
کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) سندھ ہائی کورٹ نے ڈیپوٹیشن پر تعینات ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناح اسپتال ڈاکٹر شاہد رسول کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے کام کرنے سے روک دیا۔ ہائی کورٹ میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر جے پی ایم سی ڈاکٹر شاہد رسول کی ڈیپوٹیشن پر تعیناتی سے متعلق سماعت ہوئی۔ درخواست گزار ڈاکٹر نازش بٹ کے وکیل الطاف جاوید ایڈووکیٹ نے اختیار کیا کہ جے پی ایم سی وفاق کے تحت چلتا ہے۔ وفاقی حکومت کےرولز کے مطابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی پوسٹ پر نچلے گریڈ کے افسر کو پرموٹ کیا جاتا ہے یا پھر پبلک سروس کمیشن کے تحت نئی تقرری ہوتی ہے جبکہ سندھ حکومت نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جے پی ایم سی کی تعیناتی کے لیے وفاق سے مشاورت بھی نہیں کی۔
https://e.jang.com.pk/detail/805783
تعلیمی بورڈز میں بیورو کریٹ چیئرمین لگانے پر اساتذہ کا احتجاج
04 دسمبر ، 2024FacebookTwitterWhatsapp
کراچی(اسٹاف رپورٹر) سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن (سپلا) نے سندھ کے تعلیمی بورڈز میں چیئرمین سمیت اہم انتظامی عہدوں پر بیوروکریٹس کی تقرری کی خبروں پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سپلا کے مرکزی صدر پروفیسر منور عباس، سیکریٹری جنرل غلام مصطفیٰ کاکا، مرکزی سینیئر نائب صدر عدیل خواجہ، مرکزی نائب صدر پروفیسر مشتاق پھلپوٹو، مرکزی لیڈی وائس پریزیڈنٹ شبانہ افضل، کراچی ریجن صدررسول قاضی، حیدرآباد ریجن کے صدر حلیم درس، سکھر ریجن کے صدر ڈاکٹر ملھار سندھی، سید جڑیل شاہ، خرم رفیع، زکیہ ٹالپر، لعل بخش سوہو، ڈاکٹر وکرم کمار، افشین پیرزادہ، حسن میر بحر، شوکت علی سموں، عبدالرشید ٹالان،نہال اختر، غفران اللہ بلوچ، شہزاد زئی سمیت دیگر عہدیداران نے سندھ کے تعلیمی بورڈز میں گریڈ 19اور گریڈ 20کے بیوروکریٹس کو چیئرمین لگانے کے لیے مبینہ ترمیمی بل پر سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سندھ کی جانب سے اساتذہ کو مسلسل نظرانداز کیا جارہا ہے، تعلیمی بورڈرز میں بورڈز ایکٹ کے خلاف اہم انتظامی عہدوں پر سینئر اساتذہ کے بجائے بیوروکریٹس کی تعیناتی کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہوگی، تعلیمی بورڈز میں اہم انتظامی عہدوں پر تعیناتیاں اساتذہ کا حق بنتا ہے۔ اساتذہ آج تک اپنے تدریسی اور انتظامی تجربے کی بنیاد پر کامیابی سے تعلیمی بورڈ ز کے امور احسن طریقے سے چلاتے آئے ہیں۔ سپلا کے رہنماؤں نے مزید کہا کہ نگراں حکومت کے دور میں بھی بیوروکریٹس (کمشنرز) کو تعلیمی بورڈز میں لگانے کا تجربہ کیا گیا تھا جو بری طرح ناکام ہوا۔ اس سے نہ صرف نتائج غیرمعمولی تاخیر کا شکار ہوئے اور بورڈز کا کام بھی متاثر ہوا۔ اس دوران سندھ ہائیکورٹ نے کمشنرز کی تعلیمی بورڈز میں بطور چیئرمین تقرری کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے انہیں ہٹانے کے احکامات جاری کیے تھے، سوال یہ پید اہوتا ہے کہ جب ہائیکورٹس بیوروکریٹس کی تقرری کو غلط قرار دے چکی ہے اور یہ تجربہ ناکام رہا ہے تو سندھ حکومت اس تجربے کو کیوں دہرا کر بورڈرز کو مکمل طورپر تباہ کرکے بچوں کے مستقبل سے کھیلنا چاہتی ہے؟ سپلا کے عہدیداران کا یہ بھی کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے پہلے بھی قواعد کے برخلاف تعلیمی بورڈز میں چیئرمین سمیت ناظم امتحانات اور سیکرٹری کے عہدوں پر تقرری کے لیے دیے گئے اشتہار میں تدریسی تجربے کی شرط ختم کردی تھی جس پر ہم نے احتجاج کیا تھا۔ پروفیسر منو ر عباس سمیت دیگر عہدیداران کا مزید کہنا تھا کہ سندھ کے تعلیمی بورڈز میں اہم انتظامی عہدوں پر بیوروکریٹس کی تعیناتی کا فیصلہ کسی طرح بھی قبول نہیں ہوگا۔ تعلیمی بورڈز میں قواعد کے برخلاف اہم انتظامی عہدوں پر بیوروکریٹس کی تقرری کی صورت میں سندھ کے اساتذہ سخت ردعمل کے ساتھ امتحانی عمل کا بھی حصہ نہیں بنیں گے اور اپنے حق کے لیے بھرپور احتجاج کریں گے۔























