
سندھ ہائیکورٹ
ٹھٹھہ میں بیوی کے قتل اور شواہد چھپانے کا مقدمہ
عمر قید کی سزا کے خلاف ملزم بشیر کی اپیل کی سماعت
عدالت نے ملزم کی اپیل منظور کرلی
عدالت نے ملزم بشیر کی سزا کالعدم قرار دیدی
ملزم بشیر اگر کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو رہا کیا جائے، عدالت
ملزم کو سیشن عدالت ٹھٹہ نے 2016 میں عمر قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی
ملزم کے خلاف 2013 میں مقتولہ کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا
ملزم نے بیوی کو قتل کرکے خودکشی ظاہر کی، مدعی مقدمہ
ملزم کی اہلیہ نے خودکشی کی تھی، وکیل ملزم
میڈیکل رپورٹ میں بھی قتل ثابت نہیں ہوا ہے، وکیل ملزم
مدعی کے مطابق تدفین کے کچھ روز بعد انہیں نامعلوم شخص نے کال کرکے قتل کا بتایا، عدالت
مقدمے کا اندراج بھی وقوعے کے چھ روز بعد بعد ہوا، عدالت
مدری کو کال کرنے والے نامعلوم فرد کو بھی پولیس تلاش نہیں کرسکی، عدالت
قبر کشائی کے بعد کئے گئے پوسٹ مارٹم میں بھی واضح طور پر قتل کی تصدیق نہیں ہے، عدالت
============================
سندھ ہائیکورٹ
تعلیمی اداروں میں طلبا یونین کی بحالی سے متعلق کیس
عدالت نے پانچ ہفتوں میں طلبہ یونین کے انتخابات کا ضابطہ اخلاق بنانے سے متعلق رپورٹ طلب کرلی
جامعہ کراچی کی جانب سے ڈائریکٹر لیگل نے جواب جمع کرایا تھا
طلبا یونین کے انتخابات کے لئے قوانین اور قواعد و ضوابط کی تیاری کا کام شروع کیا جاچکا ہے، جواب
جامعہ کراچی کی سینٹرل اسٹوڈنٹ ایڈوائزری کونسل نے طلبہ یونین کے لئے مجوزہ آئین تیار کرلیا ہے، جواب
مجوزہ آئین سیکریٹری جامعات کو بھی بھیجا گیا ہے، جواب
عدالت نے وزارت جامعات اور بورڈز سے بھی طلبا یونین کی بحالی سے متعلق اقدامات کی وضاحت طلب کی تھی
درخواست تیمور احمد اور دیگر طلبہ کی جانب سے عثمان فاروق ایڈوکیٹ کے توسط سے دائر کی گئی تھی۔
درخواست گزار نے طلباء یونین کے انتخابات کے انعقاد کی استدعا کی تھی
=============================
کارساز ٹریفک حادثہ کیس
عدالت نے ملزمہ نتاشا کو بری کردیا
عدالت نے متوفی کے اہلخانہ کی جانب سے صلح نامے کے بعد بری کردیا
کار ساز کے علاقے میں نتاشا نے باپ بیٹی کو کچل دیا تھا
باپ بیٹی جاں بحق ہوگئے تھے
===========================
سندھ ہائیکورٹ
آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت
عدالت نے تحریری حکم نامہ جاری کردیا
دو درخواستوں کے ذریعے 26 ویں آئینی ترمیم کے کچھ آرٹیکلز کو چیلنج کیا گیا، تحریری حکم نامہ
عدالت سمجھتی ہے کہ آئینی ترمیم سے متعلق سوالات آئینی عدالت بینچز کے سامنے لائے جائیں، عدالت
چیلنج کی گئی ترمیم کے تحت صوبائی آئینی بینچز تب ہی بن سکیں گے جب صوبائی اسمبلی آئینی بینچز کے قیام کے لئے قرارداد منظور کرلے، عدالت
قرارداد اور آئینی بینچز کی عدم موجودگی میں عدالت اپنا دائرہ اختیار استعمال کررہی ہے، عدالت
درخواست گزاروں کے مطابق انصاف کی فراہمی سے متعلق آرٹیکل کے اسٹرکچر کو متاثر کیا ہے، عدالت
ترمیم کے ذریعے بظاہر وفاق اور صوبے اپنے مقاصد کے لئے بینچز تشکیل دینگے، وکیل درخواست گزار
ایسا کرتے ہوئے عالمگیر اصولوں کو نظر انداز کیا گیا ہے، وکیل درخواست گزار
درخواست گزار کے مطابق عوام کے سامنے عدلیہ کو پارلیمنٹ نے فیصلہ کن طاقت کے ذریعے فتح کرلیا ہے، عدالت
درخواست گزار کے مطابق ایگزیکیٹیو نے ترمیم کے ذریعے عدلیہ پر مہر ثبت کردی ہے، عدالت
درخواست گزار نے دلیل دی کہ سائل کو ججز کی پرفارمنس کا جائزہ لینے کا اختیار نہیں دیا جاسکتا، تحریری حکم نامہ
درخواست گزار کے مطابق ایسا کرنے سے مستقبل کے بینچز کو دھمکا کر ماتحت بنایا جاسکتا ہے، تحریری حکم نامہ
عدالت سمجھتی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 239 اس عدالت کے دائرہ اختیار کو محدود کرتا ہے، تحریری حکم نامہ
تاہم یہ وضاحت بھی موجود ہے کہ آئین کے تحت بنیادی حقوق کی فراہمی کو محدود نہیں کیا جاسکتا، تحریری حکم نامہ
درخواست گزار کے مطابق ایگزیکیٹیو کا عدلیہ کی آزادی پر حملہ باعث تشویش ہے، تحریری حکم نامہ
درخواست گزار کے دلائل کے مطابق ڈسٹرکٹ بار راولپنڈی کے کیس میں آئینی حدود میں رہتے ہوئے بنیادی حقوق کے تحفظ کا مکینزم موجود ہے، تحریری حکم نامہ
درخواست گزار کے اٹھائے گئے نکات غور طلب ہیں، تحریری حکم نامہ
عدالت نے فریقین سمیت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے دو ہفتوں میں جواب طلب کرلیا
===================================

Sohaib Super Store
·
اجرک سوٹ 3 پیس
سندھی کڑاھی شرٹ دوپٹہ کڑھائی کے ساتھ
3,000/- روپے ……
( 03094386375 )
WhatsApp

8 رنگ والا بلوچی کڑاھی سوٹ
قیمت 4,000 روپے
( 03094386375 )
WhatsApp

Embroidery Ladies Suit
( 3,000/- )روپے
For Order Please Contact
( 03094386375 )
WhatsApp
=====================================


بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں
بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں۔
تفصیلات کے مطابق ایسے نوجوان طلبا طالبات جو بیرون ملک اعلی تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں اور بہترین انٹرنیشنل یونیورسٹیز اور کالجز میں داخلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اسٹڈی ویزا یا اسٹوڈنٹ ویزے پر باہر جانا چاہتے ہیں انہیں کب کہاں کیسے داخلہ مل سکتا ہے

ان کی مطلوبہ کوالیفیکیشن کیا ہے کون سی دستاویزات درکار ہوتی ہیں مختلف یونیورسٹیز اور کالجز کی فیس کتنی ہے ادائیگی کیسے ہوتی ہے کتنے عرصے
کا کورس ہوتا ہے اور کتنے عرصے کا ویزا ملتا ہے جو اسٹوڈنٹ پاکستان سے جا کر باہر بڑھ رہے ہیں ان کے تجربات کیا ہیں جو بیرون ملک جانا چاہتے ہیں ان کو کیا تیاری کرنی چاہیے بہترین اعلی تعلیمی مواقع کہاں کہاں پر میسر ہیں پاکستانی اسٹوڈنٹس ان مواقع سے کب کیسے کہاں فائدہ اٹھا سکتے ہیں یہ اور اس طرح کے اور بہت سے سوالات کا جواب حاصل کرنے اور مستقبل کے کیریئر کی رہنمائی کے
لیے ہمارے پاکستان اور بیرون ملک موجود کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ابھی رابطہ کریں اپنے کوائف فون نمبر اور ای میل جیوے پاکستان کے ای میل
Jeeveypakistan@yahoo.com
اور واٹس ایپ
03009253034
پر ارسال کریں ۔ کنسلٹنٹ کی ٹیم خود آپ سے رابطہ کرے گی اپنی دستیابی اور وقت کی سہولت کے حوالے سے آپ خود بتائیں ۔
=========================























