لائلپُور ….. افسانہ

وقار ملک
کمپنی باغ میں صدیوں پرانے کسی انگریز کا مجسمہ آج بھی مخصوص خاموشی اور اداسی کی دبیز چادر اوڑھے سامنے کی طرف دیکھ رہا ہے ۔کون سا منظر اس کی پیش نظر ہے اس کا اندازہ لگانا ذرا مشکل ہے ۔کیونکہ اس کے سامنے دور ایک پرانے نفیس ریستوران کی خوابیدہ عمارت بوڑھے آم کے درختوں میں اونگھ رہی ہے۔ریستوران سے اور آگے سڑک کے پار جدیدزمانے کی شاہکار کسی بینک کی کئی منزلہ عمارت ملک کی معاشی ترقیوں کا فسانہ سنا رہی ہے کیا وہ مجسمہ اس پرانے ریستوران یا اس نئی بینک کی عمارت کو دیکھ رہا ہے؟ نہیں یہ بت مادیت پرست نہیں ہے اس کی دلچسپیاں اینٹ بجری سے ماورا ہیں ۔اس کی نگاہیں ممکن ہے آم کے بوڑھے درختوں پر ٹِکی ہوئی ہوں اور وہ چشم تصور میں نصف صدی پرانا منظر دیکھ رہا ہے جس میں ساون کی گھٹائیں منڈ لا رہی ہیں ۔درختوں کے موٹے ٹہنوں پر پینگیں اور جھولے لٹک رہے ہیں جن پر رنگین کپڑوں میں ملبوس الہڑ دوشیزائیں جھولے جھول رہی ہیں ۔ارے نہیں یہ مجسمہ تو اپنے ساتھ والے گھاس کے قطعہ میں موجود ایک پرانے بنچ کو تکے جا رہا ہے ۔بینچ کے کنارے زمانے کی شکست و ریخت کا شکار ہو کر ٹوٹ چکے ہیں لیکن اس کی مضبوطی ابھی تک قائم و دائم ہے ۔شاید مجسمہ اور وہ بینچ ہم عمر ہیں ۔ کیونکہ مجسمے کے خدوخال اور جسمانی اتار چڑھاؤ بھی اب غیر پر کشش ہو گئے ہیں ۔مجھے یقین آ چکا ہے کہ مجسمے کی نگاہوں کا محور اس کا ہم عصر اور ہم عمر وہ بینچ ہی ہے ۔شاید اس کی وجہ کئی مشترکہ خصوصیات ہیں ۔دونوں کے رنگ اڑ چکے ہیں ۔دونوں پرانے ہو گئے ہیں اورنگرانی و دیکھ بھال کے طلبگار ہیں ۔دونوں کے سینے شہر بھر کے سر بستہ رازوں سے بھرے ہوئے ہیں ۔دونوں ہی گل و گلزار اور حسین چہروں کا مرکز رہ چکے ہیں ۔

لیکن ایک بات تو میں بھول ہی گیا ۔ان دونوں میں ایک تیسرا بھی ہے۔ تعلقات کا یہ ناطہ دو کناروں والا خط نہیں بلکہ تین نوکوں والی ایک تکون ہے ۔یہ تیسرا ساتھی سفید بالوں والا کمال صدیقی ہے جو ایک ریٹائرڈ پروفیسر ہے۔ اس کا چہرہ بھی اپنے دو ساتھیوں سے زیادہ مختلف نہیں ۔ موصوف کا چہرہ بھی جوانی کے حسیں سامان سے محروم ہو چکا ہے ۔سیاہ لچھے دار زلفوں کی جگہ سفید دودھیا بالوں نے لے لی ہے ۔آنکھیں جو کبھی تاروں کی طرح چمکدار تھیں اب نیم روشن دیوں کی طرح ماند پڑ گئی ہیں اور ان کو سٹیل کے فریم کی ایک عینک نے ڈھانپ رکھا ہے ۔چہرے کی سرخ رنگت اب قصہ ماضی بن چکی ہے ۔ کنگھی کی طرح گھنی سیاہ اور سایہ دار پلکیں اب چھدری ہو چکی ہیں ۔ اس کے چہرے کے جذبات کو پڑھنا مشکل ہے ۔بیک وقت طمانیت بھی ہے اور اضطراب بھی، مسرت بھی ہے اور اداسی بھی۔آج بھی پروفیسر سہ پہرسے اس بوسیدہ بینچ پر برا جمان ہے ۔کبھی کبھی اپنے پرانے دوست اس مجسمے کو بھی دیکھ لیتا ہے جو اس کی طرف دیکھ رہا ہے ۔دونوں کی نظریں چار ہوتی ہیں اور مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوتا ہے ۔یہ رفاقت نئی نہیں ہے بلکہ نصف صدی کو عبور کرتی ہوئی اب تو پون صدی تک آن پہنچی ہے۔

 

بوڑھا پروفیسر کمپنی باغ کے کسی قریبی کالونی کا مکین ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بچپن سے بڑھاپے تک کی کوئی منزل اس کو یہاں آنے سے نہ روک سکی۔اس بت اور کمال صدیقی کی دوستی کوئی ستر برس پرانی ہے جب ننھا سا کمو اپنے ساتھیوں کے ساتھ گیند بلا ہاتھ میں لئے کمپنی باغ آیا کرتا تھا ۔بچے مجسمے کی چوک پر سلیٹی سے وکٹیں بنا کر کرکٹ کھیلنا شروع کر دیتے ۔ اس وقت آج کی طرح کمپنی باغ پر ہجوم نہیں ہوا کرتا تھا ۔اس دور میں صرف رومانوی جذبات رکھنے والے زندہ دلان شہر ہی ادھر کا رخ کرتے تھے ۔آج تو اس باغ میں کولیسٹرول، ذیا بیطس ، فشار خون اور موٹاپے کے امراض کا شکار مینڈکوں اورکچھووں کی طرح پھدکتے اور روبوٹس کی طرح دوڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔یہ باغ کسی ہسپتال کا حصہ معلوم ہوتا ہے ۔پھول پہلے کی طرح موجود ہیں بلکہ ان کی انواع و اقسام اور تعداد بھی بڑھ چکی ہے لیکن خوبرو ناز نینوں کی زلفیں اور چھیل چھبیلے نازاں و فرحاں نوجوانوں کے کالروں اور کاجوں سے بے پرواہ اپنے اپنے ٹیڈی قد والے پودوں میں ہی بہار جانفزا دکھلا کر طبعی موت مر جاتے ہیں ۔اس قدر نا شناس ماحول میں ان کی ست رنگی پتیاں سبزہ زاروں اور ان کے بیچ بنی سرخ ٹائلوں والی روشوں پر ہوا کے دوش دوڑ دوڑ کر بالآخر فنا ہو جاتی ہے۔

 

ہاں تو بات ہو رہی تھی مجسمے اور پروفیسر کمال صدیقی کی دیرینہ رفاقت کی ۔لڑکپن میں کمال مجسمے کے قد مچوں میں بیٹھ کر سکول کا ہوم ورک کیا کرتاتھا ۔پڑھائی لکھائی کے ساتھ ساتھ حسین ودلفریب مناظر اور چہروں کا نظارہ بھی جاری رہتا ۔جب یہاں بیٹھے بیٹھے تھک جاتا تو سامنے پڑے بینچ پر منتقل ہو جاتا ۔کبھی کبھی وہ اس پر پیٹھ سیدھی کرنے کیلئے دراز بھی ہو جاتا ۔کالج دور میں اس کا دوست حنیف عباس جو کہ ایک شوقیہ شاعر اور گلو کار بھی تھا کمال کا بینچ فیلو بنا رہا ۔یہیں بیٹھ کر دونوں نوجوان اپنی ناکام محبتوں کو یاد کر کے ایک دوسرے کے دل کا غبار ہلکا کیا کرتے تھے۔ جب موسم خوشگوار ہوتا تو حنیف مکیش اور رفیع کے غمگین گیت گنگناکر ماحول کو پر کیف بنا دیتا۔ حنیف اس قدر ڈوب کر گاتا کہ اس کو خبر ہی نہ ہوتی کہ اس کا دوست کمال اور کمال کا دوست مجسمہ رونے کے قریب پہنچ چکے ہیں ۔مجسمے کو ان دونوں دوستوں کی قربت بہت بھلی لگتی تھی۔ اور وہ روزانہ ان کا بے تابی سے انتظار کرتا ۔ایک مرتبہ مسلسل دو ہفتے کمال اور حنیف مجسمے کے پاس نہ آتے ۔مجسمے کو اس چیز کا خوف تھا کہ کہیں ان کو کمپنی باغ میں کوئی اور پر سکون یا پر رونق گوشہ تو نہیں مل گیا ۔ان دو ہفتوں میں ایک ہفتہ تو دسمبر کی بارشیں ہوتی رہیں ۔رم جھم کی اس سرد جھڑی نے باغ کو بالکل ویران کر دیا ۔مجسمے کو پہلی مرتبہ اپنا وطن یاد آ گیا جہاں سردیوں کا سارا موسم اس طرح خاموش ،ویران اور اداس ہوتا ہے۔ پورا ہفتہ سرخ ٹائلوں کے اوپر لمبے درختوں کے خشک پتے بارشوں اور ہواؤں کے دوش پر لڑھکتے رہے۔ان سات دنوں میں اس کو خبر ہی نہ ہوتی کہ کب دن ختم ہو گیا اور رات شروع ہو گئی،کب رات نے اپنا بستر لپیٹا اور دن کی بساط بچھ گئی ۔سات دنوں کی برسات کے بعد سورج نے اپنے سارے بدلے چکا دیئے ۔پچھلے سات دنوں کا بھیگا ہوا مجسمہ ایک دو دنوں میں ہی سوکھ گیا ۔اس کی آب وتاب کو دیکھ کرلگتا تھا کی فطرت نے موسم کا سارا ڈرامہ محض مجسمے کو غسل دینے کیلئے رچایا تھا ۔دھوپ چمکی تو انتظار پھر سے شروع ہو گیا لیکن مزید ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود مجسمے کے بچھڑے ساتھی نہ لوٹے ۔سولہویں دن کمال دور سے آتا دکھائی دیا۔اس کی شیو بڑھی ہوئی تھی ۔چمکدار سنہری زلفیں کھچڑی ہو رہی تھیں ۔وہ آ کر خاموشی سے بینچ کے اوپر بیٹھ گیا ۔اداس چہرہ بہت دیر تک بے حس و حرکت رہا ۔مجسمے کی نگاہیں اپنے دوست پر ٹکی رہیں ۔ارے یہ کیا کمال تو رو رہا ہے ۔کمال کے رونے سے مجسمے کو پتہ چل گیا کہ اس کا دوست حنیف مر گیا تھا۔دسمبر کی بارشیں دبلے پتلے حنیف کو راس نہ آئیں ۔تین دن نمونیا میں مبتلا رہنے کے بعد اس کی سانس کی ڈوری ٹوٹ گئی۔

کمال جب یونیورسٹی میں داخل ہوا تو بھی اس کو معمول میں تبدیلی نہ آتی ۔گرمی ہو یا سردی،دھوپ ہو یا برکھا وہ بلا ناغہ اپنے محبوب گوشہ امان میں آتا رہا ۔مجسمے کو یاد ہے جب کمال نے میدان عشق و محبت میں پہلا قدم رکھا تھا ۔مجسمے کو اپنی جوانی کے دن یاد آگئے جب بینچ کے اوپر کمال ایک خوبصورت لڑکی کے ساتھ رازو و نیاز میں مصروف تھا ۔کمال کی طرح لڑکی کا تعلق بھی کسی خاندانی خاندان سے تھا ۔اس بات کا اندازہ اس امر سے لگا کہ دونوں بینچوں کے کناروں پو براجمان رہتے ۔درمیانی خلاء کبھی پر نہ ہوئی ۔لڑکی کی زلفوں میں گیندے کے خوبصورت پھول اور ہاتھوں میں روسی اور فرانسیسی ادبی کتابیں دیکھ کر اس کے باذوق ہونے کا اندازہ ہوتا تھا ۔مجسمے کو تھوڑا افسوس بھی ہوا کہ لڑکی میرے وطن انگلستان کا ادب کیوں نہیں پڑھتی۔دونوں کی ملاقاتیں طویل ہوتی گئیں ۔وہ دونوں ایک دوسرے میں اتنے محو ہوتے کہ دنیا اور مافیا سے بے خبر ہو جاتے ۔کمال کیلئے اپنا پرانا دوست مجسمہ بھی بے قدر ہو گیا تھا ۔شاید یہی وجہ تھی کہ مجسمہ بھی اس لڑکی کو اپنا رقیب سمجھنے لگا تھا۔ اس لڑکی نے مجسمے کا واحد ساتھی بھی چھین لیا تھا۔
باغ میں ہوائیں چلتی رہیں ،بارشیں برستی رہیں ۔مجسمے کو گرمیوں نے جھلسایا تو سرما نے ٹھٹھرا دیا۔ وقت کا پہیہ چلتا رہا ۔شہر میں تبدیلیوں کا بازار گرم ہو گیا جس سے شہر کے ساتوں بازار ملک میں اہمیت اختیار کر گئے ۔
کمال ایم اے کر کے مقامی کالج میں لیکچرار ہوا ۔چند سالوں بعد پروفیسر بن گیا اور شہر بھر میں پروفیسر کمال صدیقی کے نام سے مشہور ہو گیا ۔اب اس کے ہاتھ میں کوئی نہ کتاب ہوتی۔وہ اپنے دوست مجسمے کے سامنے اسی پرانے بینچ پر آ کر بیٹھ جاتا ۔وہ اس کیفے ٹیریا کو دیکھنے لگتا جو کبھی چھوٹی سی کینٹین ہوتی تھی اور جس پر وہ بچپن میں چند آنوں کے عوض بسکٹ اور ٹافیاں خریدا کرتا تھا۔

 

اس کینٹین پر اس نے اپنی یونیورسٹی کی کلا س فیلو کے ساتھ اپنی زندگی کی حسین ترین شاموں کا کچھ وقت گزارا تھا ۔وہ بینچ پر بیٹھے بیٹھے تھک جاتا تو چہل قدمی کرتے ہوئے باغ کے دائیں کونے میں گورا قبرستان کی طرف آ جاتا جہاں پروفیسر کے ساتھی مجسمے کے ہم مذہب اور ہم وطن ابدی نیند سوئے ہوتے ۔اس قبر ستان کے قریب وہ اکثر ٹوٹا ہوا جنگلا توڑ کر کمپنی باغ میں داخل ہوتا تھا ۔زمانہ کلانچیں بھرتا رہا۔ باغ کے اندر اور باہر تبدیلیاں رو نما ہوتی گئیں ۔قدامت جدت کا روپ دھارتی گئی ۔باغ میں خوبصورت فوارے لگا دیئے گئے جو شام کے وقت روشنیوں میں نہا جاتے ۔ نت نئے غیر ملکی پھول باغ میں کھل اٹھے ۔لیکن افسوس کہ اتنی ساری مثبت تبدیلیوں کے باوجود اب کمپنی باغ صرف بیمار یا پھر بیماری سے خوفزدہ لوگوں کی ورزش کا ہی مقام بنتا جا رہا تھا ۔
جس دن پروفیسر کمال صدیقی ریٹائر ہوا مارچ کا ایک نیم روشن دن تھا ۔ صبح سے بادلوں اور سورج میں آنکھ مچولی جاری تھی۔ لیکن دوپہر سے ذرا پہلے گھنے سیاہ بادل چھا گئے اور ہلکا اندھیرا شہر پر طاری ہو گیا ۔تھوڑی دیر بعد بہار کی برکھا خوب برسی ۔شام کو جب کمال صدیقی باغ میں آیا تو اس کے نام کے ساتھ ہمیشہ کیلئے ریٹائرڈ کا اسم صفت لگ چکا تھا ۔ اب اس کے پاس کتاب نہیں تھی۔چہرے پر طمانیت اور اداسی میل کھا رہی تھیں ۔کچھ دیر بینچ پر بیٹھا رہا ۔اس کا چہرہ مجسمے کی طرف تھا ۔مجسمے کو غور سے دیکھتے ہوئے وہ اس کی طرف چل پڑا ۔آنکھیں پھر چار ہو رہی تھیں ۔آج ریٹائرڈ پروفیسر کمال صدیقی مجسمے سے باتیں کرنا چاہتا تھا ۔لیکن گفتگو کا آغاز دوسری طرف سے ہو گیا کیونکہ دونوں طرف سے آگ برابر لگی ہوئی تھی ۔مجسمے نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا ،’’ پروفیسر صاحب! کیوں غمزدہ ہیں ؟ کیا آپ نے اپنی سروس ایمانداری سے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچائی ؟ کیا ہزاروں اور لاکھوں بچوں کو علم کے گہنے نہیں پہنائے ؟کیا اپنے طلباء کو شرافت ، پاکیزگی، احترام، ادب کا درس دینے میں کامیاب نہیں ہوئے ؟کیا ان کو مویسان ، گوگول، ٹیگور اور غالب کی عظمت سمجھانے اور سکھلانے میں ناکام رہے ؟ کیوں پریشان ہو؟ تمہیں تو خوش ہونا چاہئے ۔تم نے مقدوربھر اچھی کوشش کی ۔تمہاری وجہ سے سینکڑوں نوجوانوں نے اپنے ہاتھوں میں کتابیں اٹھا لیں ۔‘‘

پروفیسر کسی بت کی طرح گنگ سنتا رہا ۔افسردگی کا دبیز پردہ اٹھنے لگا اور اس کے چہرے پر خوشیوں کے کنول کھل اٹھے ۔
مجسمہ دوبارہ بولا ’’ تم جانتے ہو میں نے اپنا بت اور شکل صرف تمہارے سامنے عیاں کی ہے۔دوسرے لوگوں کیلئے تو یہاں محض میری ایک یاد گار رہی ہے لیکن میرے وجود کو صرف تم ہی دیکھ سکتے ہو ۔میں نے اپنا گھونگھٹ صرف تمہارے سامنے اٹھایا ہے ۔‘‘
پروفیسر حیران و پریشان سب کچھ سنتا جا رہا تھا ۔ کیا واقعی مجسمہ صرف مجھ کو نظر آ رہا ہے اور دوسروں کیلئے ایک چھپر کے سوا کچھ نہیں ؟ مجسمے نے پروفیسر کے خیالات کے سلسلے کو کاٹا اور پھر سے بولنے لگا ۔’’ یار تیرے شہر والے بڑے ستم ظریف ہیں ۔جب تک میرے ہم وطن یہاں کے حکمران رہے یہ شہر میرے نام سے جانا گیا ۔ان کے جانے کے بعد بھی میرے نام کے ڈنکے بجتے رہے۔ لیکن جانے کیوں اچانک اس شہر سے میرا حوالہ چھین لیا گیا ۔میرا نام تمام سرکاری عمارتوں سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا گیا ۔ ذرا اپنے حاکموں سے پوچھو کہ کیا میری موجودگی بھی تو ان کی طبع نازک پہ گراں تو نہیں گزررہی ؟ کیا میری یاد گار کو بھی ٹھوکریں مار مار کر گرا دیا جائے گا؟۔‘‘
پروفیسر کمال صدیقی اپنا ریٹائرمنٹ کا غم بھول گیا تھا ۔اس مجسمے کا غم تو پروفیسر سے بھی زیادہ شدید تر اور گہرا تھا۔
بارش کے چھینٹے اچانک گرنا شروع ہوگئے ۔مجسمے نے ریٹائرڈ پروفیسر کو اپنے دامن میں پناہ لینے کا اشارہ کیا ۔اس بھیگے ہوئے موسم میں مجسمہ بھی گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار انداز میں اپنے جذبات برسا رہا تھا ۔مجسمے نے ایک اور شکایت پیش کی ۔’’ کیا ہماری کمپنی کی حکومت سے آپ لوگ اتنے برہم تھے کہ اس خوبصور ت باغ کا نام بھی کمپنی باغ نہیں رہنے دیا ؟ کیا جناح صاحب سے محبت کا تقاضا صرف یہی ہے کہ ہمارے بنائے باغوں کو بھی ان سے موسوم کر دیا جائے ؟ کیا اگر آپ کا وہ عظیم لیڈر زندہ ہوتا تو اس کمپنی باغ کو باغ جناح میں بدلتا دیکھ کرخوش ہوتا ؟

 

وہ دن بھی گزر گیا….. وہ مہینہ بھی….. وہ سال بھی….. سالوں کے ساتھ گزرتے چلے گئے ۔ وقت گزرتے خاص کر اچھا وقت گزرتے دیر نہیں لگتی ۔دو دہایاں اور گزر گئیں ۔ شہر میں کپڑے کی کھڈیوں میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ۔صنعتوں پر صنعتیں لگتی گئیں ۔ دھویں اور غبار کے مرغولے شہر کے اوپر اڑنے لگے ۔ کمپنی باغ کو سلیٹی رنگ کی سڑکوں نے چاروں طرف سے اپنے حصار میں لے لیا جن پر دن رات فراٹے بھرتی ہوئی گاڑیاں شور، دھواں اور گرد باغ میں پھینکتی رہتیں۔ پھول ، درخت اور گھاس تک گرد آلود رہنے لگے۔ مجسمے کی رنگت بھی ماند پڑتی گئی۔ شہر کے حکام کے پاس اس باغ اور باغ کے شہزادے کی طرف توجہ دینے کا وقت نہیں تھا ۔ آج موسم سرم کا ایک خوبصورت روشن دن ہے ۔پروفیسر کی طبیعت چند دنوں سے ناساز ہے ۔باغ و بہار طبیعت پر شہر کی آلودہ فضا نے منفی اثر ڈالنا شروع کر دیا تھا۔ نظر کمزور اور سماعت ناتواں ہو گئی تھی۔ وہ ہانپتے کانپتے اور کھانستے کھانستے باغ میں داخل ہوتا ۔یہاں آ کر اسے کچھ آرام محسوس ہوتا ۔لیکن آج تو کھانسی رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔اور یہ کیا پروفیسر بینچ سے نیچے گر پڑے ہیں ۔باغ ویران ہے ۔کسی کو باغ میں آنے کی فرصت ہی نہیں ۔پروفیسر کی کھانسی آہستہ آہستہ مدھم ہو گئی ہے لیکن اس نے اپنا دائیاں بازو سینے کے بائیں طرف رکھا ہوا ہے۔ اس کے چہرے پر شدت درد سے بل پڑرہے ہیں۔ پروفیسر آہستگی سے کروٹ بدلتا ہے ۔باغ کی زمین، سبز مخملی گھاس اور بینچ کے پایوں کو چومتا ہے۔مشکل سے کھڑا ہو کر بینچ کے اوپر لیٹ جاتا ہے۔اس کی آنکھوں میں آنسو رواں ہیں۔ اس کی آنکھیں آہستہ آہستہ بند ہو رہی ہیں۔ زندگی تاریک ہو رہی ہے۔ ذہن سونے کی کوشش کر رہا ہے۔ یادیں، باتیں ، صورتیں، چہرے…..  اور….. مجسمہ بھی دھندلاتا جا رہا ہے۔ پروفیسر کا چہرہ مجسمے کی طرف لڑھک گیا ہے۔ بند ہوتی ہوئی آنکھیں اچانک کھل گئی ہیں۔ آنکھیں چار ہو رہی ہیں۔ لیکن اب کے آخری مرتبہ….. الوداع….. میرے دوست….. میرے ساتھی….. الوداع….. 70 سالہ رفاقت الوداع۔کمپنی باغ….. پھول….. فوارے…..خاموش ریستوران۔۔۔۔کینٹین….. اور….. اور….. اور….. الوداع

باغ میں ہر طرف خاموشی اور اداسی طاری ہے ۔مجسمہ اپنی مخصوص پر سکون نگاہوں سے سامنے کی طرف دیکھ رہا ہے ۔اس کی نگاہوں کے سامنے ایک پرانے نفیس رستوران کی خوابیدہ عمارت بوڑھے آم کے درختوں میں اونگھ رہی ہے ۔اس کے ساتھ ہی سڑک کے پار کسی بنک کی فلک بوس عمارت شہر کی ترقیوں کے گن گا رہی ہے۔مجسمے کے سامنے گھاس والے قطعہ میں ایک بینچ ویران پڑا ہے ۔اس کے دیرینہ ساتھی کو مردہ حالت میں ریسکیو کی ایک خوبصورت ایمبو لینس تھوڑی دیر پہلے اٹھا کر جا چکی ہے ۔پرانے بینچ کے کنارے ٹوٹے ہوئے ہیں اور اس کا رنگ اڑ چکا ہے ۔اس کی مرمت کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اب اس پر کسی نے بھی نہیں بیٹھنا ۔ لوگوں کے سانس لینے اوربیٹھنے کو پورے باغ میں سنگ مر مر کے خوبصورت بینچ موجود تھے۔ اس پرانے بینچ کی طرف آکر کسی نے کیا کرنا تھا۔ ٹوٹے ہوئے بینچ سے تھوڑے فاصلے پر کسی انگریز کی یاد گار ایک پتھریلے چھپر کی صورت موجود ہے ۔بینچ بھی پتھر کا ہو گیا ہے اور چھپر بھی ۔ اداس شام انسانوں اور پھولوں کو کمپنی باغ میں تلاش کر رہی ہے ۔