وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں پبلک اینڈ سیفٹی کمپلین کمیشن کا اجلاس : سندھ اور پنجاب کے پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں کے گریڈز برابر کرنے کیلئے کمیٹی جلد اپنی سفارشات مرتب کرے گی

کراچی  :  وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں پبلک اینڈ سیفٹی کمپلین کمیشن کا اجلاس آج وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا ۔ اجلاس میں صوبائی رکن اسمبلی شرجیل میمن، امداد پتافی، محمد علی عزیز، حسنین مرزا، شمیم ممتاز، شہناز بیگم، تمام پرائیوٹ ممبران، چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس، پرنسپل سیکریٹری، سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری قانون اور دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں آئی جی پولیس سندھ نے پولیس پلان پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سندھ اور پنجاب کے پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں کے گریڈز برابر کرنے کیلئے چیف سیکریٹری کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی جوکہ جلد اپنی سفارشات مرتب کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ سالانہ پولیسنگ پلان برائے 20-2019ء میں حاصل کی گئی کامیابیاں اور گذشتہ سال کےدوران سندھ میں پروفیشنل پولیسنگ کو فروغ دینے کے حوالے سے اقدامات کیے گئے۔پلان میں ایک جامع اور ضروری اقدامات کیے گئے ہیں اور اصل حقائق پر روشنی ڈالی گئی ہے تاکہ پالیسی بنانے والوں کو مدد مل سکے کہ وہ اصل مسائل کو سمجھ سکیں اور اس کے حساب سے اداروں کی اپ گریڈیشن کی جاسکے ، اس میں اس بات کا بھی جائزہ لیاگیاہے کہ کیوں پولیس کے مختلف محکمے مطلوبہ نتائج نہیں لا رہے۔ اس میں آپریشنل اور اس کے ساتھ ساتھ انتظامی اہداف دونوں کی نشاندہی کی گئی ہے جوکہ گذشتہ سال کے دوران حاصل کیے گئے اور اہداف مقررکرنے اور اسے محفوظ بنانے کے لیے ایک میکنیزم بھی وضع کیاگیاہے جبکہ دستیاب مالی اور دیگر وسائل کے صحیح طریقے سے استعمال کو بھی یقینی بنایاگیاہے۔ گذشتہ سال کے دوران پولیس اسٹیشن پر سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانے اور تھانہ کلچر کو تبدیل کرنے کے حوالے سے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں جن میں 221 رپورٹنگ رومز قائم کیے گئے اور 36 شکایتی مراکز تشکیل دیئے گئے۔سندھ پولیس کے لیے 98 بلین روپے کا سالانہ بجٹ مختص کیاگیا جس میں سے 82 بلین روپے (84 فیصد) تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے مختص کیاگیا ہے جبکہ 16 بلین (16فیصد) آپریشنل ضروریات کے لیے دستیاب ہے ۔ پولیس کا اہم فریضہ جرائم کے خلاف لڑنا اور ایف آئی آر درج کرناہے۔

 

ایف آئی آر کی آزادانہ رجسٹریشن کی پالیسی وضع کی گئی اور اس کے نتیجے میں ایف آئی آر کی رجسٹریشن میں 23 فیصد تک بہتری دیکھنے میں آئی اور عام لوگوں کی ایف آئی آر درج کرانے کے حوالے سے حوصلہ افزائی ہوئی اور انہوں نے پولیس پر اپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ایف آئی آر کے اندارج میں اضافہ کیا۔ ایف آئی آر کے انداراج میں اضافے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہوا ہے۔اسٹریٹ کرائم میں مجموعی طورپر 7 فیصد تک کمی آئی ہے اور یہ پولیس کی جانب سے کرائم کے خلاف موثر طریقے سے اقدامات کرنے ، اسٹریٹ پیٹرولنگ، گینگس کے خاتمے اور جرائم پیشہ افراد کی گرفتاری کے باعث ممکن ہواہے۔سندھ پولیس نے تنظیمی مقاصد ،اسٹریٹیجک اور آپریشنل مقاصد اپنائے، ان مقاصد کے تحت پالیسی بنانے والوں، اسٹیک ہولڈرز اور رینک اور پولیس آرگنائزیشن کی فائل کو ڈائریکشن فراہم کرنا ہے ۔ پولیسنگ پلان میں نہ صرف مقاصد بلکہ ان کے میکنیزم جس کے تحت ان مقاصد کو حاصل کیاجائے گا پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔تربیت کے میدان میں سب سے اہم مقصد زیر تربیتی کے استعداد کار میں جدید خطوط کے تحت اضافہ لانا،

 

میکنیزم جو کہ اختیار کیاگیا ہے اس میں کراچی یونیورسٹی کے ساتھ ایم او یو بھی شامل ہے جس کے تحت زیر تربیتی کی جدید خطوط زیادہ انسٹرکٹر ڈیولپمنٹ کورس میں اضافہ /معاونت شامل ہے اور اس کے ساتھ ساتھ زیر تربیتی کے استعداد کار میں اضافہ، ٹریننگ آف ٹرینرز(ٹی او ٹی) بھی کرائی جائے گی تاکہ زیر تربیت افراد کی پروفیشنل اسکلز میں زیادہ سے زیادہ لایا جاسکے۔  اس کے ساتھ ساتھ شکایات کے تدارک کے لیے ایک منظم نظام بھی اپنائے جائےگا، اس کے تحت کمپلینٹ ریڈریسل میکنیزم اور پروٹیکشن آف ہیومن رائٹس سیل قائم کیاگیاہے۔اس کے کے پی آئی میں آئی جی پی کمپلین مینجمنٹ سسٹم ، ہیومن پروٹیکشن سیل، مسنگ پرسن سیل اور ہیومن رائٹس سیل شامل ہیں ۔ آئی ٹی کے شعبے میں متعدد اقدامات کیے گئے ہیں جن میں پولیس ریکارڈ ویریفکیشن کی کمپیوٹرائزیشن، کرایہ دار اور مالک کی رجسٹریشن کا نظام اور پبلک فیسیلیٹیشن سسٹم وغیرہ شامل ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے تمام اراکین پر زور دیا کہ وہ اپنا نقطۂ نظر پیش کریں تاکہ آئندہ اجلاس میں انہیں حتمی شکل دی جاسکے۔