
امیر الدین میڈیکل کالج اور لاہور جنرل ہسپتال کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محمد الفرید ظفر نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جو انتہائی تشویشناک امر ہے لہذا اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بر وقت اقدامات کی اشد ضرورت ہے تاکہ لوگوں میں ہیپاٹائٹس اور ایچ پائلوری کی علامات اور ان کے علاج کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ آگاہی پیدا کی جا سکے اور اس بیماری کی روک تھام کے لیے ممکنہ احتیاطی تدابیر اختیار کی جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ ہیلتھ پروفیشنلز اور میڈیکل سٹوڈنٹس قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں، ان کا صحت مند ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ طبی عملے نے ہی مریضوں کا علاج معالجہ کرنا ہوتا ہے لہذا ڈاکٹرز کو علاج کے ساتھ ساتھ ہر ممکن احتیاط اور سال میں دو سے تین مرتبہ اپنی بلڈ سکریننگ ضرور کرانی چاہئے۔
ان خیالات کا اظہار پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر الفرید ظفر نے امیر الدین میڈیکل کالج کی بلڈ ڈونیشن سوسائٹی (نبض) کے زیر اہتمام ہیپا ٹائٹس بی، سی اور ایچ پائلوری کی اسکریننگ مہم کا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔
اس مہم کا مقصد ان بیماریوں کی جلد تشخیص اور ان سے بچاؤ کے اقدامات کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا تھا۔ صدر ینگ ڈاکٹر ز ایسوسی ایشن ڈاکٹر حسیب تھند، ڈاکٹر مصباح جاوید، ڈاکٹر لیلیٰ شفیق و دیگر ڈاکٹرز جبکہ طلباء میں زیان انصاری، رانا عمر اور رانا عالیان موجود تھے۔
پرنسپل ڈاکٹر الفرید کا مزید کہنا تھا کہ اس بیماری کا پھیلاؤ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ اس کی روک تھام کے لیے حکومتی سطح پر مزید اقدامات کی ضرورت ہے اور ہیلتھ کے شعبے میں کام کرنے والے فلاحی اداروں کو بھی عوامی آگاہی کیلئے آگے آنا چاہئے کیونکہ بیماریوں کا پھیلاؤ اس بات کا غماز ہے کہ ہمارے معاشرے میں بیماریوں کی روک تھام کے لیے آگاہی کی کمی ہے جس کو دور کرنا ضروری ہے تاکہ ہم اس بیماری کے پھیلاؤ کو روک سکیں اور ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دے سکیں۔پرنسپل نے طلبہ پر بھی زور دیا کہ وہ شہریوں میں حفظان صحت کے اصولوں بارے شعور اجاگر کرنے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔
=============================

اسلامی جمعیت طلبہ کے زیرِ اہتمام لاہور پریس کلب میں
پریس کانفرنس کا اہتمام ، ناظم صوبہ پنجاب اسلامی جمعیت طلبہ جناب ابوذر غفاری، ناظم لاہور عبداللہ بن عباس اور حسنات ڈوگر سیکرٹری اطلاعات لاہور نے شرکت کی
اس موقع پر ناظم صوبہ پنجاب ابوذر غفاری نے کہا:
” تعلیمی اداروں کی نجکاری کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ فیسوں میں مسلسل اضافے نے عام عوام کے لیے تعلیم کے دروازے بند کر دیے ہیں۔ یہ طلبہ اور والدین دونوں کے لیے ناقابل برداشت ہے۔”
طلبہ یونین کی بحالی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا:
“سپریم کورٹ کے واضح فیصلے کے باوجود طلبہ یونین کی بحالی میں تاخیر کا جواز کیا ہے؟ یہ تاخیر طلبہ کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔”
اس موقع پر ناظم اسلامی جمعیت طلبہ لاہور برادر عبداللّٰہ بن عباس کا کہنا تھا نے کہ تعلیمی اداروں کی نجکاری کے خلاف شہر کے ہر تعلیمی ادارے کے باہر احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے تاکہ حکومتی پالیسیوں کے خلاف طلبہ کے حقوق کی آواز بلند کی جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ :
” طلبہ یونین ” طلبہ برادری کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنے اور ان کے حل کے لیے حکام بالا پر دباؤ ڈالنے کا اہم ذریعہ ثابت ہوں گے لہذا ہر مسئلے کا حل طلبا یونین کی بحالی پر منحصر ہے
یونین کے الیکشنز کے لئے لاہور بھر کے تمام تعلیمی اداروں میں احتجاجی تحریک چلائی جائے گی
اگر یوننیز الیکشنز منعقد نہ کئیے گئے تو پہلے مرحلے میں شہر کے تمام تعلیمی اداروں میں کلاسز بائیکاٹ مہم چلا دیں گے
دوسرے مرحلے میں تمام تعلیمی اداروں کے باہر دھرنے دے دئیے جائیں گے اور طلبہ تب گھروں کو نہ لوٹیں گے جب تک مطالبات منظور نہ ہوں۔
==========================

ایڈز کا عالمی دن
آج دنیا بھر میں ایڈز کا عالمی دن منایا جا رہا ہے جس کا مقصد ایڈز کی بیماری کے خلاف آگاہی, شعور اور حفاظتی اقدامات کے بارے میں آگاہ کرنا ہے۔
اس سال کا موضوع حقوق کا راستہ اختیار کریں:میری صحت، میرا حق رکھا گیا ہے۔
ایڈز کی بیماری کے پھیلاؤ کا بڑا ذریعہ انجکشن کی سرنج کا ایک دوسرے کے ساتھ بار بار استعمال ہے۔
ڈرگ ایڈوائزری ٹرینیگ حب کی حالیہ رپورٹ کے مطابق لاہور کی سڑکوں، فٹ پاتھوں اور باغوں میں 5 ہزار سے زائد منشیات کے عادی 120 مقامات پر سرنجوں کا استعمال کرتے ہیں۔
کنسلٹنٹ انسداد منشیات مہم سید ذوالفقار حسین نے بتایا کہ

ان سڑکوں باغوں اور فٹ پاتھوں پر نشہ کے عادی روزانہ 4 سے 5 انجکشن کا استعمال کرتے ہیں۔
لاہور اور اسکے گردونواح کی سڑکوں پر روزانہ 20 ہزار انجکشن نشئ افراد اپنے جسم کا حصہ بناتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سڑکوں باغوں اور پارکوں سے علاج کیلئے ریسکیو کئے گئے نشے کے عادی افراد کے علاج کے دوران 50 مریضوں کے ٹیسٹ میں 17 مریضوں میں ایڈز کی علامت پائی گیئں۔

لاہور کی سڑکوں اور باغوں میں انجکشن کے ذریعے منشیات کا استعمال کرنے والے افراد میں 35 سے 40 فیصد ایڈز بیماری کی علامات ہیں۔۔۔
سڑکوں اور باغوں میں نشئی افراد کی تعداد زیادہ ہونے پر ان کو گاڑیوں میں بھر کر دوسرے شہروں قصور، سیالکوٹ، ننکانہ ، شیخوپوری، قصور اور ساہیوال میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔
انجکشن کا استعمال کرنے والے عادی افراد کی آدھی تعداد دو بارہ لاہور اور آدھے دوسرے شہروں میں رہ کر ایڈز کے پھیلاؤ کا ذریعہ بنتے ہیں۔























