ایک پاکستانی سالانہ اوسطاً دس کلو مرغی کا گوشت کھاتا ہے

دنیا بھر میں سالانہ اوسطا 13 کلوگرام مرغی کا گوشت ایک انسان کھاتا ہے جبکہ پاکستان میں اوسطا ایک پاکستانی سالانہ دس کلوگرام مرغی کا گوشت کھاتا ہے امریکہ اور یورپ میں 50 کلو سالانا ایک انسان مرغی کا گوشت کھا جاتا ہے سعودی عرب اور کویت جیسے ملکوں میں 60 سے 70 کلوگرام چکن سالانہ ایک انسان کھاتا ہے عام تاثر ہے کہ پاکستان میں چکن نے اس لیے زیادہ کھایا جاتا ہے کہ اس کا گوشت دوسرے جانوروں کے گوشت کے مقابلے میں سستا ہے لیکن چکنائی کو بھرپور غذائیت فراہم کرنے والا ذریعہ ہے اس لیے امریکہ میں لوگ چکن کھاتے ہیں کیونکہ وہاں وہ اسے بہتر غذائیت کی چوائس سمجھ کر کھاتے ہیں سعودی عرب اور کویت جیسے ملکوں میں بھی چکن زیادہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں غذائیت ہے پولٹری انڈسٹری سے وابستہ شخصیات اس تاثر کی نفی کرتی ہیں کہ زیادہ چکن کا استعمال صحت پر نقصان دہ ہوتا ہے جو لوگ چکن کے زیادہ استعمال میں ہارمون یا اسٹیرائڈ ز کے حوالے سے منفی باتیں پھیلاتے ہیں ان کا جواب دیتے ہوئے پولٹری انڈسٹری سے وابستہ شخصیات کا کہنا ہے کہ یہ سب محض ایک پروپیگنڈا ہے اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ امریکہ ہو یا پاکستانی دنیا کا کوئی بھی ملک وہاں پولٹری کا کاروبار کرنے والا کوئی بھی شخص اپنے چوزے کو بہتر سے بہتر غذا ہی فراہم کرتا ہے کیونکہ وہ خراب فیڈ دے کر اپنا کاروبار کا نقصان نہیں کر سکتا ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چکن کا آئیڈیل وزن پونے دو کلو ہونا چاہیے زیادہ وزن والی مرغی کا گوشت مزےدار نہیں رہتا پونے دو کلو سے چھوٹی مرغی خطرناک ہو سکتی ہے مرغی کو ہمیشہ اپنے سامنے ذبح کرنے کو ترجیح دینی چاہیے تازہ گوشت کھانا چاہیے مرغی ایسی لینی چاہیے جو منہ کھول کر سانس نہ لے رہی ہو بلکہ منہ بند کر کے سانس لے رہی ہو اس طرح اس کے صحت مند ہونے کی نشانی ملتی ہے مرغی گنجی نہیں لینی چاہیے مرغی کی آنکھوں میں چمک ہونی چاہیے اور اسے اپنے سامنے ذبح کرنا چاہیے بیمار مرغیوں سے کھانے والے پر برا اثر پڑتا ہے بیڈ کولیسٹرول غیرضروری فیٹ کا منفی اثر آتا ہے جو لوگ زیادہ مرغی کا گوشت کھاتے ہیں انہیں ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو سبزیاں اور پھلوں کے استعمال پر بھی راغب کرنا چاہیے جو لوگ مرغی کا گوشت زیادہ کھاتے ہیں انہیں گوبھی ادرک میتھی لہسن کا استعمال کرنا چاہیے ایپل سرکہ میں گوشت کو دھو لینا چاہیے ایک نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ اوسطاً 652 ہزار ٹن مرغی کا گوشت فروخت ہوتا ہے 556 ہزار ٹن برائلر اور 50 ہزار ٹن دیسی مرغی کا گوشت شامل ہے دیسی مرغی کا چوزہ ایک سال میں مرغی کے سائز کا بنتا ہے جبکہ برائلر چوزہ صرف چھ ہفتے میں مرغی کے سائز کا بن جاتا ہے بظاہر موٹا اور بڑا دیکھنے والا چوزے کا جسم دراصل سوجا ہوا ہوتا ہے تنقید نگاروں کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ اسٹرائیڈز ہیں دن کا چوزے کی فیڈ میں استعمال کیا جاتا ہے اور یہ انسانی صحت کیلئے خطرناک ہے اس کے استعمال سے جسم پر چربی گردوں اور جگر پر چربی چڑھ جاتی ہے جوڑوں کا درد اور ہڈیوں کا برا بناتا ہے بچوں میں جلد بلوغت کے آثار نمایاں ہوتے ہیں اور قوت مدافعت میں کمزوری آتی ہے مرغی کا زیادہ استعمال کرنے والوں کو چاہیے کہ ساتھ ساتھ سبزیاں اور پھل بھی بنائیں اپنی روزمرہ خوراک کو متوازن بنائیں ۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مرغی کا گوشت کھانے والوں کی تعداد 63 فیصد ہے جو برائلر کا گوشت کھاتے ہیں اور 23 فیصد لوگ دیسی مرغی کا گوشت کھاتے ہیں 14 فیصد لوگ مرغی کا گوشت پسند نہیں کرتے ۔