
اخبار ی صنعت کی بقا کے لیے نیوز اسٹالز پر کے ایم سی کی جانب سے لگائے گئے بھاری کرائے ختم کیے جائیں حالیہ اضافہ فوری طور پر واپس لیا جائے ۔
تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں اخباری صنعت کے فروغ کے لیے سرگرم رہنے والے ہاکرز اور نیوز سٹالز اب کافی مشکلات سے دوچار ہو چکے ہیں ویسے تو اخباری صنعت خود بھی بہت سے مسائل اور چیلنجوں کا سامنا کر رہی ہے لیکن مختلف شہروں میں فٹ باتوں اور سڑک کنارے چھوٹے چھوٹے نیوز اسٹال چلانے والے ہاکرز زیادہ مشکلات کا شکار ہیں یہ لوگ تمام تر مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود اخباری صنعت کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اور حلال روزی کے ذریعے اپنے بچوں کا پیٹ بھرتے ہیں لیکن ان کو حلال روزی کمانے سے روکنے کے لیے آئے دین کوئی نہ کوئی نئے مسائل کھڑے کیے جاتے رہتے ہیں اس وقت کراچی میں نیوز سٹالز اور ہاکرز کو کافی مشکلات کا سامنا ہے

کراچی میں 50 برس سے زیادہ عرصے سے اخبارات کو انسٹال پر بیچنے والے ہماری صنعت میں جانے پہچانے محمد انور نیوز پیپر بک اسٹال کے مالک محمد انور کے مطابق نیوز انسٹال کو ریگل چوک سے ہٹانے یا ختم کرنے کے لیے کئی بار کوششیں کی گئیں ہر بار یہ کوششیں ناکام ہوئیں کیونکہ ہم کے ایم سی کے باقاعدہ کرایہ دار ہیں اور سرکاری خزانے کو کرایہ ادا کرتے ہیں اس لیے کبھی ہمیں تجاوزات کے نام پر اور کبھی انکروچمنٹ مہم کے دوران ہٹانے کی جو کوششیں کی گئی وہ ناکام رہیں ہم یہاں فٹ پاتھ پر بیٹھ کر چھوٹا سا نیوز انسٹال چلا رہے ہیں اور بچوں کی روزی کماتے ہیں اور اخباری صنعت کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں پڑھنے لکھنے کا رجحان کم ہو چکا ہے اس کے باوجود اخبارات رسائل انگریزی اردو سندھی سب ہمارے سٹال پر مل جاتے ہیں اور لوگ دور دور سے یہاں ان اخبارات کی تلاش میں اتے ہیں اور ان کو یہاں سے اخبار ملتے ہیں جو اخبار شہر کے دور دراز علاقوں کے سٹالز پر نہیں ملتا اس کے لیے بھی لوگوں کو یہاں انا پڑتا ہے اور یہاں ا کر ان کو ناکامی نہیں ہوتی کیونکہ میں تمام اخبارات رکھتا ہوں س سے زیادہ اخبارات میرے سٹال پر دستیاب ہوتے ہیں جو اخبارات واپسی کی بنیاد پر نہیں ملتے وہ بھی میں خرید کر رکھتا ہوں اور اگر فروخت نہ ہو تو اس کا نقصان میں خود داشت کرتا ہوں اور جنگ گروپ کے اخبارات میں ایڈوانس پیمنٹ کر کے لیتا ہوں واحد بندہ ہوں


جو ایک ہفتے ایڈوانس پیمنٹ کر کے اتا ہوں ہم نیوز ہاکرز نے اخباری صنعت کے فروغ اور بقا کی جنگ میں کافی قربانیاں دی ہیں لیکن افسوس ہوتا ہے کہ یہ اخبارات ان کی انتظامیہ اب ہمارے مسائل کے لیے اواز نہیں اٹھاتی حال ہی میں کے ایم سی نے کرایہ دو بنا کر دیا ہے اپ چھوٹے سے انسٹال پر اتنا زیادہ کرایہ لگا دیں گے تو کہاں سے ادا کر پائیں گے ایک لاکھ روپے سے زیادہ کا بل بھیج دیا ہے اور جب ہم بل ادا نہیں کر پائیں گے تو یہ ہمیں یہاں سے اٹھانے کی دھمکی دیتے ہیں ہمیں ہٹانے کا مطلب ان اخبارات کی جو رہی سہی ریڈرشپ ہے اور ہمارے نیوز سٹال سے جو اخبارات کی قائرین کے ساتھ وابستگی کا سلسلہ جڑا ہوا ہے وہ بھی ختم ہو جائے گا وزیراعلی سے لے کر گورنر تک اور گورنر سے لے کر وزیر اطلاعت سندھ تک اور وزیر اطلاعات سے لے کر میئر کراچی تک ، چیف سیکرٹری اور کمشنر تک سب سے اپیل ہے کہ نیوز انسٹالز کے خلاف ایکشن کاروائیاں بند کروائیں روز روز اسسٹنٹ کمشنر ا کر سٹال یہاں سے ہٹانے کے لیے کہتے رہتے ہیں اور اب تو اتنا زیادہ کرایہ بڑھا دیا گیا ہے کہ ہم ادا نہ کر سکیں


اور ہمیں یہاں سے جانا پڑے ہماری اپیل ہے کہ بڑھایا گیا کرایہ فوری طور پر ختم کیا جائے نیوز انسٹال پر ویسے تو اس طرح کے کرائے ہونے نہیں چاہیے لیکن ہم سرکاری کرایہ ادا کرتے ائے ہیں اور اگے بھی یہ کرایہ ادا کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ کرایہ منصفانہ ہونا چاہیے یہ نیوز اسٹال بہت چھوٹی سی جگہ پہ اور فٹ پاتھ پہ بنے ہوئے ہیں یہ کوئی سرکاری گودام یا دکانیں نہیں ہیں جن کا لاکھوں روپے کرایہ وصول کیا جائے یہاں کے کرائے میں حالیہ اضافہ فوری طور پر واپس لیا جائے اور کرائے کی رقم منصفانہ بنائی جائے تاکہ نیوز ہاکرز یہ کرایہ اسانی سے ادا کر سکیں اور اخباری سنت کی بقا کی جنگ لڑتے رہیں اس سلسلے میں اخباری مالکان انتظامیہ پریس کلب اور صحافی تنظیموں سے بھی اپیل ہے کہ وہ ہمارے ساتھ تعاون کریں اور ہماری بات ار باب اختیار تک پہنچائیں اور ہمیں غیر معمولی اضافی کرائے کہ بوجھ سے نجات ملے تب ہی اخباری سند کی بقا کی جنگ ہم لڑ سکیں گے ورنہ اتنا زیادہ کرایا تو ہم ادا نہیں کر سکتے معاشرے میں پڑھائی لکھائی کا رجحان ویسے ہی کم ہوتا جا رہا ہے حکومت اور انتظامیہ کو اس حوالے سے خیال کرنا چاہیے جو میڈیا ہاؤسز اج بڑے بڑے ٹی وی چینلز چلا رہے ہیں ان کو بھی میں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ یہ ٹی وی چینلز ان کے اخبارات کی کمائی سے ہی بنے ہیں جیسے کہ جیو جنگ سے بنا ہے جنگ جیو سے نہیں ۔


اور جنگ کی ترقی اور کامیابی میں ہاکرز اور نیوز سٹالز کا بہت کردار اور قربانیاں رہی ہیں اسی طرح دیگر میڈیا ہاؤسز ہیں اور گروپ ہیں انہیں بھی سوچنا چاہیے ۔ ہاکرز کا ساتھ دیں نیوز اسٹالز کا ساتھ دیں ہمیں اضافی کرائے کے بوجھ سے چھٹکارا دلائیں ۔ حکومت اور انتظامیہ سے ایسی پالیسی بنوائیں جس کے ذریعے اخبار رات اور نیوز سٹالز اور ہاکرز کو آسانی ہو اور وہ اپنا کام بغیر کسی خوف اور پریشانی کیا کر سکیں ۔ سندھ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ ہو یا پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ پی ائی ڈی سب لوگ ہمارے سٹالز پر ا چکے ہیں اخبارات بھی لیتے رہے ہیں اور ان کا سروے بھی کر چکے ہیں ہم نے ساری معلومات بھی دے رہے ہیں اب نیوز سٹالز اور ہاکرز پر سخت وقت ایا ہے تو ان اداروں کو بھی ہمارا ساتھ دینا چاہیے آواز اٹھانی چاہیے ان تمام صحافیوں کے فوٹوگرافروں کے شکر گزار ہیں جو ہمارے لیے آواز اٹھاتے ہیں انور بھائی نے نیوز ویب سائٹ جیوے پاکستان ڈاٹ کام کا بھی شکریہ ادا کیا کہ ان کے سٹال پر آئے اور تازہ حالات سے واقفیت حاصل کی انہوں نے امید ظاہر کی کہ جیوے پاکستان ڈاٹ کام اس سلسلے میں ہاکرز اور نیوز پیپر انسٹال لگانے والوں کی آواز بن کر ان کے لیے ریلیف حاصل کرنے میں اپنا موثر کردار ادا کرے گا ۔























