
سال 2022 میں معمول سے زیادہ ہونے والی بارشوں نے پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا۔۔
کئی گاوں ملیا میٹ ہوئے۔فصلیں تباہ ہوئیں۔ہزارں خاندان بے گھر ہوئے۔۔
2 سال گزر جانے کے بعد بھی اس تباہی کےآثار جا بجا نظر آتے ہیں۔۔
صوبہ بلوچستان ہو یا صوبہ سندھ ۔آباد گاری کے لیئے حکومتی کاوشیں اب بھی جاری ہیں۔۔
صوبہ سندھ کے شہر جامشورو سے متصل گاوں کارو کھاو کی رہائشی خواتین کہتی ہیں۔۔
سیلاب نے سب تبا ہ کردیا تھا۔ پانی اترنے کے بعد جب گھروں کو واپسی ہوئی نہ تو پینے کا صاف پانی نہ رہائش اور نہ ہی سفری راستے تھے۔
گاوں کی خواتین ان حالات سے پریشان کئی کئی میل دور پینے کا پانی لینے جاتی تھیں۔ راستوں کی خستہ حالی کے باعث بچے اسکول جانے سے محروم جبکہ مریضوں کی اسپتالوں تک رسائی مشکلات سے دوچار تھی۔ حاملہ خواتین کا بھی وقت پر اسپتال پہنچنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔۔

ان حالات کو دیکھتے ہوئے حکومت سندھ کے پلاننگ اینڈ ڈیو یلپمنٹ ڈپارٹمنٹ اور ورلڈ بینک کے تعاون سے بنایا جانے والا “فارم ٹو مارکیٹ” پروجیکٹ ایک اہم سنگ میل مانا گیا ۔۔ جس سے عوام کو نہ صرف سفری سہولیات میسر آئیں جبکہ اسکولوں اور اسپتالوں تک آسان رسائی اور کسانوں کے لیئے دیہات سے شہر تک پہنچنا بھی آسان ہوگیا۔۔

فارم ٹو مارکیٹ پروجیکٹ کے ڈائریکٹر غلام اصغر کناسرو کے مطابق فارم ٹو مارکیٹ سڑک صرف ایک انفراسٹرکچر نہیں ہے بلکہ یہ ہماری کمیونٹی کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ معیار اور کارکردگی کو ترجیح دے کر، ہم نے ایک ایسا منصوبہ فراہم کیا ہے جو آنے والے کئی سالوں تک ہماری کمیونٹی کو فائدہ پہنچائے گا

ماحولیات اور خواتین کے مسائل پر آواز بلند کرنے والی تنظیم گرین میڈیا انیشیئٹیو کی ڈائریکٹر شبینہ فراز کا کہنا تھا ۔ فارم ٹو مارکیٹ پراجیکٹ صرف مٹی اور گارے کی سڑک نہیں بلکہ متعدد دیہات کو ہائی وے سے ملانے کا ایک نام ہے۔ جس سے ملکی معیشت تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہوگی۔۔
سندھ فلڈ ایمر جنسی بحالی پروجیکٹ کے تحت ڈسٹرکٹ جامشورو سے کچھ فاصلے پر واقع گاوں ” کارو کھاو ” میں بھی واٹر سپلائی اسکیم کا انعقاد کیا گیا اس اسکیم کے تحت مختلف دیہاتوں میں لگائے جانے والے 500 واٹر پلانٹس سے 3 ملین لوگ فائدہ حاصل کر سکیں گے ۔ ورلڈ بینک کی پراجیکٹ ارگنائزر ثنا صدیق کے مطابق ایک وقت میں 3000 سے زائد لوگ اس اسکیم سے فائدہ اٹھاتے ہیں جبکہ اس پاس کے دیہات میں بھی اگر پانی کی قلت ہو تو اسی اسکیم سے وہ بھی پانی حاصل کرتے ہیں۔۔
اسکے علاوہ ریسکیو 1122 جیسا ادارہ جو کہ چوبیس گھنٹے سندھ کے مختلف اضلاع میں خدامات سر انجام دے رہا ہے۔۔
جہاں فائر بریگیڈ ۔ کسی بھی ایمر جنسی میں عوام کی مدد کرنا اور انہیں طبی سہولیات بہم پہنچانا اہم فرائض میں شامل ہے۔۔
پراجیکٹ کو ارڈینیٹر ز کہتے ہیں سندھ گورنمنٹ اور ورلڈ بینک کے اشتراک سے جاری پراجیکٹس پر کام تیزی سے جاری ہے جسے 2025 سے قبل ہی مکمل کر لیا جائے گا ۔۔























