بلوچستان کا خبرنامہ

بلوچستان کا خبرنامہ

خبر نامہ نمبر8019/2024
کچھی20نومبر۔ڈپٹی کمشنر کچھی جہانزیب بلوچ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کے حوالے سے علیحدہ علیحدہ اجلاسز منعقد ہوئے جن میں محکمہ ایجوکیشن اور محکمہ صحت کے افیسران شریک تھے اجلاسوں میں ضلع بھر میں تعلیمی امور اور عوام کو دی جانے والی طبی سہولیات کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کچھی جہانزیب بلوچ نے کہا کہ ضلع بھر سے جہالت کی تاریکی کے خاتمے کے لیے افسران محنت سے کام کریں اور ناخوندگی کی شرح میں کمی واقع لانے کے لیے دن رات کوشاں رہیں ہمیں مثبت انداز سے ضلع بھر کے دیہی اور شہری علاقوں میں تعلیمی امور میں مزید زیادہ سرگرم رہنا ہوگا تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیمی عمل کی جانب راغب کیا جائے اور اسکولوں میں انرولمنٹ کے عمل کو بھی مزید موثر انداز میں تیز کیا جائے وہ بچے جو اسکولوں میں تا حال داخل نہیں ہوئے ہیں انہیں بھی اسکولوں میں داخل کروایا جائے تاکہ شرح خواندگی میں اضافہ ہو سکے ڈپٹی کمشنر جہانزیب بلوچ نے ہیلتھ آفیسر کے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دیہی اور شہری آبادی میں طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا اور لوگوں کو طبی سہولیات کے حوالے سے جن مشکلات سے دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان کے تدارک کے لیے ڈاکٹرز اپنا مثبت کردار ادا کریں دیہی علاقوں کے لوگوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ڈاکٹرز کی اولین ذمہ داریوں کا حصہ ہے اس لیے ڈاکٹرز اپنے فرائض منصبی میں کسی قسم کی کوتاہی ہرگز نہ برتیں غیر حاضر عملے کے خلاف فوری اور احسن انداز میں کاروائی کی جائے تاکہ غیر حاضری کے عمل پر تیزی سے قابو پایا جائے اور ان کے خلاف محکمانہ کاروائی بھی عمل میں لائی جائے انہوں نے کہا کہ صحت و تعلیم کے شعبے میں بہتری لانے کے لیے حکومت وسیع بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے اس لیے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف پر لازم ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور لوگوں کی خدمت میں مصروف رہیں کوشش کریں کہ طبی مراکز میں آنے والے مریض مایوسی کے بجائے خوش ھو کر جائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر8020/2024
نصیرآباد 20 نومبر۔ڈپٹی کمشنر ڈپٹی کمشنر نصیر آباد منیر احمد خان کاکڑ کے احکامات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر چھتر خادم حسین کھوسہ نے نائب تحصیلدار میر حسن صدورا خان ابڑو کے ہمراہ بیسک ہیلتھ یونٹ میر حسن کا اچانک دورہ کیا عوام کو دی جانے والی طبی سہولیات اور درپیش مسائل کے متعلق آگاہی حاصل کی جبکہ بی ایچ یو میں رکھی گئی ادویات کا بھی جائزہ لیا عملے کو سختی کے ساتھ ہدایات دیں کہ وہ لوگوں کی خدمت میں اپنی تمام توانائیاں صرف کریں غیر حاضری کے عمل کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور سرپرائز وزٹ کے دوران اگر کوئی ملازم جائے تعیناتی سے غیر حاضر پایا گیا تو اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا ہمیں عوام کے مفادات عزیز ہیں اس لیے اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز قبول نہیں کریں گے بعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر خادم حسین کھوسہ نے نائب تحصیلدار میر حسن صدورا خان ابڑو کے ہمراہ تحصیل میر حسن بازار کا بھی دورہ کیا دورے کے موقع پر انہوں نے سبزی فروٹ گوشت سمیت دیگر اشیا خردونوش کی قیمتوں کے متعلق