ون پوائنٹ
نوید نقوی
=============

پوری دنیا کی نظریں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدارتی انتخابات پر ٹکی رہی ہیں، دنیا بھر کا میڈیا امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ڈیرے ڈالے ہوئے تھا۔ کیوں نہ ڈیرے ڈالتا ریاست ہائے متحدہ امریکہ بلاشبہ دنیا کا طاقتور ترین ملک ہے اور آنے والے وقتوں میں دنیا میں امن قائم ہوتا ہے یا آٹھ ارب انسانوں کو تیسری عالمی جنگ کی ہولناکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ امریکی صدر طے کریں گے، امریکی انتخابات پر تفصیل سے آنے والے دنوں میں ضرور لکھوں گا کیونکہ صدر چاہے ریپبلکن پارٹی کا ہو یا ڈیموکریٹ پارٹی کا پاکستان ایک نیوکلیئر پاور ہے، اس پر براہ راست اثر ہوتا ہے۔ ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ سابق نائب صدر ڈیموکریٹ پارٹی کی امیدوار کملا ہیرس کو شکست دے کر امریکہ کے 47 ویں صدر بن گئے ہیں۔ لیکن آج ہمارا موضوع ایک ایسی تنظیم یعنی برکس ہے، جس کے روز بروز عروج سے سپر پاور امریکہ پریشان ہے۔ انڈیا ہمارا پڑوسی ملک ہے اور 1947 میں جب سے تقسیم ہند ہوئی ہے، ہمارے اختلافات چلے آ رہے ہیں۔ آج انڈیا آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے، ساتھ اسے دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ شروع سے ہی اپنی خارجہ پالیسی کو متوازن رکھنے میں کامیاب ہوا ہے اور آج امریکہ اور اس کے اتحادیوں سمیت، مخالف بلاک روس، چین سے بھی فوائد سمیٹ رہا ہے۔ جبکہ ہم ابھی تک برکس کی ممبرشپ حاصل کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ 22 سے 24 اکتوبر کو روس کے شہر قازان میں برکس کا سربراہی اجلاس منعقد ہوا جس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، انڈیا سمیت 36 ممالک کے سربراہان شریک ہوئے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ برکس پاکستان کے لیے کتنا اہم ہے اور اس کی ممبرشپ حاصل کرنے سے ہمیں کیا فائدہ مل سکتا ہے؟ یہی سوال میں نے اپنے استاد محترم سینئر تجزیہ کار جناب سید صفدر علی صفدر صاحب سے کیا تو انہوں نے جو فرمایا، وہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں تاکہ آپ بھی جان سکیں کہ برکس تنظیم پاکستان کے لیے کس حد تک اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ برکس BRICS برازیل، روس، انڈیا، چین اور ساؤتھ افریقہ کا ایک ایسا گروپ ہے جس کا مقصد دنیا میں امریکی بالادستی سے ہٹ کر ایسا نظام تشکیل دینا ہے جس میں امریکہ کا اثر ورسوخ نہ ہو۔ اس تنظیم کا مقصد دنیا کے سب سے اہم ترقی پذیر ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا اور ترقی یافتہ مغربی ممالک کی سیاسی اور معاشی طاقت کو چیلنج کرنا تھا۔ یہ تنظیم 16 جون 2006 میں قائم کی گئی تھی۔ 2010 میں جنوبی افریقہ کو بھی اس تنظیم میں شامل کر دیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ برکس ممالک دنیا کی جی ڈی پی کا 27 فیصد جبکہ دنیا کے زمینی رقبے کے تقریباً 27 فیصد اور عالمی آبادی کے 45 فیصد پر محیط ہیں۔ برازیل، روس، چین اور بھارت دنیا کے دس بڑے ممالک میں شامل ہوتے ہیں جن کی معاشی و دفاعی طاقت کے آگے نیٹو جیسا طاقتور اتحاد بھی خوفزدہ ہے۔ برکس ممالک کو سرکردہ ترقی یافتہ معیشتوں کے G7 بلاک کا سب سے اہم جیو پولیٹیکل حریف سمجھا جاتا ہے۔ اگست 2023 میں، 15ویں برکس سربراہی اجلاس میں، جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا نے اعلان کیا کہ ارجنٹائن، مصر، ایتھوپیا، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو بلاک میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ لیکن اکتوبر 2024 میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں سعودی عرب کے علاوہ باقی ممالک کو باقاعدہ طور پر ممبرشپ دے کر خوش آمدید کہا گیا۔ اس کے علاوہ آنے والے اجلاس میں کیوبا، شمالی کوریا، بیلاروس، شام، وینزویلا جیسے امریکہ مخالف ممالک کو ممبرشپ دینے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ برکس نے گزشتہ 18 سالوں میں متعدد میکانزم تشکیل دیے ہیں۔ ان میں رہنماؤں کے سربراہ اجلاس، وزارتی اجلاس اور معیشت، توانائی، تجارت اور ٹیکنالوجی جیسے مختلف شعبوں میں تعاون شامل ہیں۔ برکس کو وسیع پیمانے پر عالمی اقتصادی ترقی کو فروغ دینے، عالمی حکمرانی کو بہتر بنانے اور بین الاقوامی تعلقات میں جمہوریت کو فروغ دینے میں ایک تعمیری طاقت کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ استاد محترم سابق ڈائریکٹر کرنٹ افیئرز میٹرو ون نیوز سید صفدر علی صفدر صاحب کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اس تنظیم کا ممبر بن کر بے پناہ فوائد حاصل کر سکتا ہے۔ برکس ممالک کا اپنا بینک بھی ہے، لہذٰا پاکستان عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے ہٹ کر ‘برکس’ ممالک سے بھی معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن جہاں پاکستان کو فوائد ملنے کی توقع ہو وہاں ہمارا پڑوسی ضرور تلملاتا ہے، وہ کسی صورت نہیں چاہے گا کہ پاکستان برکس کا ممبر بنے، وہ ضرور مخالفت کرے گا بلکہ مغربی ممالک بھی نہیں چاہیں گے کہ پاکستان ایسے فورم کا حصہ بنے جس میں چین اور روس جیسے ممالک سربراہ ہوں۔ لیکن پاکستانی قیادت کو ملک و قوم کے وسیع تر مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے جلد از جلد اس پر اثر گروپ کی ممبرشپ حاصل کرنی ہوگی تاکہ ان ممالک کی منڈیوں میں پاکستانی مال آسانی سے پہنچ سکے۔ آنے والا وقت چین کا ہے اور ہمیں ہر اس فورم کو جوائن کرنا چاہیئے جہاں چین ہو تاکہ چینی ٹیکنالوجی اور مہارت سے ہم بروقت فوائد حاصل کر سکیں
===================================

Sohaib Super Store
·
اجرک سوٹ 3 پیس
سندھی کڑاھی شرٹ دوپٹہ کڑھائی کے ساتھ
3,000/- روپے ……
( 03094386375 )
WhatsApp

8 رنگ والا بلوچی کڑاھی سوٹ
قیمت 4,000 روپے
( 03094386375 )
WhatsApp

Embroidery Ladies Suit
( 3,000/- )روپے
For Order Please Contact
( 03094386375 )
WhatsApp
=====================================


بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں
بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں۔
تفصیلات کے مطابق ایسے نوجوان طلبا طالبات جو بیرون ملک اعلی تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں اور بہترین انٹرنیشنل یونیورسٹیز اور کالجز میں داخلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اسٹڈی ویزا یا اسٹوڈنٹ ویزے پر باہر جانا چاہتے ہیں انہیں کب کہاں کیسے داخلہ مل سکتا ہے

ان کی مطلوبہ کوالیفیکیشن کیا ہے کون سی دستاویزات درکار ہوتی ہیں مختلف یونیورسٹیز اور کالجز کی فیس کتنی ہے ادائیگی کیسے ہوتی ہے کتنے عرصے
کا کورس ہوتا ہے اور کتنے عرصے کا ویزا ملتا ہے جو اسٹوڈنٹ پاکستان سے جا کر باہر بڑھ رہے ہیں ان کے تجربات کیا ہیں جو بیرون ملک جانا چاہتے ہیں ان کو کیا تیاری کرنی چاہیے بہترین اعلی تعلیمی مواقع کہاں کہاں پر میسر ہیں پاکستانی اسٹوڈنٹس ان مواقع سے کب کیسے کہاں فائدہ اٹھا سکتے ہیں یہ اور اس طرح کے اور بہت سے سوالات کا جواب حاصل کرنے اور مستقبل کے کیریئر کی رہنمائی کے
لیے ہمارے پاکستان اور بیرون ملک موجود کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ابھی رابطہ کریں اپنے کوائف فون نمبر اور ای میل جیوے پاکستان کے ای میل
Jeeveypakistan@yahoo.com
اور واٹس ایپ
03009253034
پر ارسال کریں ۔ کنسلٹنٹ کی ٹیم خود آپ سے رابطہ کرے گی اپنی دستیابی اور وقت کی سہولت کے حوالے سے آپ خود بتائیں ۔
=========================























