وزیراعظم۔۔۔وفاقی کابینہ سول نافرمانی کی کال پاکستان کے ساتھ دشمنی ہے، ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ بیرون ملک پاکستانیوں کے اعتماد کا مظہر ہے، وزیراعظم کا وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب

وزیراعظم۔۔۔وفاقی کابینہ
سول نافرمانی کی کال پاکستان کے ساتھ دشمنی ہے، ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ بیرون ملک پاکستانیوں کے اعتماد کا مظہر ہے، وزیراعظم کا وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب

اسلام آباد۔10دسمبر :وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ سول نافرمانی کی کال سے بڑی دشمنی پاکستان کے ساتھ کیا ہو سکتی ہے، ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ بیرون ملک پاکستانیوں کے اعتماد کا مظہر ہے، معاشی استحکام کے لئے سیاسی استحکام ناگزیر ہے، اسلام آباد پر چڑھائی کرنے والے شر پسندوں کو نہیں چھوڑاجائےگا، شام میں پھنسے پاکستانیوں کے انخلا کا میکنزم طے ہو گیا۔ منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ چند روز کے اندر شام کے حالات یکسر تبدیل ہو گئے۔ پاکستان اس صورتحال میں غیر جانبد ار رہا۔شام میں اس وقت 250 زائرین اور 300 دیگر پاکستانی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ کئی پاکستانی خاندان برسوں سے وہا ں آباد ہیں۔ شام میں پھنسے پاکستانیوں کے انخلا کے حوالے سے نائب وزیراعظم اور شام میں پاکستان کے سفیر نے متحرک کردار اداکیا۔ گزشتہ روز میری شام میں تعینات پاکستانی سفیر سے ملاقات بھی ہوئی۔ ان افراد کو بذریعہ سڑک لبنان اور رفیق حریری ایئرپورٹ سے بذریعہ چارٹرڈ فلائٹ واپس لایا جا سکتا ہے۔ کل لبنان کے وزیراعظم سے اس سلسلہ میں میں نے بات کی ہے۔ ریاض میں سعودی ولی عہد کی دعوت پر جب میں گیا تو میری لبنان کے وزیراعظم سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔ انہوں نے پاکستانی عوام اور حکومت کے لئے نیک جذبات کا اظہار کیا اور پاکستان کی طرف سے بھجوائی جانے والی امداد کا شکریہ بھی اداکیاتھا۔ لبنان کے وزیراعظم نے بیروت کے ذریعے شام میں پھنسے پاکستانیوں کے انخلا کے سلسلہ میں اپنے ہرممکن تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو اس سلسلہ میں احکامات بھی جاری کر دیئے ہیں۔ اس طرح شام میں پھنسے پاکستانیوں کے انخلا کا میکنزم طے ہو گیا ہے۔ وزیراعظم نے ہفتہ وار مہنگائی (ایس پی آئی) کا انڈکس کم ہو کر 3.7 فیصد پر آنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتےہوئے کہا کہ معاشی استحکام و ترقی کے لئے سیاسی استحکام اور امن و امان ناگزیر ہے۔ وزیراعظم نے کابینہ کو بتایاکہ کل آذربائیجان کے سفیر سے بھی ملاقات ہوئی۔ فروری میں وزیراعظم پاکستان آذربائیجان کا دورہ کریں گے اور پاکستان میں آذربائیجان کی 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے حوالے سے معاہدے ہوں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی کوششوں اور اقدامات سےمعاشی صورتحال میں بہتری آ رہی ہے۔ اس کے لئے سیاسی استحکام ضروری ہے۔ امن و امان کے حوالے سے گزشتہ روز بھی اجلاس ہوا جس میں میں نے ہدایت کی ہے کہ اسلام آباد پر چڑھائی کی ناپاک کوشش اور توڑ پھوڑ کرنے کی جو سازش پاکستان کے خلاف کی گئی اس میں جوجو ملوث ہے ثبوتوں کے ساتھ ان کے خلاف کارروائی ہو گی اور ان کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائےگااور کسی بے گناہ کو ہاتھ تک نہیں لگایاجائےگا۔ وزیراعظم نے ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافے پر اطمینان کا اظہار کرتےہوئے کہا کہ یہ بیرون ملک پاکستانیوں کے اعتماد کا مظہر ہے جوبیرون ملک دن رات محنت کرکے رزق حلال کماتے اور اپنی رقوم وطن بھجواتے ہیں۔ وزیراعظم نے سول نافرمانی کی کال کو بدقسمتی قراردیتےہوئے کہا کہ اس سے بڑی دشمنی پاکستان کے ساتھ کیا ہو سکتی ہے۔ وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان معاشی صورتحال میں بہتری کے ساتھ اپنا مقام ضرور حاصل کر ےگا۔\
————–
اے پی پی اردو سروس
اہم ترین
وفاقی کابینہ۔۔۔اجلاس
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ، وزارت توانائی، پاور ڈویژن کی سفارش پر بگاس سے چلنے والے آٹھ انڈیپنڈنٹ پاور پلانٹس کے ساتھ سیٹلمنٹ معاہدوں کی منظوری

