مقبوضہ جموں و کشمیر اسمبلی میں کیا ہو گا ، عمر عبداللہ مشکل میں؟

سچ تو یہ ہے،

بشیر سدوزئی۔

بظاہر تو یہ ہی لگتا ہے کہ عمر عبداللہ بے اختیار وزیر اعلی کیا بنا گھمّن گھیری میں آ چکا، لیکن حقیقت میں فاروق عبداللہ کے وسیع تجربہ نے بھاجپا کو بھنور میں پھنسا دیا ہے۔ بھاجپا نے انتخابات کرا کر کشمیریوں کی آواز توانا اور اپنے لیے اپوزیشن کھڑی کر لی۔ ایسی صورت میں لیفٹیننٹ گورنر کو ریاستی دہشت گردی میں مخالفت کا سامنا ہے گو کہ یہ الفاظوں کی حد تک ہی سہی، تاہم انتخابات کے بعد وادی میں مکمل زبان بندی کا ماحول کم ہوا ہے۔ وزیر اعلی، وزراء اور منتخب ممبران اسمبلی پر زبان بندی کیسے ہو، یہ بھاجپا کے لیے مسئلہ بن چکا۔ ممکن ہے کسی سطح پر مودی نظام اس پر بھی غور کر رہا ہو کہ لیفٹیننٹ گورنر کو اور کیا اختیارات دیئے جا سکتے ہیں کہ منتخب وزیر اعلی کے بیان کا اثر ختم ہو جائے۔ اسی باعث مودی نے عمر عبداللہ کو ملاقات کے موقع پر صاف صاف کہہ دیا کہ جموں و کشمیر کی منتخب کابینہ کی قرار داد اپنی جگہ لیکن جموں و کشمیر میں آتنگ بادی کے مکمل خاتمے تک ریاستی درجہ بحال نہیں ہو سکتا۔ تب ہی عمر عبداللہ کی دہلی یاترا سے واپسی کے بعد سری نگر کا سیاسی درجہ حرارت گرم ہو چکا جس میں درجہ بہ درجہ تیزی آ رہی ہے۔ عمر عبداللہ نے کابینہ کے پہلے اجلاس کی پہلی قرارداد میں ریاستی درجہ کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا، جس پر اپوزیشن نے شدید تنقید کی کہ انتخابی منشور میں درج عمر عبداللہ 370 کی بحالی کے مطالبے کو بھول گئے۔ آج 4 نومبر کو سری نگر میں اسمبلی کا پہلا اجلاس ہو رہا ہے جس کے لیے نیشنل کانفرنس اور اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت بھاجپا نے اپنے اپنے طور پر صف بندی کر لی ہے۔ تاہم وادی سے ہی اپوزیشن جو محدود ہے تاہم 370 کو اٹھا کر نیشنل کانفرنس کے لیے مسئلہ کھڑا کئے ہوئے ہیں۔ اور توقع ہے کہ اس اجلاس میں سب سے زیادہ جس مسلے پر بحث ہو گئی، وہ ریاست کی بحالی اور 370 ہی ہے۔ اگر اپوزیشن کا کوئی رکن یا اراکین 370 کی بحالی کے مطالبے کی پرائیویٹ قرار داد ایوان میں پیش کرتے ہیں تو عمر عبداللہ اور نیشنل کانفرنس کے لیے بڑا امتحان ہو گا کہ وہ اس کی حمایت کرتے ہیں کہ مخالفت۔ عمر عبداللہ کے لیے یہی گھمن گھیری ہے، اس کی مخالفت میں عوام کے قہر و غضب کا سامنا ہو گا جب کہ حمایت کرنے پر وفاقی حکومت سے شدید ٹکراؤ جو اس عمل کو غداری کے زمرے میں شامل کر سکتی ہے۔ تاہم امید تو یہی کی جا رہی ہے کہ نیشنل کانفرنس کی قیادت اس پرائیویٹ بل کی حمایت کر کے عوام کے ساتھ ہی کھڑی رہے گی۔ بلا شبہ یہ کہنا پڑتا ہے کہ کشمیری نشیب و فراز سے گزر کر سیاسی طور پر اتنے پختہ اور بالغ ہو چکے کہ ان کو بہکانا بھارت کے لیے مشکل ہو رہا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران بھاجپا سرکاری نے کشمیریوں خاص طور پر وادی کے ووٹوں کو تقسیم کرنے کی حتی المکان کوشش اور بظاہر کامیاب چالیں چلیں لیکن کشمیریوں نے اپنے سیاسی تدبر سے ان چالوں کو ناکام اور جموں و کشمیر کی سب سے پرانی سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس کو اعتماد دیا۔ اب نیشنل کانفرنس شرکت غیرے جموں و کشمیر کے عوام کی اکثریت نمائندہ جماعت ہے جس کو اتحادی بھی پالیسی سازی میں بلیک میل نہیں کر سکتے۔ اس صورت حال میں بھاجپا جموں و کشمیر کے مسئلے پر کافی دباؤ میں نظر آتی ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے گزشتہ روز یونین ٹیریٹری کے یوم تاسیس کے پروگرام میں عمر عبداللہ کی عدم شرکت اور نیشنل کانفرنس کے بائی کاٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وزیر اعلی نے حلف کی خلاف ورزی کی ہے گورنر نے زور دے کر کہا کہ وزیر اعلی اور وزراء نے یونین ٹیریٹری کا ہی حلف لیا ہے اور اب وہ اس کی مخالفت کیسے کر سکتے ہیں۔ آئین ہند پر حلف اٹھانے کے باوجود اس تقریب سے دور ر ہنا دوہرا معیار کے مترادف ہے۔ واضح رہے کہ کمیشنر سری نگر نے یونین ٹیریٹری کے پانچ سال پورے ہونے پر اس پروگرام کا اہتمام کیا تھا جہاں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو مہمان خصوصی شرکت کرنا تھی۔ نیشنل کانفرنس سمیت بھاجپا کے علاوہ تمام جماعتوں نے اس پروگرام کا بائی کاٹ کیا اور وزیر اعلی عمر عبداللہ سمیت کوئی بھی منتخب نمائندہ یا سیاست دان اس تقریب میں شریک نہیں ہوا۔ کانگریس کے مقامی صدر طارق حمید قرہ کا لیفٹیننٹ گورنر کے بیان پر سخت ردعمل آیا اور کہا کہ ہم نام نہاد یونین ٹیریٹری کا یوم تاسیس منانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ”یوم سوگ“ قرار دیتے ہیں۔ محبوبہ مفتی نے اسے یوم سیاہ کہا۔طارق حمید قرہ نے کہا کہ جموں کشمیر کا ریاستی درجہ غیر جمہوری اور غیر آئینی طریقے سے چھین لیا گیا لہٰذا کشمیری کیونکر جشن منائیں۔ یہ ہمارے لیے جشن کا نہیں بلکہ سوگ کا دن ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کے لوگوں کے حقوق چھیننے کے بعد ان کے نمائندوں سے اس نام نہاد جشن میں شرکت کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔ نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہم جموں و کشمیر کو یونین ٹیریٹری مانتے ہی نہیں یہ ایک ریاست ہے۔ سرکاری تقریب کی منتخب سرکار کا بائی کاٹ خود ایک بڑی خبر تھی جس کو کشمیر ہی نہیں بلکہ ہندوستان کے مین میڈیا نے شہ سرخی کے ساتھ شائع کیا۔ ان حالات میں کشمیر ایک مرتبہ پھر دنیا میں ہائی لائٹ ہونے لگا کہ جموں و کشمیر کے عوام بھارت کے ساتھ نہیں ہیں۔ اور جموں و کشمیر کے بارے میں مودی سرکار گزشتہ پانچ برس سے جو دعوی کرتی رہی ہے وہ جھوٹ پر مبنی تھا۔ عالمی میڈیا نے بھی اس کی کیوریج کی کہ جموں و کشمیر کا منتخب وزیر اعلی اور مرکزی حکومت کے درمیان شدید اختلاف ہیں۔ ان خبروں اور سرخیوں کی اشاعت سے کشمیر پانچ سال بعد پھر دنیا کی توجہ حاصل کرنے لگا ہے۔ گو کہ اندرونی صورت حال میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی علاقوں کے محاصرے گرفتاریاں اور قتل و غارت سمیت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں کمی نہیں آئی۔ جب کہ فورسز پر حملوں میں بھی اچانک اضافہ ہوا ہے۔ انتخابات سے قبل جو مارا ماری جموں ریجن میں شروع ہوئی تھی انتخابات کے بعد وہ کافی حد تک وادی میں منتقل ہو چکی۔ جب کہ ریاستی دہشت گردی میں بھی اضافہ ہوا۔ گزشتہ ماہ اکتوبر میں ودای کشمیر کے علاقے میں فورسز پر 6 حملے ہوئے جن میں ایک افسر سمیت 5 سے زیادہ فوجی اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہوئے جب کہ 9 کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔ جن میں سے تین افراد کی دو مختلف جعلی مقابلوں میں شہادت بھی شامل ہے۔ ان شہادتوں کے نتیجے میں 3 خواتین بیوہ اور 6 بچے یتیم ہو گئے۔ محاصرے اور تلاشی کی 148 کارروائیوں کے دوران 169 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ 2 نومبر کو اسلام آباد کے علاقے ہلکان گلی میں فوج نے محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران ایک جعلی مقابلے میں دو نوجوانوں کو شہید کیا۔ قابض فوجیوں نے ایک اور نوجوان کو سرینگر کے علاقے خانیار میں پُرتشدد آپریشن کے دوران شہید کیا۔ سفاک فوجیوں نے خانیار میں ایک گھر کو بھی تباہ کر دیا۔ قبل ازیں خانیار میں ایک حملے میں بھارتی پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ کے 5 اہلکار ہلاک و زخمی ہوگئے تھے۔ حملہ آور تو بچ کر نکلنے میں کامیاب ہو گئے لیکن فورسز نے اپنے اوپر حملے کا تمام غصہ نہتے شہریوں پر نکالا علاقے کا محاصرہ اور نوجوانوں پر تشدد چادر اور چار دیوری کے تقدس کی پامالی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو معمول بنایا اور شہریوں کو محبوس کر دیا۔ اب اس ظلم و ستم پر کم از کم عمر عبداللہ سمیت منتخب ممبران اسمبلی کی صورت میں بات کرنے والے موجود ہیں جس کی کیوریج ہو رہی ہے۔ عمر عبداللہ چوں کہ یو ٹی کے باعث بے اختیار وزیر اعلٰی ہیں۔ تاہم سول حکومت کے قیام کا عوام کو یہ فائدہ ہوا کہ لیفٹیننٹ گورنر یا حکومت کی پالیسی ہی حتمی نہیں رہی بلکہ لیفٹیننٹ گورنر یا مرکزی حکومت ایک صفحہ پر ہے تو عمر عبداللہ کی مقامی حکومت دوسرے صفحے پر، اس پر طرہ یہ کہ ریاست کی مین اسٹریم جماعتوں پر مشتمل اپوزیشن بعض امور اور انڈین نیشنل کانگریس مکمل طور پر عمر عبداللہ کے ساتھ کھڑی ہے جن کو جموں و کشمیر کے عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ عمر عبداللہ کے آنے سے عوام کی سہولت کے لیے کوئی انقلابی اقدام نہیں اٹھایا گیا، لیکن طویل عرصے بعد سرکاری ایوانوں سے ایسی آواز اٹھ رہی ہے جسے عوام کے زخموں پر مرہم پٹی رکھنے کے مترادف قرار دیا جا سکتا ہے۔ منتخب حکومت کو قائم ہوئے لگ بھگ دو ہفتے ہی ہوئے ہوں گے کہ عمر عبداللہ پر اپوزیشن بھاجپا اور لیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے لفاظی کے تیروں کی بارش ہونے لگی اور توقع ہے کہ اس میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا ۔ سیاسی لفاظی جنگ کا یہ فائدہ ہوا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر جو 5 اگست 2019ء کے بعد قبرستان کی خاموشی میں چلا گیا تھا ایک مرتبہ پھر میڈیا میں نمایاں ہو رہا ہے جس سے، متنازعہ ہونے کا جو تاثر مودی سرکار نے جبر و ستم سے ختم کیا تھا وہ پھر واضح ہونے لگا ہے۔ پاکستان کے میڈیا کو تو کشمیر کی کبھی بھی فکر نہیں رہی تاہم بھارت کے صف اول کے میڈیا ہاوسز مقبوضہ جموں و کشمیر اور مرکزی سرکار کے درمیان پالیسی اختلافات کی نمایاں کیوریج کر رہا ہے۔ یہ تحریک آزادی اور حریت پسندوں کے لیے نیک شگون ہے۔ ان لوگوں کے لیے افسوس کا مقام جو کہتے تھے جموں و کشمیر کی تحریک آزادی مودی نے ختم کر دی۔

===================================

Sohaib Super Store
·
اجرک سوٹ 3 پیس
سندھی کڑاھی شرٹ دوپٹہ کڑھائی کے ساتھ
3,000/- روپے ……
( 03094386375 )
WhatsApp


8 رنگ والا بلوچی کڑاھی سوٹ
قیمت 4,000 روپے

( 03094386375 )
WhatsApp


Embroidery Ladies Suit
( 3,000/- )روپے
For Order Please Contact

( 03094386375 )
WhatsApp
=====================================

بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں

بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں۔

تفصیلات کے مطابق ایسے نوجوان طلبا طالبات جو بیرون ملک اعلی تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں اور بہترین انٹرنیشنل یونیورسٹیز اور کالجز میں داخلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اسٹڈی ویزا یا اسٹوڈنٹ ویزے پر باہر جانا چاہتے ہیں انہیں کب کہاں کیسے داخلہ مل سکتا ہے

ان کی مطلوبہ کوالیفیکیشن کیا ہے کون سی دستاویزات درکار ہوتی ہیں مختلف یونیورسٹیز اور کالجز کی فیس کتنی ہے ادائیگی کیسے ہوتی ہے کتنے عرصے

کا کورس ہوتا ہے اور کتنے عرصے کا ویزا ملتا ہے جو اسٹوڈنٹ پاکستان سے جا کر باہر بڑھ رہے ہیں ان کے تجربات کیا ہیں جو بیرون ملک جانا چاہتے ہیں ان کو کیا تیاری کرنی چاہیے بہترین اعلی تعلیمی مواقع کہاں کہاں پر میسر ہیں پاکستانی اسٹوڈنٹس ان مواقع سے کب کیسے کہاں فائدہ اٹھا سکتے ہیں یہ اور اس طرح کے اور بہت سے سوالات کا جواب حاصل کرنے اور مستقبل کے کیریئر کی رہنمائی کے

لیے ہمارے پاکستان اور بیرون ملک موجود کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ابھی رابطہ کریں اپنے کوائف فون نمبر اور ای میل جیوے پاکستان کے ای میل

Jeeveypakistan@yahoo.com

اور واٹس ایپ

03009253034

پر ارسال کریں ۔ کنسلٹنٹ کی ٹیم خود آپ سے رابطہ کرے گی اپنی دستیابی اور وقت کی سہولت کے حوالے سے آپ خود بتائیں ۔

=========================