غزہ اور مسلم حکمرانوں کی بے حسی

بادشاہ خان غزہ اور مسلم حکمرانوں کی بے حسی
اللہ ہماری بزدلی اور کم ہمتی کو معاف فرمائے، غزہ میں ہر روز سینکڑوں مسلمان بچے شہید کئے جارہے ہیں، اسرائیلی دہشت گردی کی وہ تاریخ رقم کی جارہی ہے کہ جس نے جنگ عظیم دوم اور ہلاکو خان کے مظالم کو شرما دیا ہے، اسرائیل نے ان ٹرکوں کو بھی لوٹ لیا ہے جس میں محصور غزہ کی آبادی کے لئے خوراکی مواد جارہا تھا، غزہ میں قحط ہے،اور دوسری طرف امت مسلمہ کے روحانی مرکز میں فحاشی اور عریانی کے پروگرامات جاری ہیں، مغربی میراثیوں کے پروگراموں کو ریاض سیزن کا نام دیا جارہا ہے، عزت اسلام کے بغیر ڈھونڈی جارہی ہے ۔ اپنے عوام کو لغویات میں مگن کیا جارہا ہے،عربوں کا زوال شروع ہوچکا ہے، لیکن شائد ان کو نظر نہیں آرہا؟ان کو اسلام کی بدولت ملی عزت کا جنازہ نکلنے کو ہے،شائد وہ بھی اب اسلامی عزت نہیں چاہتے،امریکہ ان کا قبلہ بن چکا ہے،اس لئے اتنے بے دھڑک ہوگئے ہیں؟ قوم پرستی کا طوفان برپا ہے، یمن کے جواب دہشت گردی قرار دیا جارہا ہے،سوال مسلم حکمرانوں سے ہے کہ کیا یہ مسلمان ہیں؟ کیا یہ صرف بیانات ہی جاری کرتے رہیں گے؟لگتا ہے امت مسلمہ کاتصور ان حکمرانوں اور علماء نے اجتماعی طور پر دفن کردیا ہے یا وہن کا وہ دور ہے جس کا ہمیں بتایا گیا تھا۔حب دنیا و کراہت الموت،مسلمانوں کی تعداد تو سمندر کی جھاگ سے بھی زیادہ ہے لیکن بزدلی وجہ سے خس خاشاک کی مانند ہے؟
او آئی سی اور عرب لیگ کا اجلاس بلند وبانگ بیانات کے ساتھ ختم ہوچکا ہے، محمد بن سلمان سے لیکر پاکستان تک سبھی حکمرانوں نے شدید مذمت کی ہے،اور احسان عظیم کردیا ہے مظلوم مسلمانوں پر؟ اور اب ریاض سیزن کی باری ہے،جینیفرلوپیز کے ڈانس پروگرامات کا شور ہے، اس شور میں غزہ کے مظلوم مسلمانوں کی آہیں اور فریاد امت مسلمہ کو سنائی نہیں دے رہی، شائد سنانا نہیں چاہتے،سوال یہ ہے کہ پھر فلسطین اور غزہ کے لئے بیانات دینا کیوں ضروری ہے، کیا امت مسلمہ بے وقوف ہے؟ کیا وہ اپنے حکمرانوں کے ان چالوں کو نہیں سمجھ رہی؟ یا وہن کا شکار ہے؟ایسا محسوس ہورہا ہے کہ امت مسلمہ بھی اجتماعی وہن کا شکار ہوچکی ہے، کوئی حکمرانوں کے خلاف بغاوت کرنے کو تیار نہیں، کوئی یمن اور غزہ کی عملی مدد کو تیار نہیں البتہ قوم پرستی، روٹی مکان اور دوسرے مسئلوں پر شائد تیار ہے، لیکن اسلام اور اسلامی بھائی چارے کا تصور اجتمائی طور پر دفن کردیا گیا ہے،اللہ ہماری کمزوریوں اور بزدلی کو معاف فرمائے۔
اللہ مظلوم فلسطینوں کی شہادت کو قبول فرمائے،امت مسلمہ کے حکمرانوں پر مر گ طاری ہے،اسرائیل وزیر اعظم نیتن یاہو کامیاب ہورہا ہے، ایسا محسو س ہورہا ہے کہ ایران بادی النظر دھمکیوں پر زور دے گا، رہی بات عرب ممالک کی تو ان کے مفادات اسرائیل سے منسلک ہوچکے ہیں، عرب حکمران قوم پرستی پر توجہ دے رہے ہیں،جدید فیشن شوز اور میوزک کنسرٹس پر زور ہے، اسلام اور مسلمان ان کی ترجیع نہیں رہا،لیکن جنگ میں مزید تیزی آئے گی، کیونکہ جنگ اور امن کسی کے قابو میں نہیں ہے، غزہ کے مسلمانوں کا خون رنگ لائے گا، اسماعیل ہنیہ کی شہادت رائیگاں نہیں جائے گی، اللہ کے فیصلے ہونے کو ہیں،سوال میرے اور آپ کے ایمان کاہے، کب تک یہ موت اور بزدلی والی خاموشی؟امت مسلمہ کے نوجوانوں کب تک؟
اللہ مسلمانوں کے انفرادی اور اجتماعی گناہوں کو معاف کرے، عالمی طاقتوں نے مسلم امہ کو ایسے تقسیم کیا ہے کہ کسی کو غزہ میں جاری مظالم پر توجہ نہیں ہے، پاکستان میں ایسے وقت میں انتخابات کروائے گئے کہ گذشتہ ایک سال سے انتخابی ڈرامہ چل رہا ہے، جو کہ ختم نہیں ہورہا، ہر روز اس میں نئی چیزیں شامل کردی جاتی ہیں،اجس کی وجہ سے پاکستانی قوم اور ریاست دونوں کو مظلوم فسلطینوں کی مدد کی پرواہ نہیں،کشمیری مسلمانوں کی پروا نہیں سیاسی جماعتوں کو بھی اسرائیل کے خلاف بات نہیں کرنی پڑھ رہی، کیا یہ سب اتفاق ہے؟ اور غزہ پر افغانستان کی اسلامی ریاست کی خاموشی کیا اتفاق ہے؟ کیا سعودی عرب، کا امریکی بلاک میں خاموشی سے ساتھ دینا اور صرف بیانات دینا اتفاق ہے؟ یا اس منصوبے کا حصہ ہے جس پر آخری مراحلے میں عمل جاری ہے،
اقوام متحدہ کا کہنا ہے اسرائیلی بمباری کے سبب فلسطینی بھوک سے مر رہے ہیں۔لیکن امت مسلمہ اور حکمران ہیں کہ ٹس سے مس نہیں ہورہے، انہی سے امید لگائے بیٹھے ہوئے ہیں، جن کی پشت پناہی سے اسرائیل غزہ کے مسلمانوں کی نسل کشی کررہا ہے، اللہ رحم کا معاملہ فرمائے اور مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لئے مددگار عطا فرمائے۔کئی باراسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کھل کر کہا کہ ہم حماس کی بٹالین کے مکمل خاتمے کے لیے کام کر رہے ہیں۔غزہ جنگ سے متعلق اپنے ایک بیان میں اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ رفح میں فوجی کارروائی کے آپریشنل منصوبوں کی منظوری کے لیے کابینہ کا اجلاس ہفتے کو بلاؤں گا۔اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ کے جنوبی علاقے میں ہمیں مکمل فتح حاصل کرنا ہے۔ اپنے کا بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جنوبی غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی اور حماس کے خاتمے کی راہ پرگامزن ہیں۔ ہم لبنان اسرائیل سرحدی علاقے میں ہر حال میں سیکیورٹی بحال کریں گے۔نیتن یاہو نے کہا ہے کہ منصوبے میں رفح سے شہری آبادی کا انخلاء بھی شامل ہے، یرغمالیوں کی رہائی اور حماس کا خاتمہ جنگ کے مقاصد میں شامل ہیں۔
یہ وہ عالمی منظر نامہ ہے کہ جس میں ایک جانب بیانات جاری ہیں اور دوسری جانب عملی طور پر اسرائیلی مظالم مسلسل جاری ہیں،اور مسلمان حکمرانوں کی طرح خود بھی بے حس ہوگئے ہیں، عرب عوام اب روایتی پروگراموں میں تلوار کی نمائش تک رہی گئی ہے،ان میں سیف اللہ اور ضرار نہیں ہیں۔