جنسی زیادتی کا الزام ثابت کرنا آسان ہے؟

جنسی زیادتی کا الزام ثابت کرنا آسان ہے؟
پاکستان کے سب سے بڑے اور معتبر انگریزی اخبار ڈان کے مالک حمید ہارون پر معروف فلم ساز و ہدایت کار جامی رضا کی طرف سے جنسی حملے کے الزام کے بعد سوشل میڈیا صارفین اپنے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں ۔ پاکستان میں اس وقت حمید ہارون اور جامی رضا ٹاپ ٹرینڈ ہیں۔ ٹوئٹر صارفین اس معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے اسے کسی سازش کا حصہ بھی قرار دے رہے ہیں۔
واضح رہے تقریبا تین ماہ قبل جامی رضا نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ کے ذریعے انکشاف کیا تھا کہ ملک کے ایک بڑے میڈیا ٹایکون نے ان کو 13 برس پہلے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا تاہم جامی رضا نے اس میڈیا ٹایکون کا نام ظاہر نہیں کیا تھا ۔ دو دن قبل انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوے کہا کہ اس میڈیا ٹایکون کا نام حمید ہارون ہے ۔ گزشتہ روز حمید ہارون کی طرف سے اس کےردعمل میں ایک طویل بیان سامنے آیا ہے جسے ڈان اخبار نے بھی شایع کیا ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کو اور ان کے میڈیا ہاوس کو خاموش کرانے کیلیے وہ طاقتور طبقے متحرک ہیں جو ایسے معاملات میں دلچسپی لیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے جامی رضا سے کبھی تنہائی میں ملاقات نہیں کی اور وہ انہیں گزشتہ بیس برس سے جانتے ہیں۔
حمید ہارون نے کہا ہے کہ وہ شہرت خراب کرنے پر قانونی کارروائی کریں گے اور اپنی ساکھ کی بحال کے لیے خود کو عدالت سے کلیئر کرائیں گے۔
حمید ہارون کا ردعمل سامنے انے کے بعد ٹویٹر پہ جوابی ردعمل میں جامی رضا کا کہنا تھا کہ وہ آئی ایس پی آر کے لیے کام نہیں کرتے اور نہ کبھی زندگی میں انہوں نے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کیلیے کوی گانا لکھا اور نہ کبھی ڈایریکشن کی اور نہ کبھی پیسے لیے ل۔ اس لیے اس طرح کا الزام لگانا درست نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ کسی کے کہنے پہ ایسا نہیں کر رہے بلکہ ان پہ جو بیتی ہے اسے سامنے لا رہے ہیں ۔
بہت سے سوشل میڈیا صارفین نے اس معاملے میں جامی رضا کی حمایت کی ہے تاہم کئی معروف صحافیوں نے لکھا ہے کہ ایسے وقت میں جب ڈان اخبار پر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا دباؤ ہے اس معاملے کا سامنے لانا بہت سے شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ سینکڑوں ٹوئٹر صارفین سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا جنسی زیادتی کے اس طرح کے الزامات کو ثابت کیا جانا ممکن بھی ہے؟report- by -Pakistan24.tv



اپنا تبصرہ بھیجیں