تین لاکھ روپے تنخواہیں لینے والے افسران بھی غریبوں کے حق پر ڈاکہ ڈال رہے تھے

ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بتایا کہ تین تین لاکھ روپے تنخواہیں لینے والے افسران بھی غریبوں کے حق پر ڈاکہ ڈال رہے تھے۔کئی سرکاری افسران نے اپنی ایک سے زیادہ بیویوں کو پروگرام میں شامل کرا رکھا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ مجموعی طور پرسالانہ 16 ارب روپےغیرمستحق افراد کی جیبوں میں جارہے تھے۔

ثانیہ نشتر نے واضح کیا کہ جن افسران کے نام آئے ہیں، ان کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے تاہم یہ بتانا ممکن نہیں کہ کب سرکاری ملازمین بی آئی ایس پی میں شامل ہوئے۔ثانیہ نشتر نے مزید کہا کہ افسوس ہے کہ بعض لوگ سچ جان کے بھی تنقید کر رہے ہیں، نکالے گئے افراد کی جگہ نئے مستحق افراد شامل کریں گے۔انھوں نے تسلیم کیا کہ مجھے بھی بےنظیرانکم سپورٹ پروگرام کے میسج موصول ہوتے ہیں۔

خود کوغريب ظاہر کرنے والے 5 لاکھ سے زائد افراد ايسے تھےجنھوں ںے خود يا ان کی بيوی يا شوہر نے بيرون ملک کا سفر کيا۔44 ہزار افراد ايسے بھی تھے جن کے پاس اپنی گاڑی يا موٹر سائيکل ہے۔36 ہزار افراد نے ایگزیکٹو فیس دے کر نادرا سے شناختی کارڈ بنوائے مگر خود کو نادار بتاتے رہے۔ ماہانہ 1500 روپے امداد لينے والوں ميں ايک لاکھ 40 ہزار ايسےلوگ بھی شامل تھےجوخوديا ان کے شريک حيات 1000 روپےسے زيادہ موبائل فون بل پر پھونک ديتے ہيں۔

اس فہرست سے نکالے جانے والے ناموں ميں ايک لاکھ 46 ہزار سے زائد سرکاری اور بی آئی ايس پی ملازمين شامل ہيں۔ ان ميں سے زيادہ ترافراد کی رجسٹريشن پيپلزپارٹی دورميں ہوئی تھی