موٹاپہ دور جدید کی کئی بیماریوں کی جڑ ہے

لاہور(جنرل رہورٹر)موٹاپہ دور جدید کی کئی بیماریوں کی جڑ ہے،اس کی وجہ لوگ شوگر،ہیپائٹس ،ہاضمہ کے امراض ،جوڑوں ،گھٹنوں کے درد سمیت متعدد امراض میں مبتلا ہو جاتے ہے۔ایک خاص حد تک جسم کا فربہ ہونا ٹھیک ہے مگر یہی فربہی جب حد سے بڑھتی ہے تو کئی جسمانی عوارض کو جنم دینے کا باعث بنتی ہے۔ان باتوں کا اظہار معروف بیریاٹک سرجن ڈاکٹر شہریار خان نیازی نے خصوصی گفتگو میں کیا ان کا کہنا تھا کہ موٹاپے کے امراض پر قابو پاکر انسان میٹابولک ڈیزیز سے بچ سکتے ہیں جو 9مختلف طرح کے امراض کا مجموعہ ہے۔ڈاکٹر شہریار خان نیازی نے بتایا کہ بیریاٹک سرجری جس کا طروسیجر لیپرواسکوپک طریقہ کار کے تحت کیا جاتا ہے جو میٹابولک سنڈروم کو بہتر بناتی ہے، یعنی اس پروسیجر کی وجہ سے ہائی بلڈ پریشر، شوگر، کولیسٹرول لیول اور جسم کی چربی کم ہوجاتی ہے۔اگر موٹاپے کے شکار کسی انسان کا وزن 120کلو سے زائد ہوتو اس کو بیریاٹک سرجری کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اس مقام پر فاقہ یاں ورزش بھی اپنا کردار ادا نہیں کر پاتی اور وزن کا کنٹرول انسان کے ہاتھ میں نہیں رہتا اس لیے ایسے مریضوں کے لیےبیریاٹک سرجری وقت کی ضرورت ہے تاکہ بھوک کے عنصر کو بھلا کر وزن کو دنوں میں کم کیا جائے اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسان ورزش نہ کرئے بلکہ اس پروسیجر کے بعد روزانہ ورزش کرنا انتہائی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے کیونکہ ورزش کی وجہ سے انسانی اعضائ کے پٹھے طاقتور ہونا شروع ہوجاتے ہیں ۔ ڈاکٹر شہریار خان نیازی کا کہنا تھا کہ لیپ بینڈ پرانا طریقہ کار تھا اب سلیو گیسٹرکٹمی اور گیسٹرک بائی پاس جیسے جدید پروسیجرز سامنے آئے ہیں جو دنیا بھر میں مقبول ہورہے ہیں کیونکہ ایسے مریض  جن کا وزن بہت زیادہ ہے اوراس حد تک ہے کہ اگر ان کا علاج نہ کیا جائے تو ان کا وزن صحت کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ سرجری کی دونوں اقسام میں معدہ کی خوراک کو جذب کرنے کی صلاحیت محدود ہو جاتی ہے جس سے اس کی مقدار کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے وزن کم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔پہلا طریقہ سلیو گیسٹریکٹمی کہلاتا ہے ۔ لفظ “گیسٹریکٹومی” کا مطلب ہے آپ کے پیٹ کا کچھ حصہ یا پورا ہٹانا۔ اس آپریشن کی وجہ سے آپ کے معدے کا تقریباً 80% نکال دیا جاتا ہے اور آپ کا معدہ کیلے کی شکل کا ارہ جاتا ہے ۔یہ ایک آسان طریقہ ہے جس سے آپ ایک ہی نشست میں کھانے کی مقدار کو محدود کر سکتے ہیں، جس سے آپ کو تیزی سے پیٹ بھرا محسوس ہوتا ہے۔ لیکن یہ ایک اور مقصد بھی پورا کرتا ہےاور بھوک کے ہارمونز کی مقدار کو کم کرتا ہے جو آپ کا معدہ پیدا کر سکتا ہے جس سے آپ کی بھوک کی خواہش کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔اس آپریشن کے باعث کچھ بیماریاں جیسے انسولین مزاحمت اور ٹائپ 2 ذیابیطس ،ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماری ،ہائپرلیپیڈیمیا (ہائی کولیسٹرول) اور شریان کی بیماری ، فیٹی لیور یعنی جگر کی بیماری ، والی نیند کی کمی ،جوڑوں کا درد اور اوسٹیو ارتھرائٹس سے چھٹکارہ مل جاتا ہے ۔بیریاٹک سرجری کی دوسری قسم گیسٹرک بائی پاس ہے جو ان افراد کے لیے تجویز کیا جاتا ہے جن کا باڈی ماس انڈکس 35سے زیادہ ہو۔ اس پروسیجر میں سرجن پیٹ کا ایک چھوٹا سا پاؤچ تیار کرتا ہے اور آنتوں کے ایک حصے کو نظرانداز کرتا ہے ، جس سے آپ اپنے کھانے کی مقدار اور کھانے کو جذب کرنے کا موقع آنتوں میں ملتا ہے ۔ گیسٹرک بائی پاس عام طور پر وزن میں تیزی سے کمی کا اہل بناتا ہے اور مریض کو سرجری کے بعد ضروری پروٹین ، وٹامنز اور معدنیات کے روزانہ اضافی ضر ورت پڑتی ہے ۔ یہ عام طور پر اس وقت تجویز کیا جاتا ہے جب غذا اور ورزش وزن کم کرنے کے لیے کام نہیں کرتی ہیں یا جب جسمانی وزن کی زیادتی کی وجہ سے صحت کا سنگین مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ڈاکٹر شہریار نیازی کے مطابق گیسٹرک بائی پاس سرجری کے بعد، مریضوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ایک مخصوص معمول پر عمل کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ صحت یابی کو یقینی بنایا جا سکے اور انہیں ٹھوس کھانوں کے استعمال میں آسانی پیدا کرنے میں مدد ملے۔ مریض سرجری کے تقریباً 6 سے 8 ہفتوں کے بعد باقاعدہ کھانا شروع کر سکتے ہیں۔اس موقع پر ڈاکٹر شہریار خان نیازی نے بتایا کہ میو ہسپتال ،سروسز ہسپتال اور جناح ہسپتال سمیت صوبے کے دیگر ٹیچنگ ہسپتالوں میں بھی بیریاٹک سرجریز کی جارہی ہیں تاکہ موٹاپے سے متاثرہ لوگوں کو زندگی کی طرف واپس لایا جاسکے ۔انھوں نے آگاہ کیا کہ زیادہ وزن کی وجہ سے جسمانی مسائل میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے مگر بیریاٹک سرجری کی وجہ سے نیند کی خرابی، سانس لینے میں دشواری، جیسے دمہ، پٹھوں پر بہت زیادہ دباؤ کی وجہ سے جوڑوں کا درد مؤثر طریقے سے کم ہو جاتا ہے۔یہ پروسیجر
دل کی بیماریوں یا دل کے دورے کے خطرے کو کم کرتا ہے اورفرٹیلٹی کے امکانات کو بھی بڑھاتا ہے