میاں صاحب۔۔۔۔۔ ڈٹے رہنا

آپ کمال پر کمال کرتے آ رہے ہیں نہ 12 اکتوبر کو بندوق کی نالی کے سامنے جھکے نہ راحیل شریف کو ایکسٹینشن دینے کا دباؤ قبول کیا ، نہ آئین شکن پرویز مشرف کا ٹرائل کرنے سے پیچھے ہٹے نہ پانامہ کیس کے وقت آنے والے دباؤ پر سرنڈر کیا ، جس بہادری اور جرات مندی کے سفر کا آغاز آپ نے صدر غلام اسحاق خان کے سامنے نعرہ مستانہ لگا کر کیا تھا اور پھر ایٹمی دھماکوں کے وقت امریکی دباؤ اور لالچ کو مسترد کر کے جو عزت اور توقیر سمیٹی اور جس طرح چاغی کے پہاڑوں کو گواہ بنا کر پاکستان کے دفاعکو ناقابل تسخیر بنایا اس نے اپ کی حب الوطنی کا کھلا ثبوت پوری دنیا کو پیش کیا ۔ آپ ہی تھے جن کی سیاسی بصیرت اور دور اندیشی کی بدولت بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی بس پر بیٹھ کر پاکستان تشریف لائے اور مینار پاکستان پر کھڑے ہو کر اعلان لاہور ہوا ۔ آپ ہی تھے جو پاکستان میں ترقی اور ٹیکنالوجی کے نئے دروازے کھولنے کے لیے سی پیک کہ اربوں ڈالر کے منصوبے لے کر آئے ، آپ کی بدولت پاکستان میں ترقی کا پہیہ چل رہا ہے موٹر وے پر دوڑتی گاڑیاں اپ کی دور اندیشی کی گواہی دیتی ہیں بجلی کے کارخانے ملک کو اندھیروں سے نکالنے اور لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کرنے کی گواہی دیتے ہیں مگر افسوس اقتدار کے لالچی سیاسی بونوں نے چند عقل کے اندھوں کے ساتھ مل کر ہمارا باغ اجاڑا جس دہشت گردی کو اپ سرے سے اکھاڑ پھینکے تھے اس اگ کو یہ لوگ سرحد پار سے پھر واپس لے آئے اور اج بلوچستان سے پارہ چنار تک کے واقعات بتا رہے ہیں کہ یہاں کون کیا بو کر گیا اور اب کس کس کی لگائی جانے والی فصل کٹ رہی ہے اللہ پاکستان پر رحم کرے ۔

لوگ اب خود گواہی دے رہے ہیں کہ آپ کے ساتھ کس قدر نا انصافی کی گئی کس طرح آپ کو اقامہ کی بنیاد پر اقتدار سے باہر کر کے پاکستان کی ترقی کے سفر کو معکوس کیا گیا ۔ آپ نے اپنا مقدمہ اللہ پر چھوڑ دیا تھا آج آپ کے سارے حریف سارے دشمن سارے مخالفین قدرت کی پکڑ میں ہیں آپ انشاء اللہ، بیگم کلثوم کے سامنے شرمندہ نہیں ہوں گے

بلکہ سرخرو رہیں گے کہ جنہوں نے آپ کو مشکل وقت میں اذیت پہنچائی آج وہ سب قوم سے منہ چھپاتے پھر رہے ہیں جنہوں نے ناحق سزائیں دیں پوری قوم ان کے چہروں سے واقف ہو چکی ہے ۔

اب کچھ دانشور اعتراف کر رہے ہیں کہ انہوں نے لندن جا کر اپ سے منت سماجت کی تھی کہ جو دوسروں کے کندھوں پر چڑھ کر آپ اور آپ کے خاندان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے رہے اب آپ پھر اقتدار میں آنے والے ہیں تو ان پر انتقام کے دروازے بند رکھیے گا ان کو جو کچھ بھی انہوں نے آپ کے خلاف کیا اس پر ان کو معاف کر دیجیے گا ، حیرت ہے یہ کس منہ سے آپ کے پاس ائے تھے ان میں ذرا شرم نہیں ذرا احساس ندامت نہیں ، اچھا کیا اب یہ خود بتا رہے ہیں کہ آپ ان کا فون تک نہیں سنتے ۔ ان کے ساتھ ایسا ہی کرنا چاہیے تھا ۔ جو شخص خود دغا دے جھوٹ بولے فریب کرے سازش کرے


اور جب قدرت کی پکڑ میں آ کر منہ کے بل گرے اور اس کی اکڑ پھر بھی کم نہ ہو یہاں تک کہ قید خانے کی سلاخوں کے پیچھے چلا جائے پھر بھی خود معافی نہ مانگے شرمندہ نہ ہو اپنے سازشی کردار کا اعتراف نہ کرے اور دوسروں کو اپنا سفارشی بنا کر بھیجے تو ایسے شخص کے ساتھ کسی رعایت کی ضرورت نہیں ۔
بس میاں صاحب ڈٹے رہیے گا اب ان کرداروں کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے جو انصاف کے نام پر نا انصافی کرتے رہے ۔ جن کے گھر پر ٹرک جاتے رہے جو دوسروں کو ڈان اور سسلین مافیا قرار دیتے رہے یہ وہ اونٹ ہیں جنہیں ایک دن پہاڑ کے نیچے آنا ہے انشاءاللہ ۔