
جی سی یونیورسٹی میں ذہنی صحت پر کانفرنس: منفی خود کلامی سے پرہیز اور مثبت خیالات کی اہمیت پر زور
لاہور: منفی خود کلامی نفسیاتی مسائل کا باعث بنتی ہے، اس سے پرہیز کریں اور مثبت خیالات پر توجہ دیں۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے گزشتہ روز جی سی یونیورسٹی لاہور میں “ذہنی صحت کی بہتری کے لیے کلینکل سائیکالوجی میں جدت اور مداخلات” کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔


یہ کانفرنس جی سی یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات اور پاکستان سائیکالوجیکل ایسوسی ایشن (PPA) کے اشتراک سے منعقد کی گئی تھی، جس کا مقصد اضطراب، ڈپریشن اور دیگر ذہنی صحت کے مسائل کے حل کے لیے کلینکل مداخلات پر بات چیت کرنا تھا۔
ڈاکٹر روحی خالد کا کہنا تھا کہ زندگی میں دباؤ ہمیشہ موجود ہوتا ہے، لیکن مثبت سوچ اس کو سنبھالنے میں مدد دے سکتی ہے۔ انہوں نے مثبت نفسیات کے عملی پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ منفی خیالات سے بچتے ہوئے، خوشگوار سوچوں پر توجہ مرکوز کرنا ضروری ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر سیدہ سلمیٰ حسن نے کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد کلینکل مداخلات کے ذریعے ذہنی صحت کے مسائل کو مؤثر طریقے سے حل کرنے کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا تھا۔
پروفیسر ڈاکٹر اسیر اجمل نے کہا کہ ایشیا کو اپنی نفسیاتی مسائل کے حل کے لیے مغربی ماڈلز پر انحصار کرنے کے بجائے اپنا منفرد ماڈل تیار کرنا چاہیے، تاکہ مقامی ثقافتی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتر مداخلات ممکن ہوں۔
کانفرنس سے پروفیسر ڈاکٹر رفیعہ رفیق، پروفیسر ڈاکٹر سیدہ شاہدہ بتول، محمد عرفان کیسنا، پروفیسر شریں اسد، شاہد اقبال اور میکس بابری نے بھی خطاب کیا اور مختلف موضوعات پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔























