جیل کی اصلاحاتی پالیسی کو تمام صوبوں اور عدالتوں نے بھی سراہا ہے، مزید بہتری کیلئے ہم مؤثر اقدامات کر رہے ہیں : وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ

کراچی: سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (اسپارک) نے منگل کے روز محکمہ جیل خانہ جات سندھ کے تعاون سے نوجوان قیدیوں کی فلاح وبہبود کے حوالے سے ایک مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر سندھ کے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے پہلے ہی جیل کے تمام تر قوانین میں اصلاحات کی ہیں جبکہ اس میں مزید بہتری کے لیے ہم موثر اقدامات کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری جیل کی اصلاحاتی پالیسی کو تمام صوبوں اور عدالتوں نے بھی سراہا ہے جبکہ جیلوں کے انتظامات،کنٹرول،سلامتی اور اس کی فلاح وبہبود کے لیے دفعات بنائی گئی ہیں۔ پروجیکٹ منیجر محترمہ شمائلہ وحید کا کہنا تھا کہ اسپارک کی جانب سے سندھ میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں پر موجود دہشت گرد تنظیمیں نوجوانوں میں نفرت اور انتہا پسندی پیدا کرتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسپارک نے ملک کے تمام صوبوں کی جیلوں کے نظام میں بہتری پیدا کی تاکہ نوجوان قیدیوں کو سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی سدرا عمران نے کہا کہ قیدیوں میں جرم، رنگ ، صنف ، زبان ، مذہب اورنسل کی بنیاد پر ان میں کوئی فرق نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کو برابری کے ساتھ مختلف سر گرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے انسانی حقوق ویرجی کوہلی نے اس موقع پر جیل کے اپنے تجربات کو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ایک سال قیدی بن کرسنٹرل جیل حیدرآباد میں گزارا ، میں عام بیرکوں میں رہتا تھا ۔میرے لیے یہ ایک حیرت انگیز تجربہ تھا کہ تمام رنگ،نسل اور مذاہب کے لوگ وہاں پر سکون رہتے تھے بلکہ اتنا پر سکون ماحول تو ہمارے معاشرے میں بھی دیکھنے کو نہیں ملتا۔ جیلیں سزا کے لئے نہیں ہوتیں بلکہ وہ بحالی کے لئے ہیں کیونکہ گرفتاری کو کرائم نہ سمجھو کیونکہ پاکستان میں پہلےگرفتاری ہوتی ہے اور بعد میں تحقیقات ہوتی ہیں۔ آئی جی جیل سندھ نصرت مگن نے کہا کہ ہم جیلوں میں ہر ممکن سہولیات کی فراہمی کے لئے انتہائی پرعزم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں لوگوں کی ذہنیت کو بدلنا ہوگا کیونکہ نوجوان ہمارا مستقبل ہیں۔