سولرپارکس سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمتوں کا تعین حکومت سندھ کرے گی، عوام کو فی یونٹ 18 روپے فی یونٹ مل سکے گی، قیمتوں کا تعین سیپرا اور ایس ٹی ڈی سی کرے گی۔

سولرپارکس سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمتوں کا تعین حکومت سندھ کرے گی، عوام کو فی یونٹ 18 روپے فی یونٹ مل سکے گی، قیمتوں کا تعین سیپرا اور ایس ٹی ڈی سی کرے گی۔

ایک سوال کے جواب میں سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ کے الیکٹرک میں وفاق کے تین نمائندے ہیں سندھ کی کوئی نمائندگی نہیں، لوڈ شیڈنگ اور ٹیرف کا ایک طریقہ کار لیکن نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے اس میں ہمارا کوئی عمل دخل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ عوام کو سستی بجلی ملے، سستی بجلی کی فراہمی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا ویژن ہے۔

کراچی ، ۔حکومت سندھ کے معاونت سے چینی اور پاکستانی سفارتکاروں نے کراچی میں ٹرانسپورٹ، صحت، توانائی و زراعت کے پانچ مختلف منصوبوں کے مفاہمت کے یادداشت ناموں پر دستخط کرلئے ہیں۔ فریقین کی جانب سے الیکٹرک کار کی لوکل اسمبلنگ، سولر پینل کی لوکل مینوفیکچرنگ ، سلو رلیز فرٹیلائزر ، الجی فارمنگ اور دھابیجی اسپیشل اکنامک زون میں میڈیکل سٹی کے قیام کے ایم او یوز پر دستخط کئے گئے۔ چینی اور پاکستانی سرمایہ کاروں کے درمیان ایم او یوز پر دستخطوں کے تقریب سندھ کے وزیر توانائی سید ناصر حسین شاہ کے دفتر میں ہوئی، تقریب میں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن، صوبائی وزیر برائے توانائی، منصوبہ بندی و ترقیات اور وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے سرمایہ کاری پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ سید قاسم نوید قمر نے شرکت کی۔ ایم او یوز پر دستخط کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ چینی سرمایہ کاروں کا ایک وفد سندھ آیا ہوا ہے ، وفد کی وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے کہا کہ چینی سرمایہ کاروں کی جانب سے کسی بھی شعبے میں سرمایہ کاری کی گئی تو حکومتس سندھ ہر ممکن مدد کرے گی، سرمایہ کاروں نے صدر آصف علی زرادری سے بھی ملاقات کی، جس میں چینی سفیر بھی موجود تھے، صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان بھر میں جہاں بھی چینی سرمایہ کار سرمایہ کاری کریں گے، حکومت پاکستان اور حکومت سندھ ان کی مکمل معاونت کرے گی۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ چین پاکستان دوستی ایک مثالی دوستی ہے، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاک چین دوستی کی بنیاد ڈالی، 2008 میں صدر آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں سی پیک منصوبے کی بنیاد ڈالی، ان کے سب سے زیادہ دورے چائنہ کے ہوتے تھے۔ لوگ مخالفت بھی کرتے تھے، صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ سی پیک محض ایک کوریڈور نہیں یہ دو ملکوں کو قریب لانے کا راستہ ہے، ہمیں پاکستان کی معیشت کو آگے لے کر جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی سرمایہ کاروں نے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی دکھائی، وزیر اعلیٰ معاون خصوصی سید قاسم نوید قمر نے وفد کو دھابیجی اسپیشل اکنامک زون کا بھی دورہ کروایا، جس میں بھی چینی سرمایہ کاروں نے بہت دلچسپی دکھائی اور دھابیجی اسپیشل اکنامک زون میں صنعتیں لکانے کا کہا، دھابیجی اکنامک زون واحد زون ہے جو سی پیک سے جڑا ہوا ہے۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ میں پاکستان گلوبل رینکنگ میں سب سے اوپر ہے اور اس کی وجہ صوبہ سندھ ہے، صوبہ سندھ نے پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت بڑے بڑے منصوبوں پر کام کیا ہے۔ سندھ کے بڑے بڑے منصوبے پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت کامیابی سے چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کار پاکستان میں اسٹیٹ آف دی آرٹ میڈیکل سٹی بنانا چاہتے ہیں، جس پر حکومت سندھ نے تمام ممکنہ سہولیات کی فراہمی کی یقین دہانی کروائی۔ ہم نے نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لئے ای وی ٹیکسی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور صدر آصف علی زرداری ی ہدایات پر ہم ایک ایسی اسکیم لانے والے ہیں جس میں ہزاروں نوجوانوں کو اپنا روزگار کمانے کا موقع ملے گا، ہم ماحول دوست ٹیکسی سروس متعارف کروانے جارہے ہیں، جس سے مسافروں کو بھی سستی اور اچھی سہولت ملے گی۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اس پورے عمل میں محکمہ سرمایہ کاری کا انتہائی اہم کردار ہے، قاسم نوید قمر نے آتے ہی بہت اچھی کوششیں کیِ ، ہمارا مقصد پاکستانی تاجروں کو چینی تاجروں کے قریب لانا تھا تاکہ یہ آپس میں کاروباری ماڈل ایکسچینج کریں اور تاجروں کا فائدہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ چینی سرمایہ کاروں کا دورہ کامیاب رہا، چین ہمارا برادر ملک ہے، ہمارے بہت اچھے تعلقات ہیں، چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے، جتنی صنعتیں قائم ہونگی روزگار کے مواقع اتنے بڑھیں گے۔ ہم صرف سرکاری نوکریوں پر انحصار نہیں کر سکتے، میڈیکل سٹی کے قیام سے پچاس ہزار لوگوں کو روزگار ملے گا۔ ایک سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت سندھ نے میڈیکل سٹی کے قیام کے لئے سرمایہ کاروں کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی، میڈیکل سٹی کے قیام کے لئے ایم او یو پر دستخط کئے جا رہے ہیں، جو چیزیں پاکستان میں بنائی جائیں گی وہ پاکستان سے ایسکپورٹ بھی ہونگی، جس سے پاکستان کو فائدہ ہوگا۔ دھابیجی اکنامک زون میں صنعت کے قیام پر دس سالہ ٹیکس استثنا ہے، یہ کاروباری افراد کو بہت بڑا رلیف ہے، یہ اقدام ان تمام سرمایہ کاروں کے لئے ہے جو دھابیجی اسپیشل اکنامک زون میں کاروبار کرے گا۔ پریس کانفرنس کے موقع پر ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی قاسم نوید قمر نے کہا کہ گرینائٹ یہاں سے ایکسپورٹ ہوتا تھا اور دوسرے ملکوں سے پراسیس ہو کر ہمارے ہی ملک میں فروخت ہو رہا تھا، ہماری کوشش ہوگی کہ اس کے پراسیس کا کام بھی یہاں پر ہی ہو۔ ایک اور سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالامال ہے، ایف ٹی سی کی عمارت میں تھر کا گرینائٹ لگایا گیا ہے، تھر میں ہمارے پاس اربوں ٹن کوئلہ موجود ہے، ماہرین کے مطابق ہم کوئلے سے سستی بجلی بنا بھی سکتے ہیں اور دو سؤ سال تک فروخت بھی کر سکتے ہیں۔ پریس کانفرنس کے موقع پر بات کرتے ہوئے وزیر توانائی اور منصوبہ بندی و ترقیات سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ فرسٹیلائزیشن ہماری اہم ضرورت ہے، دو سئو ایکڑ زمین پر پلانٹ لگا کر کول کی گیسیفکیشن کا کام کیا جائے گا، سولر پارک بھی لگائے جارہے ہیں، جو توانائی کے شعبے بہت معاون ثابت ہونگے، کوئلے سے جو بجلی پیدا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ سولرپارکس سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمتوں کا تعین حکومت سندھ کرے گی، سولر پارک سے عوام کو فی یونٹ 18 روپے فی یونٹ مل سکے گی، بجلی کی قیمتوں کا تعین سیپرا اور ایس ٹی ڈی سی کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ کے الیکٹرک میں وفاق کے تین نمائندے ہیں سندھ کی کوئی نمائندگی نہیں، لوڈ شیڈنگ اور ٹیرف کا ایک طریقہ کار لیکن نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے اس میں ہمارا کوئی عمل دخل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ عوام کو سستی بجلی ملے، سستی بجلی کی فراہمی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا ویژن ہے۔
ہینڈآؤٹ نمبر 930۔۔۔

سندھ حکومت چینی کمپنیوں کے لیے اکنامک زونز بنائے گی: صوبائی وزیر

کراچی14 دسمبر۔ سندھ حکومت مقامی تاجروں کے ساتھ مل کر چینی سرمایہ کاروں کو مختلف صنعتیں لگانے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے کراچی میں دو خصوصی اقتصادی زونز تیار کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ یہ بات صوبائی وزیر برائے توانائی، منصوبہ بندی اور ترقی سید ناصر حسین شاہ نے ہفتہ کو کہی۔ ایکسپو سینٹر کراچی میں 10ویں بیوٹی، فٹنس اور کنزیومر ہیلتھ انٹرنیشنل ایکسپو میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ملک کے تجارتی مرکز کراچی میں متعدد صنعتیں قائم ہو رہی ہیں جس کی بنیادی وجہ عالمی سطح پر تجارتی تبدیلیاں ہیں۔ متعدد ممالک چین سے براہ راست درآمدات کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن چینی مصنوعات اب بھی بالواسطہ طور پر دیگر ممالک کے راستے درآمد کی جا سکتی ہیں، خاص طور پر پاکستان سے، جو ابھرتے ہوئے تجارتی مواقع کے تحت درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کے لیے ترجیحی مارکیٹ ہوگی۔ناصر حسین شاہ نے پاکستانی تاجروں پر زور دیا کہ وہ مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور “میڈ ان پاکستان” برانڈ کے تحت برآمدات بڑھانے کے لیے اپنے چینی صنعتکاروں کے ساتھ تعاون کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کراچی کے مختلف صنعتی زونز کے ساتھ ان کے انفراسٹرکچر کو مخصوص منصوبوں اور ضروریات کے مطابق تیار کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔توانائی میں صوبے کی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے ناصر حسین شاہ نے کہا کہ حکومت نے بجلی کی پیداوار میں اہم سنگ میل حاصل کیا ہے۔ منصوبہ بند سولر پارک کے لیے 3.5 سینٹ فی یونٹ کے غیر معمولی طور پر کم ٹیرف کی منظوری دی گئی ہے جو کراچی اور سندھ کے رہائشیوں کو مختلف مراحل میں سستی بجلی فراہم کرنے کے لیے مقرر ہے.اس موقع پر ای کامرس گیٹ وے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد عزیر نظام نے کہا کہ غیر ملکی اور مقامی مندوبین اور تاجروں کی شرکت عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت امیج کو ظاہر کرتی ہے۔ جس سے تاجروں، سرمایہ کاروں اور سیاحوں کو ملک کی طرف راغب کرنا آسان ہوتا ہے۔انہوں نے یہ بھی کھا کہ کاروباری اور اقتصادی سرگرمیاں روایتی شعبوں سے ابھرتی ہوئی صنعتوں جیسے کہ لائف اسٹال اور صحت سے متعلق صنعتوں کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ یہ شعبے عالمی اور مقامی دونوں سطحوں پر سرمایہ کاری اور روزگار کے لیے نمایاں مواقع پیدا کر رہے ہیں۔اس نمائش میں امریکہ، چین، کوریا، ایران، ترکی اور انڈونیشیا سمیت سات ممالک کے 2000 سے زائد معروف برانڈز اور 350 کمپنیاں شرکت کر رہی ہیں۔ توقع ہے کہ نمائش 40,000 زائرین کو راغب کرے گی اور سروس ایکسپورٹ، B2B ڈیلز، اسپانسر شپ اور سیاحت سے متعلق سرگرمیوں کے ذریعے 20 ملین ڈالر کی آمدنی حاصل کرے گی۔اس تقریب کا مقصد پاکستان کے ابھرتے ہوئے صحت کی دیکھ بھال، فٹنس اور فلاح و بہبود کے شعبوں میں اسٹیک ہولڈرز، ماہرین اور صارفین کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ یہ پاکستانی سامعین کے لیے خوبصورتی کے نئے رجحانات اور اختراعات کو متعارف کرانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس طرح ان صنعتوں میں ملک کی عالمی موجودگی کو بڑھانا ہے۔