تعلیم کے بغیر ہمارا کوئی مستقبل نہیں، ٹیکنالوجی ہر چیز کو تبدیل کررہی ہے، مصدق ملک

فیوچر سمٹ کا اختتام، ملکی و عالمی ماہرین اور کارپوریٹ رہنماؤں کا ٹیکنالوجی اور فنانشنل انکلوژن پر توجہ مرکوز کرنے پر زور

کراچی، 7 نومبر، 2024: دی فیوچر سمٹ 2024 کا اختتام ہوگیا ہے۔ یونٹی فوڈز لمیٹڈ اور نٹ شیل کانفرنسز گروپ کے زیراہتمام 2 روزہ سمٹ کا عنوان ‘What Matters Now’ تھا، جس کے لیے انہیں فیصل بینک لمیٹڈ (ایف بی ایل) اور اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کا تعاون حاصل تھا۔ ایونٹ میں 25 عالمی ماہرین اور کارپوریٹ رہنماؤں کے ساتھ ساتھ 1000 سے زائد مندوبین اور پاکستان کے 40 سرکردہ سرکاری اور نجی رہنماؤں نے شرکت کی۔

سمٹ کے دوسرے روز خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی (پٹرولیم ڈویژن) ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ مستقبل کا انحصار تعلیم پر ہے۔ تعلیم کے بغیر ہمارا کوئی مستقبل نہیں۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ کتنے بچے اسکول میں داخلہ لیتے ہیں، کتنے تعلیم چھوڑ دیتے ہیں،کتنے اسکول ہی نہیں جاتے اورملک میں اعلیٰ تعلیم کا معیار کیا ہے؟ ملک اور معاشرے کی ترقی میں اگر کسی چیز سے فرق پڑتا ہے تو وہ تعلیم ہے۔ فزکس، ریاضی، بیالوجی، کیمسٹری، فلاسفی، فنون لطیفہ کو سمجھنا ضروری ہے۔ ان تمام چیزوں سے فرق پڑتا ہے۔ ہم اعلیٰ تعلیم کی بات کرتے ہیں مگر 12 سال کی غیر معیاری تعلیم سے کیا اعلیٰ تعلیم کا ہدف حاصل ہوسکتا ہے۔ ہر بچہ جواسکول یا کالج نہیں جارہا ہے وہ ہمارے مستقبل کا نقصان ہے۔ مصدق ملک نے کہا کہ ٹیکنالوجی ہر چیز کو تبدیل کررہی ہے۔انٹرنیٹ کی وجہ سے اب اسمارٹ شہر بن رہے ہیں۔ چین میں کوئی بھی کرنسی استعمال نہیں کرتا۔ آپ کا بینک اکاونٹ آپ کے ہاتھ میں ہے اور اس کے ذریعے ادائیگی کریں۔ کیلیفورنیا میں اسٹورز میں کوئی شخص موجود نہیں۔ کوئی بھی چیز اٹھائیں اور آپ کے اکاؤنٹ سے پیسے کٹ جائیں گے۔اگر وہ چیز واپس رکھ دیں تو پیسے اکاؤنٹ میں واپس آجائیں گے۔ جو بھی چیز لے کر اسٹور سے نکلیں گے اس کے پیسے خود بخود آپ کے اکاؤنٹ سے کٹ جائیں گے۔.وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ اگر 1970 یا 1980 میں لوگوں کو بتایا جاتا کہ فون بغیر تار کے ہوگا اور آپ اسے لے کر باہر جاسکیں گے تو کوئی یقین نہیں کرتا۔ دنیا نے جس طرح ترقی کی ہے یہ اپنے اندر ایک جادو ہے۔ کاریں بغیر پٹرول اور ڈرائیور کے چل رہی ہیں۔ گھر بیٹھے میلوں دور لوگوں سے بات ہورہی ہے۔ مستقبل آج کا عکاس ہوتا ہے۔ ہم اپنے بچوں کی باتوں کو نہیں سمجھ پاتے اور بچے یہ سمجھ نہ پاتے کہ ہمارے زمانے میں کام کیسے ہوتے تھے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ 2030 یا 2035 کیسا ہوگا۔ بائیو ٹیکنالوجی زندگی اور موت کے بارے میں ہمارے سوچنے کا نظریہ تبدیل کردے گی۔

بینکاری شعبے سے متعلقہ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل) کے صدر اور سی ای او محمد ناصر سلیم نے کہا کہ حبیب بینک ایگری بینکنگ کے حوالے سے پاکستان میں نمبر ون ہے اور اُس نے زرعی شعبے کی ترقی کے لیے ایک الگ ادارہ ایچ بی ایل زرعی بنایا ہے، جو کاشتکاروں کو معیاری بیج اور کھاد کے ساتھ ساتھ زرعی ماہرین کی معاونت اپنے ڈیجیٹل نیٹ ورک ”ڈیرہ“ کے ذریعے فراہم کرتا ہے۔ ہم جدید طریقہ کاشت کے ساتھ کاشتکاروں کو پیداوار میں اضافہ کرتے ہیں اور فصل کی اچھی قیمت کے لیے مؤثر مارکیٹنگ کے ساتھ گودام کی سہولت بھی فراہم کرتے ہیں۔ نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) کے صدر اور سی ای او رحمت حسنی نے کہا کہ نیشنل بینک اپنے کاروبار کو ڈیجیٹلائز کرنے کے ساتھ ساتھ فنانشل انکلوژن اور قرضوں کی آسان رسائی کے لیے پُرعزم ہے۔ این بی پی پارہ چنار سے گوادر اور گلگت تک ایس ایم ایز اور زرعی شعبے کو فنانسنگ فراہم کرتا ہے۔ سٹی بینک کے منیجنگ ڈائریکٹر اور سٹی کنٹری آفیسر احمد خان بوزائی نے کہا کہ سٹی بینک پاکستان میں واحد امریکی بینک ہے، جو غیرملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان لا رہا ہے۔ حبیب میٹروکے صدر اور سی ای او خرم شہزاد خان نے کہا کہ ٹریڈ فنانس کے ذریعے چھوٹی کمپنیوں کو بڑا کاروباری ادارہ بنایا جاسکتا ہے۔ ڈیجیٹائزیشن سے تجارت کو فروغ ملے گا۔ اے آئی سے تجارتی لین دین میں منی لانڈرنگ کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔ بینک البرکہ (پاکستان) لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد عاطف حنیف نے کہا کہ البرکہ بینک اپنے آپ کو ڈیجیٹل بینک کے طور پر تبدیل کررہا ہے، جس کے پاس کمرشل بینکاری لائسنس ہے۔ البرکہ بینک ایک انٹر فرنچائز ٹریڈ پورٹل بنا رہا ہے، جو پاکستانی برآمد کنندگان کو غیر روایتی برآمدی مارکیٹ تک رسائی فراہم کرے گا۔ بینک اسلامی لمیٹڈ کے ڈپٹی سی ای او عمران حلیم شیخ نے کہا کہ صارفین اپنے اہل خانہ سے زیادہ اسلامی بینکوں پر اعتماد کرتے ہیں جو ثابت کرتا ہے کہ اسلامی بینک کتنے قابلِ اعتماد ہیں۔ اسلامی بینکوں کو ایس ایم ایز اور دیگر صارفین کو زیادہ سے زیادہ مدد فراہم کرنے کے لیے قرض دہندگان اور متعلقہ اداروں کے تعاون کی ضرورت ہے۔

پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین اور صدر و سی ای او دی بینک آف پاکستان ظفر مسعود نے کہا کہ بینک کسی بھی قسم کے ٹیکس کے خلاف نہیں، لیکن وہ نہیں چاہتے کہ ایف بی آر ان کے بیلنس شیٹ تک رسائی حاصل کرے، کیونکہ ایف بی آر کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ صرف ریگولیٹرز کو اس تک رسائی حاصل ہے۔ بینک 86 فیصد خسارے کا بوجھ اٹھا رہے ہیں، لہٰذا حکومت کو اس ریلیف پر بینکوں کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ ڈھانچہ جاتی مسائل کو حل کرنے کے لیے تعمیری مکالمہ ضروری ہے نہ کہ ڈکٹیشن پر مبنی رویہ کے۔

فائنڈنگ دی برائٹ اسپاٹ سیشن میں فیصل فنڈز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نادر رحمن نے کہا کہ صحیح جگہ سرمایہ کاری کے لیے اسسٹمنٹ ٹولز تیار کرنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ نقصانات کے کم امکانات کے ساتھ مناسب مصنوعات میں سرمایہ کاری کی جاسکے۔اس کے لیے لوگوں کو منی مارکیٹ کے بارے میں تعلیم دینا ضروری ہے۔ بینکوں اور ایسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے منافع کی نوعیت مختلف ہے۔اس وقت بینک ڈپازٹس 5 فیصد ہیں اور ہم توقع کر رہے ہیں کہ اگلے 5 سے 10سال میں یہ 20 فیصد تک پہنچ جائے گی۔المیزان انویسٹمنٹ مینجمنٹ لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر امتیاز غدر نے کہا کہ اسلامی بینک سمیت تمام بینکوں کا کام معاشرے کے ہر طبقے کو خدمات فراہم کرناہے۔ہمیں سرمایہ کاروں کی ضروریات کے مطابق اپنے آپ کو موزوں بنانا ہوگا۔

پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج لمیٹڈ کے قائم مقام صدر فرحان طاہر نے کہا کہ صارفین کو سہولت کی فراہمی اور رسائی ہمارے اہم کاروباری اصول ہیں۔ مؤثر پروسیسنگ صارفین کی اطمینان، آمدن میں اضافہ اور مارکیٹ میں رسائی کو فروغ دیتی ہے۔

ایمرجنگ ایشوز سیشن سے خطاب کرتے ہوئے سینئر ایگزیکٹو آفیسر اسٹار لنک، مڈل ایسٹ اینڈ افریقہKonstann Makarovنے کہا کہ آبادی کا 60 فیصد نوجوان نسل پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں۔ تعلیم اور فنی تربیت میں ہدفی سرمایہ کاری کے ذریعے نوجوانوں کو معاشی ترقی اور جدت کا اہم محرک بنایا جاسکتا ہے۔ فاؤنڈر اور سی ای او دی ٹیلنٹ گیمزاور فاؤنڈر اور سی ای اوانگیج کنسلٹنگ Paul Keijzerنے کہا کہ کامیاب رہنما وہ ہوتا ہے جو مستقبل پر نظر رکھے اور اہداف کے حصول کے لیے آج سے ہی اقدامات کرے۔ سی ای او اینڈ کوفاؤنڈر، فریش سلوشنز اے آئی Stéphanie Kioutsoukisنے کہا کہ ہم معلوماتی دور سے ڈیجیٹل دور میں آگئے ہیں۔ جدت نے عالمی ثقافت کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ مصنوعی ذہانت تیزی سے کمپنیوں کا حصہ بن رہی ہے، اور ڈیٹا کنکٹیویٹی اور AI ایک دوسرے سے مربوط ہورہی ہیں۔ریجنل پالیسی اور انسائیڈ لیڈ، اے سی سی اے Chun Weeنے کہا کہ توانائی کی صنعت موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجوں سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔پائیدار مستقبل کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنا ضروری ہیں۔

صحت کے حوالے سے سیشن میں شرکاء نے فارما انڈسٹری میں ٹیکنالوجی اور اے آئی کے استعمال پر زور دیا جس سے نہ صرف ادویہ کی تیاری کے وقت میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ مخصوص مریضوں کے لیے ان کی ضرورت کے مطابق دوائیں بھی بنائی جاسکیں گی۔

