دسمبر سے شروع ہونے والی سات روزہ انسداد پولیو مہم کی تیاریوں کو حتمی شکل دی گئی۔ اجلاس میں آئی جی سندھ غلام نبی میمن، کمشنر کراچی سید حسن نقوی، سیکریٹری صحت ریحان اقبال بلوچ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈبلیو ایچ او، یونیسیف کے نمائندے، اور ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) کے کوآرڈینیٹر ارشاد علی سودھر نے شرکت کی، جبکہ تمام ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شامل ہوئے۔پولیو مہم کے دوران سندھ بھر میں 1 کروڑ 6 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔ چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے مہم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے ہر بچے کو ویکسین دینا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہم میں 80 ہزار سے زائد فرنٹ لائن ورکرز حصہ لیں گے اور صوبے کے تمام بس ٹرمینلز پر پولیو ٹیمیں تعینات کی جائیں گی تاکہ سفر کرنے والے بچوں کو بھی پولیو کے قطرے پلائے جا سکیں۔چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی کہ وہ والدین کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے قائل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں سے تعاون کریں تاکہ بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پولیو ورکرز کی تربیت میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور ضلعی انتظامیہ اور محکمہ بلدیات کے یوسی سیکریٹریز مہم کے دوران فیلڈ میں موجود رہیں گے۔آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے اجلاس کو یقین دلایا کہ مہم کے دوران 24 ہزار سے زائد پولیس اہلکار پولیو ورکرز کی حفاظت کے فرائض انجام دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو ٹیموں کی سیکیورٹی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنے فرائض انجام دے سکیں۔ کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے اجلاس میں بتایا کہ کراچی میں انکاری والدین اور مہاجر آبادی کے مسائل پولیو مہم کے لیے چیلنج ہیں، تاہم ان مسائل پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے کوآرڈینیٹر ارشاد علی سودھر نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ پولیو ورکرز کی تربیت مکمل کر لی گئی ہے اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے کراچی کے بس ٹرمینلز کی نقشہ سازی کی جا چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سہراب گوٹھ بس ٹرمینل پر 18 پولیو ٹیمیں تعینات کی جائیں گی تاکہ وہاں سے گزرنے والے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا سکیں۔ چیف سیکریٹری سندھ نے حکومت کی جانب سے اس مہم کو کامیاب بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے یہ مہم سندھ کے عوام اور بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے ایک اہم اقدام ہے۔ ہینڈآؤٹ نمبر 919۔۔۔ایف آئی جے
ڈائریکٹو ریٹ آف پریس انفارمیشن
محکمہ اطلاعات حکومت سندھ فون۔99204401
کراچی
مور خہ11 دسمبر 2024
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ کے زیر اہتمام سندھ پبلک سروس کمیشن پاس 833 لیکچرارز میں آفر لیٹرز تقسیم
سندھ کے سرکاری کالجز میں اے لیول کلاسز کا آغا ز کرنے جا رہے ہیں۔ وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ
کمپیوٹر سائنس، سندھی، باٹنی، میتھمیٹکس، اسٹیٹسٹکس، کیمسٹری اور سا ئیکو لوجی کے مضامین کے اساتذہ کو آفر لیٹر زدیے گئے۔
کراچی ۔محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ کے زیر اہتمام سندھ پبلک سروس کمیشن پاس کرنے والے لیکچرارز میں آفر لیٹرز تقسیم کرنے کی تقریب میں وزیر تعلیم و ترقی معدنیات سندھ سید سردار علی شاہ نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی، صوبائی وزیر تعلیم نے ایس پی ایس سی کے تحت کامیا ب قرار دیے گئے 833 نئے لیکچرارز مین آفر لیٹرز تقسیم کیے، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ طلبہ و طالبات کے لئے کالج ایجوکیشن کا مرحلہ بہت اہم ہوتا ہے، سندھ کے کچھ سرکاری کالجز میں اے۔لیول کلاسز کا آغاز کرنے جا رہے ہیں تا کہ سرکاری کالجز کے طلباء بھی مزید آگے بڑھ سکیں اور مقابلے کے ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکیں۔ بدھ کے روز اسکاؤٹس ہال کراچی میں ہونے والی تقریب میں سیکریٹری کالج ایجوکیشن آصف اکرام، ڈی جی کالجز ڈاکٹر نوید ربّ صدیقی اور دیگر افسران نے بھی شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کے دوران صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ نے نئے اساتذہ کو مبارکباد دیتے ہوۓ انہیں محکمہ کالج ایجوکیشن میں خوش آمدید کہا۔ صوبائی وزیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ “امید ہے آپ اس معتبر پیشے میں ایمانداری سے خدمات سرانجام دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ استاد ہونا خود ایک بڑی ذمہ داری ہے، اساتذہ ہمارے مستقبل کی روشن راہوں کے ضامن ہیں ۔” انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے تمام 374 کالجز ہمارے لئے اہم ہیں، ہر کالج میں تدریسی عمل کو فعال رکھنا بے حد ضروری ہے، ہمیں پسماندہ علاقوں کے طلبہ و طالبات کو بھی اپنے بچوں کی طرح اہمیت دے کر پڑھانا ہے، ہم تمام اساتذہ کو شہروں میں تعینات نہیں کر سکتے، استاد کے پیشے کو نوکری کے بجاۓ ذمہ داری سمجھ کر سرانجام دینا ہوگا۔ وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے کہا کہ نئے اساتذہ کو پچھلی زندگی اور آج سے شروع ہونے والے زندگی کا موازنہ کر کے آگے کی راہ طے کرنی ہوگی، دوسرے بچوں کو اپنے بچوں سے ہرگز مختلف نہ سمجھیں، کالجز ایجوکیش کو زندگی کا انتہائی ضروری فیز مانا جاتا ہے، یونیورسٹیز کے لیے اہل طلبہ تیار کرنا کالج اساتذہ کی بڑی ذمہ داری ہے۔ اساتذہ بچو ں کو تعمیری سوچ کی سمت گامزن کرنے اور سوال کرنے کے قابل بنائیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ کے سرکاری کا لجز میں اے لیول کے کلاسز کابھی آغا ز کرنے جا رہے ہیں جس سے غریب طلبہ کے لیے آگے بڑھنے کے مواقعوں میں اضافہ ہوگا۔ اس موقع پر سیکریٹری کالج ایجوکیشن سندھ آصف اکرام نے کہا کہ محکمہ کی طرف سے 1659 خالی آسامیوں کو سندھ پبلک سروس کمیشن میں بھیجا گیا تھا جس کے نتیجے میں 1357 اہل امیدواروں کی ایس پی ایس سی نے سفارش کی جس کے نتیجے میں 833 امیدواروں کو ویریفکیشن مرحلے کے بعد آج آفر لیٹرز تقسیم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ کی ہدایت پر میرپورخاص ریجن میں لیکچرارز کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ کمپیوٹر سائنس کے لیکچرارز میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، اس موقع پر 7 مضامین جن میں کمپیوٹر سائنس کے 282، سندھی 219، باٹنی 119، میتھمیٹکس 106، اسٹیٹسٹکس 80، کیمسٹری 14 اور سائیکو لوجی کے 13 لیکچرارز میں آفر لیٹرز تقسیم کئےگئے۔

میڈیا ٹاک
عدالتوں کا احترام ہے، حکم امتناع سے پہلے محکمہ کا بھی مؤقف سنا جاۓ۔ وزیر تعلیم سندھ

قبل ازیں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوۓ وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے کہا کہ اسکول یا کالجز کے شعبہ میں مسلسل ریفارمز کی ضرورت رہتی ہے، جہاں تک چیزیں درست ہوسکتی ہیں ہمیں اس سمت کی جانب سفر کو جاری رکھنا چاہیے اسی سوچ کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم نے اچھے اور قابل اساتذہ کو بھرتی کیا ہے جس کے مثبت نتائج بھی آنا شروع ہوگئے ہیں۔ رواں سال سندھ میں “سائنس ان سندھ” کے طور پر منایا جا رہا ہے، بچوں کی سائنس ایجوکیشن پر کام کرنا ضروری ہے کیوں کہ سائنس سوال کرنا اور دلیل دینا سکھاتی ہے، ہم نصاب پر بھی کام کر رہے ہیں کیوں کہ ہر پانچ سال میں نصاب میں تبدیلی ضروری عمل ہوتا ہے، ایک سوال پر صوبائی وزیر نے کہا کہ ایجوکیشن کے انتظامی اسٹرکچر میں تبدیلی کرنے جا رہے ہیں جس کے تحت غیر ضروری عہدوں کو ختم کیا جائے گا۔ اسکول سے باہر بچوں کو ایکسلیریٹڈ پروگرام اور نان فارمل ایجوکیش کے تحت تعلیم مکمل کرنے میں مدد کر رہے ہیں، جبکہ اسکول اپگریڈیشن کی مدد سے ڈراپ آؤٹ ریشو کو کم کرنے میں بھی مدد ملی ہے۔ ایک سوال پر صوبائی وزیر تعلیم سندھ نے کہا کہ ہم نے کبھی اپنے کوتاہیاں نہیں چھپائیں، سیلاب میں 20 ہزار اسکولز کے متاثر ہونے کے بعد ہمارے لیے صوبائی بجٹ سے اسکولز کی دوبارہ تعمیر مشکل ہے، وفاق کی طرف سے مشکل سے پی ایس ڈی پی کے تحت کچھ حصہ ملا مگر کورٹ کے اسٹے کی وجہ سے اسکولز کی تعمیر کا مرحلہ رک گیا ہے۔صوبائی وزیر نے ایک سوال پر کہا کہ ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں مگر محکمہ تعلیم کے حوالے سے عدالتوں کو حکم امتناع دینے سے پہلے محکمہ کا بھی مؤقف ضرور سننا چاہئے، پہلے ہی مرحلے پر اسٹے کی وجہ محکمہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بورڈ کے امتحانات میں نئے طریقہ کار کے حوالے سے وزیر تعلیم نے کہا کہ بورڈ امتحانات سے پہلے اسکولز اور کالجز میں طلباء سے امتحان کی مشق کروائی جا ئے گی تا کہ امتحانات میں اساتذہ اور طلباء کی لئے آسانی ہو سکے۔
ہینڈآؤٹ نمبر 920۔۔۔اے وی