مُرغی کا جُوس

” مُرغی کا جُوس“

دنیا میں جتنی بھی چیزوں سے جُوس نکالا جاتا ھے اُن میں سب سے زیادہ جوس پاکستان میں ”مُرغی “ سے نکالا جاتا ھے،ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ایک مُرغی سے تقریباً 450 بیرل یا 2500گیلن یعنی دس ھزار لیٹر تک جوس کشید کیاجا سکتا ھے ،امکان غالب ھے کہ مستقبل قریب میں اس کو برآمد کر کے اچھا خاصا زرِمبادلہ کمایا جا سکتا ھے
،یہ دنیا کا واحد جُوس ھے جو گرم کرکے پیا جاتا ھے ، مگر اب تو لوگ ماڈرن ہو گٸے ھیں اور اب اسے یخنی یا سُوپ کے نام سے پکارتے ہیں ،جبکہ ھمارے زمانے میں ریڑھی والے بڑے فخر سے لکھواتے تھے”طاقت کا خزانہ ٠٠٠٠مرغی کا جوس“
دراصل یہ وہ پانی ہوتا ہے جس سے مُرغی کی میت کو مسلسل تین دن تک غسل دیا جاتا ھے (بعض جگہ پندرہ دن سے لے کر ایک مہینے تک بھی ایک ہی مرغی کو غسل دیا جاتا ہے) ،اور ہمارے ملک کے سجیلے جوان حرارتِ جاں کیلیے اِن ریڑھیوں کے گردا گرد بیٹھ جاتے ھیں ،اور سوپ پی کر ایسے انگڑاٸی لیتے ھیں جیسے نر گس ڈانس شروع کرنے سے پہلے انگڑاٸی لیتی ھے
در حقیت یہ کلف ذدہ پانی ھوتا ھے٠٠٠
،پورے پاکستان کی طرح ہمارے شہر میں بھی سرِ شام اِن مرغیوں کے جنازے چوک پر آنا شروع ہو جاتے ہیں ،جہاں پر مُرغی کی میت کو پتیلے سے ایک فٹ دُور تختہ دار پر لٹکا دیا جاتا ھے اور ایک پاٶلے کی مدد سے رسمِ غسل شروع ھو جاتی ھے
اور لوگ کسی عقیدت مند کی طرح ریڑھی کے اطرف کھڑے ہوکر اس متبرک پانی سے جسم کو حرارت بہم پہنچاتے نظر آتے ھیں،اس دوران سوپ پینے کی مسحور کُن آواز ٠٠٠٠شڑر ،شپ٠٠٠شڑر، شڑر ٠٠٠ سے شہر کی ہر گلی فضا گونج اُٹھتی ھے٠٠٠٠
،اگر زیادہ عیاشی مطلوب ہو تو ایک انڈا اور مُرغی کی ایک پتلی سی ”چھیت“ بھی کَپ میں شامل کی جا سکتی ھے
بقول شاعر
یخنی ٹپکنا، کپ میں اُلٹنا
لہو گرم رکھنے کا ھے اک بہانا٠٠٠

مٶرخ شِکوا کرتے ہوٸے لکھتا ھے کہ یخنی والوں پر سےمیرا ایمان اُسی دِن سے اُٹھ گیا جِس دن میں دس روپے کا سوپ لینے گیا تو مجھے دھتکار دیا گیا اور سو سو باتیں بھی سُناٸی گٸیں ،مہنگاٸی کا رونا بھی رویا گیا اور کہا بچو ٠٠٠تبدیلی آ گٸ ھے دس روپے کا سوپ شوپ نہیں مِلتا ، چنانچہ میں دس روپے کے نوٹ کو لنڈے کے کوٹ کی جیب نمبر 13میں واپس ڈالا ٠٠٠٠٠٠سوپ کے ٠٠٠٠٠پانی سے گرم گرم ھونے کی بجاٸے ٠٠٠شرم سے پانی پانی ھو کر گھر واپس آ گیا٠٠٠٠
جبکہ رات بارہ بجے مجھے کسی کام کیلٸے الشمس چوک جانا ھوا تو ایک دہل دھلا دینے والا منظر میرے سامنے تھا
12 بجےکے بعد اُسی بچے ہوۓ ”سوپ“ سے زمین پر چھڑکاٶ کیا جا رھا تھا اور مرغی کو کپڑے میں لپیٹ کر فریج میں رکھا جا رھا تھا تاکہ ٠٠٠٠٠٠سند رھے اور وقت ضرورت اگلے دِن کام آوے ۔