کوئی تو بتائے کہ اس مارا ماری کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ اسٹریٹ اور اسٹیٹ کی مڈبھیڑ کا نتیجہ سب کو معلوم ہے یہ اقرار تو کریں کہ سیاست پیشہ اور نظریات کاروبار ہیں


تحریر: سہیل دانش
کوئی تو بتائے کہ اس ماراماری سے کیا ہوگا۔ یہ مورچہ بندی تو ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑے گی۔ ہر کوئی اپنے اپنے مورچے میں بیٹھا فائرنگ سے خود کو محفوظ کرنے کی فکر میں دکھائی دے رہا ہے۔ ہوائی فائرنگ ہورہی ہے۔ لیکن میدان ابھی تک خالی ہے۔ سیاسی دشمنی کی آگ بھڑکانے والوں کی موج لگی ہوئی ہے۔ کفن سر سے باندھنے کا دعویٰ کرنے والے انقلابی کرداروں کی ایکٹنگ قابل دید ہے۔ اسٹریٹ اور اسٹیٹ کی مڈ بھیڑ کا پھر ری پلے ہوا تو سب کو معلوم ہے نتیجہ کیا نکلے گا۔ طوفانی رفتار سے چلنے والے آنسو گیس کے شیل اور سریا لگی لہراتی لاٹھیوں کی یلغار اور جذباتی نوجوانوں کی طرف سے غلیل کنچوں کی چاند ماری، اندھا دھند پتھراؤ اور گھائل ہوئے انسانی جسموں کے مناظر کیا یہی ہماری سیاست کا مقدر رہ گیا ہے۔ عدلیہ کے فیصلوں، معاشی صورتِ حال اور سیاسی استحکام نے سسٹم کو بے دست و پا کرکے رکھ دیا ہے۔ عدلیہ حالات کے رحم و کرم پر روز مرہ کی بنیاد پر نت نئی کروٹ بدل رہی ہے۔ اُسے بھی مختلف ایجنڈوں کا نقیب بننے کا طعنہ سننا پڑرہا ہے۔ میڈیا نے حالات اور واقعات کو اُس دہلیز تک پہنچادیا ہے مروجہ سیاست نے شک و شبہ اور تاک جھانک کی فضا قائم کردی ہے۔ مچھر نما کیمرے اور حساس نما ڈیوائس نے ہر ایک کی پول پٹی کھول کر رکھ دی ہے۔ سوشل میڈیا کے فدائین گالیوں، اسیکنڈلز اور فیک نیوز کے میزائل داغ رہے ہیں۔ 24 نومبر کا اتنا شوروغوغا ہے جیسے کوئی انقلاب آنے والا ہے۔ میڈیا اِس سیاسی جوڑ توڑ میں برابر کا حصہ دار دکھائی دے رہا ہے۔

ایک سے زائد کھڑکیوں سے نقدی بٹورنے والے ایکسپوز ہورہے ہیں، مزے کی بات یہ ہے کہ سب کچھ اُس ارض وطن میں ہورہا ہے جہاں مہنگائی بے روزگاری اور لاقانونیت عام ہے۔ جہاں تمام ستون باہم ٹکراؤ کی حالت میں ہیں۔ خود کش حملوں میں قوم کے محافظ اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ دوسری طرف سیاسی میدان میں جنگ جیتنے کے لئے سب اپنے اپنے ہتھیار نکال لائے ہیں۔ نظام کو توڑ کر غالب آنے کی خواہش کم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ اسی لئے وقفے وقفے سے ٹی 20 ، ون ڈے اور ٹیسٹ کی طرح مختلف فارمیٹ میں بدل بدل کر زور آزمائی ہورہی ہے۔ ساتھ میں پاکستان کی غالب اکثریت ٹکٹی باندھے کروٹ بدلتے حالات کو کسی منطقی نتیجے تک پہنچنے کے منتظر ہیں۔ انتشار اور غیر یقینی سیاسی زبوں حالی کا پتہ دے رہی ہے۔ افسوس صد افسوس چمک دمک اور مفادات کی خاطر “جاہ و جا” کے کرامت انگیز مناظر سنسنی خیز تھرتھراتی رپورٹس اور چنگاریوں جیسی خبریں شاید ہمارا مقدر ہیں۔ مان لیں کہ ہماری پوری تاریخ میں ہمارے حکمرانوں، سیاستدانوں اور اداروں نے اتنے چھکے مارے ہیں کہ اُنہوں نے پوری قوم کے چھکے چھرادئیے ہیں آپ ہمیشہ دیکھیں سیاست کے باغوں کی رکھوالی غریب کارکن کرتے ہیں لیکن پھل ہمیشہ مخمل کی کسی بڑی جھولی میں گرتا ہے یہ اِس ملک کی روایت بھی ہے اور زمینی حقیقت بھی اب بھی صرف ایک ہی راستہ ہے۔ کوئی میز سجائیں سب بیٹھیں، مذاکرات، برداشت، میانہ روی اور درگزر سے معاملات سلجھانے میں سب کا بھلا ہے۔خدا کے واسطے عقل کے ناخن لیں یہ ملک ہم سب کا ہے۔ اگر یہ بھی نہیں کرسکتے تو ایک بار کھل کر بتادیں تاکہ سب کو ایک ہی بار تمام زمینی حقائق کا اندازہ ہوجائے اور ہم بھی خواب دیکھنا اور اُمیدیں کاتنا بند کردیں اور ہم بھی جان لیں کہ اِس ملک میں سیاست پیشہ اور نظریات کاروبار ہیں اور ہمیں معلوم ہوجائے کہ سیاست نفع و نقصان کا ایک ایسا کھاتہ ہے جس میں سیاستدان اپنی جلا وطنیاں اور جیلیں رہن رکھتے ہیں اور ان کے عیوض وزارتیں، اعلیٰ عہدے اور جاگیریں پاتے ہیں تاکہ ہم بھی سیاست کو محض کھیل سمجھیں اسے جان کا روگ نہ بنائیں۔ مان لیں سیاست کے اپنے انداز ہیں اس کے ہیرو اور ولن موسمیات کی پیشنگوئی کے مطابق بدلتے رہتے ہیں۔