کے ای کا لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ۔

پابندی سے بجلی بل ادا کرنے والوں سے نادھندگان کے 68 ارب روپے وصولی کی کوشش کی گئی تو دما دم مست قلندر ہوگا محمود حامد
پریس کلب میں لوڈ شیڈنگ اور ظالمانہ بلوں کے خلاف تاجروں نے متحد ہو کر جدوجہد کرنے کا اعلان کر دیا
کے الیکٹرک کا قبلہ درست نہ ہوا تو بجلوں کی بلوں کی ادائیگی روک دیں گے سیمینار سے عتیق میر عمران شاہد جاوید عبداللہ اسلم خان اور دیگر کا خطاب
کراچی 9 دسمبر( اسٹاف رپورٹر )کراچی کے تاجروں نے اعلان کیا ہے کہ اگر کے الیکٹرک نے اپنے نادہندگان کے 68 ارب روپے پابندی سے بل اداکرنے والے عوام اور تاجروں سے وصول کرنے کی کوشش کی تو شہر میں دما دم مست قلندر ہوگااورتاجر بھرپور مزاحمت کریں گے اس مال ٹریڈرز ارگنائزیشن کراچی کے صدر محمود حامد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کے الیکٹرک کرپٹ ملازمین کے کنڈوں کے ذریعے بیچی گئی بجلی کے بل ہر ماہ بل ادا کرنے والوں سے وصولی کی اجازت ہرگز نہ دے انہوں نے کہا کہ دراصل کے الیکٹرک ایسٹ انڈیا کمپنی بن گئی ہے اور وہ ڈاکہ ڈالنے کا قانونی لائسنس حکومت سے مانگ رہی ہے وہ اج کراچی پریس کلب میں کہ الیکٹرک فاخا کشی اور معاشی تباہی کی ذمہ دار کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کر رہے تھے کراچی تاجر اتحاد کے صدر عتیق میر نے کہا کہ اگر بلوں کے نرخوں میں ہٹ دھرمی اور لوڈ شیڈنگ ختم نہ ہوئی تو تاجر بلوں کی ادائیگی روک دیں گے کہ الیکٹر کے اقدامات سے معیشت تباہ ہو گئی ہے 90 فیصد گھریلو صنعتیں بند ہو چکی ہیں تاجر سیمینار سے کنفیکشری ایسوسییشن کے چیئرمین جاوید عبداللہ نے خطاب کرتے کہا کہ حکومت کو تاجروں کی حالت ذال پر غور کرنا چاہیے اور ہمارے مطالبات پورے کر کے الیکٹرک کے ظلم سے نجات دلانا چاہیے حیرری مارکیٹ کے رہنما اختر شاہد کہا کہ اس ظلم کے خلاف ہم اپنی جدوجہد کا اغاز کر چکے ہیں اور ہمارے قدم کسی طور پیچھے نہیں ہٹیں گے طارق افتخار نے کہا کہ حکومت کو سوچنا چاہیے کہ جب وہ نوکریاں نہیں دے سکتی تو کم از کم لوگوں کے روزگار کا تحفظ کرے اور انہیں کے الیکٹرک کے لوٹ مار سے نجات دلائے سوچو کراچی تحریک کے رہنما عادل کراچی والا اپنی گفتگو میں تاجروں کے مطالبات کی مکمل حمایت کی اور ان کے لائع عمل کا ساتھ دینے کا اعلان کیا صدر کواپریٹو مارکیٹ کے جنرل سیکرٹری اسلم خان نے کہا تاجر اب متحد ہو چکے ہیں وہ کسی دباؤ میں نہیں ائیں گے جماعت اسلامی کے رہنما عمران شاہد نے کہا کہ اس وقت کے الیکٹرک کے ائی بی سیز عقوبت خانے بن گئے ہیں جہاں پر بجلی کے بل ٹھیک کرانے کے لیے جانے والی خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے اور ان کے بل ٹھیک کرنے کے بجائے ان کو دھمکیاں دی جاتی ہیں کہ الیکٹرک کی لوٹ مار اور لوڈ شیڈنگ میں کراچی کی معیشت تباہ کر دی ہے اب کے الیکٹرک اور پاکستان کی معیشت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتی انہوں نے مطالبہ کیا کہ کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کیا جائے اس کا فرانزک اڈٹ کیا جائے اور تمام لوٹ مار کو سامنے لا کر لوٹی ہوئی رقم ذمہ داران سے واپس لی جائے کراچی تاجر اتحاد کے صدر عتیق میر نے کہا کہ معیشت کی تباہی کی اصل وجہ کے الیکٹرک کی من مانیاں اور حکومت کی سرپرستی ہے اب ہم ان منمانیوں کو قبول نہیں کریں گے کشمیر کے عوام نے ہمارے لیے راہ متعین کر دی ہے بھرپور احتجاج کر کے اس ظلم ظلم کا خاتمہ کریں گےانھوں نے کہا کہ کے الیکٹرک دراصل حکومتی سرپرستی میں رہتے ہوئے من مانیاں کر رہی ہے اور اس کی ہر مطالبے کو حکومت تسلیم کرتی ہے عوام کا جینا مشکل کر دیا گیا ہے جماعت اسلامی نے اس ظلم کے خلاف بھرپور تحریک شروع کی ہے اور یہ تحریک کے الیکٹرک کے ظلم کے خاتمے تک جاری رہے گی جاوید عبداللہ پاکستان کنٹریکٹلی ایسوسییشن کے چیئرمین جاوید حاجی عبداللہ نے کہا کہ کے الیکٹرک تاجروں کو کمزور نہ سمجھے تاجر اس ملک کی ملک کے خزانے کو 70 فیصد ریونیو دیتے ہیں اب وہ حکمرانوں کی لاڈلی کے الیکٹرک کے ظلم کو نہیں سہیں گے کواپریٹو مارکیٹ کے صدر کے جنرل سیکرٹری اسلم خان نے کہا کہ ہم نے جو قدم اٹھائے ہیں وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے ہم نے کے الیکٹرک کے اور اس کے سرپرستوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ہے اور ہماری جدوجہد فقہ تک جاری رہے گی ہیبری مارکیٹ مینجمنٹ کمیٹی کے صدر سید اختر شاہد نے متنبہ کیا کہ تاجروں کو کمزور نہ سمجھا جائے کہ الیکٹرک شاید یہ سمجھتی ہے کہ تاجر کمزور ہیں لیکن ہم ان کی غلط فہمی کو جلد دور کر دیں گے سوچو کراچی کے رہنما کنوینر عادل کراچی والا نے اعلان کیا کہ وہ کے الیکٹرک کے خلاف تاجروں کے لائحہ عمل کے ساتھ ہیں اس لیے کہ اس کمپنی کے طرز عمل سے کراچی بھوک اور افلاس میں مبتلا ہو گیا ہے صنعتیں بند ہو رہی ہیں اس لیے اب کے الیکٹرک کی دکان بند ہو جانی چاہیے زرگرسں الائنس لیاقت اباد کے چیئرمین مفتی محمد علی نے اپنے خطاب میں کہا کہ تاجر متحد ہیں کہ الیکٹرک کے ظلم کے خلاف اور ہم بہت جلد اس ظالم ادارے کا خاتمہ کر کے دم لیں گے جو صنعتوں اور کاٹیج انڈسٹری کو تباہ کر رہا ہے اور لوگوں کو بھوک اور افلاس میں دھکیل رہا ہے۔۔۔۔۔