
کراچی
مور خہ14 دسمبر 2024
صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ نے ارسا معاہدے میں زیر زمین آبی ذخائر کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ کردیا۔
وفاق ملک میں موجود قابل استعمال ہر قسم کے آبی ذخیرے کو انصاف کے ساتھ تقسیم کرے۔ سردار شاہ
کراچی14 دسمبر۔وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے کراچی میں منعقد ہونے والے دو روزہ “سندھ لٹریچر فیسٹول” کاافتتاح کرنے کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ارسا میں سندھ کے ساتھ زیادتیاں ہوئی ہیں، سندھ کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے، ارسا میں سطح پر موجود پانی کا معاملہ طے کیا گیا ہے، وقت آ گیا ہے ہم اب زیر زمین پانی کا بھی حساب مانگیں، ارسا معاہدے میں اب زیر زمین پانی کے استعمال کو بھی شامل کیا جاۓ کیوں کہ وفاق کی جانب سے ماضی کے غلط فیصلوں کی وجہ سے سندھ کا زیر زمین کا پانی قابل استعمال نہیں رہا، انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاق ملک میں موجود قابل استعمال ہر قسم کے آبی ذخیرے کو انصاف کے ساتھ تقسیم کرے، جس طرح ملک دیگر قدرتی وسائل کے معاملے میں کیا جاتا ہے۔ صوبائی وزیر سید سردار شاہ نے کہا کہ پانی ماہرین یہ بتا چکیں ہیں کہ ہر سال 10 لاکھ کیوسک پانی سمندر میں چھوڑنا لازمی ہے کیوں کہ اگر لاپرواہی کی گئی تو بدین، ٹھٹہ اور سجاول تو پانی میں ڈوب جائیں گے اور اس کے بعد سن 2060 کراچی بھی سمندر کے اثر میں آجاۓ گا، انہوں نے کہا کہ سندھو دریا کو بڑے چیلینجز کا سامنا ہے، دریائے سندھ پر بند باندھنے کا سلسلہ برسوں سے جاری ہے، انگریزوں نے آبپاشی کے نام پر پہلا بند باندھا اور دریا کو محدود کرنے کی بنیاد رکھی، بیراجز تو بنائے گئے لیکن دریاء کا قدرتی بہائو کینالوں میں تبدیل ہوگیا،
پانی کے قدرتی راستے بند ہوئے اور سیلاب آئے، پانی کے قدرتی راستے بند نہیں ہونا چاہئے تھے۔ سید سردار علی شاہ نے کہا کہ تین دریاء بیچے گئے تو سندھو دریاء کا پچیس فیصد پانی کم ہوگیا، 1965 میں سندھو طاس معاہدہ کیا گیا، پنجاب کے تین دریاء بھارت کو فروخت ہوئے، لاکھوں ایکڑ پر پھیلا ڈیلٹا تباہ ہوگیا ہے، دریاء اپنے ساتھ صدیوں سے ریت لاتا ہے اور سمندر کو آگے بڑھتا رہا ہے، ڈیٹا کی تباہی اس بات کا اشارہ ہے کہ باقی سندھ بھی پانی نہ ملنے کی وجہ سے تباہ ہوجاۓ گا، وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے کہا کہ سندھ کی ایک کروڑ بیس لاکھ ایکڑ زمین قابل کاشت ہے، گرمیوں میں سندھ میں صرف 45 لاکھ ایکڑ زمین آباد ہوتی ہے، اگر کینال بن گئے تو گڈو سے نیچے پانی نہیں آئے گا، صوبائی وزیر نے کارپوریٹ فارمنگ کے لیے سندھ کے حصہ سے پانی لینے کو سنگین ناانصافی قرار دیتے ہوۓ دریاۓ سندھ پر اضافی کینال بنانے کے منصوبے کو رد کردیا۔ لٹریچر فیسٹولز پر تنقید کے معاملے پر سید سردار علی شاہ نے کہا کہ اس طرح کے فورمز کی وجہ سے نوجوانوں کو بحث مباحثے کے ساتھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے، ساتواں لٹریچر فیسٹول اس حوالے سے بھی انوکھا ہے کہ اس میں سندھو دریا کا کیس زیر بحث ہوگا، سندھو دریا ہماری بقا کی ضمانت ہے، ہم اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ادبی سرگرمیاں رواداری کی روایت کو قائم رکھتی ہیں ہم نے دیکھا کہ سندھ میں انتہاپسندی کو روکا گیا یہ سب سندھ میں ثقافتی تحرک کی وجہ ہے ممکن ہوا۔
ہینڈ آءوٹ نمبر 934۔۔۔۔ اے وی
مور خہ14 دسمبر 2024
سندھ حکومت چینی کمپنیوں کے لیے اکنامک زونز بنائے گی: صوبائی وزیر
کراچی14 دسمبر۔ سندھ حکومت مقامی تاجروں کے ساتھ مل کر چینی سرمایہ کاروں کو مختلف صنعتیں لگانے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے کراچی میں دو خصوصی اقتصادی زونز تیار کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ یہ بات صوبائی وزیر برائے توانائی، منصوبہ بندی اور ترقی سید ناصر حسین شاہ نے ہفتہ کو کہی۔ ایکسپو سینٹر کراچی میں 10ویں بیوٹی، فٹنس اور کنزیومر ہیلتھ انٹرنیشنل ایکسپو میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ملک کے تجارتی مرکز کراچی میں متعدد صنعتیں قائم ہو رہی ہیں جس کی بنیادی وجہ عالمی سطح پر تجارتی تبدیلیاں ہیں۔ متعدد ممالک چین سے براہ راست درآمدات کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن چینی مصنوعات اب بھی بالواسطہ طور پر دیگر ممالک کے راستے درآمد کی جا سکتی ہیں، خاص طور پر پاکستان سے، جو ابھرتے ہوئے تجارتی مواقع کے تحت درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کے لیے ترجیحی مارکیٹ ہوگی۔ناصر حسین شاہ نے پاکستانی تاجروں پر زور دیا کہ وہ مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور “میڈ ان پاکستان” برانڈ کے تحت برآمدات بڑھانے کے لیے اپنے چینی صنعتکاروں کے ساتھ تعاون کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کراچی کے مختلف صنعتی زونز کے ساتھ ان کے انفراسٹرکچر کو مخصوص منصوبوں اور ضروریات کے مطابق تیار کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔توانائی میں صوبے کی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے ناصر حسین شاہ نے کہا کہ حکومت نے بجلی کی پیداوار میں اہم سنگ میل حاصل کیا ہے۔ منصوبہ بند سولر پارک کے لیے 3.5 سینٹ فی یونٹ کے غیر معمولی طور پر کم ٹیرف کی منظوری دی گئی ہے جو کراچی اور سندھ کے رہائشیوں کو مختلف مراحل میں سستی بجلی فراہم کرنے کے لیے مقرر ہے.اس موقع پر ای کامرس گیٹ وے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد عزیر نظام نے کہا کہ غیر ملکی اور مقامی مندوبین اور تاجروں کی شرکت عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت امیج کو ظاہر کرتی ہے۔ جس سے تاجروں، سرمایہ کاروں اور سیاحوں کو ملک کی طرف راغب کرنا آسان ہوتا ہے۔انہوں نے یہ بھی کھا کہ کاروباری اور اقتصادی سرگرمیاں روایتی شعبوں سے ابھرتی ہوئی صنعتوں جیسے کہ لائف اسٹال اور صحت سے متعلق صنعتوں کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ یہ شعبے عالمی اور مقامی دونوں سطحوں پر سرمایہ کاری اور روزگار کے لیے نمایاں مواقع پیدا کر رہے ہیں۔اس نمائش میں امریکہ، چین، کوریا، ایران، ترکی اور انڈونیشیا سمیت سات ممالک کے 2000 سے زائد معروف برانڈز اور 350 کمپنیاں شرکت کر رہی ہیں۔ توقع ہے کہ نمائش 40,000 زائرین کو راغب کرے گی اور سروس ایکسپورٹ، B2B ڈیلز، اسپانسر شپ اور سیاحت سے متعلق سرگرمیوں کے ذریعے 20 ملین ڈالر کی آمدنی حاصل کرے گی۔اس تقریب کا مقصد پاکستان کے ابھرتے ہوئے صحت کی دیکھ بھال، فٹنس اور فلاح و بہبود کے شعبوں میں اسٹیک ہولڈرز، ماہرین اور صارفین کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ یہ پاکستانی سامعین کے لیے خوبصورتی کے نئے رجحانات اور اختراعات کو متعارف کرانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس طرح ان صنعتوں میں ملک کی عالمی موجودگی کو بڑھانا ہے۔
ہینڈ آءوٹ نمبر 933۔۔۔۔ ایم ایس ایس
کراچی
مور خہ14 دسمبر 2024
کراچی14 دسمبر۔ محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ حکومت سندھ نے نئے موٹر وہیکل فٹنس سرٹیفکیٹس متعارف کرانے اور ایم وی آئز کے نئے ایس او پیز کا اعلان کر دیا، نئے موٹر وہیکل فٹنس سرٹیفکیٹس میں بارکوڈز سمیت جدید حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے، یکم دسمبر 2024 سے اطلاق ہوگا، محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے اس ضمن میں احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ نئے اقدامات گاڑیوں کی فٹنس بڑھانے کے لیے ڈیزائن کئے گئے ہیں، نئے اقدامات کا مقصد روڈ سیفٹی کو یقینی بنانا، ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنا، جعلی سرٹیفکیٹس کے اجراء کو روکنا، اور حکومتی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔ایک بیان میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ بھر میں موٹر وہیکل انسپکٹرز کے لیے تفصیلی ایس او پیز جاری کیے گئے ہیں، سرٹیفکیٹس کے اجراء میں یکسانیت اور جوابدہی کو برقرار رکھنے کے لیے ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ نئے سرٹیفکیٹس کے لیے کٹ آف تاریخ سے عوام کو مطلع کرے گا، جس کے بعد تمام پرانے فٹنس سرٹیفکیٹس کو مسترد شدہ قرار دے دیا جائے گا، نیز، سندھ بھر کے ایم وی آئی ونگز میں محفوظ تمام پرانا رکارڈ ضبط کر لیا جائے گا، اینڈرائیڈ ایپلی کیشن کا استعمال کرتے ہوئے فٹنس سرٹیفکیٹس کا مرکزی ڈیٹا بیس رکھا جائے گا۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ نئے نظام پر تعمیل یقینی بنانے کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں بشمول ٹریفک پولیس اور ضلعی ایس ایس پیز ہائی وے اور موٹروے پولیس سے مدد لی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ نامزد افسران کی طرف سے باقاعدہ سنیپ چیکنگ کی جائے گی، جعلی سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے انسپکٹرز کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے عوامی آگاہی مہم چلائی جائے گی، ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز کے ساتھ میٹنگز منعقد کی جائیں گی۔سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ گاڑیوں کے مکمل معائنے کے لیے کراچی میں سعید آباد، ملیر، اور کیماڑی میں جگہیں مختص کی جا رہی ہیں، دیگر اضلاع میں بھی ایسی سہولت دی جا رہی ہے، موثر انتظام کے لیے کراچی کو دو زونز ایسٹ اور ویسٹ میں تقسیم کیا جائے گا۔ ایک فوکل پرسن کراچی میں آپریشنز کی نگرانی کرے گا اور محکمہ کو ماہانہ پیش رفت کی رپورٹ پیش کرے گا۔
ہینڈ آءوٹ نمبر 932۔۔
کراچی
مور خہ14 دسمبر 2024
کراچی14 دسمبر۔ محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ حکومت سندھ نے نئے موٹر وہیکل فٹنس سرٹیفکیٹس متعارف کرانے اور ایم وی آئز کے نئے ایس او پیز کا اعلان کر دیا، نئے موٹر وہیکل فٹنس سرٹیفکیٹس میں بارکوڈز سمیت جدید حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے، یکم دسمبر 2024 سے اطلاق ہوگا، محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے اس ضمن میں احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ نئے اقدامات گاڑیوں کی فٹنس بڑھانے کے لیے ڈیزائن کئے گئے ہیں، نئے اقدامات کا مقصد روڈ سیفٹی کو یقینی بنانا، ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنا، جعلی سرٹیفکیٹس کے اجراء کو روکنا، اور حکومتی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔ایک بیان میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ بھر میں موٹر وہیکل انسپکٹرز کے لیے تفصیلی ایس او پیز جاری کیے گئے ہیں، سرٹیفکیٹس کے اجراء میں یکسانیت اور جوابدہی کو برقرار رکھنے کے لیے ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ نئے سرٹیفکیٹس کے لیے کٹ آف تاریخ سے عوام کو مطلع کرے گا، جس کے بعد تمام پرانے فٹنس سرٹیفکیٹس کو مسترد شدہ قرار دے دیا جائے گا، نیز، سندھ بھر کے ایم وی آئی ونگز میں محفوظ تمام پرانا رکارڈ ضبط کر لیا جائے گا، اینڈرائیڈ ایپلی کیشن کا استعمال کرتے ہوئے فٹنس سرٹیفکیٹس کا مرکزی ڈیٹا بیس رکھا جائے گا۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ نئے نظام پر تعمیل یقینی بنانے کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں بشمول ٹریفک پولیس اور ضلعی ایس ایس پیز ہائی وے اور موٹروے پولیس سے مدد لی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ نامزد افسران کی طرف سے باقاعدہ سنیپ چیکنگ کی جائے گی، جعلی سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے انسپکٹرز کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے عوامی آگاہی مہم چلائی جائے گی، ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز کے ساتھ میٹنگز منعقد کی جائیں گی۔سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ گاڑیوں کے مکمل معائنے کے لیے کراچی میں سعید آباد، ملیر، اور کیماڑی میں جگہیں مختص کی جا رہی ہیں، دیگر اضلاع میں بھی ایسی سہولت دی جا رہی ہے، موثر انتظام کے لیے کراچی کو دو زونز ایسٹ اور ویسٹ میں تقسیم کیا جائے گا۔ ایک فوکل پرسن کراچی میں آپریشنز کی نگرانی کرے گا اور محکمہ کو ماہانہ پیش رفت کی رپورٹ پیش کرے گا۔
ہینڈ آءوٹ نمبر 932۔۔























