وفاقی وزیر برائے نجکاری محمد میاں سومرو کی قیادت میں پرائیویٹائزیشن کمیشن آف پاکستان کے سات رکنی وفد کا وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے ساتھ اجلاس

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پرائیویٹائیزیشن کمیشن آف پاکستان کے سات رکنی وفد جسکی قیادت وفاقی وزیر برائے نجکاری محمد میاں سومرو کررہے تھے کے ساتھ منعقدہ اجلاس میں انھوں نے کہا کہ انکی حکومت دو آر ایل این جی پاور پروجیکٹس اور بینکس پرائیوٹائیزیشن میں تعاون کررہی ہے اگر ملازمین اور صارفین کے حقوق کا مناسب طریقے سے تحفظ کیا جائے ۔ وفاقی وزیر محمد میاں سومرو جو کہ وفد کی قیادت کررہے تھے جبکہ وفد کے دیگر اراکین میں ممبر پرائیوٹائیزیشن کمیشن (پی سی) خرم شہزاد، فنانشل ایڈوائزر پی سی رابیل آخوندزادہ، سمرین زہرہ، کنسلٹنٹس اسد رسول، زید مراد و دیگر شامل تھے جنھوں نے آج وزیراعلیٰ سندھ سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں ملاقات کی ۔ وزیراعلیٰ سندھ کی معاونت چیف سیکریٹری ممتاز شاہ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو قاضی شاہد پرویز، سیکریٹری خزانہ حسن نقوی، سیکریٹری انرجی مصدق خان، سیکریٹری سرمایہ کاری نے کی۔ وفاقی وزیر/چیئرمین نجکاری کمیشن محمد میاں سومرو نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے چند منصوبوں، بینکس اور ریئل اسٹیٹ کے اثاثوں کی نجکاری کے لیےحتمی شکل دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ منصوبے قومی اثاثہ رہے ہیں، لہٰذہ وہ چاہتے ہیں کہ صوبائی حکومتوں کو انکی نجکاری کے حوالے سے اعتماد میں لیں۔محمد میاں سومرو نے کہا کہ منصوبے جن کے لیے بڈز طلب کی گئی ہیں ان میں دو آر ایل این جی بیسڈ پاور پلانٹس حویلی بہادر شاہ اور بالوکی میں بالترتیب ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہر ایک پلانٹ کی 1230 میگاواٹ بجلی کی پیداوار کی گنجائش ہے۔ دیگر منصوبوں میں ایس ایم ای بینک لمیٹڈ اور فرسٹ وومین بینک شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مذکورہ دونوں پاور پلانٹس کے پاور ٹیرف کا لازمی طور پر تحفظ کیا جائے تاکہ نجی پارٹی نجکاری کے بعد پاور جنریشن کے لیے زیادہ ریٹ چارج نہ کرسکے۔ انھوں نے کہا کہ اسی طرح کمیشن کو چاہیے کہ وہ وہاں پر کام کرنے والے ملازمین کے حقوق اور انکی ملازمتوں کو بھی تحفظ فراہم کرے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ جہاں تک ایس ایم ای بینک اور فرسٹ وومین بینک کی نجکاری کا تعلق ہے تو انھوں نے متعدد بار بینکوں میں کام کرنے والے افراد کی ملازمت اور انکے حقوق کو تحفظ فراہم کرنے کی بات کی ہے۔ انھوں نے تمام نجکاری کے عمل کو شفاف بنانے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ انکی حکومت کمیشن کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گی۔ چیئرمین پرائیوٹائیزیشن کمیشن نے بھی کہا کہ کابینہ نے رئیل اسٹیٹ کے اثاثوں کی نجکاری کی منظوری دی ہے جس میں سروسز انٹیل ہوٹل لاہور، جناح کنوینشن سینٹر اسلام آباد، آئل اینڈ گیس او جی ڈی سی اینڈ پی پی ایل و دیگر میں اقلیتی شیرنگ کو قابل تقسیم بنانا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ انکی حکومت کو نجکاری کے حوالے سے کوئی اعتراض نہیں ہے مگر وہ صرف شفافیت اور ملازمین کا تحفظ چاہتے ہیں ۔