لاہور سے بہت اہم اور تازہ ترین خبریں… مدثر قدیر کی رپورٹ

لاہور ٟٞدی یونیورسٹی آف لاہور میں کالج آف ڈینٹسٹری ایوارڈز2024کا انعقاد کیا گیا جس میں چیئر مین بورڈ آف گورنرز دی یونیورسٹی آف لاہور اویس رئوف نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی ۔تقریب میں ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف ، ڈین یونیورسٹی کالج آف میڈیسن اینڈ ڈینٹسٹری پروفیسر ڈاکٹر مغیث اے بیگ ، ڈین فیکلٹی آف الائیڈ ہیلتھ سائنسز پروفیسر ڈاکٹر اشفاق احمد ، ایم ایس ڈینٹل ہسپتال ڈاکٹر محمد اسلم ،پروفیسر وجیہہ عالمگیر،پروفیسر فریحہ بخاری،پروفیسر فریحہ ناز،پروفیسر عرفان مجید،ڈاکٹر عروج الحسن اور ڈاکٹر محمد حسن سمیت سٹوڈنٹس اور والدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ ایوارڈ تقریب میں ڈینٹسٹری میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی سٹوڈنٹس کو ایوارڈز اور سر ٹیفکیٹس سے نوازا گیا ۔ تقریب سے خطاب کر تے ہوئے مہمان خصوصی چیئر مین بورڈ آف گورنرز اویس رئوف نے کہا کہ 20سال قبل ڈینٹل ہسپتال اور کالج کی شروعات کی تھیں ۔ دو عشروں کے دوران اس ادارے نے ملک کے بہترین تعلیمی اداروں اور ڈینٹل ہسپتالوں میں جگہ بنائی ہے ۔ بہت ہی معمولی سے چارجز کے عوض مریضوں کو دانتوں کی بہترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں ۔فیکلٹی ،ڈینز اور سٹوڈنٹس کی محنت اور انتھک کاوش کے باعث یونیورسٹی آف لاہور کا ڈینٹل کالج اور ڈینٹل ہسپتال منفرد مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے ۔ایک سنگ میل عبور کیا ہے جس میں سب کی محنت شامل ہے۔ہم نے یوگنڈہ میں بھی ڈینٹسٹری شروع کی جہاں بہت اچھار سپانس ملا ہے ۔وہاں 100چیئرز کے ساتھ ڈینٹل کیئر شروع کی ہے۔ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف نے تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ ہمارے سکول اور کالج سے فارغ التحصیل ڈینٹسٹ فیلڈ میں ہمارا نام روشن کر رہے ہیں ۔یو سی ایم ڈی یونیورسٹی آف لاہور کا ایک ادارہ ہے جو شانہ بشانہ ترقی کی منازل طے کر رہا۔اس میں فیکلٹی ممبران اور سٹوڈنٹس کا بہت بڑا کردار ہے ۔عالمی سطح پر یونیورسٹی آف لاہور نے نمایا ں کارکردگی پیش کی ہے ۔ ہم نے عالمی رینکنگ میں پاکستان کی تیسرے نمبر کی یونیورسٹی ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔پاکستان میںپرائیویٹ و سرکاری کل 268یونیورسٹیز ہیں جن میں سے تیسرا نمبر حاصل کرنا بلا شبہ ایک اعزاز ہے ۔ہم نے ریسرچ ورک کو خصوصی طور پر فوکس کیا ہوا ۔ایوارڈ تقریب کے اختتام پر مہمان خصوصی چیئر مین اویس رئوف نے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف کے ہمراہ پوزیشن ہولڈر سٹوڈنٹس کو ایوارڈز اور سرٹیفکیٹس دیے ۔

==================================
وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے گورنمنٹ اسلامیہ کالج کوپر روڈ کے کانووکیشن میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی جہاں انہوں نے 600 گریجویٹس طالبات میں گولڈ و سلور میڈل اور رول آف آنرز تقسیم کئے۔ تقریب میں طالبات سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر تعلیم نے ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ لڑکیاں تعلیمی میدان میں لڑکوں سے آگے ہیں۔ بیٹیاں جتنی خودمختار ہوں گی، اتنا ہی بہتر طریقے سے حالات کا مقابلہ کر سکیں گی۔ رانا سکندر حیات نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ویژن کے مطابق طالبات کو ہر میدان میں خودمختار دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسی ضمن میں لڑکیوں کیلئے سکوٹی سکیم نکالی گئی۔ دوسری جانب بالخصوص خواتین کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب چین سے 700 الیکٹرک بسوں کا منصوبہ بھی لا رہی ہیں۔ ان میں سے 100 سے زائد بسیں کالج، یونیورسٹی کے روٹس پر چلائی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کو خودمختار بنانے کیلئے سکلز ڈویلپمنٹ پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ اگلے ماہ لیپ ٹاپ سکیم بھی لانچ کر دی جائے گی۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ پنجاب میں تعلیمی اداروں کیلئے موجود بسوں کو فنکشنل کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ اس پر تیزی سے کام جاری ہے۔ اس موقع پر وزیر تعلیم نے کوپر روڈ کالج کی ٹاپ 3 پرفارمنگ طالبات کو ذاتی جیب سے ترکی، دبئی یا قازقستان میں سے کسی ایک ملک کے ٹرپ کا بھی اعلان کیا۔ وزیر تعلیم نے طالبات کو پنجاب اسمبلی دورہ کی دعوت دی اور کہا کہ انہیں مکمل پروٹوکول کے ساتھ ایوان کا دورہ کروایا جائے گا اور گارڈ آف آنر بھی پیش کیا جائے گا۔
===========================

تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم و تحریک صراط مستقیم کے زیر اہتمام شاہ پور کانجرہ لاہور میں ”افضلیت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کانفرنس“ کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کی صدارت صاحبزادہ پیر معاذ المصطفیٰ قادری نے کی جبکہ نظامت کے فرائض مفتی محمد ساغر تبسم صدیقی نے سر انجام دیے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم کے سربراہ اور تحریک صراط مستقیم کے بانی ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے کہا: حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ”ختم نبوت“ اور ”نظامِ اسلام“کے اولین محافظ اور راز دارِنبوت تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ازل ہی سے مزاجِ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو مزاجِ نبوت کے تابع بنایا تھا۔ بعد از انبیاء علی نبینا و علیہم السلام حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی افضلیت قطعی اور اجماعی ہے۔ افضلیت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عقیدہ پر قرآن وسنت کے تحفظ کا مدار ہے۔ خلافت بلا فصل ملنے میں حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے درجات بھی منفرد تھے اور امتحانات بھی منفرد تھے۔ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت بلا فصل کا انکار تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عدالت پر حملہ ہے۔ بعد والی اُمت مسلمہ تک قرآن و حدیث پہنچنے کا ذریعہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہیں، ان کی عدالت کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے سے پورا دین غیر محفوظ ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں بار بار مجمع عام میں افضلیت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عقیدہ بیان کیا اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے کے لیے اَسّی کوڑوں کی سزا متعین کی۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ جیسے ائمہ نے خلفائے راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ترتیبِ خلافت کے مطابق ہی ترتیبِ افضلیت بھی لکھی ہے۔ بلاوجہ سب سے پہلے اُمت کے معاملات چلانے کا بوجھ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کندھوں پر نہیں رکھا گیا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صلاحیتیں ہی پہلے نمبر کی تھیں۔ آپ کی شجاعت،بصیرت اور ہمت سے اسلام کو بہت قوت ملی۔ کانفرنس میں علامہ محمد صدیق مصحفی، علامہ محمد فیاض وٹو جلالی، علامہ محمد حامد مصطفی جلالی، مفتی محمد شاہد عمران جلالی، علامہ محمد انیس الرحمن رضوی، علامہ محمد طارق عزیز سعیدی، علامہ محمد فاروق احمد جلالی، حافظ محمد مدثر جلالی، میاں محمد لطیف مرتضائی، حافظ کلیم اللہ مرتضائی، علامہ غلام مصطفی مدنی سمیت کثیر تعداد میں علماء و مشائخ اور عوام اہل سنت نے شرکت کی۔
=================


فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی میں شعبہ ایمرجنسی میڈیسن کے فروغ کے لیے ٹراما آڈٹ کے موضوع پر بین الاقوامی آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔
وائس چانسلر پروفیسر خالد مسعود گوندل نے بطور سرپرست اعلیٰ شرکت کی۔
اوور لیڈی آف لارڈز ہسپتال(Our Lady of Laurdes Hospital)، آئرلینڈ سے کنسلٹنٹس ایمرجنسی میڈیسن ڈاکٹر نیال او کونر (Dr. Niall O Conner) اور ڈاکٹر احمد جمال نے بطور گیسٹ اسپیکرز شرکت کی۔
سیمینار کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک اور قومی ترانے سے ہوا۔
استقبالیہ خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر خالد مسعود گوندل نے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ اُن کا کہنا تھا کہ آج کے دونوں گیسٹ اسپیکرز پاکستان میں شعبہ ایمرجنسی میڈیسن کے بانیوں میں سے ہیں۔اُنہوں نے ایمرجنسی میڈیسن کی اہمیت اور تاریخ کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی میڈیسن شعبہ میڈیسن کی سب اسپیشلٹی ہے جو ہنگامی حالات میں مریضوں کے علاج پر خصوصی توجہ دیتی ہے۔ اس شعبے میں پریکٹیشنرز کو ہر قسم کے ہنگامی حالات سے نمٹنے اور دوسرے شعبوں کے ماہرین کی مدد کے بغیر، ازخود انتظامات کرنے کی تربیت دی جاتی ہیں۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ شعبہ ایمرجنسی میڈیسن وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اُنھوں نے ترقی یافتہ ممالک میں ایمرجنسی میڈیسن کے قیام پر بھی روشنی ڈالی۔انہوں نے مزید کہا کہ حال ہی میں فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی/سر گنگا رام ہسپتال کے ایمرجنسی میڈیسن کی فیکلٹی کو کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف پاکستان اور یونیورسٹی سے منظوری دی گئی ہے۔
ڈاکٹر نیال او کونر (Dr Niall O Conner) نے میجر ٹراما آڈٹ (Major Trauma Audit) پر تفصیلی لیکچر دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ میجر ٹراما آڈٹ (MTA) ایک مریض کی حفاظت کا اقدام ہے جس کا مقصد اعلی معیار کی صحت کی سہولیات کی فراہمی، مریض کی صدمے کی حالت میں دیکھ بھال اور بہتری کے اقدامات کو بڑھانا ہے۔ اس میں ڈیٹا اکٹھا کرنا اور ان کا تجزیہ کرنا شامل ہے تاکہ بہتری کے لیے متعلقہ شعبوں کی نشاندہی کی جا سکے اور بالآخر پیچیدگیوں اور اموات کی روک تھام کے ساتھ ہسپتال میں قیام کو کم کیا جا سکے۔انہوں نے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں ٹراما آڈٹ کے لیے استعمال ہونے والے اہم اصولوں پر روشنی بھی ڈالی۔
ڈاکٹر احمد جمال کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی میڈیسن دور حاضر کی ایک نئی اسپیشلٹی ہےاور پوری دنیا میں شعبہ ایمرجنسی میڈیسن کے قیام میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ لوگ پوسٹ گریجوئیشن کے دوران کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کے ذریعے آئرلینڈ میں شعبہ ایمرجنسی میڈیسن میں تربیت کے لیے بھی درخواست دے سکتے ہیں۔
اِس موقع پر پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر عبدالحمید، رجسٹرار پروفیسر محمد ندیم، ڈینز پروفیسر ڈاکٹر عائشہ ملک، پروفیسر عالیہ زاہد، پروفیسر بلقیس شبیر، پروفیسر شمیلہ اعجاز منیر، ڈاکٹر تسکین زہرہ، تمام شعبوں کے سربراہان، فیکلٹی ممبران اور طلباء و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
سیمینار کے اختتام پر معزز مہمانوں میں اعزازی شیلڈز تقسیم کی گئیں۔
سیمینار کے بعد بین الاقوامی ماہرین نے مدر اینڈ چائلڈ بلاک ، سر گنگا رام ہسپتال کا دورہ کیا اور صحت عامہ کی بہترین سہولیات کی فراہمی اور مثالی خدمات کی تعریف کی۔
=============================

44ویں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی (KEMU) سالانہ بین الاقوامی سائنسی کانفرنس کے موقع پر، ایک روزہ بنیادی اینڈوسکوپی ورکشاپ شمالی میڈیکل وارڈ میں پروفیسر اسرار الحق طور کی سربراہی میں پاکستان سوسائٹی آف گیسٹروانٹرولوجی اور KEMCAANA کے تعاون سے منعقد کی گئی۔

کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر محمود ایاز ورکشاپ کے مہمانِ خصوصی تھے۔ پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد معین اور چیف آپریٹنگ آفیسر پروفیسر فیصل مسعود ورکشاپ کے معزز مہمانوں میں شامل تھے۔ گیسٹروانٹرولوجی اور اینڈوسکوپی کے ماہرین نے مختلف قومی اور بین الاقوامی اداروں سے ورکشاپ میں بطور فسیلیٹیٹر شرکت کی۔ ڈاکٹر احسن، اسسٹنٹ پروفیسر گیسٹروانٹرولوجی، ورکشاپ کے ماڈریٹر تھے۔

پروفیسر اسرار الحق طور نے شرکاء کو خوش آمدید کہا۔
مہمانِ خصوصی پروفیسر ایاز نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین کو جونیئر ساتھیوں اور رہائشی ڈاکٹروں کو مہارت اور علم منتقل کرتے دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا اور پروفیسر اسرار کو اس شاندار سرگرمی کے انعقاد پر مبارکباد دی۔

ورکشاپ کے دوران مختلف کیسز کیے گئے، جن میں معدہ اور بارہ انگشت کی بایوپسی، ای وی بی ایل، پولیپیکٹومی، ہسٹواکری، پیگ ٹیوب ڈالنا اور پھیلاؤ، اچالیسیا کارڈیا، بواسیر کی بینڈ لیگیشن، اور اسٹینٹ ڈالنے کے عمل شامل تھے۔

فسیلیٹیٹرز میں پروفیسر عاکف دلشاد، پروفیسر محمد آصف گل، پروفیسر شمیل ظفر، پروفیسر شاہد سرور، ڈاکٹر حماد اشرف، ڈاکٹر غیاث الحسن، ڈاکٹر بلال ناصر، ڈاکٹر جنید مشتاق، ڈاکٹر ابتسام امجد، ڈاکٹر اظہر حسین، اور ڈاکٹر محمد ایوب شامل تھے۔

بڑی تعداد میں فیکلٹی اور رہائشی افراد نے شرکت کی۔ آخر میں پروفیسر محمد عمران نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