انجمن ہلال احمر اور انسانی حقوق

تحریر:: شاداب اختر جامعہ کراچی شعبہ: سیاسیات

ریڈ کراس دنیا کے 191ممالک میں انسانیت کی خدمت کے لیے کام کرنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم ہے۔ہنری ڈوننٹ (HENRY DUNANT)نے 1859 ء میں سالفرینو کی جنگ میں زخمی فوجیوں کی مدد کی اور پھر سیاسی رہنماؤں کو جنگ کے متاثرین کی حفاظت کے لیے آمادہ کیا۔ ہنری ڈونانٹ (HENRY DUNANT) کے تجربے نے انہیں کتاب ،،اے میموری آف سالفرینو ،، لکھنے پر مجبور کیا جس میں ایک ایسی تنظیم بنانے پر زور دیا گیا جو جنگ کے وقت زخمیوں کی مدد کرے گی۔ 1863ء میں انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس تشکیل دی گئی تھی اور پھر ہنری ڈونانٹ (HENRY DUNANT)کی کوششوں سے 1864 ء میں جنیوا کنونشن کے دوران بین الاقوامی ریڈ کراس تحریک شروع کی گئی۔ابتدائی طور پر اس تنظیم کا مقصد تشدد اور جنگ کے متاثرین اور جنگی قیدیوں کی دیکھ بھال تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہنری ڈونانٹ (HENRY DUNANT)کو 1901ء میں امن کا پہلا نوبل انعام بھی ملا تھا۔ ہلال احمر پنجاب کا دفتر 1923 میں قائم ہوا۔1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد اسے پاکستان ریڈ کراس پکارا جانے لگا۔1974 میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک قانون منظور کیا جس کے تحت پاکستان ریڈ کراس کا نام بدل کر انجمن ہلال احمر پاکستان رکھا گیا۔ یہ اقدام قومی امنگوں کا آئینہ دار تھا۔ قیام پاکستان کے بعدپاکستان ریڈ کراس سوسائٹی کی رسم افتتاح بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے مندرجہ ذیل پیغام کے ساتھ پاکستان ریڈ کراس ایکٹ مجریہ 1920 X V کے تحت کی۔ قائد اعظم نے اس سوسائٹی کی غرص و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا؛ ”اب جب کہ ہم نے پاکستان ریڈ کراس سوسائٹی کی داغ بیل ڈال دی ہے جس پر میں وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ ادارہ جس کے مقدر میں خدمت انسانیت لکھی جا چکی ہے۔ ان کی تمام رفاہی اداروں کے دوش بدوش جو اس عالم میں موجود ہیں حتی المقدور بنی نوع انسان کی خدمت اور مصیبت زدہ بھائیوں کی امداد کرنے میں شایان شان کردار کا مظاہرہ کرے گا،،ریڈ کراس ایک ایسا ادارہ ہے جو منظم طریقہ کار سے بنی نوح انسانیت کے لیے کئی عشروں سے بین الاقوامی سطح پر کام کر رہی ہے۔پاکستان بے شمار مسائل کا شکار ہے۔ جس میں اہم مسائل تعلیم اور صحت سے متعلق ہیں۔ حکومت اگرچہ ان مشکلات اور مسائل پر قابو پانے کے لیے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ لیکن ہلال ا حمر ان مشکلات کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ہلال احمر اپنے صوبائی ہیڈ کوارٹرز میں فری ڈسپنری، تھیلیسمیا سنٹر، بلڈ بنک اور میڈیکل ٹیسٹوں کی فری سہولیات کے ذریعہ غریب نادار اور لاچار مریضوں کی مدد کرتا ہے۔صوبائی ہیڈ کوارٹرز میں ہزاروں والنٹیئرز کو تربیت دے کران کو معاشرہ میں موثر کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جاتا ہے۔ ہلال احمر والنٹیئرز کے ذریعہ ایک ایسی رضاکارانہ قوت استعمال کرکے ملک میں قدرتی آ فات کی مینجمنٹ اور تربیت کرتا ہے جس سے ملک کو بروقت انسانی وسائل کے علاوہ افرادی قوت میسر آ جاتی ہے۔اس سلسلے میں ہلال احمر نے مری میں قدرتی آفات کی مینجمنٹ اور تربیت دینے کے لیے اکیڈمی قائم کی جو جنوبی ایشیا میں قدرتی مینجمنٹ کی منفرد اکیڈمی ہے۔ریڈ کراس یا ہلال احمر کے جینوا ایجنڈا میں شامل ہے کہ دنیا میں کسی جگہ اگر آفت آتی ہے تو ہلال احمر اس کی بحالی میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور بحالی تک اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھتا ہے۔ہم نے ماضی میں ہلال احمر پاکستان کی جانب سے کی گئی سالانہ ریلیف سرگرمیوں کی تفصیلات اکٹھی کرنے کی کوشش کی ہے۔2006ء میں ریلیف اشیاء کے 290 ٹرک جو شلٹر،کمبل،ادویات،رضائیاں،گرم کپڑے،اور کچن سیٹ پر مشتمل تھا زلزلہ متاثرین کے لیے آزاد جموں و کشمیر میں بھیجا گیا۔3 مساجد،5سکولوں کی دوبارہ تعمیر کی گئی۔ 3000 شیلٹر ز آزاد کشمیر بھیجے گئے۔زلزلہ متاثرین کے لیے 80 ملین ریلیف اشیاء اکٹھی کی گئی اس کے علاوہ ڈی پی سٹاک ٹینٹس، کمبل،ہائی جین کٹس وغیرہ 12 ڈیزاسٹر پرون اضلاع میں قائم کیے گئے۔جب کہ 2007ء میں 0.1 ملین کی ادویات برائے سیلاب متاثرین کے لیے پسنی بلوچستان بھیجی گئیں۔ 5 ٹرک ریلیف اشیاء ٹینٹ، گھی، چینی، چاول اور چائے وغیرہ سیلاب متاثرین کے لیے بھیجے گئے اس کے علاوہ 15 ٹرک ریلیف اشیاء برائے سیلاب متاثرین بلوچستان اور پسنی میں بھیجے گئے۔2008 ء میں تونسہ میں ریلیف اشیاء بھجوائی گئی۔ باجوڑ، دیر اور راجن پور کے سیلاب متاثرین کے لیے سامان بھجوایا گیا۔2009ء میں شاہ منصورٹاؤن کیمپ صوابی میں سٹاف بھیجا گیا، سات ٹرک منرل

واٹر کے بھیجے گئے، ادویات اور مچھر مار دوائیوں کا ایک ٹرک بھیجا گیا اور 15 ٹرک فوڈ آئیٹم کے بھیجے گئے۔ سوات مالاکنڈ بونیر اور دیر میں جو متاثرین بے گھر ہوئے ان کی بحالی اور امدادی اشیاء کی ترسیل جاری رہی۔ چاروں صوبوں سے ان کو امداد مل رہی تھی۔ پاکستان کے لوگوں پر جب بھی کوئی مصیبت آئی تاریخ گواہ ہے کہ پوری قوم نے دنیا کو دیکھایاکہ ہم سب ایک ہیں۔ سوات مالاکنڈ میں 22 لاکھ لوگ بے گھر ہوئے پاکستان کے ہر طبقے نے ان لوگوں کی مدد کی۔
دنیا بھر میں ریڈ کراس واحد انٹرنیشنل تنظیم ہے جس نے معاشرہ میں تبدیلیاں لانے کے لیے بے شمار کمیونٹی بیسڈ منصوبہ جات شروع کئے ہوئے ہیں۔اور ریڈ کراس کی کمیٹیاں انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈکراس اور انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس نے فرسٹ ایڈ ٹریننگ، خاندانوں کی بحالی،قدرتی آفات کی بحالی،جنگ کے دوران امن معائدوں کے علاوہ دیگر پراجیکٹ کے ذریعہ آگاہی اور بہتر معاشرہ کی تشکیل میں مدد دیتی ہے۔ جنیوا کنونشن کے ذریعہ ریڈ کراس نے دنیا بھر میں موثر کردار ادا کیا ہے۔ریڈ کراس کو دکھی انسانیت کی خدمت اور اس کے فعال کے سبب دنیا بھر میں پذیرائی ملی ہے۔ آزادکشمیر کے زلزلہ میں بحالی کے سلسلہ میں دنیا بھر سے ریڈ کراس شاخوں نے اکٹھا ہو کر بھرپور کردار ادا کیا۔ایسی فلاحی و اصلاحی تنظیمیں معاشرہ پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں۔جس سے معاشی،معاشرتی اورسماجی رویوں میں تبدیلیوں کے علاوہ طرز زندگی، بہتر صحت اور تعلیم کے علاوہ فی کس آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔ہلال احمر کے ذریعے مسکین،حاجت مندوں اور نادار خاندانوں کی امداد ممکن ہوتی ہے۔ ہلال احمر قدرتی آفات کی بحالی میں ریلیف کی سرگرمیاں تو جاری رکھتا ہی ہے۔ لیکن عام ایام میں بھی ریلیف کی اشیاء معاشرہ کے غریب اور مستحق خاندانوں میں تقسیم کر کے ان کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ہلال احمر امن اور خوشحالی کا پیغام دیتا ہے،دہشتگردی اور انتہاپسندی کی مخالفت کرتا ہے اور دنیا بھر میں امن پسندی کے لیے موثر اقدامات میں اپنا کردار ادا کرتاہے۔ اس کے بین الاقوامی اصول ہمیں انسانیت کی بھلائی اور انسانیت کی ترقی کی طرف گامزن کرتے ہیں۔
۔۔
 ۔

===================================

Sohaib Super Store
·
اجرک سوٹ 3 پیس
سندھی کڑاھی شرٹ دوپٹہ کڑھائی کے ساتھ
3,000/- روپے ……
( 03094386375 )
WhatsApp


8 رنگ والا بلوچی کڑاھی سوٹ
قیمت 4,000 روپے

( 03094386375 )
WhatsApp


Embroidery Ladies Suit
( 3,000/- )روپے
For Order Please Contact

( 03094386375 )
WhatsApp
=====================================

بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں

بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں۔

تفصیلات کے مطابق ایسے نوجوان طلبا طالبات جو بیرون ملک اعلی تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں اور بہترین انٹرنیشنل یونیورسٹیز اور کالجز میں داخلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اسٹڈی ویزا یا اسٹوڈنٹ ویزے پر باہر جانا چاہتے ہیں انہیں کب کہاں کیسے داخلہ مل سکتا ہے

ان کی مطلوبہ کوالیفیکیشن کیا ہے کون سی دستاویزات درکار ہوتی ہیں مختلف یونیورسٹیز اور کالجز کی فیس کتنی ہے ادائیگی کیسے ہوتی ہے کتنے عرصے

کا کورس ہوتا ہے اور کتنے عرصے کا ویزا ملتا ہے جو اسٹوڈنٹ پاکستان سے جا کر باہر بڑھ رہے ہیں ان کے تجربات کیا ہیں جو بیرون ملک جانا چاہتے ہیں ان کو کیا تیاری کرنی چاہیے بہترین اعلی تعلیمی مواقع کہاں کہاں پر میسر ہیں پاکستانی اسٹوڈنٹس ان مواقع سے کب کیسے کہاں فائدہ اٹھا سکتے ہیں یہ اور اس طرح کے اور بہت سے سوالات کا جواب حاصل کرنے اور مستقبل کے کیریئر کی رہنمائی کے

لیے ہمارے پاکستان اور بیرون ملک موجود کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ابھی رابطہ کریں اپنے کوائف فون نمبر اور ای میل جیوے پاکستان کے ای میل

Jeeveypakistan@yahoo.com

اور واٹس ایپ

03009253034

پر ارسال کریں ۔ کنسلٹنٹ کی ٹیم خود آپ سے رابطہ کرے گی اپنی دستیابی اور وقت کی سہولت کے حوالے سے آپ خود بتائیں ۔

=========================