ایں دفتر بے معنی بیورکریٹس کے مشورے


ہمارے دوست اقبال دیوان سات کتابوں کے مصنف ہیں۔ پہلے سرکار کے ملازم ہوتے تھے اب مصوری سیکھتے ہیں سیر کرتے ہیں اور خوش رہتے ہیں

تحریر: محمد اقبال دیوان

شنید ہے کہ مغلوں کے بارہویں بادشاہ مصوری، موسیقی اور رقص کے دلدادہ و سرپرست ناصر الدین محمد شاہ جن کا دور سلطنت لگ بھگ تیس برس پر محیط ہے کا تخلص سدا رنگیلا تھا۔یہ اردو زبان میں طویل ترین تخلص ہے۔ پہلے اردو کا نام لشکری ہوتا تھا۔


اسے اردو اور پھر اردو معلی کا نام ان کے دور پر کیف میں دیا


جس کے معنی زبان اشرافیہ ہوتا ہے۔ اشرافیہ نے اپنے تیزی سے مردانہ طاقت سے محروم ہوتے حکمران کے لقب سدا رنگیلا کے ساتھ وہی نازیبا حرکت کی جو مودی نے ہریانہ میں چناؤ کے موقعے پر


اپنے اٹھارہ مئی کے خطاب میں پاکستان کے ساتھ کی کہ پاکستان پہلے بم لے کر اچلتا تھا

سو اب وہ بم بھیک کا کٹورہ بن گئی ہے اور ہمارے جیسی دھاکڑ سرکار ہو تو ان کی مجال کہ
ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھیں۔ اسی اشرافیہ نے اس کا تخلص تضحیک کے طور پر رنگیلا تک محدود کردیا ۔


عوامی سطح پرپاکستان کے مشہور ترین اداکار سعید خان کے ٹھیک دوسو دس برس بعد یہ تخلص بہت کام آیا۔وہ رنگیلا کے نام سے جانے اور مانے گئے

۔ہندو پاک میں فلموں کے بورڈ بنانے والے دو پینٹرز بہت مشہور ہوئے۔ ایم ایف حسین اور رنگیلا۔چلتے چلتے یہ بھی بتادیں کہ محمد شاہ کے
عہد پرلطف میں قوالی کو دربار میں گایا جانے لگا۔ فارسی زبان کے کلام میں ہندی اور اردو کلام کی

شاعرانہ گرہیں لگنے لگیں۔ نہ ہوئے نصرت فتح علی خان ورنہ آج ان کا مرتبہ دربار مغلیہ میں وہی ہوتا جو دربار بنی گالہ میں گوگی گجر کا تھا۔ہاں ایک بات اور بھی کہ ان رنگیلا کے عہد میں ہی قرآن المجید کے تراجم اردو اور آسان فارسی زبان میں کرنے کا آغاز ہو۔ پہلا ترجمہ اردو زبان میں شاہ عبدالقادر دہلوی نے موضح القرآن کے نام سے کیا جو جو شاہ ولی اللہ دہلوی کے تیسرے صاحبزادے تھے انہیں کے عہد میں ہوا جو مسلمانان ہند پر ایک احسان عظیم ہے۔


اسی بادشاہء ہند ناصر الدین محمد شاہ کو جب نادر شاہ درانی 1739 میں عہد نامہء اعتراف

شکست
Surrender Document پر امن طریقے پر حکومت ان کے حوالے کرنے کو قاصد کے
ہاتھ دست خط کرنے کے لیے بجھوایا تو حضرت کا جنرل یحی خان کی طرح ناؤ نوش کا وقت تھا ۔معاہدہ جب سامنے رکھا گیا تو اسے جام میں ڈبو کر کہنے لگے ”ایں دفتر بے معنی غرق مئے ناب اولیٰ“ (اس پرزہء بے کار کو پہلے تو شراب پلاؤ) جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کرنال کی جنگ میں مغلوں کو شکست ہوئی۔دہلی خون میں نہاگئی۔ دوکروڑ روپے جنگ کا تاوان، تخت طاؤس اور کوہ نور کا ہیرا نادر شاہ کے ہاتھ لگا اور اس قدر دولت ہاتھ لگی کہ ایران میں تین سال تک سرکار نے کوئی ٹیکس عوام سے نہ لیا۔ ہم بھی اپنے بریگیڈئر دوست کو سمجھاتے ہیں کہ جتنی مہنگائی بڑھ رہی ہے اس کے لیے محمود غزنوی بننا ہوگا اس کے لیے لازم ہے کہ دوبئی، ایران یا ہندوستان پر حملہ کرو۔وہ کہتے ہیں آپ بہت ہلاکت آمیز ہیں۔ہم نے کہا کہ ہماری ٹیسٹ بے بی جیسی جمہوری سرکار سے ٹماٹر کی قیمت نہیں سنبھلتی۔آپ کے خرچے کیسے اٹھیں گے۔

ہماری بات پر دھیان نہیں دیتے۔؎
بات بیوروکرٹس کے مشوروں کی تھی۔ہم جب ہوم ڈیپارٹمنٹ سندھ میں ایڈیشنل سیکرٹری تھے ہماری میز پر ایک فریم میں یہ عبارت سائلین پر امید کے لیے لکھی رہتی تھی کہ ”اگر کسی کو برباد کرنا ہو تو جوا اس کا تیز ترین، عورتین اس کا پر لطف ترین اور بیورو کریسی اس کا یقینی ذریعہ ہیں۔بیوروکریسی سے دور
ایوبی 1958 تا 1969رویت ہلال کے مسائل کا اس وقت آغاز ہوا جب کسی نے جرنیل صاحب کے کان میں یہ فتنہ انڈیلا۔ سی ایس پی الطاف گوہر سیکرٹری اطلاعات نورجہاں کے نغموں اور ریڈیوپاکستان کی مدد سے سن 1965 کی جنگ جیت کر فیلڈ مارشل کہلانے والے ایوب خان ذہن اور کان دونوں کے کچے تھے۔انہیں سمجھایا گیا کہ عید اگر جمعے کو آجائے اور ایک دن میں دو خطبے ہوں تو آئندہ ایام، بادشاہ وقت اور والی مملکت پر گراں ہوں گے۔ ان دنوں بلوچ معتبر مانے جاتے تھے بلوچستان کی شہادت قمری ان دنوں مملکت کو قابل قبول ہوتی تھی۔موجودہ رویت ہلال کمیٹی جیسے تسلے میں چاند دکھانے والے ابھی منظر عام پر نہ آئے تھے جو کمزور آنکھ سے اپنے کرتے کے بٹن کا سوراخ تو دیکھ نہیں سکتے مگر دوربین سے پڑوس کی چھتوں پر چاند کھوج لیتے ہیں۔

مارشل لا کا زمانہ تھا اور بیوروکریسی میں ڈپٹی کمشنر انگریز دور سے بڑھ کر طاقتور۔ اس افسر عالی مقام کو ان دنوں Government on Two Legs کہا جاتا تھا۔بلوچستان سے چاند کی شہادت درکار تھی سو مولوی کو ڈی سی صاحب ایک اونچی سے پہاڑی پر لے گئے۔نیچے گہری کھائی تھی۔کہنے لگے ۔ میرے رشک قمر د ملا دو پیازہ تیرے سامنے دو چاند ہیں۔ایک زمین پر کھائی میں پڑا ہے اور دوسرا اوپر آسمان پر تجھے حقیقتاً تو دونوں ہی جو نظر نہیں آتے مگر آسمان کے چاند کو جھٹلایا اور رویت ہلال عید سے انکار کیا تو کھائی کا چاند تو اکیلے چوم رہا ہوگا۔۔مولوی صاحب نے میگا فون پر کلمہء شہادت پڑھ کر اعلان کیا کہ آسمان والا چاند انہوں نے خود دیکھ لیا ہے۔عالم کی گواہی ایک عالم کی گواہی ہے۔اسی واردات کو
سامنے رکھ کر نسبتاً کم شہرت یافتہ مگر بہت عمدہ مزاحیہ شاعر سید محمود جعفری نے ایک قطعہ کہا تھا۔
ہماری عید ہے، ہم ہر طرح منائیں گے
ہمارا، شیخ کے فتوؤں پر اعتبار نہیں
ہمارے ڈپٹی کمشنر نے چاند دیکھا ہے
ہمیں یقین ہے وہ ہرگز بے اعتبار نہیں
بیوروکریسی سے ایک مشورہ نومبر1988 میں بھی مانگا گیا۔جنرل ضیا کی غیر متوقع ہلاکت کے بعد پہلی سویلین حکومت منتخب ہوئی تو اور بے نظیر وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھا چکی تھیں۔انہیں یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ سندھ میں ایم کیو ایم سے معاملات کیوں کر حل کیے جائیں۔متعلقہ افسروں کو طلب کیا گیا۔بشمول ہمارے۔افسروں کا مشورہ تھا کہ جس طرح وہ سائیں غوث علی شاہ کے پاس الطاف بھائی اور دوسروں کو بہلا پھسلا کر سی ایم ہاؤس لے آتے تھے ویسے ہی دھیرج رکھیں سائیں قائم علی شاہ کے پاس بھی لے آئیں گے۔یہ ایم کیو ایم گھر کی مرغی ہے جب مہمان آئیں کاٹ کے پکالو۔آپ کو
ایک بات بتاتے چلیں بے حد دل
چسپ
کہ نائن زیرو گھر کا نمبر نہیں۔ یہ فون نمبر تھا 67 3690 جس کے آخری دو ہندسے بطور کوڈ بولے جاتے تھے۔گھر کانمبر 494/8 ہے۔یعنی
فیڈرل بی ایریا کے بلاک آٹھ کا مکان نمبر494/۔فون ان دنوں سرکاری ہوتے تھے اور چھ ہندسوں کے۔گلی کے باہر ہماری ایس ڈی ایم کی سرخ جیپ دیکھ کر ایم کیو ایم کی قیادت کے اہم نام فنانس سیکرٹری ایس ایم طارق، جوا ئین ٹ سیکرٹری بدر اقبال، مرتضی درانی، عمران فاروق،سلیم شہزاد، لپک کر دروازے کے باہر آتے تھے۔دونوں طرف اعتماد اور لحاظ بہت تھا۔ افسران عالی مقام کی بات نہیں ٹالی جاتی تھی۔پاکستان کے انتظامی معاملات میں بگاڑ کی ابتدا انتظامی مجسٹریسی یعنی مجسٹریٹ، ایس ڈی ایم، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، کے ادارے کے خاتمے سے سن 1993 سے ہوئی۔ ورنہ اے آر کارنیلس، اایم آر کیانی جیسے بڑے جج سول سروس سے بلائے جاتے تھے۔ آپ کے پاس ہجوم سے مکالمے اور ان کے کنٹرول،مہنگائی اور تجاوزات کو روکنے کے لیے،اور تین سال سے کم سزا کے مقدمات سننے کے لیے ادارے نہیں عدالتوں پر بھی چھوٹے مقدمات کا بوجھ بہت بڑھ گیا ہے اور کرپشن نچلی عدالتوں میں بے تحاشا پھیل گیا ہے
قائم علی شاہ جنہیں چیف منسٹر کا منصب سونپا گیا تھا۔ وہ بہت مہذب اور دھیمے مزاج کے انسان ہیں۔افسروں کی رائے سن کر اپنے ایک ساتھی جو ان دنوں جیل میں مقید ہیں ان سے پوچھنے لگے آپ کا کیا خیال ہے۔وزیر نے کہا یہ ڈی ایم جی والے سیاست کو نہیں سمجھتے۔ ان کے کونسے اسٹیک ہیں ۔سندھ میں مزہ نہیں آئے گا تو کہیں اور نوکری کے لیے بھاگ لیں گے۔ہم سندھی کے خاندانی لوگ ہیں کسی کے پاس خود چل کر جائیں گے تو زیادہ عزت ہوگی۔ہم نے بہت آہستہ سے ان

کے کان میں کہا اس کے بعد جن بوتل سے باہر آجائے گا۔وہ چون کہ ہمارے کزن فرید خان کی رنگ برنگی پارٹیوں میں اکثر آتے تھے ہمیں کہنے لگے تو فشری (سندھی میں رنگ میں بھنگ) مت کررات کو ہم میں فرید کے گھر گپ لگائیں گے۔ابھی ہماری بات مان۔
جب سی ایم ایم کیو ایم کی قیادت سے ملنے نائن زیرو پہنچے تو اس وقت ایم کیو ایم کی انتظامی کمیٹی نے آنکھیں ماتھے پر چڑھالیں۔کمشنر شاہد صاحب کو بھی گلی کے باہر روک دیا۔شاہد عزیز صدیقی اور ڈی آئی جی صاحب چوک سے نائن زیرو تک پیدل گئے۔سلیم شہزاد اور بدر اقبال بعد میں اس بات پر رضامند ہوگئے کہ ہم ان کی کار میں بیٹھ کر نائن زیرو جائیں۔ ہم نے ضد پکڑی کے ہماری گاڑی سمیت ڈی ایس پی، ایس پی اور ڈی سی صاحب کی کار گلی میں آئے گی۔یہ ان کا پاؤر شو تھا۔دلہن والا نخرہ۔ نہ مانے۔اس کے بعد سے کوئی سرکاری کار اس گلی میں نہ جاسکی۔یہ ہوتا ہے بیوروکریسی کا مشورہ نہ ماننے کا نتیجہ
پچھلے دنوں ہمارے ایک دوست نے پھر ہمیں ریٹائرڈ ہی سہی بیوروکریٹ سمجھ کر ایک دفعہ ہمارا مشورہ نظر انداز کیا۔تین دوست بیٹھے تھے۔چائے والوں کا کلفٹن میں روڈ سائیڈ دھابہ تھا۔ شاہ جی جن کا رئیل اسٹیٹ کا کام ہے۔ طبیعت اً فراخ دل ہیں۔مال کماتے ہیں۔
جمیل باپو کا چین سے کاروبار ی تعلق ہے ۔ بہانے بہانے سے کمر سیدھی کرنے تھائی لینڈ چلے جاتے ہیں۔کہنے لگیپتایا (تھائی لینڈ کا جنس و تفریح کا ایک ساحلی مقام) کے ایک دھابے میں وہاں بار ٹینڈر(ساقی)بہت اچھی لگی۔دور افتادہ،چپ چپ، کھوئی کھوئی،دراز قد اور کچھ مکس ڈ نسل کی۔


ایسا لگا کہ کوئی گورا اپنی تعطیلات کے ایام میں اپنے نطفے کے معاملے میں بداحتیاط نکلا۔ نام بھی رتنا تھا۔ باپو نے ساتھ چلنے کی فرمائش کی تو کہنے لگی مجھے Dominoes میں ہرا دوگے تو تمہاری مرضی چلے
گی۔میں دھندے میں نہیں۔ ساقی گری سے گزارا ہوجاتا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ مجھے مرد اچھے نہیں لگتے یا تم بہت برے ہو۔مجھے البتہ خود کو داؤ پر لگانے میں مزا آتا ہے۔
جمیل باپو نے بہت کہا کہ اسے Dominoes کھیلنا نہیں آتا مگر وہ کہنے لگی اس سے کم پر معاملہ نہیں چلے گا۔میمن ہونے کے ناطے گیم سیکھنے کی خاطر ایک ترکیب باپو نے یہ چلی کے ہارنے کے لیے چھوٹی بازی سے ابتدا کی اور آہستہ آہستہ رقم بڑھاتا جب تین ہزار بھات ہار گیا تو اس نے ہارنے کا ڈرامہ کرکے تین ہزار بھات کی بازی لگائی اور جیت گیا۔ رتنا نے بیگ اٹھایا اور وعدہ نبھانے چل پڑی۔ باپو رتنا کو لے کر جب بنکاک آرہا تھا تو اس نے اس کو کہا ہے کہ جتنی رقم وہ ہاری ہے اس کی ڈبل رقم اور واپسی کا کرایہ اسے وہ دے گا۔وہ جانتا ہے کہ وہ ایک ملازم پیشہ دیہاتی لڑکی ہے۔ بمشکل مہینے کے بارہ پندرہ ہزار بھات کماتی ہوگی۔ اس کے لیے یہ رقم رتنا کا دل جیتنے کے لیے چھوٹی سی قربانی ہے۔ یہ سنا تو وہ کھل اٹھی۔راستے میں ایک جگہ رات کا کھانے کے لیے رکے تو اس نے دیکھا کہ مینو سے رتنا نے اپنے لیے سب سے کم قیمت کی ڈشز کا انتخاب کیا۔
جمیل باپو کے اس سوال کا جواب کہ اس نے ایساکیوں کیا چونکہ رتنا نے رخصت ہوتے وقت دیا اس لیے آپ بھی صبر کریں۔
چند راتوں قبل جب ڈھابے پر چائے پی رہے تھے تو کہیں سے ہیجڑے چلے آئے۔پبلک مقامات پر یہ گداگری گروپس کی شکل میں ہوتی ہے۔ ہیجڑوں کو دیں گے تو کمربند بیچنے والے آجائیں گے وہ جائیں گے اور آخر میں اکتوبر میں ہے پی ولیٹائن کے غبارے اور آئی لو والی کی چین بیچنے والے بچے اور فقیرنیاں۔ہیجڑوں کا گروپ آگیا تو شاہ جی نے جو اس وقت ملائی بہاری بوٹی کھارہے تھے انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں معاف کرنے کو کہا جس پر ایک ہیجڑہ کہنے لگا ”جانو خود کھاتے ہو۔ غریب کے پیٹ کا خیال نہیں“۔یہ کہہ کر اس نے اپنے پیٹ سے قمیص اونچی کی جس پرشاہ

جی بہت شرمندہ ہوئے۔ یہ منظر دیکھ کر جمیل باپو کہنے لگا سالے عورتوں والی شلوار پہنتے ہو۔جس پر ہیجڑہ کہنے لگا ”اللہ ڈارلنگ ہمیں کیا پتہ آپ مرد ہیں؟۔ ہم تو آپ کو اپنے جیسا سمجھے تھے“۔شاہ جی جان چھڑانے کے لیے ویٹر کو بلاکر کہنے لگے ان کو بھی کھانا کھلادے۔وہ دیگر گاہکوں سے ایک طرف ہوکر ایک بند بینک کے دروازے کی اوٹ میں بیٹھ کر کھانا کے لیے بیٹھ گئے۔ہم نے شاہ جی کو سمجھایا کہ ویٹر کو مینو تو بتادیں۔جس پر شاہ جی کہنے لگے ایک تو آپ کو افسر لوگوں کو تین Quotations کی ایسی بری عادت ہے (سرکار میں ایک زمانے میں پچاس ہزار روپے سے نیچے کسی پروڈکٹ یا سروس کے چارجز کی ادائیگی کے لیے ثبوت کے طور پر تین بلز یعنیQuotations طلب کیے جاتے تھے۔ سب سے کم لاگت والے کو یہ سپلائی کا کام سونپا جاتا تھا)۔ہمار ا مذاق بنانے کے لیے انہوں نے قصہ سنایا کہ نورجہاں کو ایک سرکاری تقریب میں پرفارم کرنا تھا جس پر سیکرٹیریٹ کے سیکشن افسر کی جانب سے ان سے بھی تین Quotations طلب کیے گئے تھے۔
ہیجڑے پہلے رخصت ہوئے اور ہم سب بعد میں۔ بل میں جسے ترکی میں حساب کہا جاتا ہے ہم ؎
سب کا چائے پراٹھے باپو کے بہاری تکے اور شاہ جی کی بہاری ملائی بوٹی یعنی تین آدمیوں کابل کل پندرہ سو تھا اور ہیجڑوں کا ڈھائی ہزار۔ اس میں چار تکے، ملائی بوٹی،پراٹھے،آئس کریم، انار جوس اور چائے شامل تھی۔جمیل باپو سے شاہ جی کو دوہزار روپے ادھار مانگنے پڑے۔جو جمیل باپو نے واپسی کے وعدے اور ہماری گارنٹی پر یہ کہہ کر دیے کہ آفیسر لوگ کی بات نہ ماننے کی اسی لیے سزا ملتی ہے۔جمیل باپو کا خیال تھا کہ ہیجڑے بھی پختون تھے اور ویٹر بھی اس لیے مال مفت دل بے رحم۔ کھسیانے شاہ جی کہنے لگے چلو فیصلہ سازوں کا نہ سہی پاکستان میں کسی کا تو پیٹ بھر گیا۔
آپ کو پتایا تھائی لینڈ والی رتنا تو یاد ہے نا۔ ہیجڑوں کی خوش خوراکی کے تناظر میں اس کا جواب اور بھی معنی آفریں ہو

گیا ہے۔رتنا سے جب جمیل باپو نے پوچھا کہ مینو میں اپنے لیے سب سے سستی ڈش کیوں منگوائی تو کہنے لگی۔”محبت میں جرمانے تھوڑی عائد کیے جاتے ہیں۔وہ مرد جو عورت کی ہار کو
جیت میں بدل دے اور مرد وہی ہے۔میں نے وہ کھانا چنا جو ہم اپنے گھر میں کھاتے ہیں۔تم مرد لگے اپنے اپنے لگے،سو اس بہانے گھر کو بھی یاد کرلیا۔


Iqbal- Dewan- Diwan