
اسلام آباد: نومبر 21، 2024.
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پبلک پروکیورمنٹ اور گڈ گورننس کے حوالے سے جائزہ اجلاس
تمام سرکاری اداروں میں شفاف طریقے سے خریداری اور خدمات کا حصول حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم
حکومتی اداروں میں پروکیورمنٹ کے عمل میں شفافیت لانے سے بیرونی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد مزید بڑھے گا، وزیراعظم
وزیراعظم کی پپرا (PPRA) میں اصلاحات لا کر اس کو کسی بھی قسم کے اثر و رسوخ سے پاک بنانے کی ہدایت
تمام سرکاری پروکیورمنٹس میں تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن بشمول کوالٹی اشورنس یقینی بنائی جائے، وزیراعظم کی واضح ہدایت
وزیراعظم کی پروکیورمنٹ کے عمل میں شکایات کے ازالے کے لیے پروکیورمنٹ ایجنسی سے ہٹ کر کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت
پپرا میں میرٹ پر باصلاحیت، پیشہ ور اور مطلوبہ تجربہ رکھنے والے ماہرین تعینات کیے جائیں، وزیراعظم
وزیراعظم کی تمام سرکاری اداروں کو ای پروکیورمنٹ (e-PADS) استعمال کرنے کی ہدایت
سرکاری اداروں میں خریداری اور سروسز کے حصول کے لیے خصوصی پروکیورمنٹ سیل قائم کیے جائیں، وزیراعظم
سرکاری امور میں شفافیت ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے، وزیراعظم
پپرا آرڈیننس اور متعلقہ قواعد و ضوابط کا جائزہ مکمل ہو چکا ہے اور یہ ترامیم جلد وفاقی کابینہ کی منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی، بریفنگ
ان ترامیم کا مقصد پروکیورمنٹ کے عمل میں شفافیت اور ان کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق لانا ہے، بریفنگ
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، وزیر خزانہ اورنگزیب خان، وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، پپرا بورڈ ممبران، ورلڈ بینک کنٹری ڈائریکٹر اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے























