سندھ ہائیکورٹ نے سی ای او پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کو کام سے روک دیا

سندھ ہائیکورٹ نے سی ای او پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کو کام سے روک دیا، ادارے میں نئی بھرتیوں، ملازمین کو نکالنے اور تبادلوں پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔
سندھ ہائیکورٹ میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ايئر مارشل ارشد ملک کی تعيناتی کيخلاف درخواست کی سماعت ہوئی، یہ درخواست ایئر لائنز سینئر اسٹاف ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری صفدر انجم نے دائر کی تھی۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ ایئر مارشل ارشد ملک عہدے کیلئے تعلیمی معیار پر پورا نہیں اترتے جبکہ انہیں ایئر لائن سے متعلق تجربہ بھی نہیں ہے۔
عدالت عالیہ نے سی ای او، پی آئی اے کو کام سے روک دیا، ساتھ ہی پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز میں نئی بھرتیوں، ملازمین کو نکالنے اور تبادلوں پر بھی پابندی عائد کردی۔
سندھ ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کو اثاثے خریدنے اور بیچنے سے بھی روک دیا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ قومی ایئر لائن ایک کروڑ روپے سے زائد کے اثاثے فروخت کرنے یا جُز وقتی پالیسی بنانے کا اختیار نہیں رکھتی۔
اس سے قبل سپریم کورٹ پاکستان نے میں بھی ارشد ملک کی تعیناتی چیلنج کی گئی تھی تاہم عدالت عظمیٰ نے درخواست خارج کردی تھی، جج جسٹس عطاء عمر بندیال نے ریمارکس دیئے تھے کہ ایئر مارشل ارشد ملک کی تعیناتی قلیل مدت کیلئے کی گئی ہے۔ عدالت نے پی آئی اے انتظامیہ کو ایک ماہ میں اپنی کارکردگی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔


اپنا تبصرہ بھیجیں