
کراچی۔رپورٹ میر اوشاق علی میرانی ،پی اے سی ان ایکشن، سندھ میں غربت مٹاؤ پروگرام پیپلز پاورٹی رڈکشن پروگرام کے پراجیکٹ ڈاریکٹر اور ڈی ڈی او معطل۔ پی اے سی نے سندھ حکومت کیجانب سے سندھ کے دیھی اضلاع میں غربت مٹاو پروگرام کے لئے ہر سال ایس آر ایس او کو جاری ہونے والے 20 ارب روپے کی آڈٹ کا ریکارڈ فراہم نہ کرنے پر پی اینڈ ڈی کے پیپلز پاورٹی رڈکشن پروگرام کے پروجیکٹ ڈاریکٹر کو معطل کرنے اور عھدے سے ھٹانے کا حکم جاری کردیا ہے جبکے پی اے سی نے سندھ ایسیلیریٹڈ ایکشن پلان کے تحت بھوک مٹاؤ پروگرام کے لئے 1.318 ملین رپیوں کی براہ راست ڈی ڈی او اکاؤنٹ سے رقم کا چیک جاری کرنے پر ڈی ڈی او کو بھی معطل کرنے کا حکم جاری کردیا ہے اور آئندہ اجلاس میں ایس آر ایس او کے سی ای او کو طلب کرلیا ہے۔سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو چیئرمین نثار احمد کھوڑو کی صدارت میں کمیٹی روم میں ہوا اجلاس میں محکمہ پلاننگ اینڈ ڈولپمنٹ کی سال 2019ع اور سال 2020ع کی آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں کمیٹی کے رکن مخدوم فخرالزمان، سیکریٹری پی اینڈ ڈی جاوید صبغت اللہ مھر، ڈی جی آڈٹ سمیت پاورٹی رکڈشن پروگرام کے پروجیکٹ ڈاریکٹر پرویز چانڈیو نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ پلاننگ اینڈ دولپمنٹ سندھ کے مختلف دیھی اضلاع میں غربت مٹاؤ پروگرام کے تحت سندھ حکومت کیجانب سے سماجی تنظیم ایس آر ایس او کو سالانہ جاری ہونے والی ہر سال 20 ارب روپے کی فنڈنگ کے متعلق آڈٹ کا ریکارڈ فراہم نہیں کر سکا جس پر پی اے سی چیئرمین نثار کھوڑو نے محکمے استفسار کیا کے ایس آر ایس کو غربت مٹاؤ پروگرام کے لئے کتنے اور کونسے اضلاع کے لئے سندھ حکومت فنڈنگ جاری کرتی ہے؟ پیپلز پاورٹی رڈکشن پروگرام کے پی ڈی پرویز چانڈیو نے پی اے سی کو بتایا کے سندھ کے دیھی اضلاع میں غربت کو کم کرنے کے لئے آر ایس کی این جی او کو ہر سال 20 ارب روپے کی سندھ حکومت سے فنڈنگ براہ راست جاری ہوتی ہے تاہم مانیٹرنگ محکمے کا پیپلز پاورٹی رڈکشن پروگرام پی ڈی کرتا ہے اور پہلے یورپی یونین کی 10 ارب روپے کی فنڈنگ سے ایس آر ایس او سندھ کے 8 دیھی اضلاع میں غربت مٹاؤ پروگرام ختم کرچکا ہے۔جبکے سندھ حکومت کی 20 ارب روپے کی فنڈنگ سے ایس آر ایس کا جیکب آبد،شکارپور، کشمور کندھکوٹ اور تھرپارکر سمیت 16 اضلاع میں غربت مٹاؤ پروگرام جاری ہے۔انہوں نے بتایا کے سندھ حکومت کا سندھ میں غربت مٹاؤ پروگرام 20 ارب رپیوں کا ہے جس کو سرسو چلا رہا ہے۔چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کے جن اضلاع میں 20 ارب روہے سے غربت مٹاؤ پروگرام چل رہا ہے ان کا ریکارڈ کہاں ہے ؟ جبکے ایس آر ایس او سندھ حکومت کی فنڈنگ پر چل رہی ہے اور وہ سندھ حکومت کا نام تک نہیں لیتے اور سندھ کی فنڈنگ سے چلانے والے کسی منصوبے کی تختی پر سندھ حکومت کا نام تک نہیں ہوتا اور ایس آر ایس او کو غربت مٹاؤ پروگرام کے لئے سندھ حکومت کی 20 ارب روپے کی فنڈنگ سے سندھ میں کتنی غربت کم ہوئی اور وہ رقم کہاں کہاں کیسے خرچ ہوئی اس کا ریکارڈ چاہئے۔ چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کے فلاحی تنظیم ہو یا کوئی این جی او ہو عوام کے کئے فنڈنگ سندھ حکومت فراہم کر رہی ہے تو ان این جی اوز کو آڈٹ کرانی پڑے گی یہ تنظیمیں آڈٹ سے مستثنی نہیں ہیں۔اس لئے آڈٹ کا ریکارڈ فراہم نہ کرنا غفلت ہے جس عمل کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔واضع رہے کے ایس آر ایس او غربت مٹاؤ پروگرام سمیت لو کاسٹ ھاؤسنگ ،اسکل ڈولپمنٹ سمیت سندھ میں غریب خواتین کو انٹریسٹ فری لون دینے کے منصوبوں پر سندھ حکومت کی فنڈنگ سے کام کر رہی ہے۔پی اے سی نے سندھ حکومت کیجانب سے سندھ کے دیھی اضلاع میں غربت مٹاو پروگرام کے لئے ہر سال ایس آر ایس او این جی او کو جاری ہونے والے 20 ارب روپیوں کی آڈٹ کا ریکارڈ فراہم نہ کرنے پر پی اینڈ ڈی کے پیپلز پاورٹی رڈکشن پروگرام کے پروجیکٹ ڈاریکٹر پرویز چانڈیو کو معطل کرنے اور عھدے سے ھٹانے کا حکم جاری کردیا۔ پی اے سی اجلاس میں سندھ ایسیلیریٹڈ ایکشن پلان کے تحت بھوک مٹاؤ پروگرام (پاپولیشن سیکٹر)کے لئے خرچ کی گئی 1.318 ملین رپیوں کی رقم کا وینڈر کو کراس چیک دینے کے بجائے براہ راست ڈی ڈی او اکاؤنٹس سے رقم جاری ہونے پر ڈی ڈی او کو بھی معطل کرنے کا حکم جاری کردیا۔پی اے سی اجلاس میں ایس آر ایس کو (یوسی بی پی آر پی UCBPRP) اسکیم کے لئے سال 2016-2017ع میں جاری ہونے والے 383.931 ملین روپے جون گذرنے کے باوجود رقم واپس نہ کرنے اور اپنے اکاؤنٹ میں رکھنے کا انکشاف سامنے آیا۔ڈی جی آڈٹ سندھ نے اعتراض کیا کے رانٹ کی رقم جس سال کے لئے جاری ہوتی کے اسی سال خرچ کرنی ہوتی کے ورنہ وہ رقم واپس کی جاتی ہے مگر ایس آر ایس او نے ایسا نہیں کیا جس پر پی اے سی نے معاملے کی تحقیقات کے لئے سیکریٹری پی اینڈ ڈی کو ہدایت کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔ پی اے سی نے آئندہ اجلاس میں ایس آر ایس او کے سی ای او کو طلب کرلیا۔























