73

خوبصورت اداکارہ صنم بلوچ ۔۔۔ پائلٹ نہ بن سکی مگر شہرت کی بلندیوں پر بھرپور اڑان بھری ۔ (تحریر۔ میاں طارق جاوید)

پاکستان کی ٹی وی انڈسٹری میں کچھ لوگ اتنے خوش نصیب ہوتے ہیں کہ جن کے بارے میں یہ کہا جائے کہ ’’وہ آیا ‘‘اس نے دیکھا اور اس نے فتح کرلیا یہ مثال ان پر صادق آتی ہے جس وقت صرف پی ٹی وی تھا تو اس وقت جس اداکار یا اداکارہ کا ڈرامہ آن ایئر ہوتا تھا صبح کو بہت بڑا اسٹار بن جاتا تھا ایسا ہی کچھ صنم بلوچ کے ساتھ ہوا جس نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک سندھی ٹی وی چینل پروگرام میں بطورمیزبان کیا تھا مگر فہد مصطفی کے ساتھ کیا گیا ڈرامہ جو کہ ’’کالک ‘‘کے نام سے تھا نے صنم بلوچ کو راتوں رات اسٹار بنا دیا پھر ایک وقت آیا کہ صنم بلوچ نے دو سال تک کوئی ڈرامہ نہیں کیا کیونکہ وہ اپنی تعلیم مکمل کررہی تھیں ۔اس کے بعد صنم نے مختلف ٹی وی چینل پر بہت سے ڈرامہ سیریل کئے اس دورا ن صنم کو بڑے چینل کی جانب سے مارننگ شو کی آفر ہوئی جو اس نے اپنا اردو تلفظ ٹھیک نہ ہونے پر مسترد کردی لیکن کچھ عرصے کے بعد صنم بلوچ نے ٹی وی مارننگ شو کی میزبانی شروع کردی جو آج تک جاری ہے ۔صنم بلوچ مارننگ شو ز میں ایک غیر روایتی انداز لیکر آئیں ہیں جو اس کی مقبولیت میں بے پنا ہ اضافہ کررہاہے ۔شوبز انڈسٹری میں اپنے کام کے ساتھ مخلص اور اپنی اخلاقیات پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہ کرنے والی صنم بلوچ ساتھی ادارکاروں میںہٹلر مانی جاتی ہیںصنم بلوچ نے کہا کہ میں شارٹ کٹ پر یقین نہیں رکھتی ہمیشہ محنت پر یقین رکھتی ہوں یہی وجہ ہے کہ اسکول لائف میں میں بڑی قابل بچی تھی جس کی وجہ سے ہمیشہ کلاس میں اچھی پوزیشن حاصل کی ۔ میں ایڈوانس ہوم ورک کرتی تھی ایک بار اسکول میں سالانہ امتحان میں تیسری پوزیشن حاصل کی تو میں نے ان سے کہا کہ میرے پیپرز نکلوائیں تو پتہ چل جائے گا یا تو میں اول ہوں گی یا دوئم تیسری پوزیشن میں حاصل نہیں کرسکتی ۔جس پر اسکول انتظامیہ نے ماننے سے انکار کیا تو میں نے وہ اسکول چھوڑ دیا مجھے بچپن میں اسکول تبدیل کرنے کا کافی تجربہ رہا ۔اسکول میں میری میتھس بہت اچھی تھی میں بڑے ہوکر پائلٹ یا ڈاکٹر بننا چاہتی تھی لیکن بڑی بہن شوبز میں تھیں ان کی وجہ سے مجھے شوبز میں کام کرنا پڑا ۔ ایک سوال کے جواب میں صنم بلوچ میں نے کہا کہ میرا ایک روایتی بلوچ فیملی سے تعلق ہے شروع میں بہت زیادہ مسائل کا سامنا رہا فیملی ،چچا حتیٰ کے والد صاحب کی طرف سے شو بزنس میں آنے کی سخت مخالفت کی گئی لیکن میری والدہ نے اسٹینڈ لیا جس کی وجہ سے میں آج شوبز میں ہوں ۔ ایک سوال کے جواب میں صنم بلوچ نے بتایا کہ میں بہت ہی خوش قسمت ہوں کہ میرا ایک بھی پروجیکٹ (ڈرامہ ) آن ایئر نہیں ہوا تھا میرے پاس بڑے بڑے پروجیکٹ موجود تھے بڑے ڈائریکٹرز ،بڑے رائیٹرز ،کے پروجیکٹس کی وجہ سے مجھے بہت زیادہ کام ملنے لگ گیا پھر میں نے جب میرے ڈرامے آن ایئر ہونا شروع ہوئے بطور میزبان مارننگ شوز کرنا شروع کردیا ۔ایک سوال کے جواب میں صنم بلوچ نے کہا ماضی میں ہمارا ڈرامہ بہت اسٹرونگ تھا انڈیا میں کاپی کیا جاتا تھا پھر ایک وقت آیا کہ ہمارا ڈرامہ کافی ویک ہوگیا تھا مگر پھر دوبارہ عروج پر آنا شروع ہوگیا لیکن ہمارے یہاں بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اپنی فلم کو ٹھیک کر نے کے چکر میں ڈرامے کا بیڑا غرق کررہے ہیں ۔