بلا سود قرضہ ریاست مدینہ کی جانب ایک قدم ثابت ہوگا : گورنرسندھ

چھوٹی سرمایہ کاری کے خواہش مند افراد احساس پروگرام کے تحت قرضہ اسکیم سے بھرپو ر فائدہ حاصل کر یں۔عمران اسماعیل
گورنرہاﺅس میں پاکستان پاورٹی ایلوئیشن فنڈ کی تقریب میں 455 افراد کو چیک تقسیم کئے گئے
کراچی  : گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ مائیکرو فنانس یا چھوٹی سرمایہ کاری کے خواہش مند افراد احساس پروگرام کے تحت قرضہ اسکیم سے بھرپو ر فائدہ حاصل کر یں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنرہاﺅس میں Pakistan Poverty Alleviation Fund کے زیر اہتمام منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔تقریب میں 455 افراد کو بلا سود قرضہ کے چیک بھی دیئے گئے۔ چیک حاصل کرنے والوں میں 412 افراد کا تعلق کراچی ، 14 کا بدین ،9 کا ٹھٹھہ ، 5 کا تھرپارکر اور 10 کا تعلق سانگھڑ سے ہے۔ واضح رہے کہ احساس پروگرام کے تحت سندھ میں 15ہزار افراد کو 50کروڑ روپے مالیت کے بلا سود قرصے فراہم کئے گئے ہیں جن میں 70 فیصد خواتین بھی شامل ہیں، اس پروگرام کے تحت پاکستان کے 100 اضلاع میں ایک کروڑ 62لاکھ افراد کو بلا سود قرضہ فراہم کئے جائیں گے۔

جن میں 50 فیصد خواتین کے ساتھ ساتھ نوجوان ، معذور افراد، اقلیت ، خواجہ سرا اور پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں ۔ اس موقع پر پاکستان پاورٹی ایلوئیشن فنڈ کے چیف ایگزیکٹیو قاضی عظمت عیسیٰ اورپاکستان پاورٹی ایلوئیشن فنڈ کی ہیڈ آف پروگرامز سیمی کما ل سمیت دیگر حکام بھی شریک تھے ۔ گورنرسندھ نے مزید کہا کہ بلا شبہ یہ ریاست مدینہ کی جانب ایک قدم ثابت ہوگاوزیراعظم پاکستان غریب افراد کے معیار زندگی بدلنے کے لئے احساس رکھتے ہیں آج جن پر بوجھ ہے حکومت ان کاساتھ دے رہی ہے کیونکہ حکومت لوگوں کے لئے سوچ رکھتی ہے قرضہ حاصل کرنے والوں کو چاہئے کہ وہ اس رقم کو امانت سمجھ کر استعمال کریں اور شیڈول کے مطابق اس کی ادائیگی کو یقینی بنائیں ۔ انہوں نے کہا کہ بلا سود قرض پروگرام کے اہداف اور توقعات سے کہیں زیادہ کارکردگی دکھانے پرمیں، پاکستان پاورٹی ایلوئیشن فنڈ اور اس کے شراکتی اداروں کو مبارک باد پیش کرتاہوں جن کی جدوجہد اور کاوشوں کے ذریعہ ہم توقع سے کہیں کم وقت میں ملک کے پسماندہ علاقوں کے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ، انشااللہ خوشحالی کا یہ سفر جاری رہے گا ۔گورنرعمران اسماعیل نے کہا کہ آج بھی دنیا میں اربوں افراد موجودہیں جن کو معاشی اور مالیاتی سہولیات میسر نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے افراد جو کاروبار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ان کے پاس روایتی مائیکرو فنانس تک رسائی یا اہلیت ممکن نہیں اس پروگرام کے تحت انھیں بھرپور موقع فراہم کیا جارہاہے بلاشبہ موجودہ حکومت نے پسماندہ علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے ایک نئی راہ متعین کی ہے جو کہ قابل ستائش ہے۔