پاکستان کی پہچان سبز ہلالی پرچم ہی ہر پاکستانی کی پہچان ہے

پاکستان کی پہچان سبز ہلالی پرچم ہی ہر پاکستانی کی پہچان ہے۔ 1947میں پاکستان بنایا تھا۔ 1925میں ہم اس ملک کا قرض اچھی کاکردگی اور نوجوانوں کی صلاحیتوں میں اضافے کے لئے نئے پروگرام لے کر آئیں گے۔ ہم نئی سے نئی پروڈکٹ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ملک کو اگر معاشی بحران سے نکالنا ہے تو تکنیکی صلاحیت بڑھائیں گے۔ جاپان، تائیوان اور چین کی اسپرٹ پیدا کرنی ہے۔ ملک سے محبت ہے تو حقدراروں کو حق دینا ہوگا۔ سندھی ثقافت کی طرح ملک کی یکجہتی کی بھی ثقافت تمام اکائیاں ملکر منائیں۔ ڈاکٹر عشرت العباد خان

کراچی (پریس ریلیز) MPPکے سرپرست اعلی اور سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے مختلف علااقوں میں پروگراموں کی تیاریوں میں مصروف کارکنان سے کہا ہے کہ پاکستان کی پہچان سبز ہلالی پرچم ہے یہ ہی پر پاکستانی کی پہچان ہے۔ 1947میں پاکستان بنایا تھا۔ 1925میں ہم اس ملک کا قرض اچھی کاکردگی اور نوجوانوں کی صلاحیتوں میں اضافے کے لئے نئے پروگرام لے کر آئیں گے۔ ہم نئی سے نئی پروڈکٹ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ملک کو اگر معاشی بحران سے نکالنا ہے تو تکنیکی صلاحیت بڑھائیں گے۔ جاپان، تائیوان اور چین کی اسپرٹ پیدا کرنی ہے۔ ملک سے محبت ہے تو حقدراروں کو حق دینا ہوگا۔ سندھی ثقافت کی طرح ملک کی یکجہتی کی بھی ثقافت تمام اکائیاں ملکر منائیں گے۔ اب کوئی قوت نہ مکتی باہنی کو اپنی منزل سمجھے نہ مجیب الرحمان کو ماڈل، مشرقی پاکستان کی تقسیم بھارت کی سازش تھی کلکتہ کو پاکستان میں شامل نہیں ہونے دیا گیا۔ لیکن 20لاکھ جانوں کی قربانی دے کر پاکستان بنانے والے۔ قائد اعظم محمد علی جناح،علامہ اقبال، سرسید احمد خان کی فلاسفی ترقی اور تعلیم یافتہ ہونے کی بات سمجھتے تھے۔ہم قائد اعظم کے افکار کو پورا کرنے کے لئے اپنی افواج پاکستان کے شانہ بشانہ چل کر ملک دشمن سوشل ایکٹوسٹ ہوں یا غدار ان سے نجات حاصل کرنی ہے۔ عوام میری پہچان پاکستان کا نعرہ ہی نہیں ایک متحد قوم ہیں جنہیں انکی فوج پر ناز ہے جو روزانہ خوارجیوں اور دہشت گردوں کو انجام تک کر پہنچانے کے لئے اپنی جانیں بھی قربان کر رہے ہیں۔ ہم ریاست کو پہلے اور سیاست کو بعد میں دیکھیں گے۔ ملک کو موجودہ منظام کی نہیں وطن پرستوں کی ضرورت ہے۔ ملک ہے تو ہم ہیں ورکرز سے دل کی باتیں کروں گا۔ واضع رہے کہ اتوار کو وہ کورنگی میں شاندار پروگرام سے خطاب کریں گے۔ جسکے بعد یہ سلسلہ ملک بھر میں دراز ہوتا چلا جائے گا۔

پاکستان کی پہچان سبز ہلالی پرچم ہی ہر پاکستانی کی پہچان ہے۔ 1947میں پاکستان بنایا تھا۔ 1925میں ہم اس ملک کا قرض اچھی کاکردگی اور نوجوانوں کی صلاحیتوں میں اضافے کے لئے نئے پروگرام لے کر آئیں گے۔ ہم نئی سے نئی پروڈکٹ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ملک کو اگر معاشی بحران سے نکالنا ہے تو تکنیکی صلاحیت بڑھائیں گے۔ جاپان، تائیوان اور چین کی اسپرٹ پیدا کرنی ہے۔ ملک سے محبت ہے تو حقدراروں کو حق دینا ہوگا۔ سندھی ثقافت کی طرح ملک کی یکجہتی کی بھی ثقافت تمام اکائیاں ملکر منائیں۔ ڈاکٹر عشرت العباد خان

کراچی (ڈسٹرکٹ رپورٹر / ارمان فاروقی ) MPPکے سرپرست اعلی اور سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے مختلف علااقوں میں پروگراموں کی تیاریوں میں مصروف کارکنان سے کہا ہے کہ پاکستان کی پہچان سبز ہلالی پرچم ہے یہ ہی پر پاکستانی کی پہچان ہے۔ 1947میں پاکستان بنایا تھا۔ 1925میں ہم اس ملک کا قرض اچھی کاکردگی اور نوجوانوں کی صلاحیتوں میں اضافے کے لئے نئے پروگرام لے کر آئیں گے۔ ہم نئی سے نئی پروڈکٹ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ملک کو اگر معاشی بحران سے نکالنا ہے تو تکنیکی صلاحیت بڑھائیں گے۔ جاپان، تائیوان اور چین کی اسپرٹ پیدا کرنی ہے۔ ملک سے محبت ہے تو حقدراروں کو حق دینا ہوگا۔ سندھی ثقافت کی طرح ملک کی یکجہتی کی بھی ثقافت تمام اکائیاں ملکر منائیں گے۔ اب کوئی قوت نہ مکتی باہنی کو اپنی منزل سمجھے نہ مجیب الرحمان کو ماڈل، مشرقی پاکستان کی تقسیم بھارت کی سازش تھی کلکتہ کو پاکستان میں شامل نہیں ہونے دیا گیا۔ لیکن 20لاکھ جانوں کی قربانی دے کر پاکستان بنانے والے۔ قائد اعظم محمد علی جناح،علامہ اقبال، سرسید احمد خان کی فلاسفی ترقی اور تعلیم یافتہ ہونے کی بات سمجھتے تھے۔ہم قائد اعظم کے افکار کو پورا کرنے کے لئے اپنی افواج پاکستان کے شانہ بشانہ چل کر ملک دشمن سوشل ایکٹوسٹ ہوں یا غدار ان سے نجات حاصل کرنی ہے۔ عوام میری پہچان پاکستان کا نعرہ ہی نہیں ایک متحد قوم ہیں جنہیں انکی فوج پر ناز ہے جو روزانہ خوارجیوں اور دہشت گردوں کو انجام تک کر پہنچانے کے لئے اپنی جانیں بھی قربان کر رہے ہیں۔ ہم ریاست کو پہلے اور سیاست کو بعد میں دیکھیں گے۔ ملک کو موجودہ منظام کی نہیں وطن پرستوں کی ضرورت ہے۔ ملک ہے تو ہم ہیں ورکرز سے دل کی باتیں کروں گا۔ واضع رہے کہ اتوار کو وہ کورنگی میں شاندار پروگرام سے خطاب کریں گے۔ جسکے بعد یہ سلسلہ ملک بھر میں دراز ہوتا چلا جائے گا۔


عشرت العباد کی مقبولیت۔۔۔۔۔پاکستان متحرک۔۔۔۔۔میری پہچان پاکستان نعرے کی گونج۔۔۔۔۔تبدیلیاں ہونے جا رہی ہیں؟ ملک مکی عوام سیاست سے بیزار کیوں؟


رضوان احمد فکری rizwanahmedfikri1@gmail.com
ملک بھر میں بالخصوص اور کراچی میں بالعموم میری پہچان پاکستان، کے نعرے گونج رہے ہیں۔ سیاسی پنڈت حیران، نوجوانوں کا سیلاب ہے کہ ملک بھر میں پاکستان پر مر مٹنے کا عزم کر رہا ہے۔ گلیاں، شاہراہیں، اسلام آباد، لاہور، گوجرانوالہ، میرپور خاص، حیدر آباد، سکھر سمیت کراچی سے کشمور تک پاک فوج ہمارا مان ہے۔ سیاست نہیں ریاست کی آواز لگ رہی ہے۔ عشرت العباد نشان امتیاز بھی لے چکے ہیں 15سال سے کم عرصے گورنر سندھ رہے۔ ایک ایسی جماعت سے وابستگی ہونے کے باوجود جسکی شہرت بہت خراب تھی۔ اسکے گورنر ہونے کے باوجود عشرت العباد نے اپنے حلف کا پاس رکھا۔ وہ لسانیت اور قتل و غارت گری کے خلاف وفاق کے نمائندے کی حیثیت سے روک تھام اور کلیدی کردار ادا کرتے رہے۔ پیپلزپارٹی، ن لیگ، ایم کیو ایم، ق لیگ اور متعدد جماعتیں انکے آنے سے پہلے ہی حیران ہیں۔ PSPنے انہیں اپنے لئے سب سے بڑا خطرہ سمجھا اور ان پر الزامات کی بارش کردی۔ لیکن آج وہ خود اپنے ہی الزامات پر جواب دینے کے قابل نہیں۔ کیونکہ جس ایم کیو ایم پر وہ کھیل رہے تھے آج خود اسکا حصہ ہیں۔ کہنے والے اور باوثوق زرائع تو یہ بھی کہتے ملے ہیں کہ عشرت العباد کی آمد انکی سیاست کی موت ہے۔ انہیں نہ آنے دیا جائے۔ لیکن ہماری اطلاعات کے مطابق کئی سال سے ملک کے حالات پر دل گرفتہ سابق گورنر سندھ سیاست سے دباؤ کے باوجود دور رہے۔ لیکن جب ملک میں معاشی حالات کی ابتری اور عوام اور فوج کو آمنے سامنے لانے اور 9مئی جیسے حالات ہوئے تو ان کو یہ کہنا پڑا کہ ملک کو میری ضرورت ہے۔ میرے دوست درست کہتے تھے۔ انہوں نے میڈیا پر آنا شروع کردیا۔ انکے ایک انٹرویو میں یہ بات بھی تھی کہ میرے دوست ملک میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں لیکن ملک کو متحد منظم، استحکام اور پاکستان سے محبت کا درس دینے کا آغاز انہوں نے دبئی ہی سے شروع کردیا۔ انکے ورکرز کی بہت بڑی تعداد پہلے ہی ملک دشمن قوتوں کے آگے سینہ سپر تھی۔ اسوقت جبکہ ملک میں انارکی۔دھرنے، فسطائیت اور سیاست کے نام پر ملک میں انتشار اور غیر ملکی دوروں کے موقع پر ملک پر چڑھائی کی کہانی چل رہی ہے۔سیکورٹی اہلکاروں کو کچلنا انکی شہادتیں ملک سے غداری کے زمرے میں آتی ہیں۔ جدید اسلحہ اور ملک میں یلغار کے بعد عوام کا کہنا ہے کہ ایسی جمہوریت سے مارشل لاء بہتر ہے۔ معاشی اعشاریئے جب بہتر ہونے لگتے ہیں فسادی ٹولہ اور وزیر اعلی کے پی کے ملک کو De stabilizeکرنے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ بشری بی بی کو رہائی کیا ملی ملک کو برباد کرنے پاکستان کا امیج Spoilکرنے چل نکلیں۔ ان ججوں کا بھی احتساب ہونا چاہئے جو ریلیف کے نام پر ملک دشمن سوچ رکھنے والوں کو حوصلہ بڑھانے کا سبب بنے۔ سوشل میڈیا کو جعلی خبروں فیک ویڈیوز اور ملک دشمن بیانیہ سے بھر کر بھول گئے کہ اسے بنانے والے اسکو مٹانے والوں کی سوچ رکھنے والوں کو عبرت ناک انجام تک لے جاسکتے ہیں۔ لیکن اسوقت پورا ملک پاکستان کی افواج کے ساتھ کھڑا ہے۔ آرمی چیف پر فخر کرتا ہے۔ پاکستان ہے تو ہم ہیں فوج ہے تو ہم محفوظ ہیں۔ فوج پر فخر کرتے ہیں۔ ملک دشمن بیانیہ کے خلاف پیری پہچان پاکستان۔ سب سے پہلے پاکستان۔میری آن تیری شان۔ جیوے جیوے پاکستان، فوج ہماری جان پاکستان ہماری آن۔ میری پہچان پاکستان کے نعروں اور اس ورکنگ نے ملک میں وطن پرستی کو مکمل فروغ دیا ہے۔ عشرت العباد نے خصوصی خطاب کئے جو اسلام آباد، لاہور، تمام صوبوں۔ سوات، حیدر آباد سمیت کراچی میں متعدد اجتماعات سے خطاب کیا۔انکا ایک ہی پیغام تھا کہ پاکستان ہماری ریڈ لائن ہے۔ فوج ہماری ریڈ لائن ہے۔ ہم ملک کی تمام اکائیوں کو جوڑنے آئے ہیں۔ لسانیت نہیں پاکستانیت ہمارا مشن ہے ریاست ہوگی تو سیاست ہوگی۔ ایم کیو ایم سمیت مختلف جماعتیں پاکستانی Phenomenaاور عشرت العباد کی لیڈر شپ اور ملک کے لئے سرمایہ لانے اور ملک میں نوجوانوں کے مسائل حل کرنے بند کاٹیج انڈسٹریز کھولنے اور میرٹ کے قیام تعلیمی استحصال، معاشی ترقی انکا مشن ہے۔ اطلاعات کے مطابق انکی واپسی میں زیادہ وقت نہیں لیکن انکے لئے ہونے والا الیکشن پول انکی مقبولیت کا گراف بلند کرچکا ہے۔ وہ ملک گیر لیڈر بن کر آرہے ہیں۔ اینٹی کرائم فار ہیومن رائٹس نے اپنے دفاتر پاکستان زندہ باد کے لئے میری پہچان پاکستان کے ساتھ Attachکردیئے ہیں۔ جبکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عوام اب سیاسی شعبدہ بازوں سے نالاں ہیں۔ وہ فوج کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ انہیں آمریت قبول ہے روز روز کا ملک پر دھاوا قبول نہیں۔ اب یہ آنے والا وقت بتائے گا کہ اونٹ کیا کروٹ لے گا؟ہرحال ہم عشرت العباد کو قومی لیڈر کی شکل میں ابھرتا دیکھ رہے ہیں۔