
کراچی: 6 نومبر، 2024:: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے غیرملکی انویسٹرز کو آن لائن ویزہ کی سہولت فراہم کریں گے۔ ٹیکس آمدن بڑھانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ ٹیکسزاور توانائی کے مسائل حل کرنا، پنشن اصلاحات اور حکومتی مالیاتی اداروں کی رائٹ سائزنگ وقت کی ضرورت ہے۔ نجی شعبہ ہی ملک کوسنبھال سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیرخزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے یونٹی فوڈز لمیٹڈ اور نٹ شیل کانفرنسز گروپ کے زیر اہتمام ”دی فیوچر سمٹ 2024“ کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ فیصل بینک لمیٹڈ اور اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے تعاون سے جاری دو روزہ ایونٹ کا عنوان ‘What Matters Now’ ہے، جس میں 25 عالمی ماہرین اور کارپوریٹ رہنماؤں کے ساتھ ساتھ 1000 سے زائد مندوبین اور پاکستان کے 40 سرکردہ سرکاری اور نجی رہنماء شرکت کررہے ہیں۔
محمداورنگزیب نے کہاکہ شرح سود کا 22 فیصد سے کم ہوکر 15 فیصد پر آنا، کریڈٹ ریٹنگ اور غیرملکی زرمبادلہ ذخائر میں بہتری، مہنگائی کا 38 فیصد سے سنگل ڈیجیٹ پر آنا، ملکی کرنسی میں استحکام ایسے اقدامات ہیں جن پر ہمیں اپنی معاشی عمارت دوبارہ کھڑی کرنی ہے۔ ہم درست سمت میں جارہے ہیں تاہم ابھی طویل سفر باقی ہے۔ مہنگائی میں کمی کے باوجود اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم نہیں ہورہیں، جس کی وجہ مڈل مین ہے۔ مرغی اور دالوں کی قیمتوں میں اضافہ برداشت نہیں کریں گے۔ ہم یقینی بنائیں گے کہ مڈل مین عوام کو فائدہ پہنچانے میں رکاوٹ نہ بنے۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی ایک بڑا مسئلہ ہے، جس کو کنٹرول کرنا ہوگا۔ ملکی ترقی کے لیے معیشت کی ڈی این اے کو برآمدات پر مبنی اکانومی میں تبدیل کرنا ہوگا۔ نجی شعبہ کاروبار بڑھانے کے ساتھ اپنی پیداواری صلاحیت میں بھی اضافہ کرے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے حکومت غیرملکی انویسٹرز کو آن لائن ویزے کی سہولت فراہم کرے گی۔ ہم چاہتے ہیں کہ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) برآمدی شعبے میں ہو، بصورت دیگر کرنسی مسائل پیدا ہوں گے۔ شرح سود میں کمی آ رہی ہے جس کی وجہ سے بینکوں سے قرض لینے میں اضافہ ہوا ہے۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ایک بڑا مسئلہ ہے جس پر قابو پانا ہوگا۔ بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے بچوں کو تعلیم اور صحت جیسی ضروریات کی فراہمی میں مشکلات پیش آ تی ہیں۔
قبل ازیں خطبہ استقبالیہ میں نٹ شیل گروپ کے بانی اور چیئرمین محمد اظفر احسن نے سمٹ میں شریک تمام ملکی اور غیرملکی مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مواقع کی سرزمین ہے، جہاں معیشت کے ہر شعبے میں بہت مواقع ہیں۔ سرمایہ کاروں کو ان مواقع سے و فائدہ اٹھانا چاہیے۔سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے حکومت طویل مدتی پالیسیاں بنائے۔ ملکی معاشی استحکام کے لیے سیاسی استحکام ضروری ہے۔
یونٹی فوڈزلمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فرخ امین نے کہا ہمارے لیے سب سے پہلے پاکستان ہے اور یہی خوشحالی اور ترقی کا راستہ ہے۔ فوڈ سکیورٹی کے حوالے سے اقدامات ضروری ہیں۔ خوراک کی فراہمی کے لیے کاشتکاروں کو سہولت فراہم کی جائیں۔ زراعت کے جدید طریقوں اور ٹیکنالوجی سے آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے زرعی پیداوار میں اضافہ نہیں ہورہا۔
اوورسیز انویسٹرز چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری (او سی سی آئی) کے صدر اور فیصل بینک کے صدر و سی ای او یوسف حسین کہا کہ او آئی سی سی آئی پاکستانی معیشت کے فروغ میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔ بھاری ٹیکسز کی ادائیگی کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کے معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ مستحکم مستقل کے لیے نوجوان کو تعلیم اور ہنر سے آ راستہ کرنا ضروری ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کی چیئرمین پرسن اور سابق وفاقی وزیر و گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی معیشت کے ہر شعبے اور ہر فرد کو متاثر کررہی ہے۔ پاکستان میں موسم دنیا کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے تبدیل ہورہا ہے۔ پاکستان کو 1992سے 2021 کے درمیان موسمی حالات کے باعث 29.3 ارب ڈالرز کا معاشی نقصان ہوا،جو کہ 2022 میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 11 فیصد سے زائد ہے۔ ماحولیات کی وجہ سے انفرااسٹرکچر کے نقصانات کی مرمت اور تعمیر نو کے لیے اربوں ڈالرز درکار ہیں۔ انٹرنیشنل مانیٹری فندز (آئی ایم ایف) کے مطابق اگر جی ڈی پی کے ایک فیصد کی ماحولیات کی بہتری کے لیے سرمایہ کاری کی جائے تو پاکستان کو جن مسائل کا سامنا ہے ان سے نمٹا جاسکتا ہے۔شمشاد اختر نے کہا کہ پاکستان کو اپنی معیشت کو کم کاربن اخراج والی معیشت بنانا ہوگا اور کاربن اخراج میں 50 فیصد کمی لانا ہوگی۔ پٹرولیم پر موجود سیکٹرز میں سے کم از کم 60 فیصد کو متبادل توانائی اور30فیصد گاڑیوں کو الیکٹرک گاڑیوں میں تبدیل کرنا ہوگا۔ عالمی بینک کے مطابق پاکستان کو2023 سے 2030 کے درمیان 348 ارب ڈالرز درکار ہیں۔ یہ رقم زیر غور عرصے کے مجموعی جی ڈی پی کا 10.7 فیصد ہوگا۔ پاکستان کو صحت اور تعلیم میں انسانی وسائل کو بڑھانا ہوگا۔
سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے کہا کہ پاکستان کو ایف ڈی آئی کے ساتھ ساتھ تعلیم کے فروغ کے لیے بھی اقدامات کرنا چاہیے۔ پاکستان بار بار معاشی بحران کا شکار ہوتا ہے، جس کی وجہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہے۔پاکستان جب بھی آئی ایم ایف پروگرام میں گیا اس کی وجہ کرنٹ اکاونٹ خسارہ ہوتا ہے۔ رضا باقر نے کہا کہ حکومت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کتنا قرضہ لینا ہے اور کتنا ٹیکس سے فنڈز جمع کرنا ہے۔ ملکی ذرائع سے غذائی ضروریات پوری نہ ہونے کے باعث ہمیں درآمدات کرنا پڑتی ہیں، جس سے کرنٹ اکاونٹ خسارہ بڑھتا ہے۔ گزشتہ 20 سال میں حکومت اپنے اخراجات سے زائد آمدن حاصل کررہی ہے جس کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہوا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے قونصل جنرل ڈاکٹر بخیت عتیق الرومیتی نے کہا کہ پاکستان کے پاس لاجسٹک اور زراعت کے شعبے میں بہترین مواقع ہیں۔ پاکستانیوں کو مایوسی کے بجائے ملکی ترقی کے لیے مل جل کر کام کرنا چاہیے۔ یو اے ای کے قیام کے وقت پاکستان سپورٹ فراہم کرنے والا پہلا ملک تھا۔ امارات کے بہتر انفرا اسٹرکچر میں پاکستانیوں کا اہم کردارہے۔ ملکی ترقی کے لیے ذاتی اختلافات اور مسائل کو ایک طرف رکھ کر کام کرنا چاہیے۔متحدہ عرب امارات میں جب کوئی سرمایہ کار آتا ہے تو ہم اس کے لیے دروازے کھول دیتے ہیں اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے بعض اوقات ملکی قوانین اور قواعد بھی توڑ دیتے ہیں یا تبدیل کردیتے ہیں۔ قونصل جنرل متحدہ عرب امارات کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس فوڈ سکیورٹی کا شعبہ اس ریجن میں نمبر ون ہے۔ پاکستان کے آم دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ جب ملک واپس جاتے ہیں تو رشتہ دار پاکستانی آموں کی فرمائش کرتے ہیں یہ دبئی میں ایک سوغات ہیں۔ پاکستان سے آم دس ڈالرز میں دبئی پہنچتا ہے اور وہاں سے دوبارہ پیک ہوکر 120 ڈالر میں فروخت ہوتا ہے۔ پاکستان کو اپنی زراعت میں ویلیو ایڈیشن کرنا چاہیے۔
کے۔ الیکٹرک کی چیف ڈسٹری بیوشن اور مارکومس آفیسر سعدیہ دادا نے کہا کہ توانائی کا شعبہ ماحولیات کے حوالے سے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ کے۔ الیکٹرک نے ایک سال میں 8لاکھ ٹن سے زائد گرین ہاؤس گیسز کا اخراج کم کیا ہے جو کہ مجموعی اخراج کا 10 فیصد ہے۔سال 2030 تک کے۔ الیکٹرک کاربن اخراج 20 فیصد تک کم کرنے کے لیے پرعزم ہے، جس کے لیے ہم نے جامع منصوبہ بندی کی ہوئی ہے۔ کے۔ الیکٹرک مستقبل میں درآمدی ایندھن پر کام کرنے والا کوئی پاور پلانٹ نہیں لگائے گی، جب کہ سال 2030 تک کے۔ الیکٹرک کے جنریشن مکس میں متبادل توانائی کا حصہ 30 فیصد ہوگا۔ کے الیکٹرک اپنی عمارتوں کو گرین عمارتوں میں تبدیل کرنے پر کام کررہی ہے۔
===================================

