
………………………………
تحریر : اطہر اقبال
………………………………
انسان پیدا ہوتے ہی جینے کی کشمکش میں لگ جاتا ہے چاہے یہ کسی نوزائیدہ بچے کے ہاتھ پیر چلانے کی صورت میں اپنی بھوک کا احساس دلانے اور اسے بڑھ کر تھام لینے کی خواہش یا جدو جہد ہو یا پھر وقت کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنے کی لگن، زندگی بھر سیکھنے اور سکھانے کا یہ عمل جاری ہی رہتا ہے،خوب سے خوب تر کی تلاش کبھی بھی ختم نہ ہونے والی ایک ایسی کہانی ہے جس میں کم زور، مضبوط اور مضبوط ترین کردار آتے جاتے رہتے ہیں مگر صرف زندہ رہنا ہی زندگی نہیں بلکہ زندگی کے پہلے لمحے سے آخر تک جدوجہد کرنی پڑتی ہے اس جدوجہد میں تعلیم کا حصول اور اسے سیکھنے کا مرحلہ ہماری شخصیت میں نکھار پیدا کرتا ہے، تعلیم سیکھنے کے عمل کو کہتے ہیں یہ سیکھنے کا عمل ہی دراصل تربیت ہے، جب ہماری اپنی شخصیت میں نکھار ہوگا تب ہی اس کے ثمرات معاشرے تک پہنچ پائیں گے۔

با ت چوں کہ تربیت کے حوالے سے شروع ہوئی ہے تو اسی حوالے سے گزشتہ دنوں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (NIPA) کراچی جانا ہوا جو ملک کا ایک انتہائی اہم تربیتی ادارہ ہے جہاں سرکاری افسران کو پبلک ایڈمنسٹریشن کے حوالے سے خصوصی تربیت فراہم کی جاتی ہے، یہ ادارہ پاکستان میں بیوروکریسی کی تربیت کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
نیپا کراچی میں حال ہی میں ڈاکٹر سید سیف الرحمن (PAS) کی بطور ڈائریکٹر جنرل تقرری ہوئی ہے جو کہ پاکستان کی سینٹرل سپیریئر سروس کے سینئیرآفیسر ہیں، حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ”تمغہ امتیاز“ سے بھی نوازا ہے۔
نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن(NIPA) کراچی 1961ء میں قائم ہوا جو آٹھ ایکڑ رقبے پر محیط ہے،2000 ء تک نیپا کراچی میں ڈائریکٹرز کی سطح تک کے افسران تھے،1961 ء سے لے کر 2000 ء تک 16 مختلف ڈائریکٹرز نیپا کراچی میں خدمات انجام دیتے رہے تاہم 2001 ء میں ڈائریکٹر کی اسامی کو اپ گریڈ کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل کردیا گیا اور اب نیپا کراچی میں 2001 ء سے تاحال 14 ڈائریکٹر جنرل کی تقرری ہوچکی ہے۔
2002 ء میں نیپا کو دیگر تربیتی اداروں کے ساتھ ضم کرکے نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی (NSPP) کے تحت کردیا گیا اور ادارے کی مزید بہتری کے لیے ایک نئی اسامی ریکٹر(Rector) رکھی گئی جس کے ماتحت ملک بھر کے نیپا کردیے گئے، لاہور میں اس کا مرکزی دفتر (ہیڈ کوارٹر) ہے جو پاکستان ایڈمنسٹریٹیو اسٹاف کالج کہلاتا ہے بعدازاں 2007ء میں نیپا کے مختلف کیمپسز کا نام تبدیل کرکے نمِ یعنی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ (NIM) رکھ دیا گیا اور اس وقت سے یہ ادارہ نمِ ہی کہلایا جانے لگامگر ڈاکٹر سید سیف الرحمن نے اس ادارے میں 19 ستمبر 2024 ء کو بحیثیت ڈائریکٹر جنرل نیپا کراچی اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے فوری بعد پہلے سے جاری کوششوں کو مزید تیز کرتے ہوئے یہ درخواست کی کہ ادارے کا نام نمِ یعنی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ (NIM) کے بجائے دوبارہ سے نیپا یعنی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن(NIPA)رکھ دیا جائے لہٰذا اب یہ ادارہ 28 اکتوبر 2024 ء سے ایک بار پھر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن(NIPA)کہلایا جانے لگا ہے۔
نیپا سرکاری اور انتظامی افسران کو جدید ترین انتظامی مہارتوں سے آراستہ کرنے اور حکومتی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے تربیتی عمل میں شریک ہونے کے ساتھ ساتھ عوامی منصوبہ بندی کے مختلف کاموں پر تحقیق اور تجاویز کو بھی فروغ دے رہا ہے، نیپا ملک کے مختلف بڑے شہروں کراچی، لاہور،پشاور، کوئٹہ اور اسلام آباد میں موجود ہے،کراچی میں موجود نیپا کا دفتر نمایاں ہے، نیپا کی موجودگی کے باعث یہ ادارہ کراچی کے شہریوں کے لیے بھی ایک پہچان بن گیا ہے جس کے باعث اطراف کے علاقے کو نیپا چورنگی کہلائے جانے کی شہرت حاصل ہوئی،نیپا چورنگی گلشن اقبال کراچی میں واقع ہے، نیپا سے ملک کے مختلف سرکاری محکموں میں کام کرنے والے کئی افسران کے ساتھ ساتھ اہم پالیسی سازشخصیات بھی تربیت یافتہ ہیں، نیپا کی تعلیمی اور تربیتی خدمات ہمارا قومی اثاثہ ہیں خاص طور پر اس وقت کہ جب انتظامی معاملات کی بہتری اور پالیسی سازی کی بات کی جائے، اس ادارے کے قیام کا مقصد حکومتی اداروں کی کارکردگی کو بہتر سے بہتر بنانا اور پبلک پالیسی کے مختلف پہلوؤں پر تحقیق کو فروغ دینا بھی ہے، ساتھ ہی ساتھ یہ ادارہ بیوروکریسی کو بھی مضبوط بناتا ہے، اس ادارے میں حکومتی مشینری میں شامل ہونے والے نئے اور موجودہ سرکاری ملازمین کے لیے انتظامی منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی کی تربیت فراہم کی جاتی ہے، ملک بھر کے مختلف اداروں سے افسران یہاں تربیت کے لیے آتے ہیں جن کے لیے یہاں خاص طور پر ورکشاپس اور سیمینارز منعقد کرائے جاتے ہیں جب کہ سینئر بیوروکریٹس اور اہم علمی شخصیات بھی اس ادارے میں بطور مہمان آکر اپنے مشاہدات اور تجربات کو تقریر کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ نیپا کا ایک بڑا مقصد یہ بھی ہے کہ افسران میں لیڈر شپ کی تربیت ہو تاکہ وہ معاشرے میں بہتر انداز سے اپنے فرائض انجام دے سکیں،اس ادارے نے ایک عرصے تک سرکاری اداروں کے افسران کی تربیت میں اپنا انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے،
نیپا وہ ادارہ ہے جہاں سے تربیت پانے والے سرکاری ملازمین ملک کے مختلف اداروں میں خدمات انجام دیتے ہیں اور حاصل کی ہوئی تربیت،مہارتوں اور اپنی بھرپور صلاحیتوں کے ساتھ معاشرتی اور انتظامی نظام کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئے کوشاں رہتے ہیں، یہ ادارہ ملک کے اعلیٰ تربیتی اداروں میں شمار کیا جاتا ہے جہاں افسران کو عمدہ منصوبہ بندی، فیصلہ سازی اور حکومتی پالیسی سازی کے لیے تیار کیا جاتا ہے، اس طرح یہاں تربیت حاصل کرنے والے افسران عوامی خدمت کے معیار کو بہتر بناتے ہیں، یہ ادارہ بیوروکریسی کو گورننس اور عوامی مسائل کے حل میں موثر بناتا ہے، اس ادارے نے دنیا بھر کے جدید اور بہترین تربیتی پروگراموں سے نہ صرف یہ کہ استفادہ کیا بلکہ انہیں اپنے مقامی حالات سے بھی ہم آہنگ کیا، نیپا میں عالمی اداروں مثلاً اقوام متحدہ اور ورلڈ بینک کے تعاون سے مختلف تربیتی ورکشاپس بھی منعقد کرائے جاتے ہیں۔
راقم الحروف کو مختلف حوالوں سے اور مختلف سرکاری محکموں میں ڈاکٹر سید سیف الرحمن کے ساتھ کام کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے وہ ایک خوب صورت اور تخلیقی سوچ رکھنے والی شخصیت ہیں اس لیے میرا مشاہدہ بھی ہے اور تجربہ بھی کہ ڈاکٹر صاحب جس ادارے میں بھی جاتے ہیں اپنی سوچ اور خوابوں میں حقیقت کا رنگ بھر دیتے ہیں، آج نیپا کی عمارت کے اندرونی اور بیرونی حصوں کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی اس ماحول کو وہاں مہکتے پھول مزید خوب صورت بنا رہے ہیں۔
ڈاکٹر سید سیف الرحمن نے اپنی آمد کے بعد ادارے کو پہلے سے بھی زیادہ خوب صورت بنانے کے لیے اپنی نگرانی میں مختلف کاموں کا آغاز کیا، انہوں نے یہاں تربیت کے لیے آنے والے افسران کی حوصلہ افزائی (Motivation) کے لیے سفید ماربل پر سورۃ العمران کی آیات 102 تا 103 کو طغرے کی صورت میں آویزاں کرایا تاکہ بے لوث عقیدت، ایمان اور عزم کے ساتھ لوگوں کی خدمت کی جاسکے، اسی طرح قائداعظم کے فَرمُودات پر مبنی ایک جگہ بھی مختص کی ہے جہاں دیوار پر نمایاں انداز میں اقوال لگائے گئے ہیں تاکہ سیکھنے کے لیے آنے والے افسران کے لیے یہ امید کی کرن اور کامیابی کا ضامن ثابت ہوسکیں، عمارت کے مرکزی داخلی دروازے کے اوپر حافظ شیرازی کا مشہورقول ”کَسبِ کَمال کُن کہ عَزیزِ جَہاں شَوی“ترجمہ: ”اپنے آپ کو بہتر بنائیں تاکہ آپ ایک خوب صورت دنیا تخلیق کریں“بھی جلی حروف میں لگایا گیا ہے، آڈیٹوریم ہال کی دیوار پر صادقین کے نام سے ایک جگہ مختص کردی گئی ہے جہاں ان کے فن پارے لگائے گئے ہیں جو ایک طرح کی چھوٹی آرٹ گیلری بھی کہلائی جاسکتی ہے جہاں دیگر آرٹسٹوں کے فن پارے بھی رکھے جائیں گے، ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC)کے تعاون سے ایک نیا تربیتی پروگرام بھی متعارف کرایا گیا ہے جو خصوصی طور پر یونیورسٹیز کے ڈین کے لیے ہوگا، اسی طرح اگر کوئی ادارہ ٹریننگ کے حصول کے لیے رابطہ کرے گا تو اس کے لیے بھی ایک نیا ٹریننگ سینٹر کھولا جا رہا ہے جہاں اپنی مرضی کے مطابق قیادت (Customized Leadership)کی سہولت فراہم کی جائے گی، کھانے (MESS)ہال کو مزید بہتر بنایا دیا گیا ہے اور کھڑکیوں کے ساتھ شیشے کے پلر بنائے گئے ہیں تاکہ باہر کا نظارہ اور سبزہ زار بھی نظر آئے، اینٹی کار لفٹنگ سیل کے تعاون سے اطراف کے ماحول پر نظر رکھنے کے لیے کیمرے بھی لگا دیئے گئے ہیں، کیمپس کی چھت پر نئے سائن بورڈ لگا دیئے گئے ہیں جب کہ مرکزی داخلی دروازے پر چھت کے ساتھ روایتی اور ثقافتی تاثر لیے خوبصورت لیمپس بھی لگائے گئے ہیں، اسی طرح میڈیا کیئر مینجمنٹ کورس (MCMC) کے چائے پینے کی جگہ کی تزئین و آرائش کی گئی ہے، نئے مونوگرام اور نئے قومی پرچموں کے ساتھ ساتھ ادارے کے علامتی پرچم بھی لگائے گئے ہیں، اندرونی اور بیرونی حصوں پر شجر کاری شروع کرائی جو تاحال جاری ہے اس حوالے سے شہر کے منتخب اور نامزد نمائندگان سمیت دیگر اہم شخصیات پودے لگا رہی ہیں، اب تک ایک ہزار سے زائد پودے لگائے جاچکے ہیں، انہوں نے ادارے میں گرین بیلٹس کے مقامات پر نشستیں (بینچیں)اور مزید خوب صورت اور دل کش تین فوارے بھی لگوائے جن سے اچھلتا پانی تیز ہواؤں کے ساتھ ایک خوش گوار تاثر پیدا کرتا ہے، عمارت میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے نئے اور نمایاں نشانات بھی بنوائے گئے جب کہ آؤٹ گیٹ نمبر دو جو گزشتہ چالیس سال سے بند تھا اسے بھی دوبارہ سے فعال کردیا گیا ہے۔
اس ادارے میں آنے والے افسران جب تربیت مکمل کرکے اپنے اپنے علاقوں میں جا کر عوامی مسائل کے حل کے لیے فرائض انجام دیتے ہیں اور مظلوم افراد کی داد رسی کرتے ہیں تو درحقیقت حاصل کی جانے والی تربیت کا حق بھی ادا کردیتے ہیں اور دکھی انسانیت کی دعائیں بھی لیتے ہیں۔
؎ کسی کی تربیت کا ہے کرشمہ
یہ آنسو مسکرانے لگ گئے ہیں
اس ادارے میں بطور مہمان آنے والی وہ تمام اعلیٰ اور علمی شخصیات بھی انتہائی قابل قدر ہیں کہ جو اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ وقت نکال کر اپنے مشاہدات اور تجربات کو یہاں تربیت کے لیے آنے والے افسران سے تبادلہ خیال کرتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ کس طرح عوام کی بہتر سے بہتر خدمت کی جاسکتی ہے اور کس طرح اپنے معاشرے اور نظام کو خوب سے خوب تر بنایا جاسکتا ہے۔
؎منزل سے آگے بڑھ کر منزل تلاش کر
مل جائے تجھ کو دریا تو سمندر تلاش کر























