
لیاری کے نوجوان آرٹسٹ رحیم غلام کا مرحوم ماما صدیق بلوچ کو زبردست خراج عقیدت۔محبتوں کے گلشن میں کبھی دیوانوں کو بھلایا نہیں جاسکتا۔ صدیق بلوچ بھی بلوچستان اور لیاری کیلیے ایک دیوانے عاشق سے کم نہیں تھے انہوں نے زندگی بھر مظلوم طبقات کی آوازوں اور محرومیوں سے دوچار افراد کی آواز کو ایوانوں تک پہنچایا۔ ان کے کردار اور ان کے خدمات کا قرض مظلوم طبقات اور بلوچ قوم کبھی ادا نہیں کرسکتی۔
نئیکہ ہنداں نہ کہ رِنداں ما بلوچاں ما بلوچ
اے جہانءِ سر بُلندیں رُژن ءُ روچاں ما بلوچ
٭رحیم غلام٭
===========================
خبرنامہ نمبر 7412/2024
چمن05 دسمبر :ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر امتیاز علی بلوچ اور انچارج بائی پاس تھانہ نائب رسالدار عبدالصادق اور لیویز فورس نے آج سوئی کاریز میں 5/6 ایکڑ پر کاشت کی ہوئی افیون کی تیار فصل کو تلف کر دیا گیا آج اے سی چمن نے افیون کی 6 ایکڑ پر کاشت کی ہوئی فصل پر چھاپہ مار کر اسے ٹریکٹرز اور لیویز فورسز کی مشترکہ ٹیم نے کاٹ کر تہس نہس کر دیا گیا اس دوران وہاں پر کوئی بھی شخص موجود نہیں پایا گیا اس موقع پر اے سی چمن نے کہا کہ ہم اپنے نوجوان نسل کو نشے کے ہاتھوں تباہ و برباد ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے اور نہ ہی علاقے میں کسی بھی شخص کو کسی بھی حالت میں چرس افیون اور دیگر نشئی مواد کا سبب بننے والے فصلات کی کاشتکاری کی اجازت دیں گے انہوں نے کہا کہ ہم تمام عوام کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ ائندہ اگر کسی زمیندار یا بزگر یا کاریگروں کو ان فصلات کی کاشتکاری اور آبیاری کرتے ہوئے دیکھا اور پایا گیا تو اس کیخلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور ان کیخلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے انہوں نے کہا کہ تمام لوگ جائز اور فائدہ مند اور صحت بخش فصلوں کی کاشتکاری سے اپنے اور بال بچوں اور خاندان کی کفالت کریں کیونکہ بحیثیت ایک انسان اور مسلمان ہمیں اپنے روزی کمانے کیلئے حلال اور جائز روزی کمانا چاہئے اور حرام اور غیر قانونی ذرائع آمدن سے حتی الامکان اجتناب کرنا چاہیے اور ملک وقوم کے تمام اکائیوں کو ملک میں مروجہ قانون کی پیروی کرتے ہوئے ایک خوشحال اور پُرامن ماحول کیلئے مل کر کردار ادا کرنا پڑے گا تب ہم ایک ترقی یافتہ اور خوشحال ملک وقوم بن جائیں گے۔
=========================
خبرنامہ نمبر7409/2024
اسلام آباد 05 دسمبر2024:پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے جمعرات کو یہاں بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے زرداری ہاو¿س میں ملاقات کی اور صوبے میں امن و امان سمیت مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، وزیر اعلٰی میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان میں صحت اور تعلیم کے شعبوں سمیت پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت عوامی فلاح و بہبود کیلئے صوبائی حکومت کی ترجیحات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار بینظیر بھٹو اسکالرشپ پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے جبکہ امراض قلب کا پہلا جدید اسپتال بھی قائم کیا جاررہا ہے جس کا افتتاح آپ چئیرمین سے کروائیں گے کیونکہ آپ کے وڑن کے مطابق بلوچستان کے عوام کو صحت کی معیاری سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم ہورہی ہیں، بلدیاتی اداروں کو مالی معاونت فراہم کررہے ہیں تاکہ مقامی سطح پر عوام کو درپیش مسائل کا مدوا ہوسکے ، چئیرمین کی رہنمائی میں بلوچستان کے عوام کی خدمت اور صوبے کی ترقی کے لئے پرعزم ہیں اس موقع چئیرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بلوچستان میں عوام کی فلاح و بہبود اور محکمہ جاتی اصلاحات کے لیے جاری اقدامات کو سراہتے ہوئے یقین دلایا کہ بلوچستان ہمارے دل کے قریب ہے صوبے کی ترقی کے لئے پاکستان پیپلزپارٹی نے پہلے بھی عوام کی بے لوث خدمت کی ہے اور آئندہ بھی کریں گے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بلوچستان حکومت کے وفاق سے متعلق امور کو متعلقہ فورم پر اٹھائیں گے اور بلوچستان کو ترقی کے مواقع اور وسائل کی فراہمی کے لئے بھرپور جدوجہد کا تسلسل جاری رکھیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7410/2024
کوئٹہ 5 دسمبر 2024 : بلوچستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے زیر اہتمام بی پیپرا رولز اور ای پروکیورمنٹ کے حوالے سے دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ میں مختلف سرکاری محکموں بشمول مواصلات و تعمیرات، اربن پلاننگ، سیکنڈری ایجوکیشن، ایس اینڈ جی اے ڈی، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، مائنز اینڈ منرلز، لوکل گورنمنٹ اینڈ رورل ڈیولپمنٹ ، آبپاشی، سائنس و آئی ٹی، صحت، فنانس اور محکمہ توانائی کے افسران نے شرکت کی۔ورکشاپ کا مقصد شرکاءکو بی پیپرا قوانین اور ای پروکیورمنٹ سسٹم کے استعمال کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا تھا تاکہ حکومتی خریداری کے عمل کو مزید شفاف، مو¿ثر اور جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔ تربیتی سیشنز میں شرکاءکو عملی مشقوں اور تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں تاکہ وہ ان قوانین اور نظام کے اصولوں کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں اور اپنے متعلقہ محکموں میں ان کا اطلاق یقینی بنا سکیں۔ورکشاپ کے اختتام پر منیجنگ ڈائریکٹر بی پیپرا محمد افضل خوستی نے شرکائ میں اسناد تقسیم کیں اور ان کی دلچسپی اور فعال شرکت کو سراہا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بی پی پی آر اے کا مقصد سرکاری خریداری کے عمل کو شفاف بنانا اور بلوچستان کے عوام کے وسائل کا بہترین استعمال یقینی بنانا ہے۔ یہ تربیتی ورکشاپ بلوچستان حکومت کے مختلف محکموں میں خریداری کے عمل کو عالمی معیار کے مطابق بنانے کی ایک اہم کاوش ہے، جس سے نہ صرف سرکاری امور میں شفافیت بڑھے گی بلکہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں بھی بہتری آئے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7411/2024
گوادر5 دسمبر 2024 :ڈپٹی کمشنر حمود الرحمٰن کی سربراہی میں لوکل باڈیز کے منتخب نمائندوں کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کا مقصد عوامی مسائل، نمائندوں کی ذمہ داریوں اور اختیارات پر گفتگو کرنا تھا۔ اجلاس میں وائس چیئرمین میونسپل کمیٹی گوادر ماجد جوہر، تحصیل چیئرمین جیونی اکرم بلوچ، اور مختلف یونین کونسلز کے چیئرمین، وائس چیئرمین، اور کونسلرز نے شرکت کی۔اجلاس میں شہریوں کو درپیش بنیادی مسائل جیسے بجلی، پانی، تعلیم اور دیگر سہولیات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ دور دراز علاقوں کے نمائندے، جن میں جیونی اورماڑہ، پسنی، پیشکان اور دیگر علاقے شامل تھے، نے اپنے مسائل پیش کیے۔ ڈپٹی کمشنر نے ان مسائل کے حل کے لیے خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے نمائندوں سے تفصیلی گفتگو کی اور فوری اقدامات کی یقین دہانی کروائی۔ڈپٹی کمشنر حمود الرحمٰن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا:”معاشرے میں عوامی نمائندوں کو سب سے زیادہ عزت و احترام دیا جانا چاہیے کیونکہ عوام کا اعتماد حاصل کرنا اور ووٹ لینا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ جمہوریت دنیا کا بہترین اور کامیاب نظام ہے، اور ہمیں عوامی نمائندوں کے فیصلوں اور رائے کی قدر کرنی چاہیے۔”انہوں نے مزید اعلان کیا کہ 20 دسمبر سے پہلے تمام لوکل باڈیز نمائندوں کی تین روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں انہیں ان کی ذمہ داریوں اور اختیارات سے متعلق مکمل آگاہی فراہم کی جائے گی۔ اس تربیت کا مقصد نمائندوں کو ان کے کردار اور اختیارات کے حوالے سے مزید مستحکم بنانا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں چند اہم ایجنڈا طے کیے جائیں گے جن پر عملی اقدامات کا آغاز کیا جائے گا۔ ہر یونین کونسل کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی جائے گی جو مخصوص کاموں پر عملدرآمد کرے گی اور نمایاں پیشرفت یقینی بنائے گی۔اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر نے جمہوری نظام کے استحکام، عوامی خدمت کے فروغ، اور مسائل کے حل کے لیے تمام نمائندوں کی مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔ یہ اجلاس نہ صرف مسائل کی نشاندہی کے لیے ایک پلیٹ فارم ثابت ہوا بلکہ آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اہم پیشرفت بھی فراہم کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿























