جب حبیب بینک کے لاکر سے 65 تولہ سونا زیورات چوری ہو گئے ، پانچ خاندانوں پر قیامت ٹوٹ پڑی ، متاثرہ افراد نے بینک عملے اور کوریئر کمپنی پر فراڈ کا الزام لگایا


جب حبیب بینک کے لاکر سے 65 تولہ سونا زیورات چوری ہو گئے ، پانچ خاندانوں پر قیامت ٹوٹ پڑی ، متاثرہ افراد نے بینک عملے اور کوریئر کمپنی پر فراڈ کا الزام لگایا

تفصیلات کے مطابق حبیب بینک لمیٹڈ کی برانچ میں لاکر سے 65 تولہ سونا زیورات چوری ہونے کا معاملہ جب سامنے ایا تو متاثرہ پانچ خاندانوں پر قیامت ٹوٹ پڑی ۔ حبیب بینک کے لاکر میں سونا زیورات کو محفوظ سمجھ کر رکھوایا گیا تھا لیکن وہاں سے سونا غائب ہو گیا متاثرہ افراد کو جب پتہ چلا تو انہوں نے شور مچایا اور ہنگامہ کیا تو پھر بینک افسران نے جو موقف اختیار کیا اس نے لاکر میں سونا رکھنے والے افراد کو حیران پریشان کر دیا متاثرہ افراد نے سوشل میڈیا پر انٹرویو دیے اور عزیز اللہ خان نے اپنے چینل کے ذریعے اس معاملے کو اٹھایا انہوں نے متاثرہ افراد کا انٹرویو کیا اور اسے سوشل میڈیا پر اپلوڈ کیا اور وطن عزیز کے نام سے اس صورتحال کو سب کے سامنے لے کر ائے اور حبیب بینک پر بڑا الزام لگا ۔ متاثرہ افراد نے حبیب بینک کے اپریشن مینجر اور عملے اور کوریئر کمپنی کے لوگوں کو ملوث بتایا متاثرہ افراد نے پوری تفصیل بتائی کہ لاکر میں سونا زیورات کب رکھے تھے اور اس کو بینک نے کیسے توڑ دیا حبیب بینک کا عملہ لا کر کیسے توڑ سکتا ہے وہ بھی لا کر لینے والے شخص کی غیر موجودگی میں تو بالکل بھی نہیں توڑ سکتا اس کی غیر موجودگی میں یہ عمل حبیب بینک کے عملے نے اپنے ہی چار لوگوں کو کھڑا کر کے کر لیا اور کوریئر کمپنی کے ذریعے مختلف اوقات میں لیٹر بھیج کر واپس انے کا بتایا ۔ متاثرہ افراد نے بینک عملے کی ان باتوں پر کوئی یقین نہیں کیا اور شور مچایا ہنگامہ کیا اور سوشل میڈیا پر انٹرویو میں بھی ساری تفصیل بیان کر دی ۔ اس طرح کے واقعات سے سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو پتہ چلا کہ مختلف بینک برانچوں میں کیا کچھ ہوتا ہے کس کس طرح لوگ فراڈ کرتے ہیں یا فراڈ میں بینک کا عملہ یا دیگر لوگ ملوث ہو سکتے ہیں بینک کی اعلی انتظامیہ کو صورتحال کا علم نہیں ہوتا لیکن بینک کی ساکھ پر بھروسہ کرنے والے لوگ بینک میں لاکر حاصل کر لیتے ہیں ان کا یقین اور بھروسہ ہوتا ہے کہ بینک میں ان کا قیمتی سامان محفوظ رہے گا چوری نہیں ہوگا لیکن بینک کے محفوظ لاکر میں سے بھی اگر قیمتی سامان سونا زیورات چوری ہو جائیں تو پھر انسان کیا کرے ایسی اشیاء کی چوری کے بعد شور مچائے ہنگامہ کرے لیکن چیزیں نہ تو فورا واپس ملتی ہیں نہ ہی معاملہ جلدی سے اسانی سے حل ہو پاتا ہے بلکہ اس طرح کے واقعات میں کافی وقت لگتا ہے اور اس بات کا بھی کوئی یقین نہیں ہوتا کہ اپ کی چوری ہونے والی قیمتی چیزیں واپس مل بھی سکیں گی یا نہیں ۔ اس طرح کے واقعات مختلف ملکوں میں مختلف شہروں میں مختلف بینکوں کی برانچوں میں ہو چکے ہیں یہ ضروری نہیں کہ کسی ایک مخصوص بینک میں ایسا ہوتا ہو یا کہیں بھی ہو سکتا ہے اور کسی بھی برانچ میں عملے کی بد نیتی اور فراڈ کی وجہ سے اتا ہے ایسا ہوتا ہے کوئی بھی بینک کی انتظامیہ خود اس طرح کے معاملات میں ملوث نہیں ہوتی لیکن چند کالی بھیڑیں معاشرے کے ہر شعبے میں ہوتی ہیں اور وہ بینکوں میں بھی ہوتی ہیں اور بینکوں کی بدنامی کا باعث بنتی ہیں بینک ایسے ملازمین کے خلاف شکایت سامنے انے پرایکشن بھی لیتے ہیں لیکن یقینی طور پر جن خاندانوں اور متاثرہ افراد کے ساتھ اس طرح کے واقعات پیش اتے ہیں وہ بہت پریشانی اور ذہنی کوفت سے گزرتے ہیں اور بعض اوقات انہیں بہت صدمہ بھی برداشت کرنا پڑتا ہے اور مسائل سے دوچار رہنا پڑتا ہے ۔ اس رپورٹ میں بھی اگر اپ اس ویڈیو کو مکمل طور پر دیکھیں گے تو اپ کو کافی اندازہ ہو جائے گا کہ کیا کچھ ہوا ۔گو کہ یہ واقعہ کچھ عرصہ پرانا ہے لیکن اس طرح کے واقعات سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ کس طرح اس طرح کے فراڈ سے بچا جائے یا ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے اگر اپ نے لا کر لیا ہے تو اس کو ریگولر بنیادوں پر چیک بھی کرتے رہیں اور کبھی اپنی معلومات اپنی ذاتی انفارمیشن کسی کے ساتھ بھی شیئر نہ کریں ۔ کچھ پتہ نہیں ہوتا کس کی اپ پر نظر ہے اور کون اپ کی انفارمیشن سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور اپ کو نقصان پہنچا سکتا ہے بینکوں کو بھی اپنے اسٹاف اور اپنے برانچ عملے کی نگرانی مزید سخت کرنے اور احتساب کا عمل مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ بہرحال بدنامی بینکوں کی ہوتی ہے بینک انتظامیہ کو اس سلسلے میں اپنے سیکیورٹی سسٹم کو مزید موثر بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اسٹیٹ بینک نے اس حوالے سے تمام بینکوں کو گائیڈ لائن فراہم کر رکھی ہے اس پر عمل کیا جائے تو ایسے فراڈ اور مسائل سے بچا جا سکتا ہے ۔