میو ہسپتال کی نارتھ میڈیکل وارڈ کے زیر اہتمام عالمی یوم ذیابیطس کے موقع پر ذیابیطس سے بچاؤ اور آگاہی کے حوالے سے پروفیسر اسرار الحق طور کے خصوصی لیکچر کا اہتمام

لاہور(جنرل رپورٹر)میو ہسپتال کی نارتھ میڈیکل وارڈ کے زیر اہتمام عالمی یوم ذیابیطس کے موقع پر ذیابیطس سے بچاؤ اور آگاہی کے حوالے سے پروفیسر اسرار الحق طور کے خصوصی لیکچر کا اہتمام وارڈ کے لیکچر روم میں کیا گیا جس میں نارتھ میڈیکل وارڈ سے منسلک ڈاکٹرز،نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے شرکت کی اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر اسرار الحق طور کا کہنا تھا ذیابیطس سے بچاؤ کا عالمی دن ہر سال مختلف تھیم کے تحت منایا جاتا ہیاس سال 2024میں اس دن کو اس عزم کے ساتھ منایا جارہے کہ، ”رکاوٹوں کو توڑنااورخلا کو ختم کرنا ہے ”،جس کا مطلب ذیابیطس کے خطرات کو کم کرنے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ذیابیطس کی تشخیص کرنے والے ہر فرد کو منصفانہ، جامع، سستی، اور اعلیٰ معیار کے علاج اور دیکھ بھال تک رسائی حاصل ہو اور اس ضمن میں تمام تر سہولیات نارتھ میڈیکل وارڈ میں موجود ہیں۔ڈاکٹر اسرار الحق طور نے بتایا شوگر ایک ایسی بیماری ہے جو انسانی جسم کے ان افعال پر اثر انداز ہوتی ہے جو جسم کے اندر کاربوہائیڈریٹس (شکر)چکنائی اور لحمیات کے ہونے والے عوامل پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ ذیابیطس میں خاص طور پر انسولین کی مقدار میں کمی یا اس کی ساخت میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے خون میں گلو کوز کی مقدار میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کی 2 اقسام ہوتی ہیں۔ٹائپ ون میں انسان کا لبلبہ یا تو بہت کم انسولین پیدا کرتا ہے یا بالکل ہی نہیں کرتااور یہ عمر کے کسی بھی حصے میں ہو سکتی ہے لیکن یہ زیادہ تر بچپن اور نوجوانی کے دور میں ہوتی ہے اوراس لئے اس کا علاج صرف انسولین دینے سے ہی ہو سکتا ہے۔ٹائپ و ن ذیابیطس موروثی طور پر منتقل ہونے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے اگر ماں کو ٹائپ ون ذ یابیطس ہو تو بچے کو بیماری ہونے کا خطرہ 3فیصد ہے جبکہ باپ کے بیمار ہونے پر بچے کو خطرہ چھ فیصد ہو جاتا ہے لیکن جڑواں بچوں کی صورت میں یہ خطرہ بڑھ کر 25سے 50فیصد ہو جاتا ہے مگر دس فیصد مریض ٹائپ ون کے ایسے ہوتے ہیں جن میں انسولین پیدا کرنے والے لبلبے کے خلیات کے خلاف اینٹی باڈیز نہیں ملتیں،ایسے مریضوں کو ٹائپ ون بی کا مریض قرار دیا جاتا ہے۔ ذیابیطس کے کل مریضوں کا90فیصد ٹائپ ٹوکے زمرے میں آتا ہے، ان مریضوں کے خون میں انسولین کی کچھ مقدار تو پائی جاتی ہے لیکن یہ مقدار اتنی نہیں ہوتی کہ خون میں گلو کوز کو نارمل رکھنے میں کامیاب ہو سکے بعض اوقات انسولین انسانی جسم میں موجود گلو کوز کو استعمال کرنے کی صلاحیت کھو دیتی ہے جس کو انسولین کی مزاحمت بھی کہا جاتا ہے۔جنیاتی اور ماحولیاتی دونوں عناصر مل کرلبلبے کے خلیات کی تباہی اور انسولین کی مزاحمت کا باعث بنتے ہیں۔ بیماری کی شروعات میں انسولین پیدا کرنے والے لبلبہ کے خلیات کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے فاقہ کے دوران (خالی پیٹ) انسولین کی مقدار بھی زیادہ ہو جاتی ہے جس سے خون کا گلوکوز لیول نارمل سے گر سکتا ہے اور بعض دفعہ خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسولین پیدا کرنے والے خلیات کی جگہ دوسرے ٹشوز بن جاتے ہیں اور آہستہ آہستہ انسولین کی کمی واقع ہونے لگتی ہے۔پروفیسر اسرار الحق طور کا کہنا تھا کہ پاکستان کا شمار ان ممالک میں کیا جاتا ہے جہاں پر اس مرض میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ملکی آبادی کا قریبا 27فی صد یعنی 33ملین لوگ ذیابیطس کی کسی نہ کسی قسم کا شکار ہیں جبکہ دنیا بھر میں اس کی وجہ سے 537ملین لوگ کسی نہ جسمانی عوارض میں مبتلا ہیں۔ اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے طبی مسائل کا اثر جسم کے کسی بھی حصہ پر ہوسکتا ہے اگر دماغ کی بات کی جائے تو یہ فالج کا باعث بنتی ہے،آنکھوں میں سفید موتیااترنے،بینائی متاثر کرنے،دل کے دورے،گردوں کے فنکشن کو غیر فعال کرنے،قبض،ڈائریا کھانا ہضم نہ ہونے اور ٹانگوں کے ٹھنڈا ہونے ان کے سن ہونے کا سبب بنتی ہے جبکہ یورین ٹریک میں انفیکشن اور نمونیا کا سبب بھی شوگرکا اتار چڑھاؤ ہوسکتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ذیابیطس کی علامات میں پیاس، بھوک کا ذیادہ لگنا اور پیشاب کا بار بار آنا شامل ہیں۔شوگر کے مرض پر قابو پانا انسان کے اپنے اختیار میں ہے، بیلنس ڈائٹ اس حوالے کلیدی کردار ادا کرتی ہے جس میں کاربوہایڈ ریٹس سے بنی اشیاء سے پرہیز اہم ترین ہے جبکہ فائبر سے پیدا شدہ یاں اس پر مشتمل اشیاء کے استعمال سے بیماری سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کو روکا جاسکتا ہے۔لیکچر کے دوران پروفیسر اسرار الحق طور نے آگاہ کیا کہ روزانہ آدھ گھنٹے کی واک خون میں شوگر کے فعال کو کنٹرول کرتی ہے جبکہ اخروٹ،بادام،جو کے آٹے،مکھن اور زیتون کے تیل کے مناسب استعمال سے بھی اس پر قابو پاہاجاسکتا ہے ہر انسان کا مدافعتی سسٹم الگ ہے اس لیے ضروری نہیں ایک ہی گولی دوسرے مریض پر ایک جیسا اثرڈالے اس لیے اپنے ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کرنا آپ کی اولین ذمہ داری ہونا بہت ضروری ہے۔

===================================

Sohaib Super Store
·
اجرک سوٹ 3 پیس
سندھی کڑاھی شرٹ دوپٹہ کڑھائی کے ساتھ
3,000/- روپے ……
( 03094386375 )
WhatsApp


8 رنگ والا بلوچی کڑاھی سوٹ
قیمت 4,000 روپے

( 03094386375 )
WhatsApp


Embroidery Ladies Suit
( 3,000/- )روپے
For Order Please Contact

( 03094386375 )
WhatsApp
=====================================

بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں

بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں۔

تفصیلات کے مطابق ایسے نوجوان طلبا طالبات جو بیرون ملک اعلی تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں اور بہترین انٹرنیشنل یونیورسٹیز اور کالجز میں داخلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اسٹڈی ویزا یا اسٹوڈنٹ ویزے پر باہر جانا چاہتے ہیں انہیں کب کہاں کیسے داخلہ مل سکتا ہے

ان کی مطلوبہ کوالیفیکیشن کیا ہے کون سی دستاویزات درکار ہوتی ہیں مختلف یونیورسٹیز اور کالجز کی فیس کتنی ہے ادائیگی کیسے ہوتی ہے کتنے عرصے

کا کورس ہوتا ہے اور کتنے عرصے کا ویزا ملتا ہے جو اسٹوڈنٹ پاکستان سے جا کر باہر بڑھ رہے ہیں ان کے تجربات کیا ہیں جو بیرون ملک جانا چاہتے ہیں ان کو کیا تیاری کرنی چاہیے بہترین اعلی تعلیمی مواقع کہاں کہاں پر میسر ہیں پاکستانی اسٹوڈنٹس ان مواقع سے کب کیسے کہاں فائدہ اٹھا سکتے ہیں یہ اور اس طرح کے اور بہت سے سوالات کا جواب حاصل کرنے اور مستقبل کے کیریئر کی رہنمائی کے

لیے ہمارے پاکستان اور بیرون ملک موجود کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ابھی رابطہ کریں اپنے کوائف فون نمبر اور ای میل جیوے پاکستان کے ای میل

Jeeveypakistan@yahoo.com

اور واٹس ایپ

03009253034

پر ارسال کریں ۔ کنسلٹنٹ کی ٹیم خود آپ سے رابطہ کرے گی اپنی دستیابی اور وقت کی سہولت کے حوالے سے آپ خود بتائیں ۔

=========================