Sohaib Super Store
·
اجرک سوٹ 3 پیس
سندھی کڑاھی شرٹ دوپٹہ کڑھائی کے ساتھ
3,000/- روپے ……
( 03094386375 )
WhatsApp

8 رنگ والا بلوچی کڑاھی سوٹ
قیمت 4,000 روپے
( 03094386375 )
WhatsApp

Embroidery Ladies Suit
( 3,000/- )روپے
For Order Please Contact
( 03094386375 )
WhatsApp
=====================================


بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں
بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں۔
تفصیلات کے مطابق ایسے نوجوان طلبا طالبات جو بیرون ملک اعلی تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں اور بہترین انٹرنیشنل یونیورسٹیز اور کالجز میں داخلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اسٹڈی ویزا یا اسٹوڈنٹ ویزے پر باہر جانا چاہتے ہیں انہیں کب کہاں کیسے داخلہ مل سکتا ہے

ان کی مطلوبہ کوالیفیکیشن کیا ہے کون سی دستاویزات درکار ہوتی ہیں مختلف یونیورسٹیز اور کالجز کی فیس کتنی ہے ادائیگی کیسے ہوتی ہے کتنے عرصے
کا کورس ہوتا ہے اور کتنے عرصے کا ویزا ملتا ہے جو اسٹوڈنٹ پاکستان سے جا کر باہر بڑھ رہے ہیں ان کے تجربات کیا ہیں جو بیرون ملک جانا چاہتے ہیں ان کو کیا تیاری کرنی چاہیے بہترین اعلی تعلیمی مواقع کہاں کہاں پر میسر ہیں پاکستانی اسٹوڈنٹس ان مواقع سے کب کیسے کہاں فائدہ اٹھا سکتے ہیں یہ اور اس طرح کے اور بہت سے سوالات کا جواب حاصل کرنے اور مستقبل کے کیریئر کی رہنمائی کے
لیے ہمارے پاکستان اور بیرون ملک موجود کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ابھی رابطہ کریں اپنے کوائف فون نمبر اور ای میل جیوے پاکستان کے ای میل
Jeeveypakistan@yahoo.com
اور واٹس ایپ
03009253034
پر ارسال کریں ۔ کنسلٹنٹ کی ٹیم خود آپ سے رابطہ کرے گی اپنی دستیابی اور وقت کی سہولت کے حوالے سے آپ خود بتائیں ۔
=========================























