لاہور سے صحت اور تعلیم کی خبریں مدثر قدیر کی طرف سے

شعبہ سٹی اینڈ ریجنل پلاننگ (سی آر پی) کے زیر اہتمام یو ای ٹی میں شہری اور دیہی زمین کی تزئین و آرائش اور ثقافتی ورثے کے کراس کلچرل پرسیپشن پربین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔کانفرنس میں پاکستان اور جرمن کے ماہرین اور پالیسی سازوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کا انعقادٹیکنیکل یونیورسٹی آف ڈورٹمنڈ جرمنی،یو ای ٹی، لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی (ایل سی ڈبلیو یو) اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)اسلام آباد کے اشتراک سے ہوا،جس میں پائیدار شہری منصوبہ بندی، دیہی ترقی، اور ثقافتی ورثے کے تحفظ پر تبادلہ خیال کیاگیا۔کانفرنس کا مقصدجرمنی، فلپائن، ایران اور پاکستان کے درمیان ثقافتی ورثے کے تحفظ پرتعاون کو فرغ دینا تھا۔وائس چانسلر یو ای ٹی پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر نے کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور خطاب بھی کیا۔

مہمان مقررین نے جرمنی کی شہری منصوبہ بندی کے فریم ورک اور پاکستان میں پائیدار ترقی کے لیے ان کے ماڈلز پر روشنی ڈالی،انہوں نے پائیدار شہری منصوبہ بندی کے اقتصادی پہلوؤں پر گفتگو بھی کی۔مقررین نے ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے اور جدید انفراسٹرکچر کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔انہوں نے مقامی کمیونٹیز کی منصوبہ بندی کے عمل کی اہمیت اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد منیر نے جرمنی اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور علمی تعاون کو فروغ دینے کے عمل کو خوش آئند قرار دیا۔کراس کلچرل نقطہ نظر کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کانفرنس عالمی چیلنجز حل کرنے میں مددگار ثابت ہو گی۔ کانفرنس میں شریک عالمی مندوبین نے پاکستان کے ثقافتی اور قدرتی ورثے کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ کانفرنس میں وائس چانسلر ایل سی ڈبلیو یو پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی،بین الاقوامی مقررین پروفیسر ڈاکٹر ڈائیٹوالڈ گرُون (ٹی یو ڈورٹمنڈ یونیورسٹی، جرمنی)،ڈاکٹر سید کومائل طیب (یونیورسٹی آف اصفہان، ایران)، پروفیسر ڈاکٹر طبسم رضا (یونیورسٹی آف فلپائن)،پروفیسر ڈاکٹر شاکر محمود مایو (یو ای ٹی لاہور)،تعلیمی و انتظامی شعبہ جات کے سربراہان اور طلبی کی کثیر تعداد نے سرکت کی۔
===============================

یونیورسٹی آف ایجوکیشن، لاہور کے ڈیپارٹمنٹ آف فزکس کے زیراہتمام دو روزہ پانچویں بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ’’میٹریل سائنسز میں جدت‘‘ کا گزشتہ روز آغاز ہو گیا۔ افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے ریکٹر و سابق چیئرپرسن پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر فضل احمد خالد تھے جبکہ یونیورسٹی آف ایجوکیشن، لاہور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عاکف انور چوہدری نے صدارت کی۔ اس کانفرنس میں 15 ممالک، بشمول آسٹریلیا، برطانیہ، تائیوان، سعودی عرب، چین، الجیریا، ملائیشیا، پیرو، مصر، جنوبی کوریا، مراکش اور پاکستان سے 500 سے زائد شرکائ شامل ہیں، جن میں 150 کلیدی مقررین، ماہرین، اور تجزیہ کار شامل ہیں۔ اس کانفرنس کا مقصد میٹریل سائنسز میں جدت اور چیلنجز پر غوروفکر، مصنوعی ذہانت اور اس کا معاشی صنعت پر اطلاق، تجارتی جدتوں، اور نینو ٹیکنالوجی کے شعبوں میں جدید تعلیم کو فروغ دینا ہے۔
شرکائ سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر فضل احمد خالد نے یونیورسٹی آف ایجوکیشن کو میٹریل سائنسز میں جدید سوچ کو فروغ دینے کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم فراہم کرنے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس ملک کے ترقیاتی اہداف کے حصول میں تحقیق اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دے کر نمایاں کردار ادا کرے گی۔ اپنے خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عاکف انور چوہدری نے سائنسی تحقیق کو معاشرے کی سماجی و اقتصادی ضروریات کے ساتھ مربوط کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی آف ایجوکیشن بامقصد مشن کے ساتھ ترقی کے مواقع حاصل کرنے اور اثر انگیز تحقیق کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔ افتتاحی تقریب میں پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد عالم سعید اور چیئرمین شعبہ طبیعیات ڈاکٹر فہیم خورشید بٹ نے بھی شرکائ سے خطاب کیا اور جدید تحقیق کی اہمیت اور اس کے سماجی و صنعتی ترقی میں کردار پر زور دیا۔ یہ کانفرنس میٹریل سائنسز کے شعبے میں بامعنی مباحثوں، علم کے تبادلے، اور تعاون کی راہیں ہموار کرنے کی توقع رکھتی ہے، جو تعلیمی اور صنعتی شعبوں میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اس موقع پر اساتذہ اور طلبائ سمیت متعلقہ افراد کی کثیر تعداد موجود تھی۔
===================================


اینٹرپرینیورشپ کے فروغ کیلئے پنجاب آئی ٹی بورڈ کے منصوبے ریجنل پلان 9 کے تحت لاہور، ڈی جی خان، راولپنڈی، ساہیوال، گوجرانوالہ، کامرہ اور کھاریاں میں قائم کردہ انکیوبیشن سینٹرز میں نئے سیشن کیلئے درخواستوں کی آن لائن وصولی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد خطے میں سٹارٹ اپس کو 6 ماہ تک کام کرنے کی جگہ، نیٹ ورکنگ کے مواقع، مفت قانونی راہنمائی اور کاروباری معاونت فراہم کرنا ہے۔ اس حوالے سے پی آئی ٹی بی چیئرمین فیصل یوسف کا کہنا تھا کہ ان انکیوبیشن سینٹرز کا قیام پاکستان میں انٹرپرینیورشپ اور جدت کو فروغ دینے کے ہمارے عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے جس سے سٹارٹ اپس کو تکنیکی مہارت تک رسائی اور صنعتوں میں کام کرنے والے پیشہ ور افراد کی راہنمائی حاصل ہو سکے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ 360 سے زائد سٹارٹ اپس کے ساتھ مجموعی طور پر ریجنل پلان 9 کے تحت 11
=========

انکیوبیشن سینٹرز فعال ہیں جو نوجوانوں کو گلوبل مارکیٹ ملازمتیں فراہم کر رہے ہیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے انکیوبیشن سینٹر کا حصہ بننے کیلئے نوجوان آن لائن اپلائی کر سکتے ہیں۔
=============================


توقیر ادب و ادارہ خیال و فن لاہور کے زیر اہتمام معروف شاعر و ادیب اکرم سحر فارانی کی دو کتابوں “دیوان سحر” غزلوں اور نظموں کا مجموعہ اور “منظوم معجزات ” (انگریزی ترجمہ مہ جبیں ملک ) کی تقریب رونمائی پلاک لاہور میں منعقد ہوئی جس کی صدارت ملک کے معروف شاعر باقی پوری نے کی کتابوں پر مضامین ممتاز شاعر توقیر احمد شریفی ‘ڈاکٹر شاہد شریف ‘رابعہ رحمان زرقا نسیم ‘ممتاز احمد لاہوری اور پروفیسر مرزا نے پڑھے جس میں شعرا ادیبوں اور صحافیوں نے شرکت کی مقررین نے خطاب کرتے ہوۓ دونوں کتابوں پر تجزیے پیش کئے اور کہا کہ اکرم سحر فارانی کی شاعری منفرد شاعری ہے جس میں اہم موضوعات اور معاشرتی پہلووں کو خوب صورت انداز میں پیش کیا گیا ہے ان کی غزلوں اور نظموں کے موضوعات اپنے اندر انفرادیت رکھتے ہیں اگرچہ انھوں نے پولیس میں ملازمت کی ہے لیکن ان کی شاعری میں ردیف و قافیہ کا اہتمام بہت اچھے انداز سے کیا گیا ہے منظوم معجزات میں حضور پاک کے معجرات کو مہ جبیں ملک نے انگریزی میں ترجمہ کر کے اکرم سحر فارانی کی انفرادیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے توقیر احمد شریفی نے کہا کہ اکرم سحر فارانی نے شاعری موجود دور کے معاشرتی مسائل کی عکاسی کرتی ہے ان کی شاعری میں اورنعتوں پڑھ کر بتا چلتا ہے کہ اکرم سحر فارانی عاشق رسول ہیں مصنف اکرم سحر فارانی نے اپنی غزلوں اور نظموں کے اہم موضوعات میں چند ایک شعر حاضرین کو سنائے تقریب کے آخر میں مہمانوں کی تواضع چائے اور دیگر اشیاء سے کی گئی.
================================

پی ایم اے لاہور کی مجلس عاملہ کا اجلاس پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف نظامی کی صدارت میں ہوا جس میں
ایک قرارداد کے ذریعے ہاؤس نے محکمہ صحت میں جاری لفظی گورکھ دھندوں کے ذریعے محکمہ صحت کے دو محکموں اور اُن کی کمپنیوں کے بعد پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے ذریعے محکمہ صحت کی جس نجکاری کی جو گھناؤنی سازش کی جا رہی ہے ہے وہ ناقابل قبول ہے۔ اس کے بھرپور مذمت کی گئی اور ایک پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی جو اس ضمن میں ایک مفصل رپورٹ تیار کر ے گی جبکہ ایک اور قرارداد کے ذریعے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی بھرپور مذمت کی گئی اور قرار دیا گیا کہ جرمانے، فیسیں اور پینلٹی کمیشن کی لائف لائن ہے اور وہ اس کے ذریعے صرف رجسٹرڈ ڈاکٹروں کو ہراساں کر رہا ہے اور اتایئت کو فروغ دے رہا ہے۔اس موقع پر ڈاکٹروں میں تیزی سے بڑھتی بیروزگاری پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور حکومتی پالیسیوں کی شدید مذمت کی گئی جس کے سبب یہ بیروزگاری مزید بڑھنی شروع ہو گئی ہے۔مجلس عاملہ میں MDCAT کی موجودہ پالیسی کی شدید مذمت کی گئی کہ کسی صوبے میں اس کا دوبارہ انعقاد کروایا جا رہا ہے اور کسی صوبے میں اس ضمن میں کوئی پالیسی نہیں۔ MDCAT میں Weightage کی شدید مذمت کی گئی اور قرار دیا گیا کہ پنجاب میں بھی اس سال MDCAT دوبارہ لیا جائے۔مجلس عاملہ کے دوران
پی ایم اے لاہور کے الیکشن 2025-2026 کیلئے سابقہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ میو ہسپتال ڈاکٹر طاہر خلیل کو الیکشن کمیشنر مقرر کیا گیا جو 29 دسمبر 2024 کو الیکشن کا انعقاد کروائیں گے۔اس موقع پر
ایک قرارداد کے ذریعے شیخ زید ہسپتال لاہور میں ریٹائرڈ شخص کو دوبارہ چیئرمین لگانے کی شدید مذمت کی گئی اور حکومت پنجاب کی ملتان میں کی جانے والی معطلیوں کی بھرپور مذمت کی گئی۔