نیب ترمیمی ا ٓرڈیننس کرپٹ مافیاکیلئے آسانی پیداکرے گا

حالیہ نیب ترمیمی ا ٓرڈیننس کرپٹ مافیاکیلئے آسانی پیداکرے گا:محمدرضاایڈووکیٹبینظیرکے قاتلوں کو کیفرکردارتک نہ پہنچانااداروں اورنظام عدل کی شدیدناکامی ہے:قانون دانلاہور( )معروف قانون دان،چیئرمین پاور گروپ آف لائیرز،مرکزی جنرل سیکرٹری انٹر نیشنل ہیوومن رائٹس موومنٹ محمد رضا ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے حکومت کے حالیہ ترمیمی نیب آرڈیننس پرشدیدتحفظات کااظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت کا ترمیمی نیب آرڈیننس میں نیب کے اختیارات محدود کرناکسی صورت مناسب نہیں،سرکاری ملازمین کیخلاف محکمانہ کرپشن کی بنیادپرکاروائی سے روکنااورکسی بھی کرپٹ سیاستدان کی جائیدادعدالتی حکم کے بغیر منجمد کرنے کے اختیارات واپس لینانیب کے ہاتھ کاٹنے کے مترادف ہے۔حالیہ نیب ا ٓرڈیننس کے نفاذ کے بعد نیب سے کرپٹ سیاستدانوں اور سرکاری ملازمین آسانی سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جائیں گے،انہوں نے کہا محکمہ اینٹی کرپشن اور احتساب بیورو کرپشن کے گڑہ بن چکے ہیں ان پر اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود کارگردگی صفر ہے اینٹی کرپشن میں لاکھوں شکایات کے باوجود کسی کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی،ہمیشہ بااثرملزمان سفارش اوررشوت کے سہارے چھوٹ جاتے ہیں حکومت کو ان اداروں کی بہترکارکردگی کیلئے اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے تا کہ عوام کو ریلیف مل سکے۔انہوں نے حکومتی اورعدالتی نظام کے کمزورپہلوؤں کوشدیدتنقیدکانشانہ بناتے ہوئے کہاکہ مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم،ملک کوپہلامتفقہ آئین دینے والے قائد عوام ذوالفقاربھٹوکی جانشین بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کی گرفت نہ کرپاناہمارے نظام حکومت،نظام عدل سمیت تمام قومی اداروں کی شدیدترین ناکامی اورناقص ہونے کامنہ بولتاثبوب ہے،عام عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ12سال گزرگئے، دومرتبہ ملک کی وزیراعظم منتخب ہونے والی محترمہ بینظیربھٹو کے شوہرملک کے صدرمنتخب ہوئے اورپاکستان پیپلزپارٹی نے پانچ سال تک صوبے اوروفاق میں حکومت بھی کی پھربھی محترمہ کے قاتل بے نقاب نہ ہوسکے،کتنے افسوس کی بات ہے کہ آج بھی محترمہ کے صاحبزادے اورسیاسی جانشین بلاول بھٹوزرداری جلسوں میں عوام سے سوال کرتے ہیں کہ محترمہ کے قاتلوں کوسزاکیوں نہیں دی گئی،بلاول بھٹوزردداری جب کسی سرمایہ دار،جاگیردار،وڈیرے کوپارٹی ٹکٹ جاری کرتے ہیں اُس وقت خود سے سوال کیوں نہیں کرتے کہ کوئی نااہل،ان پڑھ شخص اسمبلی میں بیٹھ کرکیاقانون سازی کرے گا،جس نظام عدل کی بھاگ ڈوران پڑھ،نااہل،جرائم پیشہ ارکان پارلیمنٹ کے ہاتھوں میں ہوگی وہ نظام عدل سائلین کوانصاف فراہم کیسے کرسکتاہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں