ایس بی سی اے کی ناک کے نیچے طویل عرصے سے شہر میں غیرقانونی اور غیرمعیارتی کنسٹرکشن جاری ہے : ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (آباد)

کراچی  :ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز(آباد)نے رنچھوڑلائن میں غیرقانونی طورپر تعمیرکی جانے والی عمارت گرنے کا ذمہ دار سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ایس بی سی اے کی ناک کے نیچے طویل عرصے سے شہر میں غیرقانونی اور غیرمعیارتی کنسٹرکشن جاری ہے جو شہر میں کسی بھی بڑے سانحے کی وجوہ بن سکتی ہے۔ آباد کے چئیرمین محسن شیخانی نے کہاہے کہ آباد کے پلیٹ فارم سے کراچی میں غیرقانونی اور ناقص میٹرئیل کی عمارتوں کی دھڑادھڑ تعمیرات کی انسداد باقاعدہ مہم جاری ہے اور اس سلسلے میں آباد نے وزیراعلی ٰسندھ، وزیربلدیات سندھ، چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری بلدیات اور نیشنل ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی کوباقاعدہ خطوط ارسال کرکے اس امر کی جانب توجہ دلائی گئی ہے کہ شہر میں غیرقانونی عمارتوں کی کھلے عام تعمیرات کسی بھی ناگہانی آفت کی صورت میں شہرکے10لاکھ افراد کو لقمہ اجل بناسکتی ہیں۔

انہوں نے بتایاکہ توجہ دلانے کے خطوط کے علاوہ دیگرذرائع سے آگاہی کے باوجود متعلقہ اداروں اور ذمہ داروں نے تاحال اس ضمن میں کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھائے ہیں۔انہوں نے رنچھوڑلائن میں مذکورہ عمارت گرنے کے بعد ایس بی سی ایحکام کی جانب سیبروقت اقدامات کے دعوے کے موقف پرحیرت کا اظہارکرتے ہوئے استفسارکیاکہ جب یہ عمارت غیرقانونی طورپرتعمیرکی جارہی تھی اس وقت ایس بی سی اے کہاں تھی۔انہوں نے کہاکہ مذکورہ گرنے والی عمارت کے تحقیقاتی عمل کے دوران اسے اجازت دینے والے افسرکی نشاندہی کی جائے اور اسے قرار واقعی سزا دی جائے کیونکہ خوش قسمتی سے اس گرنے والی عمارت میں کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا لیکن اس عمارت میں اپنی رہائش کیلئے بھاری رقومات اداکرنے والے مالی نقصان کی زد میں آکر اپنی زندگی بھرکی پونجی سے محروم ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ قائم کردہ انکوائری کمیٹی کوتمام زاوئیوں سے معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی ضرورت ہے اورجو ذمہ دار ہو اس کے خلاف سخت تادیبی کاروائی کی جائے۔