اسلام آباد۔10دسمبر (:وفاقی کابینہ نے وزارت توانائی، پاور ڈویژن کی سفارش پر بگاس سے چلنے والے آٹھ انڈیپنڈنٹ پاور پلانٹس کے ساتھ سیٹلمنٹ معاہدوں کی منظوری دے دی ، ان معاہدوں کے بعد عام صارفین کیلئے بجلی کی قیمت کم اور قومی خزانہ کو 238 ارب روپےکا فائدہ ہو گا۔ منگل کو وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم ہاو ¿س میں منعقد ہوا۔ وزیراعظم ا?فس کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق وفاقی کابینہ کو شام کی تازہ صورتحال کے تناظر میں وہاں سے پاکستانیوں کے انخلاءکے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ شام میں موجود 250 پاکستانی زائرین میں سے 79 بیروت پہنچ چکے ہیں جہاں سے ان کو پاکستان واپس لایا جائے گا۔ علاوہ ازیں شام میں 20 کے قریب اساتذہ اور طالب علموں میں سے 7 اساتذہ بھی بیروت پہنچ چکے ہیں۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ شام اور لبنان میں پاکستانی سفارتخانہ کے حکام پاکستانیوں کی شام سے بحفاظت واپسی یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہے ہیں۔وفاقی کابینہ نے وزارت توانائی، پاور ڈویڑن کی سفارش پر بگاس سے چلنے والے آٹھ انڈیپنڈنٹ پاور پلانٹس کے ساتھ سیٹلمنٹ معاہدوں کی منظوری دے دی ، ان معاہدوں کی منظوری کے بعد سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی ان پاور پلانٹس سے پیدا ہونے والی بجلی کے ٹیرف میں کمی کے حوالے سے نیپرا سے رابطہ کرے گی ، ان معاہدوں کے بعد عام صارفین کے لئے بجلی کی قیمت میں کمی ہو گی اور قومی خزانے کو 238 بلین روپے کا فائدہ ہو گا۔ اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت عام آدمی کے لئے بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہر فیصلے اور اقدام میں قومی مفاد مقدم رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں نجی شعبے اور صنعتوں کا فروغ حکومتی کی اولین ترجیح ہے۔مذکورہ پاور پلانٹس میں جے ڈی ڈبلیو یونٹ I ، یونٹ II, آر وائے کے ملز، چنیوٹ پاور، حمزہ شوگر، المعیز انڈسٹریز، تھل انڈسٹریز اور چنار انڈسٹری شامل ہیں۔ وفاقی کابینہ نے وزارت دفاعی پیداوار کی سفارش پر ہیوی انڈسٹری ٹیکسلا کے بورڈ میں بریگیڈیر عاصم بشیر وڑائچ کی بطور ممبر پروڈکشن کنٹرول تعیناتی کی منظوری دے دی۔ وفاقی کابینہ نے وزارت انسانی حقوق کی سفارش پر نیشنل کمیشن برائے اسٹیٹس آف ویمن فنڈ کے قیام کی بھی منظوری دے دی۔

————-
اہم ترین
وزیراعظم۔۔۔خطاب
حکومت تمام شہریوں کو مساوی حقوق کی فراہمی کے لئے پرعزم ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف کا انسانی حقوق کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب

اسلام آباد۔10دسمبر ():وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں بسنے والے تمام شہریوں بشمول اقلیتوں کو یکساں مواقع فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہے ، اجتماعی کوششوں کے ساتھ ہمیں آگے بڑھنا چاہئے، مسائل کو حل کریں اور اپنی آنے والی نسل کے لئے اور پاکستانی عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے لئے اپنا راستہ بنائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ دن انسانی حقوق کے عظیم مقصد کو برقرار رکھنے اور ان کے تحفظ کے لئے حکومت کے عزم کو اجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بسنے والی تمام اقلیتوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں، یہ ہماری ترجیح ہے اور حکومت سب کو برابری کی بنیاد پر مواقع فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ تقریباً 1400 سال قبل اسلام اور نبی کریم ? نے بنیادی انسانی حقوق اور انسانوں کی برابری کا درس دیا تھا، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے 11 اگست کو اپنی تاریخی تقریر میں عقیدہ، ذات اور مذہب سے قطع نظر تمام شہریوں کے مساوی حقوق پر زور دیا۔وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ آج انہوں نے قوم، نسل اور پوری انسانیت کے سامنے فخر کے ساتھ کھڑے ہونے کے لئے اس سلسلے میں مزید کام کرنے کا عہد کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اجتماعی کوششوں کے ساتھ ہمیں آگے بڑھنا چاہئے، مسائل کو حل کریں اور اپنی آنے والی نسل کے لئے اور ملک کے لوگوں کی توقعات پر پورا اترنے کے لئے اپنا راستہ بنائیں۔وزیراعظم نے کہا کہ بطور وزیراعلیٰ پنجاب اگرچہ یہ ان کی آئینی ذمہ داری نہیں تھی لیکن انہوں نے دیگر صوبوں کے رہائشیوں کو بھی مختلف تعلیمی اور مالیاتی اقدامات میں مدد فراہم کی۔انہوں نے بطور وزیر اعلیٰ اپنے دور میں اٹھائے گئے اقدامات کا ذکر کیا جس میں پنجاب انڈوومنٹ فنڈ، میرٹ پر سکالر شپس اور لیپ ٹاپ دینے جیسے منصوبوں میں تمام صوبے، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر بھی شامل تھے۔انہوں نے ملتان میں خواتین پر تشدد کے خلاف مرکز کے قیام، جنوبی پنجاب میں سکالرشپ کے ساتھ زیور تعلیم پروگرام اور اینٹوں کے بھٹوں پر چائلڈ لیبر کے خاتمے کے اقدامات کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 90,000 بچے بھٹے پر مزدوری کرنے پر مجبور تھے جنہیں بعد میں سکولوں میں داخل کرایا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان سمیت ملک کے تمام حصوں سے 1000 گریجویٹس کو اعلیٰ ترین تکنیکی علم اور تعلیم حاصل کرنے کے لئے چین بھیج رہی ہے۔انہوں نے وزیر قانون کو ملائیشیا میں پھنسے پاکستانیوں کا معاملہ اپنے ہم منصب کے ساتھ اٹھانے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لئے وزیر قانون اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی کوششوں کو سراہا۔وفاقی وزیر برائے قانون، انصاف و انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ نے اپنے خطاب میں کہا کہ 10 دسمبر 1948 کو دنیا نے انسانی حقوق کے اعلامیہ کو اپنایا جس میں اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ انسانوں میں کوئی امتیاز نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ عالمی اعلامیہ کی تقریباً تمام شقیں حضور نبی اکرم ? کی تعلیمات پر مبنی ہیں اور انہیں پاکستان کے آئین میں بھی شامل کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر نے بنیادی انسانی حقوق کو برقرار رکھتے ہوئے معاشرے میں تفاوت کو دور کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ہم سب کو اس ذمہ داری کو ایک مشن کے طور پر ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ وزارت انسانی حقوق تمام صوبائی حکومتوں اور گلگت بلتستان کے ساتھ مل کر خواتین کے حقوق کے حوالے سے مقررہ اہداف پر کام کر رہی ہے۔انہوں نے انسانی حقوق کے حوالے سے قانون سازی کے میدان میں اپنی وزارت کی کامیابیوں کا ذکر کیا جس میں زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری، لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی، آواز ایپ، قانونی مسائل پر 24/7 مدد کی خدمات اور انسانی حقوق سمیت مختلف کمیشنوں کا کام شامل ہے۔

———–
اہم ترین
وزیراعظم۔۔۔ خراج عقیدت
قوم وطن عزیز کی بقا کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے عظیم شہدا کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی،وزیر اعظم شہباز شریف

اسلام آباد۔10دسمبر :وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستانی قوم وطن عزیز کی بقا کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے عظیم شہدا کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ منگل کو سوار محمد حسین شہید نشان حیدر کے 53 ویں یوم شہادت پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ سوار محمد حسین شہید نشان حیدر نے 1971 کی جنگ میں بے مثال بہادری اور جرات کا مظاہرہ کیا اور دشمن کی نشاندہی کرتے ہوئے ٹینک شکن توپوں سے دشمن کے 16 ٹینک تباہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سوار محمد حسین شہید نشان حیدر نے اپنی پیشہ وارانہ عسکری مہارت سے دشمن کے طاقت کے نشے اور عددی برتری کے غرور کو خاک میں ملا دیا اور جرات و بہادری کی مثال قائم کرتے ہوئے وطن عزیز کی خاطر اپنی جان نچھاور کر دی۔ انہوں نے کہا کہ سوار محمد حسین شہید کا وطن کی حفاظت کیلئے غیر متزلزل عزم اور عہد وفا نبھاتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے کا عمل آئندہ نسلوں کیلئے قابل تقلید مثال ہے۔ مجھ سمیت پوری قوم کو اپنے شہدا اور ان کے اہل خانہ پر فخر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی قوم وطن عزیز کی بقا کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے عظیم شہدا کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔\932

———–
اہم ترین
وزیرِ اعظم۔۔۔سکیورٹی فورسز پذیرائی
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ضلع ژوب میں فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کے افسران کی پذیرائی

اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ضلع ڑوب میں فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کے افسران کی پذیرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری قوم دہشت گردی کی جنگ میں سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔منگل کو وزیراعظم آفس کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے 15 خارجیوں کو جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی تعریف کی ہے۔ وزیراعظم نے آپریشن کے دوران دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے سپاہی عارف الرحمن شہید کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کی عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے،سکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکار مادر وطن کی حفاظت میں شب و روز مصروف عمل ہیں،مجھ سمیت پوری قوم کو سکیورٹی فورسز کے فرض شناس افسران و اہلکاروں پر فخر ہے۔انہوں نے شہید کی بلندی درجات اور اہل خانہ کیلئے صبر جمیل کی دعاکی ہے۔\932

————

اہم ترین
وزیراعظم۔۔۔پیغام
پہاڑ وں کو موسمیاتی تبدیلی اور غیر پائیدار طرز عمل کے چیلنجوں کا سامنا ہے، پہاڑی علاقوں میں محفوظ اور موسمیاتی تبدیلی سے مزاحم کمیونٹیز کی تعمیر کر رہے ہیں ،وزیراعظم محمد شہباز شریف کا پہاڑوں کے عالمی دن کے موقع پر پیغام
(نوٹ، یہ ائٹم 11 دسمبر کی صبح سے قبل شائع ، نشر یا ٹیلی کاسٹ نہ کیا جائے، شکریہ)

