بدین سے نکلنے والی عائشہ اور آمنہ گیس فیلڈ میں صرف 23 ایم ایم سی ایف ڈی کا ذخیرہ موجود ہے، وفاق اپنی نااہلی اور ناکامی پر پردہ ڈالنے کیلئے ایشو بنارہی ہے : صوبائی وزیر توانائی امتیاز احمد شیخ

صوبائی وزیر توانائی امتیاز احمد شیخ نے کہا ہے کہ گیس اور آئل میں وفاق کا مرکزی کردارہے، بدین سےنکلنے والی عائشہ اورآمنہ گیس فیلڈ میں صرف 23 ایم ایم سی ایف ڈی کا ذخیرہ موجود ہےوفاق اپنی نااہلی اور ناکامی پر پردہ ڈالنے کےلئے رائٹ آف وے کو ایشو بنارہی ہے،یہ بات انہوں نے پیر کے روز کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، امتیاز شیخ نے کہا کہ اوگرا اور پاور ڈویژن میں سندھ کی نمائندگی نہ ہونے کے باعث وفاقی ادارے حیران کن بیان دے رہے ہیں، ہمیشہ سردیاں شروع ہونے سے قبل گیس پریشر اور گیس کی موجود گی کا تخمینہ لگایا جاتاہے، مگر موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد مسلسل 2 سالوں سے سردی کے موسم میں گیس کی قلت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے،

انہوں نے کہا کہ سندھ اس وقت سالانہ 2600 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کر رہا ہے، مگر وفاق سندھ کو صرف 900 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کررہا ہے جس کی وجہ سے صوبے میں گیس کا شدید شارٹ فال ہے،جس کی وجہ سے عام آدمی کا چولہا، صنعتیں،سی این جی اسٹیشنز اور ٹرانسپورٹر حضرات شدید مشکلات کا شکار ہیں، صنعتیں اور سی این جی اسٹیشن بندہونے کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، وفاق نے عائشہ اور آمنہ گیس فیلڈ کے لئے صوبے کو خط لکھاجس کے لئے وزیر اعلیٰ سندھ نے کابینہ کا فوری اجلاس طلب کر کے اجازت دی وفاقی ادارے وضاحت کریں کہ وہ 23 ایم ایم سی ایف ڈی سے گیس کی قلت پر کیسے قابو کریں گے پائپ لائینوں کا تو بہانہ ہے اور ہم نے وفاق کو واضع کر دیا ہے کہ ہم مہنگی ایل این جی خرید کر عوام کے اوپر مہنگائی کا مزید بوجھ نہیں ڈال سکتے، آسی سی کے اجلاس میں آرٹیکل 158 کے تحت وزیر اعظم نے خود اعتراف کیا کہ پہلا حق اس صوبے کا ہے جہان سے گیس نکلتی ہے،ہم وفاق سے بھیک نہیں اپنا حق مانگ رہے ہیں وزیر اعظم کی بات ان کے وزرا نہیں مانتے اور وہ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہیں،

 

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سندھ بجلی میں بہی خود کفیل ہے کے الیکٹرک ، تھر کول، گڈو پاور، سکھر اور حب پاور پلانٹ کی بجلی نیشنل گرڈ میں جاتی ہے جبکہ ونڈ پاور سے 1300 میگاواٹ بجلی نیشل گرڈ میں شامل ہو رہی ہے،انہوں نے کہا کہ آخر آرٹیکل 158 پر عمل در آمد کیوں نہیں ہو رہا ہے ہمارے پاس اپنا حق لینے کے لئے دیگر آپشنز بہی موجود ہیں، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اس وقت سخت تکلیف میں ہے، ایم کیو ایم کے بہت سے دوستوں کی خواہش ہے کہ وہ پی ٹی آئی حکومت سے الگ ہو کر پیپلز پارٹی سے اتحاد کریں ماضی میں بہی ایم کیو ایم ہماری اتحادی رہی ہے،پی ٹی آئی نے اپنی نایہلی کی وجہ سے تمام اتحادیوں کو شدید مایوس کیا ہے،انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم جب تک پیپلز پارٹی کی اتحادی رہی ہے اس نے کبہی الگ صوبے کی بات نہیں کی ایم کیو ایم سے اتحاد کے سلسلے میں چیئرمیں بلاول بھٹو زرداری جو فیصلہ کریں گے وہ قابل ہوگا۔