سر پر اولے پڑھنے کا خطرہ، نیب کو لگام دینے کے تیاری

امیرمحمد خان  –                   سر پر اولے پڑھنے کا خطرہ، نیب کو لگام  دینے کے تیاری-
کھلنڈے  لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ اب پاکستان میں نیب نے نئے ترمیم  شدہ قانون کے مطابق  پانچ  کروڑ روپیہ تک کی کرپشن پر نیب کیی جانب سے کوئی کاروائی  نہیں ہوگی۔ یہ تو ایک  مذاق لگتا ہے مگر  اگر دیکھا جائے  تو نیب کر کیا کررہی تھی  فی الحال تو  تمام تر غصہ  صرف حزب اختلاف پر اتر رہا تھا ، پھر کچھ عرصے  تک تحقیات کے بغیر  کرپشن کے الزام میں  سیاسی مخالفین کو  جیل میں رکھ  کر انکا میڈیا  ٹرائل  کرکے انہیں عدالتی احکامات  کے بعد رہائی دے دینا، عدالت ایک مقدمے میں بری کرے تو رہائی سے قبل جیسے شہباز شریف کے ساتھ ہوا کہ  فوری دوسرا  مقدمہ اور گرفتاری تیار ۔ نیب کا  قیام ہی  سیاسی  بدلوں ، اور حزب اختلاف کو لگام دینے کیلئے کیا گیا، اس کا  اظہار  موجودہ حکومت میں زیادہ  شدت سے کیا گیا ہے  پرویز  مشرف کو تو کچھ نہیں کہہ سکتے وہ ایک آمر تھا ، مگر  بعد میں سیاسی حکومتیں بھی نیب کی آبیاری کرتی رہیں ، آج  موجودہ  حکومت نے اسے لگام دینے کی کوشش کی ہے  تو  آئیندہ کچھ دنوں میں واقعی  ”ایک پییج پر نظر آئینگے چونکہ  سب کے ساتھ ”پاپی پیٹ “لگا ہے مسئلہ یہ ہے کہ  موجودہ حکومت کے ’شرلاک ہوم“ شہزاداکبر  اور ہر حکومت کوغلط راستے پر ڈالنے والے  ”مشیر“ معاملے کو خراب کرینگے،  چونکہ حکومت اور حزب اختلاف کی لڑائی میں ہے  چونکہ ا سی میں انکی روزی روٹی ہے۔    عدالتی حکم پر رہائی کی وجہ  نیب کی جانب سے نہ ہی کوئی اعداد شمار  نہ ہی  کوئی  مضبوط  شواہد  اس ملک میں صرف  دو ایک ہی  تو  قابل اعتبار ادارے رہ گئے ہیں۔ انہیں بھی تباہ کرنے کی ہمارے محسونوں کی خواہش ہے۔صرف حسب اختلاف  کے خلاف  مقدمات، گرفتاریاں، کرپشن کے الزام ہی نظرمیں تھے، جب بھی  نیب کے سربراہ نے چادر سے زیادہ پیر پھیلانے  اور اپنی ذمہ داریوں کو  ایمانداری سے ادا کرنے کا اشارہ دیا  تو  کیا کیا جائے انسانی خواہشات کا، بلیک میلنگ کے ذرائع  استعمال  ہوجاتے  اور انہیں یہ کہنا پٹرتا  کہ  ” ہوا کا رخ بدلنے  یا حکومتی اراکین کے خلاف  کرپشن کے ممکنہ  اقدامات کا اشارہ دینے کا ایسے ہی کہہ دیاتھا ۔حکومت کی جانب سے نیب کے پر  کاٹنے کی خواہشات  کا اظہار  گزشتہ حکومت بھی کرتی رہی  چونکہ  یہ دھوپ  کی شعائیں سر پر  آتی ہیں  تو سب ہی  قانون کو اپنی مرضی کا بنانا کی کوشش کرتے ہیں ، گزشتہ ڈیڑھ سال میں موجودہ حکومت کے کرپشن کے خلاف  اقدامات  یا نعروں سے تمام نوکر شاہی بھی کام چھوڑ بیٹھی تھی  کہ ایک دن تو  ریٹائرمنٹ ہوگی یا  سر سے حکومتی آشیر باد  ہٹی تو  جیل اور مقدمات کا  سامنا  نیب  پر اعتراضات  کی ایک وجہ  وہ سرمایہ کار  جنکی ایک بڑی تعداد  حکومت اور وزارتوں میں ہے انکا بھی شور تھا،جبکہ  عوام  سے وابسطہ یہ بات ہے کہ معیشت کا پہیہ رک گیاتھا  چونکہ جو ایماندرای  سے  اس ملک میں کاروبار کررہے ہیں وہ کیوں اس جھنجٹ میں پڑیں ؟؟ معیشت کو  بھی چند  ٹیکس چوروں، کرپشن  کے دل دادہ لوگوں سے شدید نقصان ہورہا تھا۔    مجوزہ نیب آرڈیننس کے مطابق اینٹی گرافٹ واچ ڈاگ کو اب سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور عدالت کے حکم کے بغیر بیورو سرکاری اہلکاروں کی جائیداد پر قبضہ نہیں کرے گا۔اگر احتساب نگاری نگاہ تین ماہ کے اندر کسی ملزم کے خلاف تفتیش مکمل نہیں کرسکتی ہے تو ملزم ضمانت کا حقدار ہوگا۔ اس کے علاوہ، نیب اب صرف 500 ملین روپے اور اس سے زیادہ کی بدعنوانی کے معاملات میں کارروائی کر سکے گا۔ٹیکس، اسٹاک ایکسچینج اور آئی پی او سے متعلق معاملات پر اینٹی گرافٹ ایجنسی کے دائرہ اختیار کو کم کردیا گیا ہے۔ فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو ایسے تمام معاملات پر کام کرنے کا واحد ذمہ دار سونپا جائے گا۔مجوزہ نیب آرڈیننس کے مطابق اینٹی گرافٹ واچ ڈاگ کو اب سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور بیورو عدالت کے حکم کے بغیر سرکاری اہلکاروں کی جائیداد پر قبضہ نہیں کرے گا۔ مجوزہ آرڈیننس کے مطابق محکمہ جاتی کاروائیوں کی صورت میں سرکاری ملازمین کے خلاف کوئی کارروائی شروع نہیں کی جائے گی۔ دنیا کی کوئی معیشت اس وقت تک مضبوط نہیں ہو سکتی جب تک اسے مقامی بنیادیں میسر نہ ہوں، حالات اس لئے بھی نہ سدھر سکے کہ حکومتی زعمانے بیک وقت کئی محاذ کھول لئے، نیب کے چند اقدامات ایسے تھے کہ صرف اپوزیشن،دیگر ادارے اور حکومت تو کجا عدلیہ نے بھی ان سے بیزاری کا اظہار کیا، کاروبار حکومت کی ذمہ دار بیوروکریسی نے فرائض کی ادائیگی سے گریز پائی اختیار کر لی اور کاروباری افراد نے بھی ہاتھ کھینچ لیا، اُس کے منفی نتائج سامنے آئے۔ تاجر برادری نے ان حالات میں وزیراعظم اور آرمی چیف سے ملاقات کرکے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ حکومت نے بھی حالات کی نزاکت کا ادراک کیا اور ضد کے بجائے نیب قوانین پر نظرثانی کا احسن فیصلہ کیا، جو اب نیب ترمیمی آرڈیننس 2019کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا اہم اور خوش آئند فیصلہ ہے۔ کسی بھی ملک میں کاروباری و اقتصادی سرگرمیاں ماند پڑ جائیں تو معیشت کی لاغری یقینی ہو جاتی ہے اور یہی وہ عوامل تھے جن کے باعث معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے حکومت کی شبانہ روز کاوشیں جلد ثمربار نہ ہو پائیں۔ تاجر برادری کو نیب کے خوف سے آزادی دلانا احسن امر ہے لیکن یہ خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ دیگر محکمے بھی کاروبار دوست ماحول پیدا کریں، نیب اگر پبلک آفس ہولڈرز اور عوامی عہدوں پر کام کرنے والوں کیلئے ہے تو خیال رہے کہ ملکی امور چلانے کی ذمہ دار بیوروکریسی بھی فیصلے کرتے ہوئے خوف یا ہچکچاہٹ کا شکار نہ ہو، خود وزیراعظم بیوروکریسی کا خوف دور کرنے کیلئے حکام سے ملاقات کر چکے ہیں، اس کے باوجود حالات کو مکمل سازگار نہیں کہا جا سکتا۔ کوئی شک نہیں کہ قانون کی بالادستی یقینی بنانا بہرصورت لازم ہے، تاہم ضروری ہے کہ پوری تفتیش کے بعد مع ثبوتوں کے ہی کسی پر گرفت کی جائے۔ امید ہے کہ حکومت نیب ترمیمی آرڈیننس 2019کے بعد حالات بہتری کی طرف آئیں گے۔کرپشن کے خلاف  مہم پر کسی محب وطن کو اعتراض نہیں ہوسکتا  مگر  سیاسی وابسگتوں کی بناء پر  PICK AND CHOSE  کی  سابقہ پالیساں ہی نقصان اور بے اعتباری کا سبب بنتی ہیں۔ 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں