
ون پوائنٹ
نوید نقوی
گزشتہ ہفتے روس کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے افغان دارالحکومت کابل میں طالبان گورنمنٹ کے سینئر اہلکاروں سے اہم ترین ملاقاتیں کی ہیں اور متعدد مفاہمتوں پر دستخط بھی کیے ہیں، اس وقت عالمی منظر نامے میں روس اور چین، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ سرد جنگ میں داخل ہو چکے ہیں اور ان کے لیے افغانستان و سنٹرل ایشیا کے ممالک نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ روس اور چین، افغانستان جو معدنی دولت سے مالا مال ہے کو اپنے ساتھ ملا رہے ہیں اور طالبان حکومت بھی یہ بات سمجھ چکی ہے کہ مغرب کے ساتھ اگر ان بن ہے تو ایشیا کی دو طاقتوں کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنا ان کی بقاء کے لئے نہایت اہم ہے۔ افغان طالبان اپنے گزشتہ دور کے برعکس ایران اور انڈیا کے ساتھ بھی دوستانہ مراسم رکھنے کی کوششوں میں ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے پاکستان کے ساتھ ان کے تعلقات مثالی نہیں رہے حالانکہ پاکستان نے ان کو ہر مشکل میں نہ صرف ساتھ دیا بلکہ امریکہ کے ساتھ معاہدے میں بھی اہم کردار ادا کیا جس کے بعد اگست 2021 میں طالبان کی کابل کی جانب راہ ہموار ہوئی۔ اس وقت ٹی ٹی پی کے خوارج کھلم کھلا افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور افغان طالبان ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کرنے سے بوجوہ قاصر ہیں۔ پاکستان اور افغان طالبان جو اس وقت افغانستان میں حکومت کر رہے ہیں، اس بات پر اختلاف رکھتے ہیں کہ ٹی ٹی پی جو افواج پاکستان اور عام شہریوں کے خلاف حملوں میں ملوث ہے، افغانستان میں آزادانہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے، حالانکہ پاکستان یہ توقع رکھتا ہے کہ پاکستان مخالف کسی بھی سرگرمی کو طالبان حکومت سختی سے روکے۔ اگر روس کی بات کریں تو ایک طرف روسی قیادت افغانستان کے ساتھ معاشی معاہدے کر رہی ہے تو دوسری طرف صدر پیوٹن کا اتحادی الیگزینڈر لوکاشینکو پاکستان کے دورے پر ہے۔ پاکستانی قیادت روس اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات استعمال کر کے طالبان پر پریشر ڈلوا سکتی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے خوارج کو افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ کرنے دی جائے اور ان کی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں ختم کی جائیں۔ چین کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ اس کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی نام نہاد کوششوں میں خوارج پہلے نمبر پر ہیں۔ اس لیے چین کے ذریعے افغانستان کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ جس طرح افغانستان کے طالبان نئے اتحادیوں کی تلاش میں ہیں اور اپنے شہریوں کے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے نت نئے معاہدے کر رہے ہیں اسی طرح پاکستان بھی اب اپنی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے نئی منڈیوں کی تلاش میں ہے اور اس کے لیے مشرقی یورپ ایک بہترین خطہ ہے جہاں کے وسائل بے شمار ہیں اور آبادی کم ہے، یوکرین کے ساتھ ہمارے تعلقات شروع سے بہتر رہے ہیں لیکن اب وہاں جنگ کی وجہ سے بہت کچھ تباہ ہو چکا ہے اور راستوں کی بندش کی وجہ سے پاکستان یوکرین کی دو طرفہ تجارت میں کافی کمی واقع ہوئی ہے اس لیے وزیر اعظم جناب میاں شہباز شریف نے بیلاروس کے صدر کو پاکستان آنے کی دعوت دی تاکہ نئے معاہدے اور مفاہمتوں پر دستخط کیے جاسکیں۔ وزیر اعظم پاکستان کی دعوت قبول کرتے ہوئے 25 نومبر 2024 کو بیلاروس کے صدر الیگزانڈر لوکاشینکو تین روزہ دورے پر پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچے ہیں، جبکہ ایک دن پہلے ہی ان کے وزیر خارجہ 68 رکنی اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ اسلام آباد پہنچ گئے تھے۔ وفد میں بیلاروس کی کابینہ کے اہم وزراء سمیت معروف کاروباری شخصیات اور سرمایہ کار شامل ہیں۔ انٹرنیشنل لیول پر بیلاروس کی زیادہ اہمیت نہیں ہے لیکن اس کے باوجود یہ ملک روس کا ہمسایہ اور اتحادی ہونے کی وجہ سے یورپ و امریکہ کی ناپسندیدہ ریاست ہے۔ یہ مشرقی یورپ کا ایسا ملک ہے جس کے مشرق میں روس جنوب میں یوکرائن، مغرب میں پولینڈ اور شمال میں لتھووینیا اور لٹویا واقع ہیں۔ اس کے دارالحکومت اور بڑے شہر کا نام منسک ہے۔ اس کا رقبہ
207595 مربع کلومیٹر جبکہ آبادی صرف 9155978 نفوس پر
مشتمل ہے۔ بیلاروس کی خاص بات یہ ہے کہ اس سرزمین پر قدرتی وسائل کی فراوانی ہے اور پاکستان جہاں تیل اور گیس کی قیمتیں عوام کا خون نچوڑ رہی ہیں، اس ملک سے آزادانہ تجارتی تعلقات مضبوط کر کے بے پناہ فوائد حاصل کر سکتا ہے۔ ہمارا پڑوسی اور برادر اسلامی ملک افغانستان جہاں دہائیوں تک جنگ رہی ہے اپنی عوام کے مفاد میں نت نئے معاہدے کر رہا ہے اور اپنے پرانے دشمنوں سے بھی تجارت کا خواہاں ہے۔ یاد رہے کہ افغانستان میں چین کی کمپنی افچین کروڑوں ڈالرز کی سرمایہ کاری سے دریائے آمو کے بیسن میں تیل کے مزید 18 کنوؤں کی کھدائی اور گیس کی تلاش کی تلاش کا کام شروع کر چکی ہے۔ حالانکہ چین، روس اور پاکستان سمیت افغانستان کے قرب و جوار میں کسی ملک نے ابھی تک طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ پاکستان جو ایک نیوکلیئر ملک ہے اور اس کے پاس 24 کروڑ نفوس پر مشتمل ایک بڑی آبادی بھی ہے تو یقیناً برق رفتاری سے اپنی معیشت کو قابل رشک بنا سکتا ہے لیکن اس کے لیے عزم صمیم کی ضرورت ہے۔
Load/Hide Comments