ٹی سی ایس پرائیویٹ لمیٹڈ کے صدر سائرہ اعوان ملک نے “Rethinking Talent, Diversity & the Workplace”سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیریئر ڈیولپمنٹ کے حوالے سے ہم نے اپنے ٹریننگ پروگرام کے ذریعے خاص طور پر آئی ٹی سیکٹر میں خواتین کی شمولیت کی کوشش کی ہے۔ سینئر عہدوں پر خواتین کو فائز کرنے کے ساتھ ہم گھر سے کام کرنے اور ریموٹ ورکنگ کی سہولت بھی فراہم کرتے ہیں۔ ایک ادارے کی ثقافت سب سے اہم ہوتی ہے، مختلف پس منظر رکھنے والے ٹیم کے ہر ممبر کو مقصد کے حصول کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ایس اینڈ پی گلوبل پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر مجیب ظہورنے کہا کہ 40 ہزار ملازمین ایس اینڈ پی گلوبل کی ترقی میں حصہ ڈال رہے ہیں۔ ہم اپنے ملازمین کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے لیے تعلیمی پروگرام کا اہتمام کرتے ہیں۔ کسی فرد کی صلاحیتوں کو ان کی طاقت کے مطابق پروان چڑھانا شمولیت کو یقینی بناتا ہے۔ صارفین کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کمپنیوں کو منفرد صلاحیت کے حامل افراد سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے چیئرمین عاکف سعید نے کہا کہ پاکستانی کی افرادی قوت میں خواتین کی شرکت خطے اور عالمی معیار کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اس وقت پاکستان میں خواتین کی شمولیت 28 فیصد ہے جس کو 2030 تک 40 فیصد تک لانا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے لیے بطور ریگولیٹر کے ہم نے ایک رضاکارانہ پروگرام شروع کیا ہے۔ کاروباری اداروں کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے احساس دلانا ہے کہ یہ کس طرح کاروبار کو متاثر کررہا ہے۔ ٹیکنالوجی کے استعمال سے کارپوریٹ نگرانی کی لاگت میں کمی آتی ہے۔

===================================

Sohaib Super Store
·
اجرک سوٹ 3 پیس
سندھی کڑاھی شرٹ دوپٹہ کڑھائی کے ساتھ
3,000/- روپے ……
( 03094386375 )
WhatsApp


8 رنگ والا بلوچی کڑاھی سوٹ
قیمت 4,000 روپے

( 03094386375 )
WhatsApp


Embroidery Ladies Suit
( 3,000/- )روپے
For Order Please Contact

( 03094386375 )
WhatsApp
=====================================

بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں

بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں۔

تفصیلات کے مطابق ایسے نوجوان طلبا طالبات جو بیرون ملک اعلی تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں اور بہترین انٹرنیشنل یونیورسٹیز اور کالجز میں داخلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اسٹڈی ویزا یا اسٹوڈنٹ ویزے پر باہر جانا چاہتے ہیں انہیں کب کہاں کیسے داخلہ مل سکتا ہے

ان کی مطلوبہ کوالیفیکیشن کیا ہے کون سی دستاویزات درکار ہوتی ہیں مختلف یونیورسٹیز اور کالجز کی فیس کتنی ہے ادائیگی کیسے ہوتی ہے کتنے عرصے

کا کورس ہوتا ہے اور کتنے عرصے کا ویزا ملتا ہے جو اسٹوڈنٹ پاکستان سے جا کر باہر بڑھ رہے ہیں ان کے تجربات کیا ہیں جو بیرون ملک جانا چاہتے ہیں ان کو کیا تیاری کرنی چاہیے بہترین اعلی تعلیمی مواقع کہاں کہاں پر میسر ہیں پاکستانی اسٹوڈنٹس ان مواقع سے کب کیسے کہاں فائدہ اٹھا سکتے ہیں یہ اور اس طرح کے اور بہت سے سوالات کا جواب حاصل کرنے اور مستقبل کے کیریئر کی رہنمائی کے

لیے ہمارے پاکستان اور بیرون ملک موجود کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ابھی رابطہ کریں اپنے کوائف فون نمبر اور ای میل جیوے پاکستان کے ای میل

Jeeveypakistan@yahoo.com

اور واٹس ایپ

03009253034

پر ارسال کریں ۔ کنسلٹنٹ کی ٹیم خود آپ سے رابطہ کرے گی اپنی دستیابی اور وقت کی سہولت کے حوالے سے آپ خود بتائیں ۔

=========================