ہم اپنی فلم کو بہتر کرنا چاہتے ہیں ۔تو ہمیں اپنا ڈرامہ خراب نہیں کرنا چاہیے ۔ایک سوال کے جواب میں صنم بلوچ نے کہا مجھے پاکستان اور انڈیا سے فلم کی آفر ہوتی رہیں لیکن میں نے فلم میں کام نہیں کیا ۔ ایک انڈین فلم عرفان خان کے ساتھ آفر ہوئی تھی جس کا اسکرپٹ بہت جاندار تھا لیکن بد قسمتی سے حالات خراب ہونے کی وجہ سے یہ فلم نہیں کرسکی شاید اس میں اللہ تعالیٰ کی بہتری تھی ابھی بھی میرے پاس فلموں کی آفرز موجود ہیں میرے پاس اسکرپٹ موجود ہے جس کو میں پڑھ رہی ہوں اگراسکرپٹ اچھا لگا تو ضرور فلم کروں گی مستقبل میں بھی اچھے اسکرپٹ والی فلم اگر آفر ہوئی تو ضرور کروں گی ۔ مارننگ شوز میں ہونے والی شادیوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں صنم بلوچ نے کہا شادیاں ہمارے کلچر کا حصہ ہیں سستی اور مہنگی شادیاں ہماری ہی سوسائٹی میں ہوتی ہیں میں نہیں سمجھتی کہ ہمارے کلچر سے ہٹ کر ہوتا ہے ہمارے ڈراموں میں بھی شادیاں دکھائی جاتی ہیں ۔بس ضرورت اس چیز کی ہے کہ ہم اپنے معاشرے کی اقدار کو نہ چھوڑیں ۔ ایک سوال کے جوا ب میں صنم بلوچ نے کہا میں جھوٹ نہیں بولوں گی اس پروفیشن نے مجھے عزت دی ‘سکھ دیئے ‘خواب پورے کئے ‘دکھوں سے نکالا ‘آج تک مجھے کبھی کسی نے غلط نہیں کہا نہ کسی نے مجھے کبھی ہراس کیا ہے میں گھر میں ایک شرمیلی سی لڑکی ہوں جو اپنے بھائیوں سے ڈانٹ بھی کھا لیتی ہے مگر کچھ نہیں بولتی لیکن باہر مجھے لوگوں کو ڈیل کرنا آگیا کس کے ساتھ مجھے پیار سے بات کرنی ہے کس کے ساتھ مجھے سخت لہجے میں بات کرنی ہے میں ہر کسی کو اس کی حدود میں رکھ کر بات کرتی ہوں جس کی وجہ سے مجھے اپنی فیلڈ سے کوئی شکایت نہیں ہے ہاں جن خواتین کو گھر سے باہر نکلنا ہے ان کیلئے ہر جگہ مسائل ہیں ان مسائل کا حل یہ نہیں کہ آپ گھر میں بیٹھ جائیں بلکہ باہر نکل کر ان کا مقابلہ کرکے ہی مشکلات اور مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں صنم بلوچ نے کہا جب میں اپنے آپ کو فٹ رکھنے کیلئے صحت کے عام اصولوں پر عمل کرتی ہوں وقت پر کھانا ، وقت پر سونا اور ہلکی پھلکی ورزش کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ گھریلو کاموں میں دلچپسی لینا صحت کیلئے بہت مفید ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں صنم بلوچ نے بتایا کہ میری بڑی بہن سبرین شوبز میں تھیں وہ ایک شو کی میزبانی کرتی تھیں مجھے اس کے ساتھ اسٹوڈیو ز جانے کا اتفاق ہوتا رہتا تھا اس وقت میری عمر تقریبا 14سال تھی ایک دن اس نے مجھے بتایا پروگرام میں خوبصورت چہروں کا مقابلہ ہورہاہے جو بھی تصاویر آئیں گی ان میں سے فیس آف دی ایئر کا انتخاب ہوگا تم اپنی تصویریں بھیج دو بہن کی خواہش پر میں نے اپنی تصویریں بھیج دیں اور میں جیت بھی گئی اس طرح مجھے شوبز میں آنے اور شوز کرنے کا اتفاق ہوا ۔میرے شوبز میں آنے اور کام کو سمجھنے کے حوالے سے میری بہن سبرین نے میری بہت مدد کی میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا میری کمزوری یہ تھی کہ میں کسی سے انکار نہیں کرسکتی تھی سبرین نے ہی مجھے سمجھا ہر پروجیکٹ کیلئے ہاں نہیں کیاجا تا اب میں ہر پروجیکٹ پڑھ کر سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتی ہوں ۔ ایک سوال کے جواب میں صنم بلو چ نے کہا کہ ادا کاری میرا پہلا شوق ہے ڈراموں میں کام کرنا مجھے بہت اچھا لگتا ہے کیوںکہ ڈراموں اداکاری کرنا ہوتی ہے جبکہ مارننگ شو میں جیسی ہوں ویسے ہی ہوتی ہوں اداکاری بالکل نہیں کرتی اگر مجھے ہنسی آتی ہے تو میں ہنستی ہوں اگر کسی بات پر رونا آتا ہے تو روتی ہوں ۔ ایک سوال کے جواب میں صنم بلوچ نے بتایا اس فیلڈ میں اکثر اپنے ہم عصروں سے جیلسی ہوتی ہے مگر مجھے بالکل نہیں ہوتی مجھے اپنے اللہ پر یقین ہے جب تک میرارزق لکھا ہے تو میں کام کروں گی میری اپنے شو کے علاوہ دیگر مارننگ شوز کی اینکرز کے ساتھ بہت دوستی ہے ہم اکثر ایک دوسرے کے ساتھ چیزیں شیئر کرتے رہتے ہیں باقی اچھا کام آپ کے ٹیم ورک منحصر ہوتا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں صنم بلوچ نے کہا کہ جوڑیاں تو آسمانوں پر بنتی ہیں عبداللہ اور میں اچھے دوست تھے پھر ایک وقت آیا کہ ہم نے سوچا ہمیں اچھے دوست کے علاوہ اچھے پارٹنر بھی بن سکتے ہیں تو ہم نے شادی کرلی ۔شادی بڑی سادگی سے ہوئی مسجد میں نکاح ہوا جہاں لڑکیاں شادیوں پر لاکھوں کے عروسی ملبوسات پہنتی ہیں میں نے صرف 6ہزار روپے کا جوڑا شادی پر پہنا عبداللہ نے مجھے شادی پر منہ دکھائی میں قرآن شریف کا تحفہ دیا تھا جو میری زندگی کا بہت قیمتی تحفہ ہے ۔میرے خیال میں جوڑیا ں اگر اللہ تعالیٰ بنانا ہے تو ٹوٹتی بھی اللہ کی رضا سے ہی ہیں میں نے شادی طلاق کیلئے نہیں کی تھی ہم نے بڑی کوشش کی چار سال تک شادی کو نبھایا عبداللہ نے مجھ پر کوئی پابندیاں نہیں لگائی تھیں لیکن پھر ایک وقت ایسا آیا کہ ہم دونوں نے سوچا کہ ہم ساتھ نہیں رہ سکتے تو ہمیں الگ ہوجانا چاہیے اس طرح ہماری شادی کا انجام طلاق تک پہنچا ۔ایک سوال کے جواب میں صنم بلوچ نے بتایا کہ ہم بہن بھائیوں کی بہت دوستی ہے اور اس کا سارا کریڈٹ میری والدہ کو جاتا ہے ساری ترقی اور کامیابیاں جو آج مجھے حاصل ہوئیں ہیں وہ اس وجہ سے ہوئی ہیں کہ گائوں کی روایتی عورت نے بہت بڑا اسٹینڈ لیکر ہماری پرورش کی ہے ۔ جس کی وجہ سے آج ہم سب بہن بھائیوں نے بہت ترقی کی ہے یہ سارا کریڈٹ ہماری ماں کو جاتا ہے ۔ایک سوال کے جوا ب میں صنم بلوچ نے بتایا کہ’’ایک تھی مریم ‘‘پاک فضائیہ کا پروجیکٹ تھا جس نے میرا پائلٹ بننے کا خواب پورا کردیا میں نے اس دوران میں مکمل ٹریننگ کی اور کسی بھی جگہ کسی اور سے مدد نہیں لی بلکہ سارا کام خود مکمل کروایا اس دوران میں میں اے آر وائی کے ساتھ منسلک تھی جہاں مجھ پر پابندی پر میں کسی اور چینل کا ڈرامہ نہیں کرسکتی لیکن ایک تھی مریم کیلئے میں نے اسٹینڈ لیا یہ میرے کیریئر کا اہم سنگ میل ہے پاک فضائیہ کی پہلی شہید پائلٹ پر بننے والا یہ ڈرامہ میرے لئے بہت اہمیت کا حامل تھا میں نے اپنے چینل سے باقاعدہ اجازت لیکر ایک تھی مریم میں کام کیا تھا جو میری زندگی کا ایک نہایت شاندار تجربہ ثابت ہوا ۔ ایک تھی مریم میں کام کرپر مجھے پورے پاکستان سے بہت زیادہ پذیرائی ملی ۔ لڑکیوں کو شوبز کی فیلڈ میں آناچاہیے لیکن اپنی اقدار کو ملوظ رکھ کر کام کرنا چاہیے ۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں