جہلم چھاونی قبرستان میں حاضری اور منگلا ڈیم جھیل کی سیر ، اگلی منزل روات اور اسلام آباد

پیارا سفر پیاروں کے لیے قسط نمبر 6

جہلم چھاونی قبرستان میں حاضری اور منگلا ڈیم جھیل کی سیر ، اگلی منزل روات اور اسلام آباد

امی جان ، نوید بھائی ، میں اور عظمی سالک سٹی ہاؤسنگ سے جہلم چھاونی قبرستان پہنچے ۔ ہم تینوں کو اپنی نانی امی کا دور اچھی طرح یاد ہے جہلم چھاؤنی میں ہی ان کے ساتھ گزارے دن کیسے بھلا سکتے ہیں وہ بہت شفقت محبت اور پیار کرنے والی بزرگ ہستی تھیں پورے خاندان کے لیے ایک روشن مثال تھیں ان کی آخری آرام گاہ پر حاضری کا موقع ملنا بھی اعزاز کی بات ہے ہمارے پیارے خالو جان قیوم قریشی بھی اسی قبرستان میں آرام فرما رہے ہیں قبرستان میں داخل ہونے کا چھوٹا داخلی دروازہ ہے جس کے بعد پہلے تو خالو جان کی قبر آتی ہے اور پھر قبرستان کے دوسرے کونے پر نانی امی ( اماں جی رشید ہ) کی قبر ہے بزرگوں کی قبروں پر فاتحہ خوانی کی ۔

اس لمحے پرانے واقعات کی ایک فلم آنکھوں کے سامنے چل پڑی جہلم چھاونی میں ہی اماں جی اور خالو جی کے ساتھ گزرے واقعات اور دن یاد آگئے خالو جان کی شخصیت میں بڑا رعب تھا لیکن ہم بچوں کے ساتھ وہ بہت پیار اور شفقت سے پیش آتے تھے ۔ اللہ ہمارے تمام ایسے بزرگوں اور رشتہ داروں کو جو اپنے رب کے حضور پیش ہو چکے ہیں ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے آمین

قبرستان آتے جاتے ہوئے ہم نے مشہور 84 بازار کی موجودہ صورتحال بھی دیکھی جب 80 کی دہائی میں ہم یہاں رہتے تھے اور 90 کی دہائی تک آتے تھےتو یہاں آمد و رفت اور نقل و حرکت بہت آسان تھی
تب سیکیورٹی کے اتنے جھنجھٹ اور مسائل نہیں تھے اب تو واپسی پر اوریجنل شناختی کارڈ بھی چیک ہوا ۔ 84 بازار کے ساتھ لوہے کی باڑ لگا کر رہائشی افراد اور باہر سے انے والے لوگوں کے راستے الگ کر دیے گئے ہیں پہلے تو ہم یہاں صبح شام گھومتے پھرتے رہتے تھے برابر میں ہمارا اسکول تھا ہم سودا سلف بھی اسی بازار سے لیتے تھے اور حجام کے پاس بھی اسی علاقے میں اتے تھے ایک مرتبہ ایک اناڑی حجام نے میرا کان کاٹ دیا تھا اور میرا کافی خون بہ گیا تھا پورا کان تو کٹ کر الگ نہیں ہوا تھا لیکن قینچی اس طرح چلائی کہ بالوں کے ساتھ کان کا اوپری حصہ بھی کٹ گیا تھا۔
یہ وہی 84 بازار ہے جس کے راستے میں ایک پوسٹ بکس آتا تھا اور عامر بھائی کو گھر سے کچھ چیزیں لانے کے لیے پیسے اور پوسٹ کرنے کے لیےایک خط دیا گیا تھا انہوں نے بے دھیانی میں خط کی جگہ کرنسی نوٹ پوسٹ بکس میں ڈال دیا اور خط لے کر دکان پہ سودا لینے پہنچ گئے تھے جب غلطی کا احساس ہوا تو بھاگے بھاگے پوسٹ بکس پر پہنچے وہاں ڈارک نکالنے کے لیے ڈاکیا دن میں دو مرتبہ آتا تھا بس پھر کیا تھا وہاں بیٹھ گئے اور اس کا انتظار کرنے لگے ۔۔۔۔ ادھر گھر پر عامر بھائی کا انتظار ہو رہا تھا کہ وہ کچھ سبزی لینے گئے تھے آئیں تو پکائیں

جہلم چھاونی میں ہمارے بچپن کی بہت حسین یادیں ہیں یہاں جامن اور آم کے پیڑ کثرت سے ہیں ہم بارش میں جامن کے بڑے بڑے تھیلے بھر کر لایا کرتے تھے آم بھی خوب کھائے ۔ جیلم چھاؤنی کا فیملی پارک سب کی توجہ اور دلچسپی کا مرکز ہوتا تھا عید اور دیگر تہواروں پر وہاں خوب رونق ہوتی تھی سب رشتہ دار اکٹھے ہو کر وہاں جایا کرتے تھے ہم تو بہت جھولے لیا کرتے تھے اور تتلیاں پکڑا کرتے تھے ۔ ہمارے گھر کے دوسری طرف راستہ دریا کی طرف جاتا تھا اکثر صبح دریا کی سیر کرنے جاتے تھے دریا کے کنارے پر کچھ آگے مونگ پھلی اگائی جاتی تھی وہاں گولف کورس بھی تھا بڑا گراؤنڈ تھا ایک مرتبہ وہاں خواتین کا مینا بازار لگا تو وہاں بھی گئے بلکہ وہاں ایک سٹال کا حصہ بن گئے تھے ۔ دریائے جہلم پر چونگی جہاں گزرنے والی گاڑیاں ٹول ٹیکس ادا کرتی ہیں وہاں کچھ عرصہ ہمارے ماموں کی ڈیوٹی بھی لگا کرتی تھی ہم بھی ان کے ساتھ جایا کرتے تھے اور گھنٹوں انہیں نوٹ گنتے دیکھتے تھے ہم تو آتی جاتی گاڑیوں کی گنتی کا کھیل کھیلا کرتے تھے کہ کس رنگ کی گاڑیاں زیادہ گزری ہیں یہ میں اپنی اور عامر بھائی کی بات کر رہا ہوں ۔
جہلم چھاونی سے واپسی پر سٹی ہاؤسنگ آگئے گھر پر سب انتظار کر رہے تھے کہ عبداللہ کب اپنی دلہن کو لے کر اسلام اباد سے جہلم پہنچتا ہے تب ہم نے فیصلہ کیا کہ اتنی دیر میں منگلا ڈیم دیکھ کر آتے ہیں ایک گاڑی میں جو لوگ جا سکتے تھے وہ تیار ہو گئے اور یوں اچانک منگل ڈیم کی سیر کا پروگرام بنا اور ہمیں اتنے مختصر دورانیے کی سیر سے روکنے کی کافی لوگوں نے کوشش کی لیکن ہم رکے نہیں اور چل پڑے ۔اس ضد کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ پچھلی مرتبہ بھی جب جہلم گئے تھے تو منگلا ڈیم نہیں جا سکے تھے دو گاڑیوں میں نکلے تھے روہتاس قلعہ کی طرف ۔ واپسی پر منگلہ ڈیم جا رہے تھے تو راستے میں کسی کی طبیعت ناساز ہو گئی تھی اور ہم لوگ ریلوے پھاٹک سے واپس آگئے تھے دوسری گاڑی میں جو لوگ تھے وہ منگلا ڈیم ریحان بھائی کے ساتھ چلے گئے تھے ۔ اس لیے ہم نے اصرار کیا کہ ہم نے منگلا ڈیم ضرور جانا ہے جو بچے منگلا ڈیم نہیں دیکھ سکے تھے ان کو ساتھ لے گئے ۔ تھوڑا فاصلہ ہے لیکن پھر بھی وقت تو لگتا ہے ۔ جہلم کی حدود ختم ہونے کے بعد جب آزاد کشمیر کی حدود شروع ہوتی ہیں تو وہاں پر شناختی کارڈ چیک ہوتا ہے اور وہیں پر گائیڈ بھی کیا جاتا ہے ۔ ماضی میں جب ہم بنگلہ ڈیم جایا کرتے تھے تو بس منگلا ڈیم کے اوپر سے گزرا کرتی تھی اب وہ پرانی سڑک عام لوگوں کے لیے بند کر دی گئی ہے اور دوسرا راستہ کھولا گیا ہے بس یہ سمجھ لیں کہ منگلا ڈیم کے اوپر عام لوگوں کو جانے نہیں دیا جاتا دوسری طرف سے گھوم کر جو سڑک جاتی ہے وہ منگلا ڈیم کی جھیل تو دکھاتی ہے لیکن ڈیم نظر نہیں آتا وہاں پارکنگ فیس بھی لی جاتی ہے اور اس کے بعد کشتی کی سیر کا موقع بھی فراہم کیا جاتا ہے لیکن ہمارے پاس وقت کم تھا اس لیے ہم نے کشتی کی سیر میں دلچسپی نہیں لی اور جھیل کنارے کچھ فوٹوگرافی اور سیلفیاں بنا کر وہاں سے واپسی کا رخ کیا اور واپسی پر ہمیں ریلوے پھاا ٹک بند ملا اور راولپنڈی سے جہلم آنے والی ٹرین کا نظارہ بھی کیا جب سٹی ہاؤسنگ پہنچے تو عبداللہ اپنی چاند جیسی دلہن یسری کو اس کے میکے اسلام آباد سے لے کر آ چکا تھا ماشاءاللہ ہماری یسرا بہو بہت خوبصورت اور پیاری بچی ہے اس کے آنے سے گھر میں چار سو رونق ہے اللہ نے بہت پیاری جوڑی بنائی ہے دعا ہے اللہ ان کو ہمیشہ خوش و خرم رکھے ۔آمین
جہلم میں ایک یادگار قیام ، مدتوں یاد رکھی جانے والی محفل اور ایک تاریخی کرکٹ میچ کی یادوں کے ساتھ اب سٹی ہاؤسنگ سے رخصتی کا وقت آگیا ۔ اگلی منزل روات ۔
ماضی میں جی ٹی روڈ پر سفر کرتے ہوئے روات سے گزرے تو کئی مرتبہ لیکن روات میں کسی اپنے گھر میں رات رکنے کا یہ پہلا موقع تھا چھوٹا بھائی خاور اپنی فیملی کے ساتھ کراچی سے روات منتقل ہو چکا ہے ہمیں اکٹھے پوری فیملی کو خاور کے گھر جانے کا بڑی دیر سے انتظار تھا وہ لوگ بھی کافی عرصے سے ہمارا انتظار کر رہے تھے اپ قدرت کو منظور تھا تو ہم وہاں پہنچ گئے ۔ جہلم سے روات کا سفر بہت ہی خوبصورت ہے دونوں طرف سڑک کافی بہتر اور ٹریفک رواں دواں رہتا ہے راستے میں ہریالی اور پھر پہاڑ آتے ہیں کراچی سے جانے والوں کے لیے یہ پہاڑ الگ نظارہ رکھتے ہیں یہاں کے قدرتی خوبصورت مناظر ہمیشہ ہی پرکشش ہوتے ہیں ۔ میرا خیال تھا کہ روات میں خاور کی رہائش جی ٹی روڈ کی بائیں جانب ہوگی لیکن وہاں پہنچ کر پتہ چلا کہ یوٹرن لینا ہے اور رہائش جی ٹی روڈ کے دائیں جانب ہے ۔ اس مقام پر ٹریفک کا کافی رش تھا ہم پرسکون انداز سے خاور کے گھر پہنچے راستے پر ہماری سواری ہماری گاڑی سوزوکی بلینو نے بہت اچھا ساتھ دیا ۔ کراچی سے چلتے چلتے اب ہم روات پہنچ چکے تھے ۔ سب ایک دوسرے کو مل کر بہت خوش ہوئے ۔ جتنا گرم جوش استقبال تھا اتنا ہی والہانہ پن وہاں پہنچنے والوں میں تھا خاور کا گھر دیکھ کر بہت اچھا لگا خاور اور گل دونوں نے ہی اس گھر کو بہت عمدگی سے سنبھالا اور سنوارا ہے بچے ماشاءاللہ اب ہوشیار ہو گئے ہیں عابیہ عمیمہ اور خضر اس گھر کی اصل رونق ہیں بہت پیار کرنے والے اور بہت عزت احترام سے ملنے والے بچے ہیں اللہ ان کو ہمیشہ خوش و خرم رکھے ۔آمین
خاور کی زبانی روات کے علاقے ، اطراف کے حالات ، اسلام اباد کے راستے سمیت مختلف معاملات پر آگاہی حاصل ہوئی اور یہاں ایک اور یادگار قیام کا آغاز ہوا ۔ خاور فیملی نے کچھ دن پہلے ہی خاندان سے زبردست مبارک باد وصول کی کیونکہ انہوں نے بڑا کارنامہ انجام دیا اور ملک گیر سطح پر ہونے والے سوزوکی گاڑی کے مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے نئی سوزوکی کار کا انعام جیتا واقعی یہ کوئی معمولی بات نہیں ۔ ان کی زبردست کامیابی پر ان کے لیے سب کی مبارک باد اور نیک تمناؤں کا اظہار ان کا حوصلہ بڑھانے میں معاون ثابت ہوا ۔ جب ہم روات پہنچے تو انعام میں نکلنے والی نئی گاڑی ابھی روات نہیں پہنچی تھی لیکن کچھ عرصے میں اس کی آمد یقینی تھی اور خاور فیملی اسی دن کا انتظار کر رہی تھی ۔
روات کے بعد ہماری اگلی منزل اسلام آباد تھی مین جی ٹی روڈ پر اسلام اباد جاتے ہوئے الٹے ہاتھ پر روات قلعہ نظر آتا ہے اس کو باہر باہر سے ہی بائے بائے کیا اور اسلام آباد جا پہنچے عامر بھائی کے گھر کا راستہ دو مجھے یاد تھا حالانکہ راستے میں اب نئے پل اور سگنل بن گئے ہیں جن کی وجہ سے بعض اوقات راستے گڈ مڈ ہو جاتے ہیں لیکن ہم سیدھا عامر بھائی کے گھر پہنچ گئے خیریت سے ۔ وہاں جانے والوں کا اور وہاں انتظار کرنے والوں کا ایک جیسا حال تھا سب خوشی سے نہال ۔ کیا بڑے اور کیا چھوٹے ۔
عامر بھائی کے گھر میں ہمیشہ ہی سب کو بہت پیار محبت عزت احترام ملا ہے اس گھر کی رونق ہی الگ ہوتی ہے سب یہاں پہنچ کر بے حد خوش اور پرسکون ہو جاتے ہیں سفر کی ساری تھکان دور ہو جاتی ہے ارم اور بچے جس قدر اپنائیت عزت احترام سے ملتے ہیں دل باغ باغ ہو جاتا ہے ۔ بڑے بھائی کا گھر بڑا ہی ہوتا ہے۔ اور جب عامر بھائی اپنے مخصوص انداز میں مختلف قصے اور واقعات سناتے ہیں تو سننے والا چاہتا ہے کہ بس سنتا ہی چلا جائے ۔ دعا ہے اللہ تعالی عامر بھائی ارم اور بچوں بینش ، عمر ، عشا ، ایان کو صحت سلامتی عطا کرے اور یوں ہی ہمیشہ مسکراتے رہیں آمین ۔ سب بچے تیزی سے زندگی کے اگلے مراحل کے جانب بڑھ رہے ہیں اللہ تعالی ان کا نصیب اچھا کرے آمین ۔
خاور بھائی اور عامر بھائی کے یہاں دادی امی کی موجودگی سب بچوں کے لئیے باعث مسرت تھی سب ان کی خدمت پر مامور اور ان سے دعائیں لے رہے تھے ۔
اگلے روز عامر بھائی کے ساتھ ٹاپ سٹی ون جانے کا موقع ملا جہاں ان کے ایک دوست اپنا میڈیکل سٹور بھی چلاتے ہیں کچھ گھنٹے وہاں بیٹھنے اور وہاں کی صورتحال کا جائزہ لینے کا موقع ملا یہ اندازہ ہوا کہ اسلام اباد کے نئے ایئرپورٹ کی رونقیں بحال ہونے کے بعد پورے علاقے میں تعمیراتی سرگرمیاں بہت تیز ہو چکی ہیں یہاں بڑے بڑے فائو سٹار ہوٹلز کھلنے والے ہیں اور چاروں طرف اونچی اونچی عمارتیں اور بڑی بڑی سوسائٹیاں آباد ہو رہی ہیں یہاں ایک نیا اور یزید انفراسٹرکچر سے
اراستہ پوش اسلام آباد بنے گا اور یہ امیر پاکستانیوں کا علاقہ ہی رہے گا ۔
شام کو ولید بھائی فیملی سے ملاقات کا موقع ملا ۔


انسان اسلام اباد جاے اور ولید بھائی سے نہ ملے یہ ہو نہیں سکتا پوری فیملی انتہائی محبت پیار اور عزت احترام سے ملتی ہے اور ہمیشہ ہی ایسی ملاقاتیں یادگار رہتی ہیں ۔ ولید بھائی کے گھر کی اپنی رونق ہے اور اپنا طرز زندگی ۔ وہ ہمیشہ ہی دوسروں کے لیے ایک روشن مثال رہے ہیں اپ بچے بھی ان کے نقش قدم پر ہیں ۔ اللہ اس فیملی کو ہمیشہ خوش و خرم رکھے آمین ۔
اس مرتبہ اسلام آباد میں نوید بھائی کے بیٹوں فخر اور دا ود سے ملنے ان کے فلیٹ پر گئے وہاں ان کے کزن سے بھی ملاقات ہو گئی ۔ فخر اور داؤد یہاں پڑھ بھی رہے ہیں اور جاب بھی کر رہے ہیں بہت ذہین اور محنتی بچے ہیں اللہ ان کو کامیاب رکھے ۔ آمین
اس مرتبہ ماموں جی پرویز کی صاحبزادی سمیعہ ندیم سے ملاقات کے لیے ان کے نئے فلیٹ پر جانے کا موقع ملا انہوں نے راولپنڈی کے ایک مصروف علاقے میں بہت ہی خوبصورت اور لگزری اپارٹمنٹ خریدا ہے جسے دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی ۔

موجودہ دور میں کوئی بھی جائیداد خریدنا یا بنانا قطعا آسان نہیں ہے شاید آسان تو کسی دور میں بھی نہیں تھا لیکن اس دور میں بھی جس کسی کو یہ نعمت قدرت کی جانب سے عطا ہو جائے اس پر جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے ۔ ندیم بھائی سمیعہ اور بچے بہت خوش قسمت ہیں دعا ہے اللہ تعالی ان کے گھر کی رونقوں کو یوں ہی برقرار رکھے اور ہمیشہ شاد آباد رہیں ۔
اس مرتبہ میری اور عمر کی سالگرہ کا ایک ایک ساتھ عامر بھائی کے گھر پر کاٹا گیا

۔ یہ ایک اور پر رونق اور یادگار محفل بن گئی ۔ سب کا پیار کا اظہار دیدنی تھا اللہ پاک سب کو سلامت رکھے آمین۔
اس مرتبہ اسلام آباد سے واپسی پر موٹروے سے لاہور جانے کے بجائے جی ٹی روڈ سے براستہ جہلم ہم نے سیالکوٹ جانے کا پروگرام بنایا ۔ سیالکوٹ جانے سے پہلے

خاور بھائی کے گھر روات میں ایک مرتبہ پھر تینوں فیملیز اکٹھی ہوئی اور ایک یادگار فیملی گالا ڈنر ہوا


۔ عامر بھائی میں اور خاور پہلی مرتبہ ٹک ٹاکر بنے اور ہم تینوں نے امر اکبر اینتھونی کے مشہور گانے پر لب ہلائے ہماری اس کاوش کو سب نے سراہا اور عامر بھائی کے اس نئے انداز تو سب سے زیادہ پسند کیا گیا ۔

پہلے عامر بھائی اور پھر خاورر بھائی فیملی کو الوداع کر کے ہم لوگ روات سے سیالکوٹ کے لیے روانہ ہو گئے راستے میں جہلم میں سٹی ہاؤسنگ میں ہمارا مختصر پڑاؤ تھا لیکن آپا روشی نے ایک اور پرتکلف محفل سجائی اور ہائی ٹی کے بعد ہم لوگ سیالکوٹ کے لیے روا نہ ہوئے ۔ جہلم سے سیالکوٹ کا جی ٹی روڈ کا سفر بہت شاندار گزرا ۔ سرائے عالمگیر کھاریاں گجرات وزیرآباد کہیں پر بھی اجنبیت محسوس نہیں ہوتی یہ سب راستے دیکھیں بھالے ہیں اپنے اپنے لگتے ہیں اور سفر بہت مزے سے گزرتا ہے ۔ ہم لوگ بڑے آرام سے ڈرائیو کرتے کرتے تاریخی شہر سیالکوٹ میں داخل ہوئے اور تھوڑی دیر بعد ہماری گاڑی حاجی پورہ کے بنے پر پارک ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔( جاری ہے)

===================================

Sohaib Super Store
·
اجرک سوٹ 3 پیس
سندھی کڑاھی شرٹ دوپٹہ کڑھائی کے ساتھ
3,000/- روپے ……
( 03094386375 )
WhatsApp


8 رنگ والا بلوچی کڑاھی سوٹ
قیمت 4,000 روپے

( 03094386375 )
WhatsApp


Embroidery Ladies Suit
( 3,000/- )روپے
For Order Please Contact

( 03094386375 )
WhatsApp
=====================================

بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں

بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں۔

تفصیلات کے مطابق ایسے نوجوان طلبا طالبات جو بیرون ملک اعلی تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں اور بہترین انٹرنیشنل یونیورسٹیز اور کالجز میں داخلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اسٹڈی ویزا یا اسٹوڈنٹ ویزے پر باہر جانا چاہتے ہیں انہیں کب کہاں کیسے داخلہ مل سکتا ہے

ان کی مطلوبہ کوالیفیکیشن کیا ہے کون سی دستاویزات درکار ہوتی ہیں مختلف یونیورسٹیز اور کالجز کی فیس کتنی ہے ادائیگی کیسے ہوتی ہے کتنے عرصے

کا کورس ہوتا ہے اور کتنے عرصے کا ویزا ملتا ہے جو اسٹوڈنٹ پاکستان سے جا کر باہر بڑھ رہے ہیں ان کے تجربات کیا ہیں جو بیرون ملک جانا چاہتے ہیں ان کو کیا تیاری کرنی چاہیے بہترین اعلی تعلیمی مواقع کہاں کہاں پر میسر ہیں پاکستانی اسٹوڈنٹس ان مواقع سے کب کیسے کہاں فائدہ اٹھا سکتے ہیں یہ اور اس طرح کے اور بہت سے سوالات کا جواب حاصل کرنے اور مستقبل کے کیریئر کی رہنمائی کے

لیے ہمارے پاکستان اور بیرون ملک موجود کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ابھی رابطہ کریں اپنے کوائف فون نمبر اور ای میل جیوے پاکستان کے ای میل

Jeeveypakistan@yahoo.com

اور واٹس ایپ

03009253034

پر ارسال کریں ۔ کنسلٹنٹ کی ٹیم خود آپ سے رابطہ کرے گی اپنی دستیابی اور وقت کی سہولت کے حوالے سے آپ خود بتائیں ۔

=========================