
کراچی ( رپورٹ جوہر مجید شاہ) بلدیہ عظمیٰ کراچی بااثر میونسپل کمشنر ‘ افضل زیدی نے سپریم کورٹ کے احکامات سمیت محکمہ جاتی بائی لاز کی بھی دھجیاں اڑا دیں 17 گریڈ ‘ ایس سی یو جی ‘ افسر محسن شیخ پر اضافی عہدوں کی بارش ‘ محسن شیخ ڈائریکٹر کورڈینیشن میونسپل کمشنر سیکرٹریٹ کو اضافی چارج ڈائریکٹر بجٹ’ فنائس ‘ اکاؤنٹس ‘ کا محکمہ بھی تحفے میں دے ڈالا ‘ میونسپل کمشنر کے ایم سی ‘ کو نجی کمپنی کی طرح چلانے لگے یاد رہے کہ محض چند یوم قبل محسن شیخ کو ایمپریس اکاؤنٹ میں تمام محکمہ جات کے ‘ شیٹ کلرکوں سے بھاری کمیشن وصولی ‘ پر ایڈیشنل ڈائریکٹر 1 کے عہدے سے برطرف کیا گیا تھا مگر موصوف ‘ افضل زیدی ‘ کے منظور نظر اور چہیتے کہلاتے ہیں جسکے سبب انھیں قانون و بائی لاز پر استحقاق و استثنی حاصل ہے بائی لاز کے برخلاف اقدامات پر اہلیت و معیار پر پورا اترنے والے افسران میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے تیسرے اضافی چارج پر افسران و ملازمین میں غم و غصہ بھی پایا جاتا ہے واضح رہے کہ موصوف 17 گریڈ اور ‘ ایس سی یو جی افسر ہیں ادھر بلدیہ عظمیٰ کراچی میں لگ بھگ ‘ 25 ‘ سے زائد کونسل افسران موجود ہیں جو کہ مختلف گریڈ کے حامل ہیں جن میں گریڈ 17 تا 19 گریڈ تک کے ملازمین ہیں جو کہ اپنی تعیناتی کے منتظر ہیں مگر قسمت کی دیوی ان پر مہربان ہے جو سفارشی ‘ سیاسی اثر رسوخ کیساتھ چمک کی طاقت سے مالامال ہیں سسٹم مافیا پس پردہ رہ کر اپنے فرنٹ مین کھلاڑیوں سے اپنے مہرے و بساط بچھاتے ہیں کونسل افسران کی موجودگی کے باوجود ‘ کے ایم سی ‘ میں باہر کے افسران کا راج و سکہ چلتا ہے جو کہ اعلی عدلیہ کے فیصلوں و احکامات سے روگردانی و حکم عدولی کے زمرے میں آتا ہے دوسری طرف ایک ایسا افسر جو کہ کمیشن وصولیوں کے مبینہ الزامات پر فارغ کیا گیا ہو اس پر عہدوں کی بارش عقل مند کیلے اشارہ کافی ہے کے زمرے میں آتا ہے حیرانگی کی بات یہ بھی ہے کہ میونسپل کمشنر افضل زیدی خود بھی کمشنریٹ سسٹم کے آفسر ہیں اور بلدیہ عظمیٰ کراچی میں پورے زور و شور سے براجمان ہیں یقینی طور پر آج نہیں تو کل انھیں سیٹ چھوڑنی ہوگی پرائے گھر سے انکا تعلق پوسٹنگ تک ہے بعد ازاں کسی اور جگہ سسٹم چلائنگے مختلف سیاسی سماجی مذہبی جماعتوں اور شخصیات نے سپریم کورٹ وزیر اعلیٰ سندھ گورنر سندھ وزیر بلدیات سندھ مئیر و ڈپٹی مئیر سمیت تمام وفاقی و صوبائی تحقیقاتی اداروں سے اپنے فرائض منصبی اور اٹھائے گئے حلف کے عین مطابق سخت ترین قانونی و محکمہ جاتی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے























