
پاکستان کی حرمت ہر پاکستانی کو عزیز ہے۔ رینجرز اور سیکورٹی اہلکاروں پر حملے اور انکی شہادتیں ذخمی ہونے کے واقعات، ملک اور سیکورٹی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی اور بے بنیاد الزامات نے قوم میں بھی بیداری کی لہر دوڑا دی۔ نوجوان میری پہچان پاکستان کے سلوگن اور پاکستانی پرچم تھامے افواج پاکستان کے ساتھ ہیں۔ اراکین مرکزی کمیٹی
میری پہچان پاکستان کے مرکزی رہنماؤں کے ہمراہ اجلاس میں متعدد این جی اوزور کرائم اور ملک کے خلاف قوتوں کے کام کرنے کے جزبے سے لبریز درجنوں افراد کی شمولیت
کراچی (خصوصی رپورٹ) MPPکے اراکین مرکزی کمیٹی و سینئر سیاست دانوں نے نوجوانوں میں فوج اور عوام میں نفرت پیدا کرنے والوں کے خلاف نوجوانوں کا قومی پرچم تھامنے اور MPPکے نعرے کو گھر گھر محلے محلے سوشل میڈیا اور تمام فورم پر اجاگر کرنے کے اعلان کو پاکستان مخالف قوتوں کی عبرت ناک شکست قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کی حرمت ہر پاکستانی کو عزیز ہے۔ رینجرز اور سیکورٹی اہلکاروں پر حملے اور انکی شہادتیں ذخمی ہونے کے واقعات، ملک اور سیکورٹی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی اور بے بنیاد الزامات نے قوم میں بھی بیداری کی لہر دوڑا دی۔ نوجوان میری پہچان پاکستان کے سلوگن اور پاکستانی پرچم تھامے افواج پاکستان کے ساتھ ہیں۔ اراکین مرکزی کمیٹی نے کہاکہ ریاست سیاسے سے زیادہ اہم ہے۔ سیاسی میدان بھی ملک سے محبت کرنے والوں کا ہوگا جب اسکی ضرورت پڑی میدان میں آنے کا وقت آیا تو عشرت بھائی کی قیادت میں فیصلہ کریں گے۔۔ میرہی پہچان پاکستان کے مرکزی رہنماؤں کے ہمراہ اجلاس میں متعدد این جی اوزور کرائم اور ملک کے خلاف قوتوں کے کام کرنے کے جزبے سے لبریز درجنوں افراد کی شمولیت سے حواصلہ ملا ہے۔ آج کے ایم سی، ٹی ایم سیز، سوشل، اینٹی کرائم، عوام کے لوگ جس طرح قافلے سے جڑے ہیں۔ یہ استبدادی قوتوں کو پیغام ہے کہ جو دیا ڈاکٹر عشرت العباد نے ملک سے محبت کاروشن کیا ہے۔ وہ ہماری نسلوں سے ہماری رگوں میں ہے پاکستان بنانے والے پاکستان بچانے والے بھی ہیں۔ ہم لسانی، مزہبی، ہر قسم کی منافرت سے پاک ہیں ایک ہی نعرہ ہے۔ پاکستان ہے تو ہم ہیں ہماری فوج ہے تو یہ ملک محفوظ ہے۔ اس کے خلاف مٹھی بھر دہشت گرد اور مکروہ ذہنیت کے افراد منہ کی تو کھا سکتے ہیں لیکن ملک پر فوج پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ تعلیمی نظام، منشیات، گٹکا ماوا اور دیگر مسائل پر نوجوانوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے مرکزی کمیٹی کے اراکین نے کہاکہ گورنر سندھ جنب عشرت العباد خان تھے تو وہ سب جامعات کے چانسلر تھے تعلیمی نظام کی بہتری کے لئے بورڈز اور تعلیمی اداروں میں فرض شناس افراد لگائے گئے لیکن اب متعصب ذہنیت اور سفارشی کلچر کے افراد بورڈز میں آنے سے سسٹم بگڑ گیا ہے۔ تعلیمی اور معاشی دونوں سسٹم خراب ہوچکے ہیں۔ ہم اس عزم کے ساتھ میدان میں اترے ہیں کہ یہ سب نظام کھوکھلے ہیں انہیں نوجوان ہی درست کرے گا۔ 2025انشاء اللہ پاکستان کی بہتری اور ترقی کا سال ہوگا ہیں ہمیں فنڈز کھانے والے سڑکیں برباد کرنے والے ملک کو تنزلی کی طرف لے جانے والے منتخب نمائندے صرف کام کی صورت میں قبول ہوں گے۔ روزگار دینا ہوگا ہمارے نوجوان قابلیت کے مطابق ملازمت میں جائیں گے۔ ACRHOنے اعلان کیا کہ ملک بھر کے دفتروں میں اب MPPکا نعرہ اور قومی پرچم لگے گا۔ وطن کے لئے سر دحر کی بازی لگادیں گے۔ ملک بھر سے اور بلوچستان سے بھارتی اور دہشت گردی کے تمام باب انشاء اللہ ختم ہوں گے۔