اگاہی حاصل کی اور دکانداروں کو سختی کے ساتھ ہدایت دی کہ وہ سرکاری نرخ ناموں پر ہر صورت عمل درآمد کو یقینی بنائیں گراں فروشی کے عمل کو کبھی بھی برداشت نہیں کریں گے پرائس کنٹرول کمیٹی مکمل طور پر فعال ہے اور روزانہ کی بنیاد پر ڈپٹی کمشنر نصیر آباد منیر احمد خان کاکڑ کے احکامات کی روشنی میں جانچ پڑتال کا عمل بھی جاری رہے گا عوام کو صاف ستھری معیاری اور سستی اشیا خوردونوش کی فراہمی کے لیے ضلعی انتظامیہ ہر قسم کی معاونت کو یقینی بنائے گی گراں فروشی کے عمل میں ملوث تاجروں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8021/2024
خضدار : 20 نومبر۔محکمہ تعلیم کے تمام اسکولوں کے ملازمین کی لسٹ نام وغیرہ (جہاں انکی پوسٹنگ ہے) وہ پبلک کی جاری ہیں تاکہ کے لوگوں کو پتا چلے کہ ہمارے اسکولوں میں کون کہاں ڈیوٹی کر رہے ہیں.لِہٰذا آپ تعاون کریں۔تاکہ ٹھوس کارروائی کی جاسکے۔علاقے کی بھلائی کیلیئے خضدار کے ڈپٹی کمشنر یاسر اقبال دشتی کی جانب سے ایکشن محکمہ تعلیم کے تمام ملازمین (بشمولِ اساتذہ کرام) کی غیر حاضری اور فرائض میں غفلت برتنے والوں کے خلاف کاروائی کا آغاز۔معزز شہریوں سے گزارش ھے کہ اپنے علاقے میں قائم اسکول کی کارکردگی ملازمین کی غیر حاضری کی نشاندہی کریں۔تاکہ انتطامیہ انکے خلاف کاروائی کرسکے۔اپنی شکایات درخواست کی صورت میں ڈپٹی کمشنر آفس میں جمع کرائیں۔یا درج ذیل فون نمبر پر 0848412877درج کرائیں.یاد رہے نشاندہی کرنے والے کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8022/2024
کچھی20نومبر۔ڈپٹی کمشنر کچھی جہانزیب بلوچ نے آج پی پی ایچ آئی کچھی آفس کا دورہ کیا ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی عمران خان خجک نے انہیں ضلع کچھی میں پی پی ایچ آئی کے بنیادی مراکز صحت میں عوام کو دی جانے والی طبی سہولیات دیگر درپیش امور کے متعلق تفصیل کے ساتھ بریفننگ دی ڈپٹی کمشنر نے پی پی ایچ آئی کے ضلع کچھی میں صحت کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا اور کہا کہ بنیادی مراکز صحت دور دراز علاقوں میں مقیم لوگوں کو صحت کی سہولیات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اس لئے ان پر خصوصی توجہ مبذول کریں تاکہ دور دراز علاقوں سے بسنے والے غریب لوگوں کو علاج کی غرض سے شہر آنا نہ پڑے انہوں نے ڈسٹرکٹ سپورٹ مینیجر کو ہدایت کی کہ وہ اسٹاف کی حاضری کو یقینی بنانے کیلئے گائے بگائے بنیادی مراکز صحت کا دورہ کرتے رہیں اور ان مراکز صحت میں ضرورت کی تمام ادویات کی دستیابی کو بھی یقینی بنائیں غیر حاضر رہنے والے ملازمین کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے دورے کے موقع پر ڈپٹی کمشنر نے ادارے کے ادویات اسٹور سمیت دیگر مختلف شعبہ جات کا بھی معائینہ کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8023/2024
نصیرآباد20نومبر۔ وہیکل آرڈیننس کی خلاف ورزی اور مسافروں سے اضافی کرایوں کی وصولی کے خلاف کمشنر نصیر آباد ڈویژن معین الرحمن خان کے احکامات کی روشنی میں سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی نور احمد ڈومکی اور ایس پی ہائی ویز محمد ایوب گولہ نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر سات پبلک ٹرانسپورٹرز کو چالان کیا گیا جبکہ 8500 روپے جرمانے بھی وصول کیے گئے غیر قانونی طور پر لگے ہوئے چار جنگلے بھی اتارے گئے ویگنوں کی چھتوں پر لدے چار موٹر سائیکلیں بھی اتاری گئی اس موقع پر سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی نور احمد ڈومکی اور ایس ایس پی ہائی ویز محمد ایوب گولہ نے متعدد ٹرانسپورٹرز کو سختی سے ہدایت دی کہ وہ عوام کی جان و مال کے تحفظ اور ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی و لاپرواہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور قوانین کے برخلاف عمل کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے روٹ کے حساب سے مختص کیے گئے ہیں اضافی کرایہ وصول کرنے والوں کے خلاف بھی موثر انداز میں کاروائی کی جائے گی عمل درآمد نہ کرنے والے پبلک ٹرانسپورٹرز کے روٹ پرمٹس بھی منسوخ کیے جا سکتے ہیں اس لیے وہ غیر قانونی عمل سے اجتناب کریں بصورت دیگر ان کے خلاف کاروائی کا سلسلہ جاری رہے گا انہوں نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ پر جنگلوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اس حوالے سے نصیرآباد ڈویژن میں مختلف علاقوں میں کاروائیاں جاری ہیں ضروری ہے کہ ڈرائیور حضرات عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے غیر قانونی جنگلوں پر لوگوں کو بٹھانے سے اجتناب کریں بصورت دیگر ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8024/2024
کوئٹہ 20 نومبر۔ضلعی انتظامیہ کی زیر نگرانی کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں قصائیوں اور تندوروں کے خلاف بھرپور کاروائیاں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کی مختلف ٹیموں نے کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں قصائیوں اور تندوروں کے خلاف کاروائیوں میں 124 قصابوں اور تندوروں کا دورہ کیا۔جہاں قیمتوں اور وزن کا جائزہ لیا گیا۔سرکاری نرخنامے کے خلاف ورزی اور وزن میں کمی پر 13 دکانیں سیل جبکہ21 دکانداروں کو گرفتار کرلیا جس میں سے 13 دکانداروں کو 14 دن کے لیے جیل منتقل کردیا گیا ہے اسکے علاو¿ہ 25 دکانداروں پر جرمانے عائد کیے اور 30 دکانداروں کو سخت وارننگ جاری کیے گئے۔ اس حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر کچلاک بہادر خان کچلاک بازار ، اسسٹنٹ کمشنر سریاب ماریہ شمعون نے سریاب روڈ کے مختلف علاقوں، اسپیشل مجسٹریٹ احسام الدین کاکڑ نے اندرون شہر کے مختلف علاقوں ، اسپشل مجسٹریٹ حسیب سردار نے نواں کلی عالمو چوک اور شہباز ٹاون میں قصابوں اور تندوروں کے خلاف کاروائیاں کیں۔یاد رہے کہ ضلعی انتظامیہ روزانہ کی بنیاد پر کوئٹہ شہر اور گردنواح میں گرانفروشوں کے خلاف کاروائیاں کررہی ہیں۔ خاص طور پر قصائیوں تندوروں اور جنرل سٹوروں کے خلاف کاروائیاں کررہی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے تمام سب ڈویڑن کے اسسٹنٹ کمشنرز اور مجسٹریٹس پرائس کنٹرول کمیٹی کے تحت اپنے اپنے سب ڈویڑن میں کاروائیاں کررہی ہیں ضلعی انتظامیہ کی پرائس کنٹرول کمیٹی مکمل طور پر فعال ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8025/2024
کوئٹہ 20 نومبر۔اسسٹنٹ کمشنر(کچلاک) بہادر کی زیر صدارت کچلاک بازار سے ٹریفک مسائل کے پیش نظر کراچی، پنجاب ،ژوب لورلائی قلعہ سیف اللہ کی بسوں کو بازار سے شفٹ کرنے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سکرٹری آر ٹی اے کوئٹہ ،ڈی ایس پی ٹریفک کے علاوہ پنجاب اور کراچی روٹ پر چلنے والی بسوں کے مالکان نے شرکت کی۔ اجلاس میں کچلاک بازار کے ٹریفک مسائل کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی۔ اجلاس میں ایک خاص مسئلہ زیر غور رہا کہ کچلاک بازار سے روزانہ کی بنیاد ٹریفک بند ہونے کی وجہ سے ضلعی انتظامیہ کو شکایات موصول ہورہی ہیں۔ کچلاک ایک مین گیٹ وے ہے لیکن دن رات کچلاک بازار کی سڑکیں بند رہتی ہیں جسکی وجہ کچلاک بازار میں پنجاب ،کراچی لورلائی، ژوب، قلعہ سیف اللہ کی بڑی بسیں اور ویگن ہیں لہذا ان تمام بسوں اور ویگنوں کو کچلاک سے باہر منتقل کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیگے۔ کچلاک بائپاس کے ارد گرد خالی زمین پر اڈہ بنا کر تمام تر بڑی بسوں کو وہاں منتقل کیے جائیگے۔کچلاک بازار میں بڑی بسوں ویگنوں اور کمپنیوں ہر پابندی عائد کی جائیگی۔ اس حوالے سے تمام ٹرانسپورٹرز نے اپنا تجاویز ضلعی انتظامیہ کو پیش کردیے اور بس مالکان نے ضلعی انتظامیہ کے اس فیصلے کو سراہا اسکے ساتھ اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ تمام بس مالکان اور کمپنی مالکان کو نوٹسسز جاری کیے جائیگے کہ ایک مہینے کے اندر اپنے دفاتر شہر سے باہر زمیندار ہوٹل کی طرف منتقل کردے اسکے بعد بس مالکان کو خلاف کاروائی کی جائیگی۔ اسسٹنٹ کمشنر کچلاک بہادر خان نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کچلاک بازار کو ایک ماڈل شہر بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی کوشش جاری ہے اور عوام کو اس کام میں ساتھ دینے کے لیے اپیل کرتے ہیں کچلاک ہم سب کا مشترکہ شہر ہے اس کو صاف کرنے کے لیے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ضلعی انتظامیہ آر ٹی اے اور ٹریفک پولیس روزانہ کی بنیاد پر کچلاک بازار کا دورہ کریگیں اسکے ساتھ کچلاک میں ناجائز تجاوزات کی بھرمار ہے جسکی وجہ سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہے ضلعی انتظامیہ کچلاک میں تجاوزات کے خلاف کاروائیاں کررہی ہے اور ناجائز تجاوزات کرنے والے دکانداروں کو جیل منتقل کررہے ہیں۔ اس حوالے سے ہر حد تک جائیگے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8026/2024
کوئٹہ 20نومبر۔ضلعی انتظامیہ کی زیر نگرانی اسسٹنٹ کمشنر(کچلاک) بہادر خان نے عوامی شکایات پر تجاوزات کے خلاف سخت آپریشن شروع کردیا۔ اس سلسلے میں کچلاک بازار میں روزانہ کی بنیاد پر ٹریفک مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر کچلاک نے سکرٹری آر ٹی اے اور ڈی ایس پی ٹریفک کے ہمراہ کچلاک بازار کا دورہ کیا جہاں دکانوں کے سامنے تھڑے، کرایے پر ریڑیاں کھڑی کرنے والے اور تجاوزات قائم کرنے والوں کے خلاف کاروائیاں کیں۔ اسکے ساتھ ہی کچلاک بازار میں بسوں اور ویگنوں کی غیر قانونی پارکنگ کے خلاف بھی کاروائی کی گئی۔ اس دوران 9 افراد کو گرفتار کرکے 14 دنوں کے لیے جیل بھجوا دیا گیا،جبکہ 8 دکانیں سیل اور متعدد دکانداروں کو سخت وارننگ جاری کیے۔ یاد رہے کہ عوامی شکایات کی بنا پر اسسٹنٹ کمشنر نے کاروائیاں کیں اور بس مالکان اور کمپنیوں کے مالکان کو وارننگ جاری کیے کہ بڑی بسوں کو کچلاک مین چوک پر کھڑی نہ کریں خلاف ورزی کرنے پر بس مالک کے خلاف کاروائی کی جائیگی۔اسسٹنٹ کمشنر کچلاک بہادر خان کچلاک بازار کے مین روڈ کو ہر قسم تجاوزات سے صاف کرکے ٹریفک کی روانی کو مکمل طور پر بحال کردیاہے۔ اس دوران بات چیت کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف کاروائیاں روزانہ کی بنیاد پر جاری رہیں گی کچلاک کی ٹریفک کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8027/2024