اسلام آباد۔10دسمبر :وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ دنیا بھر کے پہاڑوں کو موسمیاتی تبدیلی، جنگلات کی کٹائی اور دیگر غیر پائیدار طرز عمل کے بڑھتے ہوئے چیلنجوں کا سامنا ہے، ہم خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں محفوظ اور موسمیاتی تبدیلی سے مزاحم کمیونٹیز کی تعمیر کر رہے ہیں تاکہ ہماری کمیونٹیز محفوظ بھی رہیں اور ترقی بھی کریں۔ پہاڑوں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ ہم عالمی برادری کے ساتھ مل کر زمین پر پہاڑوں اور ان سے جڑے لاکھوں لوگ، جن کی زندگیاں ان شاندار مناظر سے جڑی ہوئی ہیں، کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ہمارے پیارے ملک کو درجنوں برف پوش اور سر سبز اونچی چوٹیوں سے نوازا ہے، ہماری یہ سرزمین دنیا کی 16بلند ترین پہاڑی چوٹیوں میں سے 8چوٹیوں کا مسکن ہے،کے۔ٹو دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی اور نانگا پربت دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی کے علاوہ 7,000 سے زیادہ گلیشیئرز جو قطبی خطوں سے باہر برف کا سب سے بڑا ذخیرہ ہیں، پاکستان میں ہی واقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہاڑ جنہیں اکثر دنیا کے “واٹر ٹاورز” کہا جاتا ہے، میٹھے پانی اور صاف ہوا جیسے ضروری وسائل کا ذریعہ ہیں، دنیا بھر کے پہاڑوں کو موسمیاتی تبدیلی، جنگلات کی کٹائی اور دیگر غیر پائیدار طرز عمل کے بڑھتے ہوئے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس سال پہاڑوں کے عالمی دن کا موضوع “پہاڑوں کی پائیداری کے لئے حل – جدت، موافقت، نوجوان اور مستقبل “، مشترکہ کوششوں، اختراع، مقامی دانش کے احترام اور پہاڑوں کے تحفظ کے لئے پائیدار حل تلاش کرنے میں نوجوانوں کی فعال شمولیت کی یاد دہانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پہاڑوں کی حفاظت کے لئے کئی دہائیوں سے کام کر رہا ہے،اس سلسلے میں نیشنل ماو ¿نٹین کنزرویشن سٹریٹجی سے لے کر ماحولیاتی سیاحت کے فروغ اور پائیدار ترقی کے اہداف پر توجہ مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے جدید حل جیسا کہ ارلی وارننگ سسٹمز، زمین کے انحطاط کو روکنے کے لئے بائیو انجینئرنگ تکنیک، اور سیلاب سے بچاو ¿ کے لئے پائیدار تعمیرات کے ذریعے ہم خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں محفوظ اور موسمیاتی تبدیلی سے مزاحم کمیونٹیز کی تعمیر کر رہے ہیں تاکہ ہماری کمیونٹیز محفوظ بھی رہیں اور ترقی بھی کریں۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں چند انتہائی بہترین پہاڑوں اور چوٹیوں کے محافظ کے طور پر آئیے ہم آج کے دن ان کے قدرتی ماحول کی حفاظت اور اپنی آنے والی نسلوں کے لئے ان کی خوبصورتی کو محفوظ رکھنے کا عزم کریں۔\932

————-
اہم ترین
عطائاللہ تارڑ۔۔۔پریس کانفرنس
تحریک انصاف صحافیوں کو آن لائن ہراساں کرنے کی ٹارگٹڈ مہم چلا رہی ہے، صحافیوں کے گھروں و خاندانوں کی تفصیلات شیئر کرنے والوں کیخلاف سخت ایکشن ہوگا، عطائاللہ تارڑ

اسلام آباد۔10دسمبر :وفاقی وزیر اطلاعات، نشریات، قومی ورثہ و ثقافت عطائاللہ تارڑ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف صحافیوں کو آن لائن ہراساں کرنے کی ٹارگٹڈ مہم چلا رہی ہے، اس مذموم مہم کا مقصد صحافیوں کو نقصان پہنچانا ہے، صحافیوں کے گھروں اور خاندانوں کی تفصیلات سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن ہوگا، بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی پاکستانی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی مہم افسوسناک ہے، انہوں نے نفرت کے جو بیج بوئے آج وہ کاٹ رہے ہیں، پی ٹی آئی پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف بیرونی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، یہ فوج کو کمزور کرنے کے درپے ہے، فوج مضبوط ہے تو پاکستان مضبوط ہے، انتشار پھیلانے والے کسی شخص کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ منگل کو یہاں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ تحریک انصاف صحافیوں کو آن لائن ہراساں کرنے کی ٹارگٹڈ مہم چلا رہی ہے، اس مذموم مہم کا مقصد صحافیوں کو نقصان پہنچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایف یو جے نے بھی صحافیوں کو آن لائن ہراساں کرنے کی مذمت کی ہے، پی ٹی آئی کی یہ ٹارگٹڈ کمپین ہے، اس مہم کے ذریعے صحافیوں کے گھروں اور خاندانوں کی تفصیلات سوشل میڈیا پر شیئر کر کے انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لاہور میں صحافی سید مزمل کے ساتھ جو کچھ ہوا اس پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جاچکی ہے اور دونوں ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں اور ان کے اہل خانہ کو نشانہ بنانا قابل مذمت ہے، پی ٹی آئی والے خود تو ڈی چوک سے بھاگ گئے تھے، میرا سوال یہی ہے کہ دوڑ کیوں لگائی؟ وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے لوگوں نے آپ کی فائنل کال مسترد کر دی ہے، حکومت کے وزرا نے بھی بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی سول نافرمانی کی کال کی مخالفت کی جو اچھا اقدام ہے۔ پہلی مرتبہ ان میں سے کسی نے قومی مفاد کو سیاسی مفاد پر ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے نفرت کے جو بیج بوئے آج وہ کاٹ رہے ہیں، پی ٹی آئی تقسیم اور انتشار کا شکار ہے۔ اس ٹولے کی کوشش ہے کہ لوگوں کے گھروں تک جائیں، ان کی فیملی تک پہنچیں جو قابل مذمت ہے، ایسے عناصر کی شناخت ہو رہی ہے، ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے، ان کے خلاف سخت ایکشن ہوگا، ایک مثال بنائی جائے گی کہ آئندہ کوئی کسی صحافی کو اس طرح کی دھمکیاں نہ دے سکے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ کے ساتھ مل کر بھرپور کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور ایسے عناصر کے چہروں کو سب کے سامنے لایا جائے گا۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطائاللہ تارڑ نے کہا کہ یہ ٹولہ پاکستان کی مصنوعات کی بائیکاٹ کرنے کی مہم چلا رہا ہے جو افسوسناک ہے، پاکستانی مصنوعات عام اور غریب آدمی ہی افورڈ کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاک فوج کے خلاف بیرونی ایجنڈے کا پرچار کرتے ہیں، پاکستانی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کا تو کہتے ہیں لیکن فلسطین کے معاملے پر نہیں بولتے، فلسطین پر اے پی سی منعقد ہوئی اس میں انہوں نے شرکت نہیں کی کیونکہ گولڈ سمتھ کی طرف سے انہیں فلسطین کے حق میں کسی بھی مہم میں شرکت کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کے جوان اور افسر ملک و قوم کی بقاکے لئے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں، ان کے خاندان ساری عمر کا غم برداشت کرتے ہیں، جن ملکوں میں فوج کمزور ہوتی ہے اور فوج اور عوام کے درمیان دراڑ پیدا کی جاتی ہے تو بیرونی طور پر ملک کو کمزور کرنے کی سازش کی جاتی ہے۔ 9 مئی اور 26 نومبر کو ملک میں انارکی اور انتشار پھیلانے کی کوشش کی گئی تاکہ بیرونی طاقتیں اس کا فائدہ اٹھا سکیں، پی ٹی آئی کی پالیسی بالکل کلیئر ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتشار پھیلانے والے کسی شخص کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ ڈی چوک سے اپنے فرار کو ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں، یہ اندرونی طور پر خود کمزور ہو چکے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ تحریک انصاف کی انتشار کی گیم کا مقصد پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنا اور انارکی پھیلانا ہے جس میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مطیع اللہ جان کا معاملہ حل ہو چکا، پولیس کی تفتیش چل رہی ہے، جو بھی تفتیش ہو میرٹ اور قانون و انصاف پر مبنی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی ملک میں اس بات کی اجازت نہیں کہ آپ بیرون ملک بیٹھ کر ملک کے خلاف سازش کریں، اس پر بالکل زیرو ٹالرینس ہے، جو بھی اس میں ملوث پائے گئے وہ ٹریک اور ٹریس ہوں گے، ملک کو نقصان پہنچانے کی ہر گز اجازت نہیں ہے۔ وفاقی وزیر عطائاللہ تارڑ نے کہا کہ مدارس بل کے حوالے سے علمائکرام کے اجلاس میں تمام مکاتب فکر کے علمائکرام شامل تھے جو 18 ہزار مدارس کی نمائندگی کر رہے تھے۔ علمائکرام چاہتے ہیں کہ مدارس کا انتظام وزارت تعلیم کے ماتحت ہی رہے۔ انہوں نے کہا کہ 2018ئسے اصلاحات کا ایک سلسلہ شروع ہے جس کے تحت 18 ہزار مدارس کو رجسٹرڈ کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمان قابل احترام ہیں، اس مسئلے کا حل ایسا ہونا چاہئے جو سب کو قابل قبول ہو۔ مدرسے کے طالب علموں کا نقصان نہیں ہونا چاہئے تاکہ وہ سائنسدان، انجینئرز اور ڈاکٹر بن سکیں اور زندگی میں آگے بڑھ سکیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کا کام سب کی سننا اور انہیں ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے، کوشش ہوگی کہ سب کو آگے لے کر چلیں۔ وفاقی وزیر نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے اخبارات اور ٹی وی پر کوئی ٹیکس نہیں لگنے دیا جس کی وجہ سے ان کے کاروبار میں فائدہ ہوا، گزشتہ دو اڑھائی سال کے واجبات بھی ادا کئے، اے اپی این ایس اور پی بی اے کو چاہئے کہ وہ تنخواہوں میں اضافہ کریں، سروس سٹرکچر تیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ کئی چینلز نے انکریمنٹس بھی دیئے ہیں، دیگر اداروں کو بھی چاہئے کہ وہ ان کی تقلید کریں۔ تحریک انصاف سے مذاکرات کے حوالے سے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ابھی کوئی پتہ نہیں ہے کہ یہ مذاکرات ہیں یا مذاق رات۔\932

———–

اے پی پی اردو سروس
قومی
پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات۔۔۔ ہسپتال دورہ
پارلیمانی سیکرٹری دانیال چوہدری کا راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا دورہ

اسلام آباد۔10دسمبر (:پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری نے راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا اہم دورہ کیا جہاں انہوں نے پنجاب حکومت کے ”فری میڈیسن پراجیکٹ” پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔منگل کو اپنے دورہ کے موقع پر وفاقی پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ ہسپتال ملک بھر میں دل کے مریضوں کے لیے ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے جو نہ صرف راولپنڈی بلکہ خیبر پختونخوا، پوٹھوہار، کشمیر اور دیگر اضلاع سے آنے والے مریضوں کو بھی علاج کی سہولیات فراہم کرتا ہے۔بیرسٹر دانیال نے ہسپتال کے مختلف وارڈز کا دورہ کرتے ہوئے انتظامیہ سے تفصیلی بریفنگ لی اور مریضوں سے ملاقات کرکے ادویات کی فراہمی میں درپیش مسائل پر بات کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی فلاح کے منصوبوں کے لیے مختص وسائل کا شفاف اور درست استعمال یقینی بنایا جائے۔یومِ انسانی حقوق کے موقع پر اپنے پیغام میں بیرسٹر دانیال چوہدری کا کہنا تھا کہ ”ادویات سمیت مکمل علاج کی سہولت ہر مریض کا بنیادی حق ہے، اور حکومت اس حق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔”انہوں نے دل کے مریضوں کو درپیش مسائل کے فوری حل اور ہسپتال کی مجموعی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنی بھرپور حمایت کے عزم کا اظہار کیا۔