خضدار 20نومبر۔ ڈپٹی کمشنر خضدار کا مختلف امتحانی مراکز کا دورہ ،شفاف امتحانات کا انعقاد یقینی بنانے کی ہدایت، تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر یاسر اقبال دشتی نے گورنمنٹ ماڈل ہائی اسکول خضدار گورنمنٹ ہائی اسکول کھنڈ خضدار ڈویڑنل پبلک اسکول میل ،فیمیل سیکشن میں قائم امتحانی مراکز کا دورہ کیا۔ڈپٹی کمشنر نے امتحانی مراکز میں طلبا کی امتحانی کاپیاں، رول نمبر سلپ اور حاضری شیٹ کو چیک کیا۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ شفاف امتحانات کا انعقاد ہماری ذمہ داری ہے، سینٹر سپرنٹنڈنٹ اور عملہ سخت اور موثر انداز میں نگرانی کو یقینی بنائیں، کسی بھی غیر متعلقہ فرد کو امتحانی حدود میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ڈی سی خضدار کا مزید کہنا تھاکہ امتحانات میں نقل ایک ناسور ہے جس کا خاتمہ کا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے نقل کا خاتمہ کرکے قوم اور ملک کے مستقبل کو محفوظ بنایا جائے،انہوں نے کہا کہ امتحانی مراکز کے نظم و ضبط کو برقرار رکھا جائے اس میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی اور غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8028/2024
کوئٹہ 20 نومبر۔علاقائی موسمیاتی مرکز بلوچستان کے مطابق بدھ کو صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسم خشک رہنے کی توقع ہے جبکہ پہاڑی علاقوں میں صبح اور رات کے وقت سرد موسم رہے گا۔ جمعرات کو صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسم بنیادی طور پر خشک جبکہ پہاڑی علاقوں میں صبح اور رات کے وقت سرد موسم کی توقع ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے کم اور سب سے زیادہ درجہ حرارت کچھ اس طرح رہے۔ قلات (0..0/17.0)، کوئٹہ (شہر 2.0/20.5، سریاب 4.0/18.5) ژوب (5.5/23.0)، بارکھان (10.0/24.0)، دالبندین میں/27.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح خضدار (11.5/25.5)، پنجگور (11.0/29.0)، نوکنڈی (13.5/30.0)، لسبیلہ (14.0/34.5)، سبی (15.0/31.5)، گوادر (18.5/32.5) اور تربت میں (18.0/33.5) ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8029/2024
کوئٹہ20 نومبر۔.بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے ایک اعلامیہ کے مطابق وہ امیدوار جنہیں حکومت بلوچستان نے 24 جون 2024 سے نوٹیفکیشن نمبر کے تحت نئے امیدواروں کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمت کے حصول کیلیے 43 سال تک کی بالائی حد میں عمومی رعایت دی ہے۔مورخہ 13 نومبر، 2024 کو محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی نے بھی اس حوالے سے اعلامیہ جاری کیا تھا۔درج بالا اعلامیوں کی رو سے بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے اشتہار نمبر 10/2024، 11/2024، 13/2024، 14/2024 اور 15/2024 کے ذریعے مشتہر کردہ آسامیوں کے لیے آن لاءدرخواست فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ میں 30 دسمبر 2024 تک توسیع کر دی گئی ہے۔ تاہم وہ امیدوار جو پہلے ہی اشتہار نمبر 10/2024، 11/2024، 13/2024، 14/2024 اور 15/2024 کے تحت درخواست دے چکے ہیں انہیں دوبارہ درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہے۔اس کے علاوہ وہ امیدوار جنہوں نے بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے دفتر میں دستی طور پر درخواست فارم جمع کرائے ہیں، انہیں ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ کمیشن کے اشتہار نمبر 10/2024، 11/202413/2024، 14/2024 اور 15/2024 کے ذریعے مشتہر کردہ آسامیوں کے لیے BPSC کی آفیشل ویب سائٹ پر آن لائن درخواستیں جمع کرائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8030/2024
زیارت 20نومبر ۔ذکاء اللہ بی سی ایس، بی ایس 18نے ڈپٹی کمشنر زیارت کا چارج سنبھال کر فرائض کی ادائیگی شروع کردی ہے۔
کوئٹہ، 20 نومبر
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا مالی خیل میں دہشت گردی کے واقعہ کی مذمت

پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے منظم سازش کے تحت دہشت گردی کی جاررہی ہے، وزیر اعلٰی بلوچستان

ریاست کو غیر مستحکم کی تمام سازشیں ناکام ہوں گی، وزیر اعلٰی بلوچستان

اپیکس کی قومی کمیٹی میں دہشت گردی کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت ہوئی، وزیر اعلٰی بلوچستان

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف مہم کو دوبارہ متحرک کرکے ملک کو دہشت گردی کی عفریت سے نجات دلائیں گے، وزیر اعلٰی بلوچستان

قومی قیادت نے دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے موثر اقدامات کا فیصلہ کیا ہے، وزیر اعلٰی بلوچستان

دہشت گردی کسی ایک صوبے کا نہیں پورے ملک کا مسئلہ ہے، وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی

ہر قسم کی دہشت گردی کا خاتمہ کرکے امن بحال کریں گے، وزیر اعلٰی بلوچستان

وزیر اعلٰی بلوچستان کا مالی خیل میں شہید ہونے والے شہداء کو خراج عقیدت

بہادر جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے پاک فوج کی جرات و بہادری کی روایت کو برقرار رکھا۔ وزیر اعلٰی بلوچستان

شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی
خضدار: کمشنر قلات ڈویژن محمد نعیم خان بازئی کی زیرصدارت ” الاٹمنٹ کمیٹی ” کی میٹنگ آج یہاں کمشنر کانفرنس روم خضدار میں منعقد ہوئی ۔ اجلاس میں گورنمنٹ ملازمین کو الاٹ شده سرکاری مکانات کا تفصیل کے ساتھ جائزہ لیا گیا ، غیرقانونی الاٹمنٹ اور ہائوس رینٹ نہ دینے والے سرکاری مکانات اور اس میں رہائش پذیر افراد کی نشاندہی کی گئی ، سرکاری رہائشگاہوں میں سرکاری ملازمین کی گریڈ وائز حیثیت کو بھی جانچا گیا، اور اس متعلق کمیٹی نے فیصلے دیتے ہوئے سرکاری مکانات میں غیر قانونی رہائش پذیر افراد کے الاٹمنٹ کو کینسل اور مکانات کا ان سے فوری طور پر قبضہ ختم کرنے کے لئے ضلعی انتظامیہ خضدار کو ہدایت نامہ جاری کردیا گیا، ہائوس رینٹ نہ دینے اور بلاواسطہ طور پر یعنی کسی سرکاری ملازم کی جگہ سرکاری کوارٹر میں رہائش پذیر پرائیویٹ افراد سے قبضہ چھڑانے اور الاٹمنٹ مسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ، گزیٹڈ آفیسرز کے لئے مختص سرکاری رہائش گاہ اگر درجہ چہارم کے ملازم کے پاس ہے تو ایسے سرکاری رہاشگاہ کو بھی اس لوئر اسکیل کے ملاز سے واپس لینے اور الاٹمنٹ کینسل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا، اجلاس میں کمیٹی نے ایسے سرکاری ملازمین نے جو عرصہ دراز سے ہائوس رینٹ نہیں دے رہے ہیں ان سے سابقہ بقایاجات ریکور کرنے اور مذید مستقبل میں ان سے رینٹ وصولی کے لئے خزانے کو لیٹر لکھنے اور ان کی تنخواہوں سے کٹوتی کرنے کا فیصلہ کرلیا ، اجلاس میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کو ٹاسک دیدیا گیا کہ وہ سرکاری رہائشگاہوں کی تعمیر و مرمت اور مذید سرکاری رہائشگاہیں تعمیر کرنے کے لئے پی سی ون تیار کرکے کمشنر آفس کو پہنچائیں تاکہ مستقبل میں اس کے لئے بجٹ میں رقم مختص کرنے کے لئے اقدامات عمل لائے جائیں ۔ اجلاس کو بتایاگہ کہ الاٹمنٹ کمیٹی کا اجلاس اب وقتاً فوقتاً ہوتا رہیگا اور مذید معاملات زیر غور آئیں گے جن پر فیصلے کیئے جائیں گے ۔ اجلاس میں ایڈیشنل کمشنر قلات ڈویژن اعجاز احمد جعفر ڈپٹی کمشنر خضدار یاسر اقبال دشتی چیئرمین میونسپل کارپوریشن خضدار میر محمد آصف جمالدینی چیف آفیسر خضدار وڈیرہ محمد صالح جاموٹ ڈی ایس پی خضدار محمد جان ساسولی سینئر ڈسٹرکٹ اکائونٹ آفیسر نویداحمد بلوچ سپریٹنڈنٹ علی اکبر ایس ڈی او نیاز احمد زہری ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر شبیراحمد سمالانی ایس ڈی او پی ایچ ای محمد رحیم ودیگر نے شرکت کی ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر قلات ڈویژن محمد نعیم خان بازئی کا کہنا تھا کہ سرکاری رہائشگاہیں حکومت کی پراپرٹی اور ان کے لئے ایک ضابطہ و پالیسی طے ہے ۔ ان رہائشگاہوں پر غیر قانونی قبضہ اور اس میں پرائیویٹ افراد کی رہائش، ہائوس رینٹ کی عدم ادائیگی اس ضابطے کی خلاف ورزی ہے ۔ اس سلسلے میں ایڈیشنل کمشنر اور کمشنر آفس کا متعلقہ برانچ اسٹاف کئی مہینوں سے کام کررہا تھا جنہوں نے تفصیل کے ساتھ ڈیٹا جمع کیا ہے اور آج الاٹمنٹ کمیٹی کی پہلی میٹنگ ہے اس کے بعد بھی اجلاس بلائے جائیں گے اور پالیسی پر ہر صورت میں عملدر آمد کرکے تمام سارکاری رہائشگاہوں کو قانونی بنایا جائیگا۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر خضدار کو ہدایت جاری کی کہ وہ الاٹمنٹ کمیٹی کے فیصلوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے سرکاری رہائشگاہوں سے غیر قانونی قبضہ چھڑانے کے لئے اقدامات عمل میں لائیں ۔

خبرنامہ نمبر 8018/2024
کوئٹہ19 نومبر:. کوئٹہ واٹر اینڈ سینیٹیشن اتھارٹی اور محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ حکومت بلوچستان کے اشتراک سے بلوچستان کے آبی وسائل کی بحالی کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ منعقد ہوئی۔ ورکشاپ کا مقصد ضلع کوئٹہ (کوئٹہ سب بیسن) میں زیر زمین پانی کے مسائل، ان کی بحالی اور جامع آبی وسائل کے انتظام کے حوالے سے اسٹریٹجک حکمت عملی تیار کرنا تھا۔ ورکشاپ میں یورپی یونین، ورلڈ بینک، یونیسف سمیت مختلف سرکاری اور نجی اداروں کے 36 سے زائد نمائندوں نے شرکت کی، جن میں محکمہ آبپاشی، زراعت، جنگلات، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی، بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی، بلدیہ عظمیٰ کوئٹہ، یونیورسٹی آف بلوچستان، بیوٹمز، یو ای ٹی پشاور اور سول سوسائٹی کے نمائندے شامل تھے۔ ورکشاپ میں شرکاء کو زیر زمین پانی کی موجودہ صورتحال، اس کے کم ہوتے ذخائر، اور ان مسائل کے حل کے لیے تکنیکی آپشنز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ محکمہ واسا نے پانی کی فراہمی میں درپیش مشکلات اور موجودہ ذخائر کی مانیٹرنگ پر روشنی ڈالی، جبکہ محکمہ آبپاشی نے کوئٹہ سب بیسن میں پانی کے بحالی منصوبوں اور آئندہ کی حکمت عملی پر گفتگو کی۔ ڈیم سیکٹر نے بلوچستان میں آبی وسائل کی مجموعی صورتحال پیش کی اور زیر زمین پانی کے ری چارج کے لیے ری چارج ڈیمز، ڈیلیے ایکشن ڈیمز اور بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے جیسے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ ورکشاپ کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ وادی کوئٹہ میں زیر زمین پانی کی بحالی کے لیے جامع اور مربوط اقدامات کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ پانی کے وسائل کی مسلسل کمی سے شہر کے مستقبل پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ورکشاپ کا مقصد مختلف اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے بہتر کوآرڈینیشن اور فیصلوں کے لیے رہنمائی فراہم کرنا تھا۔یہ مشاورتی ورکشاپ بلوچستان کے آبی وسائل کی بحالی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، جس سے حکومت اور متعلقہ ادارے زیر زمین پانی کے تحفظ کے لیے مزید موثر اقدامات اٹھا سکیں گے۔